Aug 25 2009
Protected: سالِ مصروفیت
Enter your password to view comments
Aug 17 2009
لکھنا مجھے آتا تو نہیں…اسی لیے بلاگ بھی لکھنا چھوڑ دیا، لیکن لوگوں کے اصرار پر ہفتہ بلاگستان کے دوران لکھنے کا ارادہ کر ہی لیا. چاہے ایک ہی پوسٹ ہو. بچپن کے بارے میں کیا لکھوں..واقعے تو کئی ہیں لیکن ان کو ویسا ہی لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے امی سے کچھ اپنے بچپن کے بارے میں پوچھ کر لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔
تو جناب بقول امی کے کہ گیارہ ماہ کی عمر میں “اماں” کے بعد پہلا لفظ “پھول” بولا تھا. جس کو سن کر امی کو بہت خوشی ہوئی تھی اور وہ خوشی آج بھی امی سے سنتے ان کے چہرے پر نظر آتی ہے. چھوٹے ہوتے میں ذہین تھی، اسی لیے چار سال کی عمر میں سکول میں داخل ہوئی. سکول کے پہلے دن بالکل بھی نہیں روئی، جیسے امی نے سمجھایا تھا، بالکل اسی کے مطابق پہلا دن گزارا. ذہین تھی تو ظاہری بات ہے لائق بھی تھی، اسی لیے کلاس ففتھ تک ہمیشہ فرسٹ پوزیشن لیتی رہی. بس اس کے بعد سے ذہانت و لیاقت کہیں کھو گئی…!آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید ختم کیا. پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »
Feb 13 2009
یونیورسٹی کے تقریباً آغاز میں چھ ماہ پہلے ایک پاکستانی لڑکی کا دوسری پاکستانی لڑکی کے ساتھ مکالمہ:
پہلی لڑکی ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آتی ہے، کلاس کا کمرہ بدل جانے کی وجہ سے دوسری پاکستانی سے کلاس کے بارے میں پوچھتی ہے۔
پہلی: (اردو میں پوچھتی ہے کہ) کیا اسی کلاس روم میں ہم نے جانا ہے؟
دوسری : (نارویجین میں جواب دیتے ہوئے؟) ہیین؟؟ کیا کہا؟
پہلی : (نارویجین) او۔۔شاید آپ اردو نہیں بولتیں؟ کیا آپ پاکستان سے نہیں ہیں؟
دوسری : میرے والدین پاکستان سے ہیں۔ میں نہیں۔۔!
پہلی : او سوری۔۔لیکن میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا اسی کمرے میں ہماری کلاس ہے؟
دوسری : مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟ ٹیچر یا ریسپشن سے جا کر پوچھو۔
Feb 10 2009
اتوار کو ہمارے ہاں “ماں کا دن” منایا گیا. میں اتنی مصروف تھی کہ پوسٹ کرنے کا بھی وقت نہیں ملا. اس لیے دو دن بعد ہی سہی. امی کو رات بارہ بجے ہی ہم تینوں نے وش کیا اور تحفے سے بھی نوازا. تحفے کے سارے پیسے بڑی بہن یعنی مجھ معصوم کے سر پر تھوپ دئیے گئے. اتوار کو سارا دن اچھا بننے کی کوشش کی، لیکن……ناکام رہی. ![]()
شمار تو میرا بدتمیز ترین اولاد میں ہوتا ہے لیکن پتہ نہیں امی کو پتہ ہے یا نہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مجھے امی اور ابو پیارے ہیں اور شاید اسی لیے امی کی بات نہیں مانتی.
