Sep
29
2008
رمضان کا آغاز سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا تو یقین تھا کہ عید بھی سعودی عرب کے ساتھ ہی منائی جائے گی۔ ایک بلاگ پڑھنے پر پتہ چلا کہ سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے۔ حالانکہ میرا موڈ نہیں تھا کہ کل عید ہو کہ ابھی میری تیاریاں مکمل نہیں ہوئیں۔ لیکن پھر بھی یہ سن کر کے سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے، تو ذہن بنا ہی لیا۔ لیکن ہمارے مولوی تو اپنا ہی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں، انگلینڈ میں عید ہو گئی، سعودی عرب میں ہو گئی، خدا جانے انہوں نے تیس روزے رکھ کر کونسا ثواب کمانا ہے۔ جب رمضان سعودی عرب کے ساتھ شروع کیا تو عید پاکستان کے ساتھ کیوں؟؟
آخری روزہ کھلتا ہی ہے تو فون پہ فون آنا شروع ہو جاتے ہیں، کہ مسجد والے شام کے وقت اپنا فون ہی بند کر دیتے ہیں۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ مدنی مسجد والے عید منا رہے ہیں اور باقی مسجدوں والے روزہ رکھیں گے۔ اور عربی دوستیں بھی ایس ایم ایس کر کے عید کی مبارک دے رہی ہیں۔
پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »
Jun
11
2008
اگر آپ یہ تحریر پڑھنے جا رہے ہیں، تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میں عورتوں کے خلاف بالکل نہیں ہوئی۔ یہ صرف ایک حقیقت لکھی ہے۔ کئی دنوں سے عورت کی بےوقوفیوں پر لکھنے کا دل کر رہا تھا۔ یہ سب اس کی روشنی میں لکھ رہی ہوں، جو سب مجھے اپنے ارد گرد سے دیکھنے کو ملا۔
دنیا میں سیانے لوگ بھی ہوتے ہیں اور بےوقوف بھی۔ اسی طرح کئی عورتیں بھی بہت سیانی ہوتی ہیں، اور کچھ بےوقوف اور کچھ بہت ہی زیادہ بےوقوف۔ اور یہی عورت ایک مرد کے سامنے بالکل ہی بےوقوف ہو جاتی ہے۔ تو دوسری طرف کئی عورتیں مردوں کو بےوقوف بنا دیتی ہیں۔ مجھے بےوقوف عورت پر شدید غصہ آتا ہے۔ (ہو سکتا ہے میں خود بھی بےوقوف ہی ہوں، لیکن کچھ بےوقوفیاں کرنے سے پہلے بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔)
عورت کی عظمت کیا ہے۔ اگر عورت کو اس کا احساس ہو جائے تو شاید یہ بےوقوفیوں والے کام کرنا چھوڑ دے۔ عورت مرد کے جھانسے میں اتنی جلدی کیوں آتی ہے؟ دو میٹھے بول کسی نے بولے تو بس سب کچھ اس کو دان کر دیا۔ اسے ہی دنیا میں اپنا مخلص سمجھنے لگتی ہیں۔ اور کسی کی بات اس وقت تک اس کو سنائی نہیں دیتی، جب تک وہ انھیں دھوکا دے کر چلا نہیں جاتا۔
سب سے زیادہ تکلیف مجھے اس وقت ہوتی ہے، جب ایک پڑھی لکھی، باشعور عورت مرد کے سامنے جھک جاتی ہے۔ اور پھر اس کا کام کسی اور کی نہیں سننا ہوتا۔ اگر کوئی ان کو سمجھائے تو الٹا دوسرے پر دھاوا بول دیتی ہیں۔
عورت دوسری عورت کو اپنا دشمن کیوں سمجھتی ہے؟ اگر ایک ہی بات دو انداز میں دو لوگ (ایک مرد اور ایک عورت) ایک عورت کو بتا رہے ہوں گے، تو عورت کس کا یقین کرے گی؟ ایک مرد کا۔۔۔!! وہ سمجھتی ہے کہ دوسری عورت اس کی دشمن ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ شاید اس کی ایک مثال ہمارا معاشرہ بھی ہے جہاں عورت کو عورت کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں راشد نے بھی کچھ لکھا تھا۔ 1۔ رشتے دیکھتے وقت ایک عورت ہی دوسری عورت کو کس طرح ذلیل کرتی ہے۔ 2۔ ساس، بہو یا نندوں کے آپس کے جھگڑے۔ اور اس طرح کی کئی مثالیں ہیں۔
کچھ عورتوں کی بہت بری عادت ہوتی ہے، ہر کام میں آگے آگے ہوتی ہیں۔ اپنے بارے میں سمجھتی ہیں کہ وہ ہی سب کچھ کر سکتی ہیں، اسی دوران دوسری عورتوں کا کچھ نہ سمجھنا۔ اپنے آپ کو ہی ذہین فطین کا تمغہ دینا۔ ایسی عورت کو آخر میں بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اور اگر کوئی مسئلہ گڑ بڑ ہو جائے تو دبک کر بیٹھ جاتی ہیں اس وقت دوسروں کے پاس دوڑتی ہیں، کہ اب یہ کیا کریں۔
کچھ عورتیں شک کی بہت بری بیماری میں مبتلا ہوتی ہیں۔ اور آخر میں اسی شک کا انھیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کچھ عورتوں کو دوسری عورتوں پر طنز کرنے کا بھی بہت شوق ہوتا ہے۔
لڑکیوں سے میری صرف ایک ہی گزارش ہے، کہ خدارا اپنے مقام کو اگر آپ نے ٹھیک رکھنا ہے تو اپنے حرکتوں کو درست رکھیں، کوئی ایسی حرکت نہ کریں ، جس کی وجہ سے دوسروں کی نظر میں آپ گر جائیں۔ کیونکہ عزت ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے، یہ چلی جائے ایک بار، تو دوبارہ نہیں آتی۔ اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی آپ کے حصار کو توڑ نہ سکے۔
اگر کسی لڑکی کو برا لگے تو معذرت۔ اور مجھے عورت دشمن بالکل نہ سمجھیں۔ میں ہمیشہ عورت کی حمایت کرتی تھی، ہوں اور کرتی رہوں گی۔ :grin:
Jan
26
2008
