Archive for the 'ناروے نامہ' Category

Aug 21 2009

ہفتہء بلاگستان: یومِ تعلیم

ہفتہ بلاگستان میں کافی پیچھے رہ گئی ہوں..لیکن کوشش کرتی ہوں کہ ہفتہ بلاگستان ختم ہونے سے پہلے ہی تحاریر لکھ لوں. یومِ تعلیم پر ذہن میں یہی آیا کہ جہاں میں رہتی ہوں، وہاں کے نظام تعلیم کے بارے میں مختصر سا لکھ دوں. زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گی.

ناروے میں چھ سال کا بچہ سکول میں داخل ہوتا ہے. اور یہاں چھ سے سولہ سال کی عمر تک تعلیم لازمی ہوتی ہے. چھ سے سولہ سال تک کا مطلب یہ ہوا کہ پہلی جماعت سے دسویں تک تعلیم لازمی ہے. سکول کا نئے سال کا آغاز تقریباً اگست کے وسط سے ہوتا ہے اور جون کے تقریباً آخر تک سال کا اختتام ہوتا ہے پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

3 تبصرے

Feb 13 2009

میں پاکستانی نہیں ہوں!

یونیورسٹی کے تقریباً آغاز میں چھ ماہ پہلے ایک پاکستانی لڑکی کا دوسری پاکستانی لڑکی کے ساتھ مکالمہ:

پہلی لڑکی ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آتی ہے، کلاس کا کمرہ بدل جانے کی وجہ سے دوسری پاکستانی سے کلاس کے بارے میں پوچھتی ہے۔

پہلی: (اردو میں پوچھتی ہے کہ) کیا اسی کلاس روم میں ہم نے جانا ہے؟
دوسری : (نارویجین میں جواب دیتے ہوئے؟) ہیین؟؟ کیا کہا؟
پہلی : (نارویجین) او۔۔شاید آپ اردو نہیں بولتیں؟ کیا آپ پاکستان سے نہیں ہیں؟
دوسری :  میرے والدین پاکستان سے ہیں۔ میں نہیں۔۔!
پہلی : او سوری۔۔لیکن میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا اسی کمرے میں ہماری کلاس ہے؟
دوسری : مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟ ٹیچر یا ریسپشن سے جا کر پوچھو۔

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

24 تبصرے

Dec 15 2008

پاکستانی اخبار

مجھے تو پاکستانی اخبار دیکھے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے، لیکن ہمارے ٹیچر نے پچھلے دنوں پاکستانی اخبارات پر کافی تنقید کی۔ دراصل ہم نے نومبر میں اخبارات ، اخباری تصاویر اور اشتہارات پر کام کیا۔  جس میں ہمیں مختلف اخباروں کا تجزیہ کرنا تھا۔ ہم نے تو جو کیا سو کیا۔۔۔لیکن ہمارے ٹیچر نے برے معیار کے اخبارات میں پاکستان کے اخبارات کی مثال دی۔ اخبارات میں تصاویر کی کمی  کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ انتہائی چھوٹا اور کالمز کو انتا لمبا کیا ہوتا ہے جس سے خبر پڑھتے وقت تسلسل قائم نہیں رہ سکتا۔ اور اخبارات کی سیاہی اتر کر ہاتھوں پر لگتی رہتی ہے۔ اخبارات کا معیار اچھا کرنے کے لیے یقینا پیسہ لگانا پڑتا ہے۔ جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سب سے اہم بات پاکستانی اخبارات میں اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے، جہاں خبر ہونی چاہیے وہاں آپ کو اشتہارات نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

نیچے دی گئی اخبارات میں تصاویر تو مجھے نظر آہی رہی ہیں۔ :)

Source: daylife.com

اخبارات کی ویب سائٹ دیکھنے پر بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹس کا کوئی اچھا حال نہیں ہے۔ اگر ہم کچھ نیوز سائٹس کا مشاہدہ کریں:

