Nov 09 2008
کوششِ ناتمام
فرقت آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صبح
چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے لیے
رہتی ہے قیس روز کو لیلی شام کی ہوس
اختر صبح مضطرب تاب دوام کے لیے
کہتا تھا قطب آسماں قافلہ نجوم سے
ہمرہو! میں ترس گیا لطف خرام کے لیے
سوتوں کو ندیوں کا شوق ، بحر کا ندیوں کو عشق
موجۂ بحر کو تپش ماہ تمام کے لیے
حسن ازل کہ پردۂ لالہ و گل میں ہے نہاں
کہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے
راز حیات پو چھ لے خضر خجستہ گام سے
زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سے
علامہ محمد اقبال
علامہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہر ایک چیز کوشش نا تمام سے ہی زندہ ہے یعنی جد و جہد کرنا ہی حاصل زندگی ہے چاہے وہ جد و جہد رنگ لائے یا نہ لائے باقی اس میں شاعرانہ تخٰیل ہے جیسے صبح کے پیچ و تاب (طلوع) ہونے کو سورج کی فرقت کی وجہ سے، شفق کی سرخی ستاروں کیلیئے، صبح کو قیس سے اور لیلی کو شام سے تسبیہ دے کر یہ کہا کہ قیس کو لیلی کی تلاش ہے، اسی طرح سوتوں کو ندی کی جستجو ہے اور ندی کو سمندر کی اور سمندر کو چودھویں کے چاند کی (جوار بھاٹا) اور آخری شعر کہ زندگی کا راز خضر سے پوچھ لے جو آبِ حیات پی کر در بدر ہیں کہ کوشش کرنے سے ہی ہر ایک چیز زندہ ہے۔
وارث کا شکریہ۔ جنہوں نے اس نظم کو آسان الفاظ میں سمجھایا۔


حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 09 Nov 2008 at 9:41 pm
اس کی تشریح بھی ہو جاتی تو پلے پڑ جاتی۔
آپ کی پوسٹ میں علوی نستعلیق استعمال نہیں ہو رہا۔
سائیڈ بار میں علوی نستعلیق کا سائز بہت ہی مختصر ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Nov 2008 at 10:38 am
السلام علیکم ماورا
پلیز میری ویب سائیٹ دیکھیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Nov 2008 at 5:51 am
بہت خوب۔
بہت زبردست بلاگ ہے آپ کا
اس تبصرے کا جواب دیں
on 14 Nov 2008 at 10:51 pm
چیچر چیچر تسریح کے کلاس تب ہودی؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Nov 2008 at 10:32 am
قدیر، کیا سمجھ نہیں آیا اس میں؟ اصل میں میں نے بھی سمجھنے کے لیے پوسٹ کی تھی۔ ڈرامہ لگا تھا، اس میں حضرت حضر کی روح آتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نظم کو غور سے پڑھنا۔ ویسے امی سے تھوڑی بہت سمجھی تو ہے۔ لیکن اتنی سمجھ نہیں آئی کہ سمجھا سکوں۔ پوسٹ اس لیے کی کہ مجھے یاد رہے۔
اور علوی نستعلیق تو میری طرف ٹھیک نظر آ رہا ہے۔ سائیڈ بار میں واقعی فانٹ سائز چھوٹا ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں اس کو ٹھیک کرنے کی۔
۔۔۔
مہ رخ، آپ کی سائٹ دیکھی ہے، ماشاءاللہ بہت اچھی ہے۔ کچھ اپنی تراکیب بمعہ تصاویر آپ کو بھیجنا چاہ رہی تھی۔ جونہی وقت ملتا ہے تو آپ کو میل کرتی ہوں۔
۔۔۔
زین، بلاگ پر خوش آمدید۔
بہت شکریہ۔
۔۔۔
عبدالقدوس، یہ کون سی زبان ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Nov 2008 at 6:58 pm
یہ چھوٹے بچوں کی جبان ہے
یہ والی
اس تبصرے کا جواب دیں
on 16 Nov 2008 at 8:22 am
ماورا: حضرت اقبال کی باتیں بھی بس گپیں ہی ہیں ۔ نہ انہوں نے خود عمل کیا نہ کسی اور نے۔ ہاں ایک قائدِ اعظم نے تھوڑا سا کیا تھا۔ خودی کا درس دینے والے علامہ اقبال ساری عمر وظیفوں پر گزارا کرتے رہے ۔ اتنی خودی ہوتی تو خود کما کر کھاتے۔
میں نے آپ کو ماضی قریب میں ایک ای میل بھیجی تھی، ملی؟
آپ مہ رخ سے رابطہ رکھیے ۔ میں نے اسے سبز باغ دکھا دکھا کر بلاگنگ پر راضی کیا تھا ، مگر لڑکیوں کا ریسپانس نہ ملنے کی وجہ سے بیچاری بچی مایوس ہوئی پڑی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 16 Nov 2008 at 1:50 pm
عبدالقدوس، آئی سی۔ آپ ابھی تک بچے ہی ہیں کیا؟
۔۔۔
قدیر، آپ، ہم تو عمل کر سکتے ہیں نا؟
جی میل مل گئی تھی۔ لیکن میرا خیال ہے اس کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ کے بلاگ پر ہی میں نے بات ختم کر دی تھی۔
نہیں، مہ رخ مایوس نہ ہوں۔۔ میں کافی دنوں سے رابطہ کرنے کا سوچ رہی تھی۔ بس فرصت نصیب نہیں ہو رہی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 19 Nov 2008 at 1:08 am
قدیر احمد صاحب
جس بابت پورا علم نہ ہو اس کے متعلق بات نہیں کرنا چاہیئے
ماوراء صاحبہ
علامہ اقبال صاحب نے زیادہ تر رجوع قرآن شریف کی طرف کیا ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے
سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی
اس تبصرے کا جواب دیں
on 20 Nov 2008 at 4:45 pm
بہت شکریہ اجمل چچا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 25 Nov 2008 at 11:29 am
جناب اجمل: درست فرمایا آپ نے۔ تاہم میں یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں