یونیورسٹی کے تقریباً آغاز میں چھ ماہ پہلے ایک پاکستانی لڑکی کا دوسری پاکستانی لڑکی کے ساتھ مکالمہ:
پہلی لڑکی ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آتی ہے، کلاس کا کمرہ بدل جانے کی وجہ سے دوسری پاکستانی سے کلاس کے بارے میں پوچھتی ہے۔
پہلی: (اردو میں پوچھتی ہے کہ) کیا اسی کلاس روم میں ہم نے جانا ہے؟
دوسری : (نارویجین میں جواب دیتے ہوئے؟) ہیین؟؟ کیا کہا؟
پہلی : (نارویجین) او۔۔شاید آپ اردو نہیں بولتیں؟ کیا آپ پاکستان سے نہیں ہیں؟
دوسری : میرے والدین پاکستان سے ہیں۔ میں نہیں۔۔!
پہلی : او سوری۔۔لیکن میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا اسی کمرے میں ہماری کلاس ہے؟
دوسری : مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟ ٹیچر یا ریسپشن سے جا کر پوچھو۔
آج سے ایک سال پہلے 2007 جاتے جاتے ہماری بہادر لیڈر کو اپنے ساتھ لے گیا۔ اتنے سالوں بعد جب بے نظیر بھٹو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے وطن واپس لوٹیں تو ملک تحفے میں ان کے لیے موت لیے بیٹھا تھا۔ چاروں صوبوں کی زنجیر، بھٹو کی تصویر، سہانے خوابوں کی تعبیر اور اس ملک کی تقدیر۔۔۔ بے نظیر کو 27 دسمبر 2007 چوون سال کی عمر میں شہید کردیا گیا۔ ان کا جانا ہمارے ملک کے لیے ہر لحاظ سے برا ثابت ہوا۔ زرداری جیسے نااہل لوگوں کے پاس حکومت آ گئی، ملک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے سروں پر آج جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ آج اگر بے نظیر زندہ ہوتیں تو یقیناً حالات مختلف ہوتے۔ آج بے شک بے نظیر ہم میں موجود نہیں، لیکن وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلیں بھی ان کو یاد کریں گے۔خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔
پاکستان کی حکومت نے بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر دس روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر بے نظیر بھٹو کی تصویر اور اس پر دختر مشرق، بے نظیر بھٹو شہید لکھا ہوگا۔ اور یہ سکہ اٹھائیس دسمبر سے جاری کیا جائے گا۔
آجکل اے آر وائی ڈیجیٹل پر ڈرامہ “کیسا یہ جنون” ہر اتوار کی شام کو نشر کیا جا رہا ہے۔ ڈرامے کے اشتہار تو جون ، جولائی سے چینل پر دکھائے جا رہے تھے، پہلے کہا گیا کہ ڈرامہ بیس جولائی کو نشر کیا جائے گا۔ لیکن اب دسمبر میں آ کر ڈرامے کو چلایا گیا۔ اتنے مہینوں سے ڈرامے کا اشتہار چلا کر جانے تجسس پھیلایا جا رہا تھا یا پھر ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہی ہمیں بور کرنا چاہ رہے تھے۔
اے آر وائی کے مطابق :
ڈرامہ سیریل کیسا یہ جنون پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے بڑا سیریل ہے ۔شدت پسندی پر مبنی اس ڈرامے میں شدت پسندی کی وجوہات، انکے ہماری قوم پر پڑنے والے اثرات اور ان بنیادی مسائل کو سامنے لایا جائیگا جس سے آجکل کی نوجوان نسل دوچار ہے ۔