Pakobserver.net

2- nation.co.ke

3- aftenposten.no

nation.co.ke اپنے تھیم کے ساتھ بہت بہتر سائٹ ہے۔ امریکہ کے انتخابات کی  آخری رات جب ہر اخبار کی ٹاپ سٹوری میں امریکہ کی خبر تھی، تب پاک ابزرور پر صبح تک کوئی اور ہی خبر تھی۔ پاک ابزرور کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ کتنی بڑی سائٹ ہے، لیکن اپنی شرمندگی ختم کرنے کے لیے میں نے جھٹ سے  ڈان اور دی نیشن کا نام لیا۔   ڈان کا صفحہ کھولا تو ٹیچر کو سمجھ ہی نہ آئے کہ جانا کہاں ہے۔ :p صفحہ کھولتے ساتھ سامنے تو کچھ اور ہی کھل جاتا ہے۔۔جس میں اشتہارات چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

دی نیشن کی سائٹ کچھ بہتر تھی۔ ہم چونکہ تصاویر پر کام کر رہے تھے تو دی نیشن پر  ہمیں تصاویر بہت اچھی مل گئیں۔ جس سے ہمیں (پاکستانیوں کو) مزید شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔

18 تبصرے

Oct 25 2008

ٹیسٹ

مجھے ہمیشہ سے کوئز پروگرامز میں بہت دلچسی رہی ہے۔ ٹی وی پر کوئی اور پروگرام دیکھوں یا نہ دیکھوں لیکن کوئز پروگرام ضرور دیکھ لیتی ہوں۔ ایسا ہی ایک پروگرام Who Wants to Be a Millionaire لگتا ہے۔ (میں اس پروگرام کے بارے میں بالکل بھی بتانے نہیں لگی)، لیکن کچھ دن پہلے مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں اس پروگرام میں چلی گئی ہوں اور مجھ سے سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ اور پیسوں کے جگہ پوائنٹس دئیے جا رہے ہیں۔ :grin

Page copy protected against web site content infringement by Copyscape

ہمارے ہمسائے میں دو چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں جو اکثر ہمارے ہاں آ جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں منیبہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ایک نارویجین میں بچوں کا گانا ہے اس کا اردو ترجمہ کر دیں کہ سکول میں سب نے اپنی زبان میں بھی پڑھنا ہے۔ ترجمہ کر کے دیا تو جنابہ وہیں بیٹھ گئیں اور فرمانے لگیں کہ آپ کا ٹیسٹ لیتی ہوں۔ اور سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ منیبہ نو سال کی ہے اور چوتھی کلاس میں جاتی ہے۔ اس کے پوچھے گئے سوالوں کا میں یہاں ترجمہ پوسٹ کرتی ہوں۔

سب سے پہلے تو اس نے پہاڑوں سے شروع کیا۔ اللہ جانے اس نے کیسے سارے رٹے ہوئے ہیں کہ ایک سکینڈ میں بتا دیتی ہے کہ درست ہے یا غلط ہے۔ مجھے دس تک تو رٹے ہوئے ہیں لیکن دس سے آگے مجھے ضرب ہی دینا پڑتی ہے۔ بہرحال مجھ سے پہاڑوں میں ایک غلطی ہوئی۔ لیکن پاس اس نے مجھے کر دیا۔

اب پہاڑوں سے آگے کے سوالات:

1۔ ناروے کے بادشاہ کا کیا نام ہے؟
Harald – ہارلد۔

2۔ ناروے کے وزیراعظم کے نام کیا ہے؟
Jens Stoltenberg – ینز ستولتن برگ

3۔ ناروے کی فنانس منسٹر کا کیا نام ہے؟
Kristin Halvorsen – کرستین ہالورشن

4۔ اوسلو کے سب سے بہترین کباب کون سے ہیں؟
Bislett Kebabبِشلت کباب

5۔ امریکہ کے جوان صدارتی امیدوار کا کیا نام ہے؟
براک اوبامہ

6۔ ناروے کی سب سے بڑی سپر مارکیٹ کون سی ہے؟
Rema 1000 - ریما تھیوزن
یہ میں نے تًکہ لگایا جو ٹھیک ہو گیا۔ :D

7۔ ناروے کے بادشاہ کی عمر کیا ہے؟
72 سال
میں نے 70 کہا تھا۔ جو اس نے ٹھیک مان لیا تھا۔ :D

