Archive for the 'شاعری' Category

May 06 2009

مولا مولا میرے مولا…

شائع کیا: ماوراء زمرہ: شاعری

شاعری؛ پراسون جوشی
میوزک؛ اے آر رحمان
گلوکار؛ جاوید علی اور کیلاش کھیر

سنئیے (آڈیو) : عرضیاں – مولا مولا

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

12 تبصرے

Apr 06 2009

امامت کی حقیقت (کلامِ اقبال)

شائع کیا: ماوراء زمرہ: شاعری

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے

9 تبصرے

Feb 19 2009

میرے ساتھ کیا گزر گئی…

شائع کیا: ماوراء زمرہ: شاعری

میرے ساتھ کیا گزر گئی میں سوچ رہا ہوں مدت سے
بیتا کل بھلادوں کیا سوچ رہا ہوں مدت سے پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

8 تبصرے

Nov 09 2008

کوششِ ناتمام

شائع کیا: ماوراء زمرہ: شاعری

فرقت آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صبح

چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے لیے

رہتی ہے قیس روز کو لیلی شام کی ہوس

اختر صبح مضطرب تاب دوام کے لیے

کہتا تھا قطب آسماں قافلہ نجوم سے

ہمرہو! میں ترس گیا لطف خرام کے لیے

سوتوں کو ندیوں کا شوق ، بحر کا ندیوں کو عشق

موجۂ بحر کو تپش ماہ تمام کے لیے

حسن ازل کہ پردۂ لالہ و گل میں ہے نہاں

کہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے

راز حیات پو چھ لے خضر خجستہ گام سے

زندہ ہر ایک چیز ہے کوشش ناتمام سے

علامہ محمد اقبال

علامہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہر ایک چیز کوشش نا تمام سے ہی زندہ ہے یعنی جد و جہد کرنا ہی حاصل زندگی ہے چاہے وہ جد و جہد رنگ لائے یا نہ لائے باقی اس میں شاعرانہ تخٰیل ہے جیسے صبح کے پیچ و تاب (طلوع) ہونے کو سورج کی فرقت کی وجہ سے، شفق کی سرخی ستاروں کیلیئے، صبح کو قیس سے اور لیلی کو شام سے تسبیہ دے کر یہ کہا کہ قیس کو لیلی کی تلاش ہے، اسی طرح سوتوں کو ندی کی جستجو ہے اور ندی کو سمندر کی اور سمندر کو چودھویں کے چاند کی (جوار بھاٹا) اور آخری شعر کہ زندگی کا راز خضر سے پوچھ لے جو آبِ حیات پی کر در بدر ہیں کہ کوشش کرنے سے ہی ہر ایک چیز زندہ ہے۔

وارث کا شکریہ۔ جنہوں نے اس نظم کو آسان الفاظ میں سمجھایا۔

11 تبصرے

Mar 14 2008

میرے پیارے اللہ میاں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: شاعری

میرے پیارے اﷲ میاں
دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ ہے
اس کے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں
اور وہ بھی پاکستان ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
لیڈر کتنے نیک ہیں
ہم کو دیں وہ صبر کا پھل
خود وہ کھاتے کیک ہیں

میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا نظام ہے
فلموں میں آزادی
ٹی وی پہ اسلام ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
سوچ کے دل گھبراتا ہے
بند ڈبوں میں خالص کھانا
ان کا کتا کھاتا ہے
میرا بچہ روتے روتے
بھوکا ہی سو جاتا ہے

دو طبقوں میں بٹتی جائے
ایسی اپنی سیرت ہے
اُن کی چھت پر ڈش انٹینا
میرے گھر بصیرت ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
میری آنکھ کیوں چھوٹی ہے
اُس کی آنکھ میں کوٹھی ہے
میری آنکھ میں روٹی ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
تیرے راز بھی گہرے ہیں
ان کے روزے سحری والے
اور میرے اَٹھ پہرے ہیں

دعوت روزہ کھلوانے کی
انہیں ملی سرکاری ہے
میرا بچہ روزہ رکھ کے
ڈھونڈتا پھرے افطاری ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا وٹہ سٹہ ہے
این ٹی ایم کا سر ننگا
پی ٹی وی پہ دوپٹہ ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
بادل مینہ برسائے گا
اس کا گھر دھل جائے گا
میرا گھر بہہ جائے گا

میرے پیارے اﷲ میاں
چاند کی ویڈیو فلمیں دیکھ کے
اس کا بچہ سوتا ہے
میرا بچہ روٹی سمجھ کر
چاند کو دیکھ کر روتا ہے

میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسی ترقی ہے
اُن کی قبریں تک ہیں پکی
میری بستی کچی ہے

فاروق قیصر

نظم یہاں سے لی ہے۔

15 تبصرے

Dec 30 2007

دو نظمیں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: بے نظیر, شاعری

محمود شام کی یہ ایک نظم جو کہ بے نظیر کے لیے لکھی گئی ہے۔

ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی
ایسے بیٹی کو تو میکے سے نہیں بھیجتے ہیں
ایسے تاریخ تو قومیں نہیں لکھتیں اپنی
ایسے تہذیب کا چہرہ نہیں جھلسا جاتا
اس طرح قیمتی میراث لٹاتے ہیں کہاں
یوں تدّبر کو کہاں زہر دیا جاتا ہے
ایسے جرات پہ کہاں وار کیے جاتے ہیں
ایسے اقدار پہ تلوار کہاں اُٹھتی ہے
ایسے افکار پہ نیزے نہیں پھینکے جاتے
ایسے تقدیر پہ شمشیر کہاں چلتی ہے
یوں عقیدوں سے ہلاکت نہیں بانٹی جاتی
ایسے امید کو کب قتل کیا جاتا ہے
اپنے آئندہ سے یوں خوف کہاں ہوتا ہے
چھوڑیں بچّوں کے لیئے آگ لہو کا ورثہ
ایسے ماں باپ تو دنیا میں نہیں ہوتے ہیں
ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقتلِ شہر میں اک شور سنائی دے گا
سر پھرا کوئی سرِداردکھائی دے گا

ایک دن عدل کی زنجیر ہلے گی یارو
وقت کا لمحہ ہمیں ازنِ رہائی دے گا

چہرہِ زیست سے سرکے گی جو شب کی چادر
ہم کو خورشیدٍ جہاں تاب دکھائی دے گا

شور تا حشر بپا ہوگا ستم گر کے خلاف
ہم نہ ہوں گے تو کوئی اور دُہائی دے گا

ذہن میں ابھریں گے گم گشتہ محبت کے نقوش
جب وہ ہاتوں میں مرے دستِ حنائی دے گا

منصب و جاہ کی سن سے ہے تجھے بخش اُمید
وہ تیرے ہاتھ میں کشکولِ گدائی دے گا

2 تبصرے