غیر ملک میں رہنا جتنا آسان سمجھا جاتا ہے، حقیقت میں اتنا آسان ہوتا نہیں ہے۔ شروع سے لے کر آخر تک کچھ نہ کچھ مسائل کا سامنا رہتا ہی ہے۔ شروع میں جب آپ آتے ہیں تو سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم نئے نئے آئے تھے تو کتنی مشکل ہوتی تھی، پہلا سال زبان سیکھنے میں لگایا۔ ہم ٹیچر سے انگلش میں بات کریں تو وہ ہمیں منع کرے کہ انگلش میں بات نہیں کرنی۔ نارویجین کے جو بھی لفظ آتے ہیں، انہیں ہی بولو۔ اب ہم سوچیں کہ یااللہ۔۔ایسی زبان جس کا ہمیں لفظ بھی نہیں آتا۔اب وہ کیسے بولیں؟ اتفاق سے پہلے سال ہم کلاس میں پانچ لڑکیاں پاکستانی تھیں۔ اور ہم سارا دن اردو بولتی رہتی تھیں۔ اور اس وجہ سے ہمیں اکثر ڈانٹ بھی پڑتی، ہم پانچوں نے کئی بار سال میں وعدہ کیا کہ اب نارویجین بولیں گے۔ لیکن کچھ دیر بولتے۔۔پھر واپس اپنی زبان پر۔۔۔۔اب دوسری طرف گھر میں ابو ہمیں اردو بولنے نہیں دیتے تھے۔ کہیں کہ ۔۔۔ جتنا بولو گے اتنی جلدی زبان سیکھو گے۔ خیر ان ڈانٹوں کا اثر ہوا ۔۔۔ اور ہم نے جلدی ہی زبان سیکھ لی۔
اکثر لوگ یہاں اتنے اتنے سال سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ اور زبان نہیں سیکھتے۔ زبان کے بغیر کسی بھی ملک میں بہت مشکل ہو جاتا ہے، آپ سوشل نہیں ہو سکتے۔ کوئی کام ہو تو تب بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ معلوم نہیں۔۔لوگ کیسے زبان سیکھے بغیر گزارا کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر جو لوگ شادیاں کرنے کے بعد یہاں آتے ہیں، وہ آتے ساتھ ہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور زبان کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے۔ اکثر پاکستانی ریسٹورنٹس پر ایسے ہی انکلز پائے جاتے ہیں۔ بےچاروں کو کچھ آتا جاتا نہیں ہوتا۔ اور اکثر نارویجین بولتے بولتے بیچ میں ہی اردو بول رہے ہوتے ہیں۔ وہ سن کر بہت ہنسی آتی ہے۔ اور پاکستانی آنٹیاں بھی کمال کرتی ہیں۔ اب اگر آپ چائنیز یا تھائی لوگوں کی زبان سن لیں، تو بندے کا دل کرتا ہے کہ اپنا سر دیوار پر دے مارے۔ آجکل ایک کولیگ جو تھائی لینڈ کی ہے۔ جو جاب پریکٹس کے لیے ہے۔ زبان اس کو آتی نہیں۔۔اور باتیں بہت کرتی ہے۔ لیکن اس کی کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ اب میں اتنا دھیان نہیں کرتی کہ اس کو زبان نہیں آتی۔۔۔کہ ظاہری بات ہے کچھ وقت لگے گا سیکھنے میں۔ لیکن میرے ساتھ کام کرنے والے اس کو سن، دیکھ کر اتنا ہنستے ہیں۔ کہ دن اچھا گزر جاتا ہے۔ نہ اس کو سمجھانا آتا ہے، نہ اس کو کسی کی سمجھ آتی ہے۔ حالانکہ اس نے شادی بھی نارویجین سے ہی کی ہوئی ہے۔
یہاں ہر کوئی انگلش سمجھتا اور بولنا جانتا ہے۔ لیکن کوئی بولتا نہیں ہے۔ ہاں، اگر کسی کو سرے سے ہی نارویجین نہیں آتی تو وہ انگلش میں بات کرتا ہے۔ اور جواب بھی انگلش میں مل جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو ذرا سی بھی ٹوٹی پھوٹی نارویجین بولنے آتی ہے تو آپ سے یہی کہا جاتا ہے کہ جیسے بھی آتی ہے، بولو۔۔میں سمجھنے کی کوشش کرتا یا کرتی ہوں۔ دفاتر وغیرہ میں بھی آپ کو صرف نارویجین بولنے کا ہی کہا جاتا ہے۔ ہاں اگر ضرورت ہو تو انگریزی سے کام چلایا جا سکتا ہے۔ انگریزی کی صرف اور صرف ایک غیر ملکی زبان کی حیثیت ہے۔ پچھلے چند سالوں سے کچھ انگریزی کے الفاظ نارویجین زبان میں بولے جا رہے ہیں، اور میرا اپنا یہ خیال ہے کہ یہ بھی غیر ملکیوں کی بدولت ہیں۔ کیونکہ اکثر غیر ملکی انگریزی بولتے ہیں۔ اور پھر یہیں سے کچھ الفاظ بولے جانے لگتے ہیں۔ اگر میں پاکستان کے لحاظ سے سوچوں تو ہم لوگ تو اردو میں جانے کتنے انگریزی کے لفظ بول جاتے ہیں۔ بلکہ آج ہی حجاب سے بھی اس پر بات ہوئی تو اس کا یہ کہنا تھا کہ اکثر ایسے لوگ ہیں جو جملے میں ایک، دو لفظ اردو کے بولتے ہیں۔۔۔باقی انگریزی کے۔۔:D
دوسرے ممالک میں رہنے کے باقی مسائل پر پھر کبھی۔۔۔ابھی وقت کی کمی کے ساتھ نیند بھی بہت آئی ہوئی ہے۔:(
Dec
26
2007
شادی ایک مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی فریضہ بھی ہے۔ اسے ہمارے معاشرے یعنی پاکستان میں کیسے لیا جاتا ہے، اس پر میرا لکھنے کا بہت دل کر رہا ہے۔ اور میرا موضوع لڑکیوں کے حوالے سے ہو گا۔ اگر کسی لڑکی کو میری کوئی بات بری لگے تو پہلے سے ہی معذرت۔:p