8۔ وہ کون سا ملک ہے، جہاں سب سے زیادہ خود کش حملے ہوتے ہیں؟
پاکستان۔ :dsadasccc:

9۔ پاکستان کا دارلحکومت کون سا ہے؟
اسلام آباد

10۔ ٹی وی پر سب سے ضروری دیکھنا کیا ہے؟
خبریں

11۔ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ ضروری پڑھنا کیا ہے؟

VG – اخبار کا نام۔
میں نے “اخبار ” کہا، لیکن موصوفہ درست جواب ماننے کو تیار نہیں تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ  کوئی اور اخبار نہیں صرف VG اخبار ہی انٹرنیٹ پر پڑھنا ضروری ہے۔

پانچ، چھ مزید سوالات بھی تھے، جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہیں۔ لیکن بچی کا کانفیڈینس دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا اور کچھ سوال جو مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں تھے، وہ کنفرم ہو گئے۔ لیکن  تقریباً جواب سبھی درست دئیے۔ اور مجھے منفی دس نمبروں کے ساتھ پاس کر دیا گیا۔ :grin

9 تبصرے

Sep 29 2008

آہ۔۔۔یہ عید؟

رمضان کا آغاز سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا تو یقین تھا کہ عید بھی سعودی عرب کے ساتھ ہی منائی جائے گی۔ ایک بلاگ پڑھنے پر پتہ چلا کہ سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے۔ حالانکہ میرا موڈ نہیں تھا کہ کل عید ہو کہ ابھی میری تیاریاں مکمل نہیں ہوئیں۔ لیکن پھر بھی یہ سن کر کے سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے، تو ذہن بنا ہی لیا۔ لیکن ہمارے مولوی تو اپنا ہی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں، انگلینڈ میں عید ہو گئی، سعودی عرب میں ہو گئی، خدا جانے انہوں نے تیس روزے رکھ کر کونسا ثواب کمانا ہے۔ جب رمضان سعودی عرب کے ساتھ شروع کیا تو عید پاکستان کے ساتھ کیوں؟؟

آخری روزہ کھلتا ہی ہے تو فون پہ فون آنا شروع ہو جاتے ہیں، کہ مسجد والے شام کے وقت اپنا فون ہی بند کر دیتے ہیں۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ مدنی مسجد والے عید منا رہے ہیں اور باقی مسجدوں والے روزہ رکھیں گے۔ اور عربی دوستیں بھی ایس ایم ایس کر کے عید کی مبارک دے رہی ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

19 تبصرے

Sep 16 2008

Protected: Endelig

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Enter your password to view comments

Jun 21 2008

Ekeberg

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ناروے نامہ, ویڈیوز

Ekeberg

Ekeberg pic.


Ekeberg from Mawra on Vimeo.

5 تبصرے

Jun 14 2008

Sognsvann

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ناروے نامہ, ویڈیوز

جمعہ کو ہم Sognsvann گئے تھے۔ جو کہ اوسلو کی ایک جھیل ہے۔ اور میں ویڈیو بنانے کے تجربے کرتی رہی۔ اور مجھے ابھی ویڈیو بنانے کا طریقہ نہیں آتا، اس لیے تنقید کرنے کا کــــوئــــی فـــائدہ نہیں۔ ہاں البتہ طریقہ بتا سکتے ہیں تو ضرور بتائیں۔

5 تبصرے

May 17 2008

17 مئی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, ناروے نامہ

17 mai

آج ناروے کا قومی (آئینی) دن منایا جا رہا ہے۔ 17 مئی 1814 میں ناروے کا آئین منظور ہوا۔ جس میں ناروے ایک آزاد قوم ہونے کا اعلان کیا گیا۔ ناروے میں قومی دن کا آغاز ہمارے پاکستان کی طرح اسلحے کی نمائش اور فوجی پریڈ سے بالکل نہیں ہوتا۔ یہاں کے رواج کے مطابق بچے اس دن پریڈ کرتے ہوئے بادشاہ کے گھر تک جاتے ہیں۔ اور بادشاہ، ملکہ، شہزادہ، شہزادی بالکونی میں کھڑے ہاتھ ہلاتے رہتے ہیں۔