Dec 08 2008
ہماری عید تو گزر بھی گئی اور پتہ بھی نہیں چلا۔ ساجد نے پوچھا ہے کہ” آپ کے ہاں عید کیسے منائی جاتی ہے” اگر اس کے جواب میں میں صرف اتنا کہوں کہ ہمارے ہاں عید منائی ہی نہیں جاتی تو زیادہ بہتر ہو گا۔ :D
لیکن عید آنے پر مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے، کہ چھٹی کا بہانہ مل جائے گا۔ یہاں بہت سے ایسے بھی ہیں جو چھٹی نہیں لیتے، بلکہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ عید کیسے منا رہے ہیں؟ تو کسی کا جواب ہو گا۔۔میں نے تو کام پر جانا ہے۔ کسی کا ۔۔ کچھ خاص نہیں۔۔۔اور کئی ایسے ہیں جو منہ کے خاص زاویے بنا کر اور کندھے اچکا کر یہ ظاہر کرواتے ہیں کہ عید پر کیا کرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ حالانکہ اب ہمیں آسانی سے سکولوں ، کام وغیرہ پر چھٹی مل جاتی ہے۔ لیکن ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو عید پر کچھ کرنے کو تو ہوتا نہیں ہے، چھٹی کر کے سارا دن ضائع ہی جاتا ہے، جیسے میں نے آج ضائع کر دیا۔
خیر۔۔۔ پیر کو عید تھی تو اس طرح میری ہفتے سے منگل تک چار چھٹیاں ہو گئیں یعنی عید ہو گئی۔ ساری رات کمپیوٹر کی پوجا کرنے کے بعد دن بارہ بجے اٹھی۔ موبائل پر تین، چار ایس ایم ایس موجود تھے۔ میری ایک دوست جو یہیں ہوتی ہے، صبح دس بجے ایس ایم ایس کر کے مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ “آج عید ہی ہے نا یا نہیں ہے؟” بارہ بجے اس کو میں نے جواب دیا کہ “ہاں ، آج عید ہی ہے۔ عید مبارک۔” واپس جواب آیا۔ “عید مبارک۔” اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ہاں کیسے عید منائی جاتی ہے۔:D
امی نے ناشتہ بنایا، کھا، پی کر واپس کمپیوٹر کے سامنے۔۔۔!! عید مبارک کے کچھ ایس ایم ایس کیے، ابو سے پاکستان میں بات ہوئی۔پولینڈ میں بھائی سے دو گھنٹے چیٹ کی۔ ایک، دو فون کیے۔ بکرا عید پر میں نے رات کو ہی مچھلی کا قورمہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ عید کے دن ہم نے مچھلی پر گزارہ کیا۔ ساجد کی نصیحت کے مطابق بالکل بھی زیادہ نہیں کھایا۔:D
نہایت ہی بور عید گزری۔ یہاں شاید وہی لوگ اچھی عید منا سکتے ہیں، جن کے رشتے دار بھی یہیں ہوں تو عید کے دن وہ اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ ہر عید پر ہم بھی کھانے پر کسی نہ کسی کو بلا لیتے ہیں یا کوئی ہمیں بلا لیتا ہے۔ لیکن اس عید پر نہ ہم نے کسی کو بلایا، اور نہ ہی کسی کی دعوت قبول کی۔:p
ایسے موقعوں پر پاکستان کی بہت یاد آتی ہے۔ :( پاکستان میں آج عید ہے، تو سب کو عید بہت مبارک ہو۔ امید ہے پاکستان میں سب کی اچھی عید گزرے گی۔
تصویر یہاں سے لی گئی ہے
ٹیگ بھی کرنا ہے تو کراچی سے شب کو کر رہی ہوں۔ اور امریکہ سے جہانزیب تو بتا ہی چکے ہیں، لیکن اگر کوئی اور بھی بتانا چاہے تو ضرور۔
Nov 03 2008