پاکستان میں لڑکی ابھی میٹرک پاس یا فیل ہی کرتی ہے تو اکثر گھر والوں کو اس کی شادی کی پڑ جاتی ہے۔ بے شک شادی اس کی دس سالوں بعد ہی ہو۔ لیکن گھر والوں سمیت باہر کے لوگوں کو بہت فکر لگ جاتی ہے۔ پھر بات بات پہ رشتے کا ذکر آ جاتا ہے۔ کہ “کچھ بنا ہے کہ نہیں؟“ اب جب لڑکی کے سامنے یہ باتیں ہوتی ہیں تو لڑکیوں کے دماغ میں بھی ایک ہی چیز بیٹھ جاتی ہے کہ بس شادی ہی کرنی ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ پاکستان میں لڑکیاں اتنا اپنی پڑھائی پر دھیان نہیں دیتیں، جتنا اپنے آپ کو دھیان دیتی ہیں۔ کسی کو اپنے رنگ گورا کرنے کی فکر ہوتی ہے تو کسی کو چھائیاں دور کرنے کی، ادھر اپنے آپ کو سلم رکھنے کے لیے دنیا جہاں کے کھانوں پر پابندی ہے۔ اب اگر لڑکیاں لڑکیاں آپس میں بات کریں گی تو بات جو بھی ہو رہی ہو، ایک موضوع رشتوں کا ضرور آتا ہے۔ کیا بنا تمھارا؟ میرا ایک رشتہ آیا ہے۔ فلاں کی منگنی ہو گئی ہے۔ فلاں کی شادی ہوئی تو ساتھ جہیز بہت لائی ہے۔ فلاں کو طلاق ہو گئی ہے۔ حالات و واقعات پر تبصرے۔۔۔۔۔ یقین کریں کہ یہ بہت ہی بور کر دینے والی باتیں ہیں۔ میں پاکستان گئی تو مجھے ایسا لگے کہ لوگوں کو رشتے جوڑنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔ خاندان والے ایسے ہوتے ہیں کہ فارغ وقت میں خود سے ہی ایک کا دوسرے سے رشتہ جوڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا رشتے ڈھونڈنے ہی لگی ہوئی ہے۔ اور بے چاری لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں ہوتی ہیں۔ میری کزن اچھی بھلی۔۔۔تعلیم یافتہ۔۔۔کہتی ہے کہ یونیورسٹی ابھی ایسے ہی جوائن کر لی ہے جب رشتہ ہو گیا تو چھوڑ دوں گی۔ کیا زندگی میں شادی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ سب کام چھوڑ کر بندہ بیٹھ جائے کہ شادی کرنی ہے یا شادی کے انتظار میں اپنے آپ کو اس عرصے میں کہیں مصروف کر لے۔ زندگی کو ایک عام انداز میں چلتا رہنا چاہیے جب شادی ہونی ہو تو پھر شادی کر لیں اور اپنے کام کو جاری رکھیں۔
ہمارے معاشرے میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ ایک ایسی لڑکی جس کی عمر ذرا سی زیادہ ہو جائے تو لوگ طعنے اور باتیں ہی اتنی سناتے ہیں کہ انسان کی سمجھ نہیں آتا کہ کیا کرے۔ اب دنیا بندے کو اتنا پریشان کر دیتی ہے کہ جس کی شادی نہیں ہو رہی ہوتی وہ بھی مجبور ہو کر دعائیں کرنے لگتا ہے کہ ہو ہی جائے تو اچھا ہے۔ ورنہ دنیا کی کڑوی باتیں سننا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگر آپ سے کوئی ملنے آئے گا یا فون پر بات کرے گا تو آپ کو دعاؤں سے نوازا جاتا ہے کہ انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا۔ میں بڑی دعائیں کرتی ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور جب رشتے لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔ اللہ معاف کرے، سو عیب نکالتے ہیں۔ اور لڑکی کو ایک شو پیس کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ اور یہ عمل میرے نزدیک قابلِ نفرت ہے۔ لوگ تصویریں دیتے ہیں۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ کیسے لوگ اپنی بیٹیوں کی تصویریں کسی کو دے دیتے ہیں، یا جب لڑکی کو دیکھنے آتے ہیں تو اس کو نا منظور کر کے چلے جاتے ہیں۔ اس پر شگفتہ نے پوسٹ کی ہے۔ اس کے بعد مزید کچھ کہنا باقی نہیں رہتا۔
میری ایک دوست جو سکول کے زمانے کی تھی، اسے کہیں سے میرا فون نمبر مل گیا تو اس نے کال کی۔ میں نے پوچھا کیا کر رہی ہو آجکل؟ جواب ملا ٹیچنگ اور اب مسز بھی ہوں۔ میں نے مبارک دی۔ فون بند ہونے لگا تو آگے سے دعاؤں کے پل بندھ گئے۔ اور ساتھ ہی کہتی ہے میں تو اپنے سٹوڈنٹس کو بھی یہی کہتی ہوں کہ بچو، نماز پڑھ کر اپنے اچھے مستقبل کے لیے دعا کیا کریں۔ اور آپ کی شادیاں اچھے گھروں میں ہوں۔ ابھی مجھے ہنسی آ گئی تو کہتی ہے کہ میں تو کہتی ہوں کہ لڑکیوں کو ایک ہی دعا دینی چاہیے کہ ان کو بندے کا پتر ملے۔
آجکل پاکستان میں ایک اور وباء بہت بری طرح پھیل چکی ہے۔ لوگ دوسرے ملکوں میں رہنے والے رشتوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ اب یورپ، امریکہ رہنے والا لڑکا کیسا بھی ہو ماں باپ اپنی پڑھی لکھی لڑکی کی شادی وہاں کر دیتے ہیں۔ کہ ہماری بچی امریکہ، یورپ چلی جائے گی اور عیش کرے گی۔ میں ایک دو ایسے لوگوں کو جانتی ہوں، جن کے بیٹوں کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور وہ بیمار رہتے ہیں۔ لیکن پاکستان والے اپنی معصوم بچی کا رشتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک ہمارے ہمسائے ہیں، آدمی شرابی ہے، آدمی نے رشتہ ہونے سے پہلے بتا بھی دیا۔ کہ وہ سب کچھ چھوڑ سکتا ہے لیکن شراب کبھی نہیں چھوڑے گا۔ ماں باپ نے اپنی بیٹی کا رشتہ اس کے باوجود کر دیا۔ اب اس شرابی کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے۔ چار ان کے بچے ہیں۔ اور ماں بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ (مرد بھی باہر کا رشتے کو ڈھونڈتے ہیں، یہ الگ کہانی ہے۔ اس پر موقع ملا تو پھر کبھی )
میری اپنی دوست ہے۔ پہلے تو مجھ سے برداشت ہوتا رہا، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے مجھ اس پر بہت غصہ ہے۔ اسے یونان، ناروے کے رشتے سے دو بار ٹھوکر لگ چکی ہے۔ لیکن وہ لڑکی ہے کہ ابھی بھی اس کو عقل نہیں آئی اور انگلینڈ والا کوئی مل گیا ہے۔ اب مجھے غصہ اس بات پر نہیں آیا کہ انگلینڈ میں رہتا ہے، غصہ اس بات کا ہے کہ اس نے اس بندے کی ساری شرطیں مان لی ہیں۔ مثلاً لندن میں آ کر وہ مکمل حجاب کرے گی۔ گھر میں ٹی وی نہیں ہے۔ اس لیے مجھ سے ٹی وی کی ڈیمانڈ نہ کی جائے۔ اور پتہ نہیں کیا کیا۔ اب میں نے اس سے کہا کہ اتنا مذہبی بندہ ہے مشکل ہو سکتی ہے۔ پر نہیں وہ مانی۔ اب اس کے حال پر اللہ رحم کرے۔
اب میں دسمبر میں پاکستان گئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ شادی کرنے جا رہی ہوں۔ اب میں بائیس سال کی بچی شادی کرنے بھلا جاتی کیا؟ جس کا فون آتا، اب مجھے جواب دہ ہونا پڑتا۔ پتہ نہیں لوگوں کو اتنی فکر کیوں ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے یہاں بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ اور میں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ امن تو مجھے پتہ نہیں کون سی دعائیں دینے کا کہہ رہی تھی کہ یہ پڑھیں تو چاند جلدی مل جاتا ہے۔:p اس کو میں نے سمجھایا کہ مجھے جلدی نہیں چاہیے۔ اس لیے رہنے دو۔ کچھ اور لوگوں نے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔ تو مجھے وضاحت کرنے کی اجازت دیں کہ ابھی میں معصوم بچی ہوں اور آئندہ دو، تین سال تک میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس لیے تین سال تک مجھے کوئی تنگ نہ کرے۔ جب کچھ ہوا تو میں خود دعوت نامہ سب کو بھیج دوں گی۔ :D
پوسٹ لمبی ہو رہی ہے اس لیے جو کچھ باتیں رہ گئی ہیں، پھر کبھی سہی۔ فی الحال میرا لڑکیوں کو صرف اتنا پیغام ہے کہ پلیز پلیز شادی کو اتنا ضروری نہ سمجھیں، اگر نہیں ہوتی تو نہ ہو۔۔۔زندگی میں بہت کچھ اور کرنے کے لیے ہے۔ شادی کے انتظار میں اپنا ڈھیر سارا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔
Dec
22
2007
“حجاب“ ایک ایسا لفظ ہے جس کو اب پوری دنیا میں بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کو مسلمان عورتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اسلام میں عورت کا پردہ کرنا لازمی ہے لیکن میں یہاں اسلام کو سامنے رکھ کر بات نہیں کرنا چاہ رہی۔ یورپ اور امریکہ میں ایک عام خیال یہ ہے کہ عورت کو آزادی ہے کہ وہ حجاب لے یا نہیں اور جو عورتیں حجاب لیتی ہیں ان کو گھر سے زبردستی حجاب کروایا جاتا ہے یا حجاب والی خواتین مظلوم ہیں۔ کافی عرصہ پہلے فرانس سے بحث شروع ہوئی تھی اور پھر دیکھا دیکھی سارے یورپ والے حجاب کے پیچھے پڑ گئے۔جرمنی میں بھی حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ہالینڈ پر بھی اس موضوع پر بحث چھڑی۔ پھر ایک وقت یہاں ناروے میں بھی ایسا آیا کہ حجاب والیوں کو کام ملنا بند ہو گیا اور آئے دن ٹی وی، اخبار پر مباحث۔۔۔۔میرے پاس حجاب سے متعلق کچھ واقعات اکھٹے ہو گئے تھے، اس لیے ان کو لکھنے کا سوچ لیا۔
لباس یا آپ کا اندازِ لباس میرے خیال میں اس کی آزادی ہونی چاہیے۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ کون کیا کرتا ہے اور کیا نہیں۔ لیکن بہت سے بلکہ تقریباً سبھی ایسے ہیں کہ آپ کی ایک ایک بات کو نوٹ کرتے ہیں۔ اور خاص طور پر دوسرے ملکوں میں جب آپ رہتے ہیں اور وہاں کے ماحول کیے مطابق زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے، اگر نہیں بدلتے تو نمونہ لگتے ہیں۔ کافی سال پہلے میں نے یہاں ایک عورت کو پہلی بار نقاب میں دیکھا۔ اسے دیکھ کر میں تو حیران ہی رہ گئی۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ یہاں کوئی نقاب کرتا ہو گا۔ اور وہ عورت نقاب کی وجہ سے اتنی مشہور ہوئی کہ جس سے پوچھو وہ جانتا ہوتا تھا کہ ہاں ہم نے اسے دیکھا ہے۔ فلاں علاقے میں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب معلوم نہیں کس ملک کی تھی، لیکن شاید صومالیہ سے تھی۔
ایک دو مہینے پہلے مجھے کام سے پولیس سٹیشن جانا پڑا تو دیکھا ویٹنگ ہال میں پہلے ایک انکل داخل ہوئے، شلوار قمیض، داڑھی، ٹوپی (جو مسجد میں پہنتے ہیں) اور شلوار ٹخنوں سے اوپر۔۔۔ہال میں ایک نظر ڈال کر باہر چلے گئے، تھوڑی دیر بعد بیگم اور بچی کو بھی ساتھ لے آئے۔ اب آنٹی نے برقعہ سمیت نقاب کیا ہوا تھا۔ ان کے داخل ہوتے ساتھ ہی جن لوگوں نے نہیں بھی دیکھنا تھا ان کو دیکھا۔ اور پھر ابھی کچھ دن پہلے ریسٹورنٹ میں ایک عورت کو برقعے میں دیکھا۔ اب دوسری طرف ایسی بھی حجاب کرنے والی ہیں کہ صرف بال ڈھانپ لیتی ہیں، باقی خیر ہے۔ حجاب کے مختلف انداز دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ اصل حجاب کیا ہے؟
پچھلے دنوں امی نے جب سعودی عرب جانے کے لیے ویزا لگوایا تو تصویر بِنا حجاب والی تھی۔ تصویریں واپس کر دی گئیں کہ سعودی عرب جانا ہے تو حجاب میں تصویر ہونی چاہیے۔:D پھر نئے سرے سے تصویریں بنوائیں۔
