جنوری کے آغاز میں ہمارے ایک بلاگر بچے “عمار” نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان کو یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے. اور یہ بھی فرمایا تھا کہ
جامعہ کراچی میں مجھے شعبہ تعلیم میں داخلہ ملا ہے۔ آج پہلے دن گیا تھا، بس گھوم پھر کر واپس آگیا۔ آثار نظر آرہے ہیں کہ اب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتا جاؤں گا۔ صبح کو جامعہ، دوپہر میں جامعہ سے سیدھا دفتر کو۔۔۔ رات گئے دفتر سے گھر واپسی تو بس۔۔۔ پھر نہ وقت نہ ہمت۔ اللہ جانے کیا ہوگا۔مزید…
اب صورتحال کچھ ایسی ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ باقی تو ہر جگہ سے غائب ہوتا جا رہا ہے…لیکن جامعہ جانے کے لیے ان کے پاس ہمت ہی ہمت ہے. محفل ، بلاگ ، مسینجر اور میلز …یعنی عمار آجکل منظر سے بالکل غائب ہیں، اپنے بلاگ پر نظر بھی آتے ہیں تو جامعہ کی کہانیوں کے ساتھ…پڑھئیے جامعہ نامہ!
پاکستان میں عموماً کہا جاتا ہے کہ اب بچہ کالج یا یونیورسٹی پہنچ گیا ہے تو اس کے پر نکل آئیں گے. پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »
“مجھے ان لوگوں سے گله نہیں ہے جو کسی کو اس کی نسل یا ہنر سے حقیر جانتے ہیں
ہاں، مجھے گله ہے،ان سے
جو خود کو حقیر جان کر اپنی اصل کو چھپانے کی کوشش میں ہوتے ہیں ـ”[خاور]
“جو قوم اپنی عزت نہ کرے اسکی دوسری قومیں کبھی عزت نہیں کریں گی…”[احمد]
یونیورسٹی کے تقریباً آغاز میں چھ ماہ پہلے ایک پاکستانی لڑکی کا دوسری پاکستانی لڑکی کے ساتھ مکالمہ:
پہلی لڑکی ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آتی ہے، کلاس کا کمرہ بدل جانے کی وجہ سے دوسری پاکستانی سے کلاس کے بارے میں پوچھتی ہے۔
پہلی: (اردو میں پوچھتی ہے کہ) کیا اسی کلاس روم میں ہم نے جانا ہے؟
دوسری : (نارویجین میں جواب دیتے ہوئے؟) ہیین؟؟ کیا کہا؟
پہلی : (نارویجین) او۔۔شاید آپ اردو نہیں بولتیں؟ کیا آپ پاکستان سے نہیں ہیں؟
دوسری : میرے والدین پاکستان سے ہیں۔ میں نہیں۔۔!
پہلی : او سوری۔۔لیکن میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا اسی کمرے میں ہماری کلاس ہے؟
دوسری : مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟ ٹیچر یا ریسپشن سے جا کر پوچھو۔
اتوار کو ہمارے ہاں “ماں کا دن” منایا گیا. میں اتنی مصروف تھی کہ پوسٹ کرنے کا بھی وقت نہیں ملا. اس لیے دو دن بعد ہی سہی. امی کو رات بارہ بجے ہی ہم تینوں نے وش کیا اور تحفے سے بھی نوازا. تحفے کے سارے پیسے بڑی بہن یعنی مجھ معصوم کے سر پر تھوپ دئیے گئے. اتوار کو سارا دن اچھا بننے کی کوشش کی، لیکن……ناکام رہی.
شمار تو میرا بدتمیز ترین اولاد میں ہوتا ہے لیکن پتہ نہیں امی کو پتہ ہے یا نہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مجھے امی اور ابو پیارے ہیں اور شاید اسی لیے امی کی بات نہیں مانتی.
میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو۔ اللہ سے دعا ہے آنے والا سال ہم سب کے لیے اور خاص طور پر ہمارے ملک کے لیے بہترین سال ہو۔ اور ہم سب کے لیے خوشیاں لے کر آئے۔ نئے سال کے آغاز سے عمار اور میں منظر نامہ کو ایک نئے انداز اور نئے ولولے سے آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن ابھی چونکہ آغاز ہے، اس لیے بلاگ یا تھیم میں بہت سی تبدیلیاں کرنا باقی ہیں جو کہ چند ایک دن میں مکمل ہو جائیں گی۔ منظر نامہ کا نیا ربط: http://manzarnamah.com/