امریکہ امریکہ امریکہ۔۔۔۔آجکل جس کو دیکھو امریکہ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔لیکن ہماری ٹیچر نے تو ایک مہینے سے کچھ زیادہ ہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ اپنے ساتھ ساتھ ہمارا سر بھی چکرا کے رکھ دیا۔ امریکہ کے الیکشن کیا، سارا سیاسی نظام اور صدارتی تاریخ پڑھوا کے رکھ دی۔ یو ٹیوب پر اللہ جانے کون کون سی ویڈیوز کھول کھول کر دکھا دیں۔ جب وہ ویڈیوز لگاتی تو میں اردو محفل کھول کر بیٹھ جاتی۔اور آج تو حد ہی کر دی، پورا بیلٹ بکس ہی کلاس میں اٹھا لائی، اور ووٹنگ شروع کر دی۔ اس لیے میں پیشن گوئی کرتی ہوں کہ اوبامہ جیت جائے گا، کیونکہ آج ہماری کلاس میں بھی اوبامہ انکل بائیس، تئیس ووٹوں سے جیتے۔ جبکہ مکین بابا کو صرف ایک ووٹ ملا۔ وہ بھی ٹیچر کا خیال تھا کہ جس نے مکین کو ووٹ دیا ہے، اس کو شاید امریکی الیکشنز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں
۔ بہرحال کس کو معلومات ہیں اور کس کو نہیں۔۔میں تو اللہ کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ صبح یہ الیکشن ختم ہوں گے۔ اور امریکہ کے علاوہ ہمیں کچھ اور بھی سوجھے گا۔
میں نے اوبامہ کو ووٹ کیوں دیا؟ کیونکہ مجھے مکین پسند نہیں
۔
Oct 25 2008
مجھے ہمیشہ سے کوئز پروگرامز میں بہت دلچسی رہی ہے۔ ٹی وی پر کوئی اور پروگرام دیکھوں یا نہ دیکھوں لیکن کوئز پروگرام ضرور دیکھ لیتی ہوں۔ ایسا ہی ایک پروگرام Who Wants to Be a Millionaire لگتا ہے۔ (میں اس پروگرام کے بارے میں بالکل بھی بتانے نہیں لگی)، لیکن کچھ دن پہلے مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں اس پروگرام میں چلی گئی ہوں اور مجھ سے سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ اور پیسوں کے جگہ پوائنٹس دئیے جا رہے ہیں۔

ہمارے ہمسائے میں دو چھوٹے چھوٹے بہن بھائی ہیں جو اکثر ہمارے ہاں آ جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں منیبہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ایک نارویجین میں بچوں کا گانا ہے اس کا اردو ترجمہ کر دیں کہ سکول میں سب نے اپنی زبان میں بھی پڑھنا ہے۔ ترجمہ کر کے دیا تو جنابہ وہیں بیٹھ گئیں اور فرمانے لگیں کہ آپ کا ٹیسٹ لیتی ہوں۔ اور سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ منیبہ نو سال کی ہے اور چوتھی کلاس میں جاتی ہے۔ اس کے پوچھے گئے سوالوں کا میں یہاں ترجمہ پوسٹ کرتی ہوں۔
سب سے پہلے تو اس نے پہاڑوں سے شروع کیا۔ اللہ جانے اس نے کیسے سارے رٹے ہوئے ہیں کہ ایک سکینڈ میں بتا دیتی ہے کہ درست ہے یا غلط ہے۔ مجھے دس تک تو رٹے ہوئے ہیں لیکن دس سے آگے مجھے ضرب ہی دینا پڑتی ہے۔ بہرحال مجھ سے پہاڑوں میں ایک غلطی ہوئی۔ لیکن پاس اس نے مجھے کر دیا۔
اب پہاڑوں سے آگے کے سوالات:
1۔ ناروے کے بادشاہ کا کیا نام ہے؟
Harald – ہارلد۔