کچھ عرصہ مجھے زبانیں سیکھنے کا بہت شوق ہوا تھا، مجھے ایک عربی کے کورس کا پتہ چلا، میں وہاں پہنچ گئی۔ اب زیادہ لوگ وہاں مسلمان ہی تھے۔ افریقین یا ایک، دو نارویجین مسلمان تھے۔ اب سب نے حجاب کیا ہوتا تھا ماسوائے میرے۔ ایک دن ٹیچر آ گیا میرے پاس۔ کمپیوٹر کی ایک سائٹ بتائی کہ اسے پڑھنا۔ حجاب کے بارے میں تھی۔ میں نے کہا۔ اوکے۔۔ضرور پڑھوں گی۔ اس پر میں نے سرسری سی نظر ڈالی پھر بند کر دی۔
پچھلے دنوں کینیڈا میں ایک افسوس ناک واقعہ ہوا۔جس میں سولہ سالہ لڑکی کو باپ نے قتل کر دیا، جس کی وجہ بھی حجاب ہی بتائی گئی۔ ماں باپ خدا جانے اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں کہ اپنی ہی اولاد کو قتل کر دیتے ہیں۔ اگر حجاب ہی کروانا تھا تو بچپن سے ایسی تربیت کیوں نہ کی؟ جب بچہ بڑا ہوتا ہے اس پر ایک دم سے زبردستی کرنا شروع کر دیتے ہیں جسے بچہ قبول نہیں کر سکتا۔ ایک اور بات یہاں کے ماں باپ اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ یہاں کا ماحول بہت خراب ہے۔ اوکے۔۔اگر ماحول خراب ہے تو یہاں آنے کو کس نے کہا تھا؟ اپنے اسلامی ملک میں ہی کیوں نہیں رہتے؟ اور کل کو اگر بچہ ہاتھ سے نکل جائے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔
پچھلے سال اسی واقعے سے ملتا جلتا ایک واقعہ ہمارے ہاں بھی ہوا کہ بھائی نے اپنی تین بہنوں کو ایک ساتھ قتل کر دیا۔ باپ بہانے سے پاکستان چلا گیا اور بیٹے کا کہہ دیا کہ دماغی حالت درست نہیں تھی۔ بچیوں کی ماں دنیا میں نہیں تھی۔ باپ زبردستی بچیوں کی شادی گاؤں کے جاہل لڑکوں سے کروانا چاہتا تھا۔ اور جب بچیوں نے باپ کے سامنے انکار کیا تو باپ نے یہی راستہ بہتر سمجھا۔ سب سے چھوٹی بیٹی بارہ سال کی تھی۔ اس کے بعد اسلام اور پاکستان خوب بدنام ہوا۔ میں کچھ لوگوں کو جانتی ہوں جو اپنی بیویوں کو نقاب اس لیے کرواتے ہیں کہ ان کی بیگمات کو کوئی اور نہ دیکھ سکے۔ اور بےوقوف ہوتی ہیں وہ عورتیں جو اپنے خاوند کے کہنے پر نقاب کرتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ کے حکم سمجھ کے کر لیا جائے تو ثواب بھی ہو گا۔
حجاب کے میں خلاف بالکل نہیں ہوں۔ اگر حجاب کرنا ہے ضرور کریں لیکن نقاب کیا ہے؟ اس کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اس سے تو بہتر ہے کہ بندہ گھر میں ہی رہے۔ چلیں، جو مسلمان ممالک ہیں، اور جہاں رواج ہے وہاں پھر بھی ٹھیک ہے۔ لیکن ایسے ملکوں میں جہاں نقاب کا تصور بھی نہ ہو۔۔۔اپنے آپ کو تماشہ بنانے کے مترادف ہے۔
Dec
08
2007
آج کافی دنوں بعد سکون کے کچھ گھنٹے نصیب ہوئے تو میں نے بلاگز کی تانکا جھانکی شروع کی۔ اتنے دنوں سے اپنا بلاگ بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا تھا۔ بہرحال بلاگز کھنگالنے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے کچھ دنوں میں بلاگرز دو مسئلوں پر پریشان تھے یا ہیں۔ ایک مسئلہ “اردو بلاگنگ“ اور دوسرا “مرد خواتین کو کیوں گھورتے ہیں؟“ پہلے مسئلے پر تو میں صرف اتنا ہی کہوں گی جو کچھ اور لوگوں نے کہا بھی ہے کہ اردو میں بلاگنگ ابھی کچھ وقت لے گا۔ ابھی تو شروعات ہیں۔ لیکن آئندہ آنے والوں سالوں میں اردو بلاگرز کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔ انشاءاللہ۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔ ابھی یہ تعداد کم ہی سہی، لیکن بڑھ ضرور رہی ہے، اور اس کا اندازہ ہمیں آئندہ کچھ سالوں میں ہو جائے گا۔ اور باقی زیک نے اردو بلاگنگ کی تشہیر کے لیے بہت اچھی تجاویز دی ہیں۔
مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں؟
دوسرا مسئلہ کافی دلچسپ ہے۔ میں کافی دنوں سے اس کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہی تھی لیکن وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ مرد ہی خواتین کو گھورتے ہیں اور خود مرد حضرات نے ہی اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو عورت کو اس مسئلے پر آواز بلند کرنی چاہیے۔:D راشد کامران کی پوسٹ ایک، دو دن پہلے دیکھی تو سوچا فارغ ہو کر میں بھی اس پر لکھتی ہوں، آج دیکھا تو پھرتیلے بلاگرز نے تو بہت کچھ لکھ بھی دیا ہوا تھا۔ کہ میرے لکھنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔ میں کشمکش میں کہ لکھوں یا نہ لکھوں۔۔۔لیکن اب لکھ ہی دیا۔ ان صاحب کو تو لگتا ہے مضمون نگاری کا بہت شوق ہے۔ اتنی دیر میں میں آدھے بلاگ پڑھ لیتی ہوں۔جتنی دیر ان کا ایک مضمون پڑھنے میں لگتی ہے۔ قدیر نے بھی مضامین لکھے۔ اور میرا پاکستان نے بھی۔ فرحت کا موضوع قدرے مختلف تھا۔