کیسا یہ جنون میں دنیا میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا جائیگا سیریل کی کہانی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے جس کی پرورش تین خاندانوں میں ہوتی ہے ۔ڈرامے کی کاسٹ کرن کھیر، آصف رضا میر، سویرا ندیم ، اظفر رحمن ، علی کاظمی ، مدیحہ افتخار، محمود اسلم ، صبا حمید ، سونیا رحمان اور عدنان صدیقی پر مشتمل ہے ۔
ڈرامے کو ڈائریکٹ رعنا شیخ نے کیا ہے، جبکہ ڈرامے کے ڈائیلاگ حسینہ معین نے لکھے ہیں۔ ڈرامے کا ٹائیٹل گانا “کیسا یہ جنون” راحت فتح علی خان نے نہایت خوبصورت گایا ہے۔ جبکہ کمپوز وقار علی نے کیا ہے۔
ڈرامہ 22 اقساط پر مشتمل ہے، میرا خیال ہے کہ ڈرامہ پاکستان میں پہلے سے دکھایا جا رہا ہے، کیونکہ muft.tv پر اس کی کچھ قسطیں موجود ہیں۔ ہماری طرف اس اتوار کو دوسری قسط تھی۔ ڈرامے کا اے آر وائی والوں نے اتنا چرچا کیا ہے۔ جیسے خدا جانے کیا بنا دیا ہے۔ لیکن ابھی تو دوسری قسط تھی، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔لیکن پاکستان کی تاریخ میں سات کروڑ کی لاگت سے بننے والا یہ پہلا ڈرامہ سیریل ہے
مجھے تو پاکستانی اخبار دیکھے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے، لیکن ہمارے ٹیچر نے پچھلے دنوں پاکستانی اخبارات پر کافی تنقید کی۔ دراصل ہم نے نومبر میں اخبارات ، اخباری تصاویر اور اشتہارات پر کام کیا۔ جس میں ہمیں مختلف اخباروں کا تجزیہ کرنا تھا۔ ہم نے تو جو کیا سو کیا۔۔۔لیکن ہمارے ٹیچر نے برے معیار کے اخبارات میں پاکستان کے اخبارات کی مثال دی۔ اخبارات میں تصاویر کی کمی کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ انتہائی چھوٹا اور کالمز کو انتا لمبا کیا ہوتا ہے جس سے خبر پڑھتے وقت تسلسل قائم نہیں رہ سکتا۔ اور اخبارات کی سیاہی اتر کر ہاتھوں پر لگتی رہتی ہے۔ اخبارات کا معیار اچھا کرنے کے لیے یقینا پیسہ لگانا پڑتا ہے۔ جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سب سے اہم بات پاکستانی اخبارات میں اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے، جہاں خبر ہونی چاہیے وہاں آپ کو اشتہارات نظر آ رہے ہوتے ہیں۔
نیچے دی گئی اخبارات میں تصاویر تو مجھے نظر آہی رہی ہیں۔ :)
nation.co.ke اپنے تھیم کے ساتھ بہت بہتر سائٹ ہے۔ امریکہ کے انتخابات کی آخری رات جب ہر اخبار کی ٹاپ سٹوری میں امریکہ کی خبر تھی، تب پاک ابزرور پر صبح تک کوئی اور ہی خبر تھی۔ پاک ابزرور کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ کتنی بڑی سائٹ ہے، لیکن اپنی شرمندگی ختم کرنے کے لیے میں نے جھٹ سے ڈان اور دی نیشن کا نام لیا۔ ڈان کا صفحہ کھولا تو ٹیچر کو سمجھ ہی نہ آئے کہ جانا کہاں ہے۔ :p صفحہ کھولتے ساتھ سامنے تو کچھ اور ہی کھل جاتا ہے۔۔جس میں اشتہارات چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
دی نیشن کی سائٹ کچھ بہتر تھی۔ ہم چونکہ تصاویر پر کام کر رہے تھے تو دی نیشن پر ہمیں تصاویر بہت اچھی مل گئیں۔ جس سے ہمیں (پاکستانیوں کو) مزید شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔
پیلن اور زرداری کی ملاقات کی ویڈیو یہاں دیکھی۔۔۔ جس میں میوزک زبردست گانے کا ایڈ کیا ہے۔ :D
گانا کچھ اسطرح ہے۔
کتنا حسین چہرہ، کتنی پیاری آنکھیں
کتنی پیاری آنکھیں ہیں، آنکھوں سے چھلکتا پیار
قدرت نے بنایا ہو گا، فرصت سے تجھے میرے یار
تیری نظر جھکے تو شام ڈھلے، جو اٹھے نظر تو صبح چلے
تو ہنسے تو کلیاں کھل جائیں، تجھے دیکھ کے حور بھی شرمائے
تیری بکھری بکھری زلفیں، تیری مہکی مہکی سانسیں
تیری کوئل جیسی بولی، تیری میٹھی میٹھی باتیں
جی چاہے میرا یونہی تیرا کرتا رہوں دیدار
قدرت نے بنایا ہو گا فرصت سے تجھے میرے یار
دنیا میں حسین اور بھی ہیں، ہو گا نہ کوئی تیرے جیسا حسین
رنگیں جواں مدہوش بدن تو حسن و شباب کا ہے گلشن
تیرے انگ سے خوشبو برسے، پریوں سی سندر کایا
جو کچھ سوچا تھا میں نے، وہ سب کچھ تجھ میں پایا
تیری ایک ادا پہ میں صدقے جاؤں سو بار
قدرت نے بنایا ہو گا فرصت سے تجھے میرے یار
ابھی تو شکر ہے کہ مِس پاکستان محلیج صاحبہ نے مشرف کو ہی پسند کیا، ورنہ اگر زرداری کے ساتھ وہ Dating کے لیے بےتاب ہوتیں تو کچھ بعید نہیں تھی، کہ زرداری صاحب ڈیٹ پر جانے کے لیے تیار بھی ہو جاتے۔ :D
نوٹ: رمضان میں تو ویسے میں نے گانے سننا چھوڑے ہوئے ہیں، لیکن یہ سنے بغیر نہ رہ سکی۔:D
آصف زرداری پاکستان کے نئے صدر۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیسے صدر ثابت ہوں گے۔ لیکن فی الحال سب کو مبارک۔
ہم لوگوں کی بہت بری عادت یہ ہے کہ کسی حال میں خوش نہیں رہتے۔ ہر کسی کو برا کہنے کی ہمیں عادت سی ہو گئی ہے۔ اس طرح جو اچھا بھی ہوتا ہے، برا بننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ نئے صدر کی خواہش میں ہم نے سابق صدر مشرف کو کس طرح صدارت کے عہدے سے ہٹایا، سب کو معلوم ہے۔ لیکن ابھی جو صدر بنا ہی نہیں تھا۔۔۔ ہم اس کو صدر بننے سے پہلے ہی برا بھلا اور اس کے خلاف جانے کیا کیا کیچڑ اچھال رہے ہیں۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں, جو میں نے شب کے بلاگ پر بھی کہی کہ “جیسے ہم لوگ ہیں، ویسے ہی ہمیں لیڈر ملیں گے۔”ہمیشہ مثبت سوچیں، حوصلہ افزائی کریں اور صرف پاکستان کے بارے میں سوچیں۔ جب تک ہم اچھے نہیں ہوں گے، تب تک ہمیں کچھ بھی اچھا نہیں ملے گا۔
آج انتخابات کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس قسم کے ہر جھٹکے سے ہمیں محفوظ رکھے۔ آمین۔
قومی اسمبلی میں آصف زرداری کو 281، سعید الزماں صدیقی کو 111، اور مشاہد حیسن کو 34 ووٹ ملے۔
پنجاب اسمبلی میں آصف زرداری کو 123، سعید الزماں صدیقی کو 201 جبکہ مشاہد حسین کو 36 ووٹ ملے۔
سرحد اسمبلی میں زرداری کو 107 ، سعید الزماں صدیقی کو 10 اور مشاہد حسین کو 3 ووٹ ملے۔ جبکہ 4 ووٹ مسترد ہوئے۔
سندھ اسمبلی میں کل 166 ووٹ تھے، 163 کاسٹ ہوئے، آصف زرداری کو 162 ووٹ ملے۔
بلوچستان اسمبلی میں آصف زرداری کو 59 جبکہ صدیقی اور مشاہد حسین کو 2,2 ووٹ ملے۔