2۔ ناروے کے وزیراعظم کے نام کیا ہے؟
Jens Stoltenberg – ینز ستولتن برگ
3۔ ناروے کی فنانس منسٹر کا کیا نام ہے؟
Kristin Halvorsen – کرستین ہالورشن
4۔ اوسلو کے سب سے بہترین کباب کون سے ہیں؟
Bislett Kebab – بِشلت کباب
5۔ امریکہ کے جوان صدارتی امیدوار کا کیا نام ہے؟
براک اوبامہ
6۔ ناروے کی سب سے بڑی سپر مارکیٹ کون سی ہے؟
Rema 1000 - ریما تھیوزن
یہ میں نے تًکہ لگایا جو ٹھیک ہو گیا۔ :D
7۔ ناروے کے بادشاہ کی عمر کیا ہے؟
72 سال
میں نے 70 کہا تھا۔ جو اس نے ٹھیک مان لیا تھا۔ :D
8۔ وہ کون سا ملک ہے، جہاں سب سے زیادہ خود کش حملے ہوتے ہیں؟
پاکستان۔ :dsadasccc:
9۔ پاکستان کا دارلحکومت کون سا ہے؟
اسلام آباد
10۔ ٹی وی پر سب سے ضروری دیکھنا کیا ہے؟
خبریں
11۔ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ ضروری پڑھنا کیا ہے؟
VG – اخبار کا نام۔
میں نے “اخبار ” کہا، لیکن موصوفہ درست جواب ماننے کو تیار نہیں تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ کوئی اور اخبار نہیں صرف VG اخبار ہی انٹرنیٹ پر پڑھنا ضروری ہے۔
پانچ، چھ مزید سوالات بھی تھے، جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہیں۔ لیکن بچی کا کانفیڈینس دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا اور کچھ سوال جو مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں تھے، وہ کنفرم ہو گئے۔ لیکن تقریباً جواب سبھی درست دئیے۔ اور مجھے منفی دس نمبروں کے ساتھ پاس کر دیا گیا۔
Oct 01 2008
ویسے تو بڑے چھوٹوں کو عیدی دیتے ہیں لیکن عمار نے اس بار یہ غلط ثابت کرتے ہوئے بڑوں کو یعنی مجھے تین تین عیدیاں (تین تین تھیم) دی ہیں۔ ایک تھیم تو آپ میرے بلاگ پر لگا دیکھ رہے ہیں، اور دو مزید۔ اب گاہے بگاہے ان کو بدلتی رہوں گی۔:D
یہ جو سائیڈ بار میں “میرے بارے میں” آپ پڑھ رہے ہیں، یہ تعارف میں نے نہیں لکھا یہ بھی عمار نے ہی لکھا ہے، اپنا تعارف لکھتے ہوئے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتی، تو عمار کا شکریہ کہ یہ تعارف اس نے لکھ کرمیری مشکل آسان کر دی۔ اور یہ جو تصویر آپ کو نظر آ رہی ہے، باخدا یہ میری نہیں ہے۔ اب یہ عمار ہی بتائے گا کہ اسے بدلنا ہو تو کیسے بدلنا ہے۔:D
بہرحال عمار بہت شکریہ۔
مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اور رات بہت دیر سے میل دیکھی، اس لیے کل نہ لگا سکی، اس لیے آج لگایا ہے۔ عید پر تو عمار نے ایک اور سرپرائز دیا ہے، اور وہ یہ کہ اپنی ویب سائٹ آغاز کیا ہے۔ اس کی بھی عمار کو بہت مبارک۔ اللہ جانے یہ بچہ کیا کرے گا۔۔۔۔اس کے بس پلانز سنیں آپ۔۔۔!:p اور نہ صرف یہ کہ پلانز بناتا ہے، بلکہ ان پر عمل کرنا بھی جانتا ہے۔ ابھی تو مجھے مزید سرپرائز کا انتظار ہے۔:D
بچے کے لیے میری ڈھیر ساری دعائیں۔۔اللہ تمھیں زندگی کے ہر قدم پر کامیاب کرے۔ آمین۔
