Archive for the 'مذہب' Category

Sep 30 2008

عید مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, مواقع

17 تبصرے

Aug 30 2008

رمضان مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, مواقع

رمضان اتنی جلدی آ بھی گیا؟ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ پچھلا رمضان ابھی ہی ختم ہوا تھا۔ اس بار تو ہمارے ہاں شروع کے روزے تقریبا سولہ گھنٹوں کے ہیں، اور اس پر ایک یہ غضب یہ ہوا کہ پہلے روزے سے ہی میری شام کی کلاس شروع ہو رہی ہے۔ ساڑھے آٹھ روزہ کھلے گا تو سوا نو میری کلاس ختم ہو گی۔ :dsadas:

کچھ دن پہلے بس میں میری کلاس کی ایک لڑکی مل گئی، باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے جاب کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ رمضان میں تو نہیں کروں گی، اس کے بعد ہی دیکھوں گی۔ کچھ حیرانی سے پوچھتی ہے، کہ روزے رکھتی ہو؟ میں نے “ہاں” میں جواب دے کر اس سے پوچھا کہ کیا تم نہیں رکھتی؟ مسکرا کر جواب دیا کہ “نہیں، جب میں ترکی میں تھی تو رکھتی تھی، جب سے ناروے آئی ہوں، نہیں رکھتی”۔ پھر شاید کچھ خود ہی احساس ہوا، کچھ دیر بعد بولی۔۔۔ “میں بیمار بھی رہتی ہوں، دوائی کھانی ہوتی ہے۔” میں نے بھی اس کی شرمندگی دور کرنے کے لیے کہا کہ “ہاں ہاں اگر تم بیمار ہو تو کوئی ضرورت نہیں رکھنے کی۔”
اس کے بعد میں نے سوچا، سب سے پوچھتی ہوں، ایران کی لڑکی سے پوچھا، اس نے بھی بالکل یہی جواب دیا، کہ “ایران میں تھی تو رکھتی تھی، اب نہیں رکھتی۔” ایک اور سے پوچھا تو جواب ملا۔۔۔”نہیں، میں بھوکی نہیں رہ سکتی، میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے، اس لیے نہیں رکھتی”۔ میں نے سوچا، ان سب کی تو موجیں ہیں۔ سب کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ ہے۔ ایک عراق کی لڑکی جو ماشاءاللہ حجاب میں تھی، اس نے کہا کہ “رکھوں گی”، لیکن نہایت ہی بےدلی سے کہا۔ پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

12 تبصرے

Dec 22 2007

حجاب

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, معاشرتی مسائل

azadeh_girl_scarf0222.jpg  

حجاب“ ایک ایسا لفظ ہے جس کو اب  پوری دنیا میں بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کو مسلمان عورتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اسلام میں عورت کا پردہ کرنا لازمی ہے لیکن میں یہاں اسلام کو سامنے رکھ کر بات نہیں کرنا چاہ رہی۔ یورپ اور امریکہ میں ایک عام خیال یہ ہے کہ عورت کو آزادی ہے کہ وہ حجاب لے یا نہیں اور جو عورتیں حجاب لیتی ہیں ان کو گھر سے زبردستی حجاب کروایا جاتا ہے یا حجاب والی خواتین مظلوم ہیں۔ کافی عرصہ پہلے فرانس سے بحث شروع ہوئی تھی اور پھر دیکھا دیکھی سارے یورپ والے حجاب کے پیچھے پڑ گئے۔جرمنی میں بھی حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ہالینڈ پر بھی اس موضوع پر بحث چھڑی۔ پھر ایک وقت یہاں ناروے میں بھی ایسا آیا کہ حجاب والیوں کو کام ملنا بند ہو گیا اور آئے دن ٹی وی، اخبار پر مباحث۔۔۔۔میرے پاس حجاب سے متعلق کچھ واقعات اکھٹے ہو گئے تھے، اس لیے ان کو لکھنے کا سوچ لیا۔  

لباس یا آپ کا اندازِ لباس میرے خیال میں اس کی آزادی ہونی چاہیے۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ کون کیا کرتا ہے اور کیا نہیں۔ لیکن بہت سے بلکہ تقریباً سبھی ایسے ہیں کہ آپ کی ایک ایک بات کو نوٹ کرتے ہیں۔ اور خاص طور پر دوسرے ملکوں میں جب آپ رہتے ہیں اور وہاں کے ماحول کیے مطابق زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے، اگر نہیں بدلتے تو نمونہ لگتے ہیں۔ کافی سال پہلے میں نے یہاں ایک عورت کو پہلی بار نقاب میں دیکھا۔ اسے دیکھ کر میں تو حیران ہی رہ گئی۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا تھا کہ یہاں کوئی نقاب کرتا ہو گا۔ اور وہ عورت نقاب کی وجہ سے اتنی مشہور ہوئی کہ جس سے پوچھو وہ جانتا ہوتا تھا کہ ہاں ہم نے اسے دیکھا ہے۔ فلاں علاقے میں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب معلوم نہیں کس ملک کی تھی، لیکن شاید صومالیہ سے تھی۔  

