Archive for the 'گانے' Category

Mar 07 2009

پیار کے پل…

شائع کیا: ماوراء زمرہ: گانے

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

11 تبصرے

Nov 24 2008

گھجنی : گزارش

شائع کیا: ماوراء زمرہ: فلم, ویڈیوز, گانے

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

11 تبصرے

Aug 23 2008

انتہائے شوق

یہ گانا پاکستان کی نظر :dsadas:

ہماری زندگی کیا ہے
شعورِ ذات کی خاطر ہی  بس ایک آزمائش ہے۔
ہماری لرزشیں ہم کو سکھاتی ہیں
نئی راہیں دکھاتی ہیں

ہماری انتہائے شوق کیا ہے
ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی

ہماری آرزو کیا ہے
کہ ہم اپنی رگِ جانِ وفا کے رنگ بھر دیں
ہماری آگہی ہم کو بناتی ہے
نئی شمعیں جگاتی ہے

ہماری انتہائے شوق کیا ہے
ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی

ارادوں کی زمیں پر
کاوشوں کے پھول کھلتے ہیں
کوئی آندھی کو ئی طوفاں
کبھی رستہ نہ روکے
ہمیں پھر بھی یقین ہے جب
ہمارے دل سے ہر دم
ایک ہی آواز آتی ہے۔
اللہ۔۔۔۔
اللہ تو ہے میرا سائیں
اللہ تو ہے میرا سائیں
اللہ تو ہے میرا سائیں

ہماری انتہائے شوق کیا ہے۔
ہمیں ہر راہ گزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی

12 تبصرے

Aug 11 2008

سوہنی دھرتی اللہ رکھے۔۔۔

شائع کیا: ماوراء زمرہ: پاکستان نامہ, گانے

سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے قدم قدم آباد ، قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری، تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی، ہم دیکھیں آزاد
ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
دھڑکن دھڑکن پیارا ہے تیرا، قدم قدم پر گیت رے
بستی بستی تیرا چرچا، نگر نگر ہے میت تیرے
جب تک ہے یہ دنیا باقی
ہم دیکھیں آزاد، ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے قدم قدم آباد، قدم قدم آباد تجھے
تیری پیاری سج دھج پر ہم واری واری جائیں
آنے والی نسلیں تیری عظمت کے گن گائیں
جب تک ہے یہ دنیا باقی
ہم دیکھیں آزاد، ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے قدم قدم آباد، قدم قدم آباد تجھے

تبصرہ کریں

Jul 14 2008

چاندنی رات میں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: گانے

ریمکس

چاندنی رات میں، چاند کے سامنے
چاندنی رات میں، چاند کے سامنے
رخ سے پردہ ہٹانا، رخ سے پردہ ہٹانا
غضب ہو گیا، غضب ہو گیا
چاندنی چھپ گئی، چاند شرما گیا
آپ کا یوں مسکرانا، غضب ہو گیا

بکھری زلفوں تلے یوں ہی سویا رہوں
خوابوں میں آپ کے یونہی کھویا رہوں
لے کے ہاتھ ہاتھ میں، بات ہی بات میں
رخ سے پردہ ہٹانا، رخ سے پردہ ہٹانا
غضب ہو گیا، غضب ہو گیا
چاندنی چھپ گئی، چاند شرما گیا
چاندنی چھپ گئی، چاند شرما گیا
آپ کا یوں مسکرانا، آپ کا یوں مسکرانا
غضب ہو گیا، غضب ہو گیا

موسم بھی ہے جواں، لمحہ نہ ہوش میں
یونہی بیٹھی رہو، میری آغوش میں
موسم بھی ہے جواں، لمحہ نہ ہوش میں
یونہی بیٹھی رہو، میری آغوش میں
وصل کی پیاس میں، اجنبی چاہ میں
وصل کی پیاس میں، اجنبی چاہ میں
آپ کا نزدیک آنا، آپ کا نزدیک آنا
غضب ہو گیا، غضب ہو گیا
چاندنی چھپ گئی، چاند شرما گیا
آپ کا نزدیک آنا، آپ کا نزدیک آنا
غضب ہو گیا، غضب ہو گیا

احمد جہانزیب

11 تبصرے

Apr 01 2008

جودھا اکبر

شائع کیا: ماوراء زمرہ: فلم, ویڈیوز, گانے

جودھا اکبر” کوئی خاص اچھی فلم نہیں ہے۔فلم میں ہرتیک روشن مغلیہ شہنشاہ جلال الدین اکبر کے روپ میں بالکل بھی جَچ نہیں رہا۔ جودھا بائی ایک ہندو لڑکی ہے، جس سے وہ شادی کرتا ہے۔فلم میں بہت کچھ غلط بھی دکھایا گیا ہے۔ کہانی حقیقی کم اور تصوراتی زیادہ ہے۔

البتہ فلم کے گانے اچھے ہیں۔

9 تبصرے

Feb 14 2008

جشنِ بہاراں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: گانے

 

 

 

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

کیسے کہیں کیا ہے ستم

سوچتے ہیں اب یہ ہم

کوئی کیسے کہے وہ ہیں یا نہیں ہمارے

کرتے تو ہیں ساتھ سفر

فاصلے ہیں پھر بھی مگر

جیسے ملتے نہیں کسی دریا کے دو کنارے

پاس ہیں پھر بھی پاس نہیں

ہم کو یہ غم راس نہیں

شیشے کی ایک دیوار ہے جیسے درمیاں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

ہم نے جو تھا نغمہ سنا

دل نے تھا اس کو چنا

یہ داستاں ہمیں وقت نے کیسی سنائی

ہم جو اگر ہیں غمگین

وہ بھی ادھر خوش تو نہیں

ملاقاتوں میں ہے جیسے گھل سی گئی تنہائی

مل کے بھی ہم ملتے نہیں

کھل کے بھی گل کھلتے نہیں

آنکھوں میں ہیں بہاریں دل میں خزاں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے۔

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے۔

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

ایک تبصرہ ہوا ہے