ہر سکول اپنے بچوں کو اس پریڈ کے لیے صبح اکھٹے ہو کر نکلتا ہے۔ جسے ہم 17 مئی ٹرین کہتے ہیں۔ بچوں نے ملک کے جھنڈے ہاتھوں میں پکڑے ہوتے ہیں۔ اور سنئیر کلاسز کے بچے سب سے آگے سکول کے بینرز کو اٹھائے ہوتے ہیں، بینڈز، میوزک اور قومی ترانے گاتے ہوئے بادشاہ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ زیادہ تر بچے، بڑے، بوڑھے ناروے کا قومی لباس اس دن پہنتے ہیں۔ شاہی گارڈ بینڈ بجاتا ہوا بھی نظر آتا ہے اور مختلف شہروں میں توپوں کی سلامی بھی دی جاتی ہے۔

گریجویٹ سٹوڈنٹس (Russ) بھی اس دن کو خاص طور پر مناتے ہیں۔ اور اپنے اپنے سکولوں سے لمبی قطار میں پریڈ کرتے ہوئے بادشاہ کے گھر تک جاتے ہیں۔ ناروے کے ایک روایت کے مطابق گریجویٹ طلباء طالبات اپنے اپنے سبجیکٹس کے مطابق مختلف رنگوں میں پینٹس پہنتے ہیں۔ اور بہت الٹے الٹے کام کرتے ہیں. میرا بھائی بھی آجکل Russ بنا ہوا ہے، اور رُس ٹرین کے ساتھ گیا ہوا ہے۔ لیکن میں اتنے سالوں میں ایک بار بھی 17 مئی کے لیے باہر نہیں نکلی، چھٹی کے دن تو ویسے بھی صبح اٹھنے کا دل نہیں کرتا۔

اوسلو میں اس دن بے شمار لوگ اکھٹے ہوتے ہیں، اور ہر سال ٹی وی پر لائیو دیکھایا جاتا ہے۔ پریڈ سے واپسی پر بچے سکولوں میں واپس آ کر پارٹی کرتے ہیں۔ جس میں مزے کے کیک اور کھانے ہوتے ہیں۔

L 

17 mai kake

 Source:

17 may pic. 

cake pic.

 

12 تبصرے

Apr 26 2008

کتاب سروے 2008

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ناروے نامہ, کتابیں

پچھلے دنوں ایک سروے (synovate) کے مطابق نارویجین لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر لڑکوں میں پڑھنے کا اضافہ ہوا۔

  • دس میں سے نو لوگوں نے ایک یا اس سے زیادہ کتابیں 2007 میں پڑھیں۔ اور دس میں سے سات نے تقریبا ہفتے میں ایک بار یا اس سے زیادہ بار پڑھی۔
  • ہم میں سے 72% لوگ ہفتے میں ایک بار، جبکہ 33% ہر روز کتاب پڑھتے ہیں۔ جب سروے لیا گیا تو 59% ان دنوں میں کتاب پڑھ رہے تھے۔

2007 : 15 – 29 سال کے  43% مردوں کا جواب تھا کہ وہ ہفتہ وار یا اس سے زیادہ کتابیں پڑھتے ہیں۔ جبکہ 64% خواتین کا جواب بھی یہی تھا۔

2008 : اور اب 48% لڑکے کتابیں پڑھتے ہیں۔ جبکہ 67% لڑکیاں ہیں۔ مرد اور عورتوں دونوں میں پڑھنے کا رحجان بڑھا لیکن نوجوان لڑکوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا۔

  • نیٹ سے کتابیں خریدنے والے مردوں کی تعداد زیادہ رہی۔ 40% مرد جبکہ 36% خواتین نے نیٹ سے کتابیں خریدیں۔

سب سے مزے کا رزلٹ تھا کہ ہم سب سے زیادہ کتابیں کونسی خریدتے ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ناولز پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

ناولز 44%

کرائم 36%

فیکٹ بکس 33%

بچوں کی کتابیں 24%

سبجیکٹس بکس 17%

ہابی اور کھانے پکانے کی کتابیں 15%

بائیوگرافی 14%

مختلف  14%

شاعری 4%

Source: aftenposten.no

12 تبصرے

اگلی »