راشد کامران کی ایک بات سے شروع کرتی ہوں جس سے میں مکمل طور پر متفق ہوں۔ کہ نوجوان لڑکوں کی بنسبت بڑی عمر کے مرد حضرات زیادہ گھورتے ہیں۔ لیکن اگر میں بڑی عمر کے بجائے یہ کہوں کہ شادی شدہ حضرات ایسے کام کرتے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔ یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ مرد عورت کو اس معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتے؟ گھورتے ایسے ہیں کہ آج پہلی بار کسی خاتون کو دنیا میں اترا ہوا دیکھا ہے۔ ازل سے مرد اور عورت کا ساتھ ہے، لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں۔۔عورت کو عجیب نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یقین کریں یہ مسئلہ تھرڈ کلاس ممالک اور مسلمان ممالک میں زیادہ ہے۔ جہاں عورتوں اور مرد کو کبھی اکھٹا نہیں ہونے دیا جاتا۔ عورت کا غیر مرد سے بات کرنا بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ فطری بات ہے جس بات سے انسان کو منع کیا جاتا ہے، ہم اس طرف زیادہ جاتے ہیں کہ ایسا کیا ہے جس سے منع کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ میرا پاکستان نے کہا کہ مغربی ممالک میں سرِ عام عورت کو نہیں گھورا جاتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کھلا ماحول ہے اور مرد، عورت کو بھی اپنا جیسا ایک انسان ہی سمجھتا ہے۔ آج ہی میری اور میری کولیگ کی اس گھورنے پر بات ہو رہی تھی۔ تو وہ مجھے کہنے لگی کہ “تم نے نوٹ کیا ہے کہ کبھی کوئی یورپین یا امریکن نہیں گھورتا جبکہ ایشین اور افریقین لوگ زیادہ گھورتے ہیں۔“ اب یہاں ایسا ہوتا ہے کہ ہر کوئی اپنے ملک کے لوگوں کو زیادہ گھورتا ہے۔ اگر پاکستانی ہے تو کسی پاکستانی کو دیکھ لے گا تو اس کو گھورنا فریضہء اول سمجھے گا۔ اور پاکستان میں تو نہایت ہی برا حال ہے۔ اس کی بات میں نہیں کروں گی۔ میں پچھلے سال اتنے لمبے عرصے کے بعد پاکستان گئی تو وہاں کے حالات دیکھ کر میں پہلے دو ہفتے روتی رہی۔:p
مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں۔ اس پر جو میرا پاکستان نے لکھا ہے اس سے میں مکمل طور پر متفق نہیں ہوں۔ ایک ہوتی ہے عادت۔۔۔اگر کسی چیز کی عادت پڑ جائے تو اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اب اگر ضرورت ہو یا نہ ہو اس عادت کو پورا کیے بغیر سکون نہیں آتا۔ ہمارے پاکستانیوں کو گھورنے کی عادت ہو گئی ہے۔ اور یہ حرکت زیادہ تر شادی شدہ مرد کرتے ہیں۔ اپنی بیگم ان کے ساتھ ہو گی۔۔سامنے سے اگر کوئی ایک اور جوڑا گزر جائے تو اگلا مرد دوسرے کی بیگم کو تاڑنے لگتا ہے۔ اگر آپ اپنے ارد گرد بھی غور کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ شادی شدہ ہی ایسی حرکات میں ملوث ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی حرکتیں یا تو بہت گھٹیا اور جاہل قسم کے لوگ کرتے ہیں یا بہت تعلیم یافتہ اور ماڈرن لوگ۔
اگر آپ کو کوئی گھور رہا ہو تو فوراً پتہ چل جاتا ہے۔ اب بندہ آنکھیں بند کر کے تو چلنےسے رہا۔ اگر میری بہن کہیں میرے ساتھ جا رہی ہو اور راستے میں کوئی پاکستانی تاڑے تو فوراً دانت پیس کر کہتی ہے “کمینہ گھور رہا ہے“:p اب میں اسے کہتی ہوں تو تم اس طرف دیکھو ہی نہ۔ لیکن اس کے الٹے کام ہیں۔ اگر کوئی گھور رہا ہو تو وہ بھی مسلسل اسے گھورتی جاتی ہے۔ اور چہرے پر غصہ دیکھنے والا ہوتا ہے۔ اور وہ تب تک گھورتی رہتی ہے جب تک اگلا شرم سے آنکھیں نیچی نہیں کر لیتا۔ اور میری عادت ہے کہ میں بالکل اپنے دھیان چلتی ہوں۔ اگر کوئی گھور رہا ہے اور میری نظر اس پر پڑ بھی جائے تو احساس ہی نہیں ہونے دیتی۔ اگر آپ باہر نکلتے ہیں تو کئی نمونوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور یقین کریں کہ آج کے دور کی لڑکیاں بھی کوئی فرشتہ نہیں ہیں۔ میں نے بہت سی ایسی پاکستانی لڑکیوں کو دیکھا ہے، جو خود مردوں کو خراب کرتی ہیں۔ جہاں کسی کو دیکھا۔۔پاس گئیں۔۔دانت نکالے۔۔۔اب اگلا بندہ خود ہی فری ہو جاتا ہے۔ میں اس سب کے خلاف بھی نہیں ہوں کہ شاید یہ ایک فطری عمل بھی ہے کہ جنسِ مخالف ایک دوسرے کے طرف کھنچتے ہیں۔ لیکن اس کو عادت بنا لینا یا زیادہ بڑھ جانا۔۔۔یہ کہیں کی عقل مندی نہیں۔
میرا پاکستان نے ایک حل تو یہ نکالا کہ” سنِ بلوغت تک پہنچنے پر شادی کر دی جائے۔ لیکن یہ ناممکن ہے تو “خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہیے۔“ میرے خیال میں بہت جلدی شادی کر دینا زندگی کے کچھ اور مسائل کو بڑھا سکتے ہیں۔ اگر بچوں کی بات کی جائے تو یہ سب ماں باپ کی تربیت پر بھی منحصر ہو سکتا ہے۔ آپ کا بچہ کیا کر رہا ہے، کیا سوچ رہا ہے، کہاں جا رہا ہے۔۔۔یہ سب ماں باپ کو اس کی ایک نظر، اس کی ایک حرکت اور اس کی باتوں سے معلوم ہو جاتا ہے۔ اپنے بچوں کو ایک ایسا ماحول دیا جائے کہ بچے فضول قسم کی حرکات میں نہ پڑیں۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو مناسب وقت، توجہ اور پیار نہیں دیتے۔ ایسی صورتِ حال میں بچے باہر مختلف ایکٹیویٹیز میں اپنے آپ کو مصروف کر لیتے ہیں۔ جن کا ماں باپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا۔