نوٹ: میں نے تمھارے لیے “بچے” کا لفظ استعمال کیا ہے، اب یہ نہ کہنا ہے کہ میں بچہ نہیں ہوں۔ لیکن میں سب کو ہی بچہ بنا دیتی ہوں۔ اس لیے فکر نہ کرو۔:D
Sep 28 2008
اگر آپ اس پوسٹ کو پڑھنے جا رہے ہیں تو پہلے سے بتا دوں کہ آپ کو نیند آ جائے گی۔ میرا یہ سب باتیں لکھنے کا موڈ ہو رہا تھا، اس لیے لکھ دیا، آپ بے شک نہ پڑھیں۔:)
کہا جاتا ہے کہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے پر غم کا اظہار کرنا چاہیے کہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رخصت ہو رہا ہے۔ لیکن خدا جانے میرے ساتھ اس بار ایسا کیا ہوا ہے کہ میں نے رمضان ختم ہونے کے لیے دن گن گن کر گزارے ہیں۔ (اللہ معاف کرنے والا ہے۔) زندگی کا بدترین رمضان گزرا۔۔ فجر کی نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھی۔۔قرآن مجید ایک دن کھولا۔لیکن اللہ کا شکر روزے سارے رکھے۔ زندگی کا سب سے اچھا رمضان پچھلا رمضان گزرا تھا۔ جب میں نے پورا قرآن مجید ختم کیا اور اعتکاف بھی بیٹھی۔ آگے بڑھنے کے بجائے اس بار میں پیچھے چلی گئی۔
اس بار تو سارا سارا دن نیند نے ہی پیچھا نہیں چھوڑا۔۔۔کلاس میں سارا وقت سو کر گزارا۔۔۔شام کو گھر آ کر سارا وقت سو کر گزارا ، روزہ کھلنے پر امی جگا دیتیں۔ صبح سحری بند آنکھوں کے ساتھ کی البتہ افطاری کے وقت آنکھیں کھل جاتی تھیں۔:D
پچھلے دنوں کچھ مصروفیت بھی رہیں، جس کی وجہ سے مسینجر پر کم آئی، جس کی کچھ لوگ شکایت کر رہے ہیں۔:) بھائی کو لاڈز یونیورسٹی میں ایڈمیشن ملا، اسے جانا تھا۔ اس کی تیاریاں بڑی مشکل سے ختم ہوئیں۔ اور جب اللہ اللہ کر کے چلا گیا تو ہر آدھے گھنٹے بعد تو اس کو فون کرنا پڑ رہا تھا۔ جہاز میں بیٹھ گئے ہو؟ جہاز سے اتر گئے ہو؟ ٹیکسی میں بیٹھ گئے ہو؟ ہاسٹل پہنچ گئے ہو؟ سحری کا وقت ہو گیا ہے اٹھ جاؤ، افطار ہو گئی ہے، اب روزہ کھول لو۔مارکیٹ گیا ہے تو فون کر کے بتاؤ کہ کیا کیا گھر کے لیے لے کر آنا ہے۔ کمرہ سیٹ کر ہو رہا ہے تو ساتھ ساتھ فون پر ہدایتیں دی جا رہی ہیں۔ غرض یہ کہ ایک ہفتہ تو میرا خوب خرچا ہوا ہے۔ اب میں اپنے موبائل کے بل کا انتظار کر رہی ہوں۔:)
ایک یا دو دن بعد عید ہے۔ اللہ کا شکر کہ عین وقت پر ہمیں موسمِ خزاں کی ہفتے کی چھٹیاں ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے عید اچھی گزر جائے گی۔ اور مجھے سال میں ایک بار کچن میں جانے کا موقع بھی مل جائے گا۔ تو میں نے عید کا مینو کچھ اس طرح بنایا ہے کہ پچھلی عید کی طرح اس بار بھی میٹھی ڈش میں لبِ شیریں بناؤں گی کیونکہ پچھلی بار سب کو بہت پسند آئی تھی۔ عربی پلاؤ اور اس کے ساتھ شیش کباب۔ اور امی اچار گوشت کے ساتھ نان بنائیں گی۔ ہماری فیملی پہلے ہی چھوٹی سی ہے، اور اب اور بھی چھوٹی چھوٹی لگ رہی ہے، گھر میں خاموشی سی۔۔:(اس عید پر کچھ خاص مزہ بھی نہیں آئے گا۔ :(