ہماری زندگی کیا ہے
شعورِ ذات کی خاطر ہی بس ایک آزمائش ہے۔
ہماری لرزشیں ہم کو سکھاتی ہیں
نئی راہیں دکھاتی ہیں
ہماری انتہائے شوق کیا ہے
ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی
ہماری آرزو کیا ہے
کہ ہم اپنی رگِ جانِ وفا کے رنگ بھر دیں
ہماری آگہی ہم کو بناتی ہے
نئی شمعیں جگاتی ہے
ہماری انتہائے شوق کیا ہے
ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی
ارادوں کی زمیں پر
کاوشوں کے پھول کھلتے ہیں
کوئی آندھی کو ئی طوفاں
کبھی رستہ نہ روکے
ہمیں پھر بھی یقین ہے جب
ہمارے دل سے ہر دم
ایک ہی آواز آتی ہے۔
اللہ۔۔۔۔
اللہ تو ہے میرا سائیں
اللہ تو ہے میرا سائیں
اللہ تو ہے میرا سائیں
ہماری انتہائے شوق کیا ہے۔
ہمیں ہر راہ گزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی
واؤ انکل مشرف مستعفی ہو گئے۔ ورنہ میں تو سمجھ رہی تھی کہ اپنے برے ترین انجام کو دیکھ کر ہی صدارت کا عہدہ چھوڑیں گے۔ لیکن انکل سیانے نکلے۔ اب اللہ سے دعا ہے کہ کم از کم زرداری کو تو صدر نہ بنائے۔ اے اللہ ہمیں کوئی مخلص رہنما دینا۔ آمین۔
لگتا ہے شبِ برات کو لوگوں نے دل سے دعائیں کی ہیں، کہ آج دعا قبول بھی ہو گئی۔ ویسے میری سالگرہ کا بھی آج مبارک دن ہے۔ یا پھر اللہ تعالی نے پاکستان کا خط پڑھ لیا ہے?
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے کتنا درست ثابت ہوتا ہے۔
صبح صبح انکل مشرف کی تقریر کی آواز نے بغیر الارم کے اٹھا دیا۔ اب مجھے جانا بھی ہے، شام گھر آ کر ہی دیکھوں گی کہ مزید پاکستان میں کیا ہوا ہے۔۔۔۔ :dsadas:
پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں تیری خیریت دریافت کروں، اپنی حالت تیرے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تُو بالکل خیر خیریت سے ہو گا کیونکہ دکھ، پریشانی اور تکلیفوں کے لیے تُو نے یہ زمین اور مخلوقات جو بنا دی ہیں۔ بس اسی لیے آج میں نے تجھے خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میں تیرا زیادہ وقت بالکل نہیں لوں گا، مجھے معلوم ہے تُو بہت مصروف رہتا ہے۔ امید ہے کہ تو وقت نکال کر نہ صرف اسے پڑھے گا بلکہ میری حالات پر سنجیدگی سے سوچے گا بھی۔
مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں سے شروع کروں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تُو سب جانتا ہے، لیکن پھر بھی میں تجھے اپنا دکھ اور حالات بتانا چاہتا ہوں۔ کیا تجھے معلوم ہے کہ آج تیری اتنی بڑی کائنات میں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے؟ اس زمین کے ٹکڑے کا یعنی میرا نام “پاکستان“ ہے۔ آج میری باسٹھویں سالگرہ بڑے جوش و خروش سے منائی جا رہی ہے۔ نہ صرف آج بلکہ پچھلے اکسٹھ سالوں سے یہی ہوتا آ رہا ہے۔ اب تک تو میں یہ سب سہتا آیا تھا، لیکن اب مزید مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اس خط کے ذریعے میں اپنا دکھ تجھ سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔
میرا وجود 1947 میں اسی دن آیا۔ میں بڑی مشکلوں اور بہت قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ تب سے اب تک کئی حکومتیں آئیں اور ختم ہو گئیں۔ ان سارے عرصے میں مجھے کوئی بھی مخلص رہنما نہ ملا، اور اگر کوئی ملا بھی تو اس کو دشمنوں نے راستے سے ہٹا دیا۔ ان سیاستدانوں نے مجھے دن بدن زوال کی طرف دھکیل دیا۔ اور میری حالت بد سے بدترین ہوتی گئی۔ ان سیاستدانوں کو اگر ایک طرف رکھیں تو اس میں بسنے والے عام انسانوں نے بھی مجھے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ – دین و مذہب سے دوری، فرقہ واریت، انتہاپسندی، بے حیائی، گانا بجانا، جھوٹ، فراڈ ، دھوکے، چوریاں، ڈاکے، دہشت گردی، خودکش حملے غرض یہ کہ کون سا غلط عمل نہیں ہے جو مجھ میں بسنے والوں نے نہیں کیا۔ علامہ اقبال کیا خوب کہہ گئے۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر
اے اللہ، میں یہ جانتا ہوں کہ تُو اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ اپنی حالت خود نہیں بدلتی لیکن اس سے پہلے کہ اس قوم کی ذرا سی لاپرواہی کے باعث میں ایک بار پھر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ جاؤں۔ میری تجھ سے درخواست ہے کہ اپنی مصروفیت سے ذرا سا وقت نکال کر مجھ پر نظرِ کرم فرما لے، میں اس وقت سخت مصیبت، تکلیف میں ہوں، تیرے سوا مجھے اور کوئی دکھائی نہیں دیتا جو مجھ پر رحم کھائے۔ اے میرے اللہ، مجھ میں بسنے والوں کے گناہ اور کوتاہیاں معاف فرما دے، ان کو ایک تکلیف ملتی ہے تو میری تکلیف دگنی ہو جاتی ہے، مجھے اپنے لوگوں سے بہت پیار ہے، وہ مجھ سے ہیں تو میں ان سے ہوں۔ اس زمین کے ٹکڑے پر وہ لوگ بستے ہیں جو تیرے آخری رسول محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں، اپنے نبی کے صدقے ہی ان کی حالت پر رحم فرما دے۔ اور مجھے مخلص رہنما عطا فرما دے۔ اور ان لوگوں کو متحد ہو کر رہنے توفیق عطا فرما دے۔ بس تُو صرف ایک بار رحم کی نظر سے دیکھ لے اور اس زمین پر اپنی رحمتوں کی بارش کر دے۔ مجھے اپنی ایک صدی مکمل ہونے کا شدت سے انتظار ہے۔ مجھے امید بلکہ یقین ہے کہ تب تک میں مکمل آزاد اور ترقی یافتہ ملک ہوں گا۔ اور میرے لوگ ہر برائی سے آزاد ہوں گے۔ وہ ہر وہ کام کریں گے جن میں ان کی اور میری بھلائی اور عزت ہو گی۔ ابھی مجھے وجود میں آئے صرف اکسٹھ سال ہوئے ہیں، لیکن اے اللہ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ پیچھے جانے کے بجائے میرے لوگ مجھے آگے ہی لے کر جائیں، چاہے کچھوے کے ہی چال چلیں، لیکن صرف آگے ہی چلیں۔
میں تجھ سے کہنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن سوچتا ہوں کہ تیرے پاس میرا خط پڑھنے کا وقت ہو گا بھی یا نہیں، کیا تُو اس کو پڑھ بھی سکے گا یا نہیں، اگر تُو نے پڑھ لیا تو مجھے جواب ضرور بھیجے گا، چاہے وہ کسی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ پھر باقی باتیں دوسرے خط میں کہوں گا۔