اور جہاں تک بڑی عمر کے مردوں کی بات ہے تو ان کو کھلی چھٹی ہے وہ جو مرضی کرتے رہیں۔:D میں اکثر سوچتی ہوں کہ دنیا میں بچوں کے سر پر ماں باپ ہوتے ہیں، بیوی کے اوپر خاوند حکومت کرتا ہے۔ لیکن اس مرد کو کنٹرول کرنے والا کون ہے؟ اکثر پاکستانی مرد تو بیویوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہے، جو مرضی کرتے رہیں۔
کیا ہمارا معاشرہ اس گندی حرکت سے پاک ہو سکتا ہے؟ مجھے نہیں لگتا۔ لیکن اگر ہم انفرادی طور پر یہ سب سمجھنے کی کوشش کریں، اور ایک مہذب شہری ہونے کا ثبوت دیں تو شاید ایسی حرکتوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ویسے جن مرد بلاگرز نے اس بارے میں لکھا ہے، امید ہے وہ تو گھورتے نہیں ہوں گے، اور اگر کبھی گھورنے کی کوشش بھی کی تو اپنے بلاگ کی پوسٹ یاد آ جائے گی۔:p
ابھی بہت کچھ اور بھی لکھنا تھا۔ لیکن میری اظہارِ آزادی کی حد یہاں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے۔:p :D
Nov
09
2007
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غلطی کوئی اور کرتا ہے لیکن اس کی سزا دوسروں کو بھی ساتھ ساتھ بھگتنا پڑتی ہے۔ کچھ عرصہ میں فارغ گھر میں رہی، بڑے مزے سے یہ دن گزر گئے۔ جونہی آپ باہر نکلتے ہیں، لوگ سوال کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جس دن پاکستان میں ایمرجنسی نافذ ہوئی، اس دن میں نے اپنی بہن سے پوچھا کہ یقیناً اب لوگ باہر کئی سوال کریں گے، تو تم کیا کہو گی۔ بڑے مزے سے کہنے لگی، “کہنا کیا ہے، آرام سے کہوں گی کہ “پاکستان میں سب ٹھیک ہے۔ آپ کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔“ اور وہ شاید کہہ بھی سکتی ہے کیونکہ اسے پاکستان سے یا پاکستان کے حالات سے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔ ویسے تو میرے پاس بھی اتنا وقت نہیں ہے کہ لمحہ بہ لمحہ حالات جاننے کے لیے اخبار یا ٹی وی دیکھتی رہوں۔ لیکن پھر بھی باخبر رہتی ہوں۔
کبھی وہ دن تھے کہ جب ہم دوسرے ملک کے لوگوں سے ان کی ملکی حالات ڈسکس کرتے تھے، اب وہی صومالیہ اور عراق جیسے ممالک کے لوگ ہمیں پاکستان کے حالات کے بارے میں آ آ کر پوچھتے اور بتاتے ہیں۔ میرا ایک کولیگ تو ہر نئے دن مجھ سے پاکستان کے حالات ڈسکس کرنے آ جاتا ہے۔ اور ہمارے آفس میں تو اس نے انکل مشرف کا مذاق بنایا ہوا ہے۔ جب اس نے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ہوتا ہے تو طنزیہ کہتا ہے کہ آپ کو معلوم نہیں “میں مشرف ہوں۔“ اور کبھی وہ آفس میں جمہوریت لا رہا ہوتا ہے، تو کبھی کچھ۔
ایک صومالیہ کا کہتا ہے کہ صومالیہ میں بھی ایسے ہی حالات ہوئے تھے اور جنگ چھڑ گئی۔ میں نے اسے چپ کروایا کہ امید ہے کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہو گا۔ ابھی شکر ہے نارویجینز اس بارے میں اتنا ڈسکس نہیں کرتے۔ اخبارات میں بڑے مزے مزے کی تصاویر آجکل چھپ رہی ہیں، بی بی سی کی سائٹ تو کافی لوگ وزٹ کرتے ہیں، جب کوئی دوسرا آ کر پاکستان کی تصویریں دکھاتا ہے تو بندہ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔
یہاں کا میڈیا بھی اتنا تیز ہے کہ ہر چیز کو سر پر ہی سوار کر لیتا ہے، پاکستانی تو ویسے ہی ماشاءاللہ سال کے ٣٠٠ دن میڈیا میں اِن رہتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی کارنامہ سر انجام دئیے ہی رہتے ہیں۔ ٹی وی پر آپ کبھی بھی کوئی بھی ڈسکشن سن لیں، پاکستانیوں کا نام اس میں ضرور آ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اب جو انکل مشرف نے کارنامہ سر انجام دیا ہے، اس کے بعد تو مزید شرمندہ ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن میں پیشن گوئی کرتی ہوں، کہ اگر کچھ عرصہ تک پاکستان کے حالات اسی طرح رہے تو پاکستان کا بہت برا حال ہونا ہے۔ مزید اس لیے نہیں کہوں گی کہ کہیں میری پیشن گوئی غلط ہی ثابت نہ ہو جائے۔ ویسے تو اللہ کرے کہ غلط ہی ثابت ہو۔
یورپی میڈیا تو صاف کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے۔ اور میرے خیال میں واقعی ہو چکی ہے۔ اتنے بدترین حالات۔۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا انکل مشرف کی وجہ سے ہوں گے۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو عقل عطا فرمائے (اگر نہیں تو مجھ سے عقل ادھار لے لیں) اور ہمارے ملک کے حال پر رحم کرے۔جاوید چودھری کا کل کے ایکسپریس اخبار میں ایک کالم “خانہ جنگی سے دو انچ دور“ تھا۔جس میں اس نے بڑی سچی باتیں کی ہیں۔
سیاست پر مجھے لکھنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا، لیکن میرا کولیگ مجھ سے دو دن سے کہہ رہا تھا کہ ہماری ڈسکشن کے بارے میں لکھو۔ اس لیے اس کو دکھانے کے لیے کچھ لکھ دیا ہے۔ شکر ہے ابھی اسے صرف ارود کے دو جملے ہی آتے ہیں، ورنہ اس نے لکھنے کے بعد بحث کو مزید بڑھا لینا تھا۔
Aug
30
2007
عمار نے تحفظ حقوق مرداں پر لکھا، تو مجھے بھی اس ٹاپک پر بھڑاس نکالنے کی سوجھی۔ لیکن لکھنے سے پہلے سکول کے زمانے کی ایک دوست جو پاکستان میں ہے، سے آج بات ہوئی۔تو اس نے بھی آج میرا خرچہ “مردوں“ کے ٹاپک پر ہی کروا دیا۔ اور مجھے لکھنے یا بولنے کے لیے صرف ایک اشارے کی ضرورت ہوتی ہے، میرے لیے خود سے کسی ٹاپک کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے جو کہنا ہوتا ہے وہ میں کہیں بھی کسی سے فوراً کہہ دیتی ہوں۔ اگر انسان کے اندر کوئی بات رہ جائے تو تب ہم اس کو باہر نکالنے کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔
ہمارے بڑے اکثر ہمیں اپنے زمانے کی کہانیاں سناتے ہیں۔ اور پھر ساتھ ہی آج کے زمانے اور اپنے زمانے کے حالات کو کمپیئر بھی کرتے ہیں۔ اس زمانے کے حالات سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک ہمارے رویوں میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے حالات اور واقعات کی نوعیت بدلتی جاتی ہے۔ لیکن ان بدلتے حالات کے ساتھ ہمیں اپنی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی اقدار کو نہیں بدلنا چاہیے۔
عمار نے حقوق کے تحفظ کی بات کی۔ آئے روز ہم تحفظ حقوق کے لیے سیمینار منعقد کرتے ہیں، لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں اور پھر ان سب کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ کیا سب کو اپنے حقوق مل جاتے ہیں؟ کیا تحفظ حقوق نسواں کا بل پاس ہو جانے کے بعد ہمارے ملک کی عورتوں کو ان کے حقوق مل جائیں گے؟ حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ایسا ہے کہ ہمارے حقوق کو سلب کر لیا گیا ہے۔ اور ہمیں آزادی سے جینا نصیب نہیں ہے۔
اب اگر عورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد نے اس کے حقوق کو سلب کر لیا ہے۔ اور اسے اس کے حقوق واپس دلوائیں جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مرد کو اللہ نے عورت پر حاکم اور بڑائی عطا کی ہے۔ لیکن یہ فضیلت علم و عمل میں اور دوسرا مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق کی پوری رعایت ہے، اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ملتا۔ لیکن آج کی عورت تو ہر وقت شکایت کرتی ہی نظر آتی ہے۔ ہم معاشی گھٹن، تنگ نظری کی زیادتی اور عزتِ نفس کے فقدان کی وجہ سے تشدد پسند ہو گئے ہیں۔ اس نفسا نفسی کے دور میں سب کو اپنی ہی پڑی ہے۔ احساس ہم لوگوں میں ختم ہو چکا ہے۔ رشتوں کو بھلا کر مادہ پرستی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اور میرا خیال میں یہ کام انفرادی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے نا کہ تحفظ حقوق کے لیے تحریکیں چلا کے۔
میں اگر اپنے ارد گرد دیکھتی ہوں تو مجھے مرد کا کوئی خاص اچھا روپ دکھائی نہیں دیتا۔(اور یہ میں اپنے معاشرے کی بات کر رہی ہوں۔ کسی دوسرے معاشرے کے بارے میں میں کچھ کہہ نہیں سکتی) میں نے بہت کوشش کی کہ میں مثبت رہ کر سوچوں لیکن آئے دن کے واقعات سن، دیکھ کر مرد کا کوئی خاص اچھا تاثر میرے ذہن میں نہیں آتا۔ یقیناً سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بہت اچھے اچھے لوگ بھی ہیں۔ آپ(جو یہ پڑھ رہا ہے) بھی بہت اچھے ہیں۔:p
دوسری طرف عورت ۔۔۔ بے چاری عورت اپنے حقوق کے لیے لڑتی رہتی ہے۔ مجھے عورتوں پر بھی بہت غصہ آتا ہے۔ عمار نے درست کہا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میرے خیال میں عورت اپنے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتی ہے۔اور بعض اوقات اپنے لیے وہ دوسری عورت کا بھی حق مار دیتی ہے۔ جیسا کہ عمار نے ذکر کیا کہ شادی کے بعد ماں چاہتی ہے کہ بیٹا میری سنے اور دوسری طرف بیوی کہتی ہے میری سنی جائے اور تیسری فساد کی جڑ نندیں بھی ہوتی ہیں جو اپنے بھائی کو اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔(عورت نے خود ہی مرد کو بڑا بنا دیا ہے) اور مرد بیچ میں کہیں پھنس جاتا ہے۔ لیکن یہاں مرد مجبور ہوتا ہے نا کہ اس کے حقوق کو سلب کیا جاتا ہے۔ تو عمار سے میں یہی پوچھوں گی کہ مرد تو پہلے ہی آزاد اور محفوظ ہے۔ اس کے حقوق کے لیے آواز بلند کر کے کیا اسے مزید آزاد کرنے کا ارادہ ہے؟ اور اگر آپ تحفظِ حقوق مرداں کے لیے کوئی تحریک چلانے کا سوچ رہے ہیں، تو یاد رہے کہ میں اس قسم کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔:p
اور ساجد نے ٹھیک کہا کہ شادی کے بعد اس تحریک میں شامل ہونے کا سوچوں گا۔ اور میں اپنے بھائیوں کو تسلی دیتی ہوں کہ آپ لوگ فکر نہ کریں۔ عورت مرد کی طرح ظالم نہیں کہ ظلم و تشدد شروع کر دے۔ امید ہے ان کو“انجمن مظلومان شوہر“ نہیں بنانا پڑے گی۔ بس اپنے رویوں کو درست رکھیں، اگلے کو بھی انسان سمجھیں اور کسی کا حق نہ ماریں تاکہ ہمیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