ایک دو مہینے پہلے مجھے کام سے پولیس سٹیشن جانا پڑا تو دیکھا ویٹنگ ہال میں پہلے ایک انکل داخل ہوئے، شلوار قمیض، داڑھی، ٹوپی (جو مسجد میں پہنتے ہیں) اور شلوار ٹخنوں سے اوپر۔۔۔ہال میں ایک نظر ڈال کر باہر چلے گئے، تھوڑی دیر بعد بیگم اور بچی کو بھی ساتھ لے آئے۔ اب آنٹی نے برقعہ سمیت نقاب کیا ہوا تھا۔ ان کے داخل ہوتے ساتھ ہی جن لوگوں نے نہیں بھی دیکھنا تھا ان کو دیکھا۔ اور پھر ابھی کچھ دن پہلے ریسٹورنٹ میں ایک عورت کو برقعے میں دیکھا۔ اب دوسری طرف ایسی بھی حجاب کرنے والی ہیں کہ صرف بال ڈھانپ لیتی ہیں، باقی خیر ہے۔ حجاب کے مختلف انداز دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ اصل حجاب کیا ہے؟  

پچھلے دنوں امی نے جب سعودی عرب جانے کے لیے ویزا لگوایا تو تصویر بِنا حجاب والی تھی۔ تصویریں واپس کر دی گئیں کہ سعودی عرب جانا ہے تو حجاب میں تصویر ہونی چاہیے۔:D پھر نئے سرے سے تصویریں بنوائیں۔ 

کچھ عرصہ مجھے زبانیں سیکھنے کا بہت شوق ہوا تھا، مجھے ایک عربی کے کورس کا پتہ چلا، میں وہاں پہنچ گئی۔ اب زیادہ لوگ وہاں مسلمان ہی تھے۔ افریقین یا ایک، دو نارویجین مسلمان تھے۔ اب سب نے حجاب کیا ہوتا تھا ماسوائے میرے۔ ایک دن ٹیچر آ گیا میرے پاس۔ کمپیوٹر کی ایک سائٹ بتائی کہ اسے پڑھنا۔ حجاب کے بارے میں تھی۔ میں نے کہا۔ اوکے۔۔ضرور پڑھوں گی۔ اس پر میں نے سرسری سی نظر ڈالی پھر بند کر دی۔  

پچھلے دنوں کینیڈا میں ایک افسوس ناک واقعہ ہوا۔جس میں سولہ سالہ لڑکی کو باپ نے قتل کر دیا، جس کی وجہ بھی حجاب ہی بتائی گئی۔ ماں باپ خدا جانے اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں کہ اپنی ہی اولاد کو قتل کر دیتے ہیں۔ اگر حجاب ہی کروانا تھا تو بچپن سے ایسی تربیت کیوں نہ کی؟ جب بچہ بڑا ہوتا ہے اس پر ایک دم سے زبردستی کرنا شروع کر دیتے ہیں جسے بچہ قبول نہیں کر سکتا۔ ایک اور بات یہاں کے ماں باپ اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ یہاں کا ماحول بہت خراب ہے۔ اوکے۔۔اگر ماحول خراب ہے تو یہاں آنے کو کس نے کہا تھا؟ اپنے اسلامی ملک میں ہی کیوں نہیں رہتے؟ اور کل کو اگر بچہ ہاتھ سے نکل جائے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔  

پچھلے سال اسی واقعے سے ملتا جلتا ایک واقعہ ہمارے ہاں بھی ہوا کہ بھائی نے اپنی تین بہنوں کو ایک ساتھ قتل کر دیا۔ باپ بہانے سے پاکستان چلا گیا اور بیٹے کا کہہ دیا کہ دماغی حالت درست نہیں تھی۔ بچیوں کی ماں دنیا میں نہیں تھی۔ باپ زبردستی بچیوں کی شادی گاؤں کے جاہل لڑکوں سے کروانا چاہتا تھا۔ اور جب بچیوں نے باپ کے سامنے انکار کیا تو باپ نے یہی راستہ بہتر سمجھا۔ سب سے چھوٹی بیٹی بارہ سال کی تھی۔ اس کے بعد اسلام اور پاکستان خوب بدنام ہوا۔  میں کچھ لوگوں کو جانتی ہوں جو اپنی بیویوں کو نقاب اس لیے کرواتے ہیں کہ ان کی بیگمات کو کوئی اور نہ دیکھ سکے۔ اور بےوقوف ہوتی ہیں وہ عورتیں جو اپنے خاوند کے کہنے پر نقاب کرتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ کے حکم سمجھ کے کر لیا جائے تو ثواب بھی ہو گا۔  

حجاب کے میں خلاف بالکل نہیں ہوں۔ اگر حجاب کرنا ہے ضرور کریں لیکن نقاب کیا ہے؟ اس کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اس سے تو بہتر ہے کہ بندہ گھر میں ہی رہے۔ چلیں، جو مسلمان ممالک ہیں، اور جہاں رواج ہے وہاں پھر بھی ٹھیک ہے۔ لیکن ایسے ملکوں میں جہاں نقاب کا تصور بھی نہ ہو۔۔۔اپنے آپ کو تماشہ بنانے کے مترادف ہے۔

20 تبصرے

Dec 20 2007

عید مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, مواقع

 

سب بلاگز پر عید مبارک عید مبارک دیکھ کر مجھے پتہ چلا ہے کہ آج عید تھی۔ آج واقعی عید تھی؟ مجھے بالکل بھی پتہ نہیں چلا۔ شکر کیا کہ ہفتے میں ایک چھٹی ملی، اس لیے آدھا دن تو سو کر گزارا۔ پھر کچھ خیال آیا کہ کوئی کھانا بھی بنانا چاہیے، ہر بار امی بناتی ہیں۔اسامہ نے تو سارا دن پلے سٹیشن کھیل کھیل کر دن گزارا اور اسے اب میں نے اس گیم پر لگایا ہوا ہے۔ اللہ رحم کرے میری بہن پر۔۔۔اسے عید کے دن بھی کالج جانے کی سوجھی ہوئی تھی۔ میری تو  صبح کرسمس پارٹی ہے، اس کی تیاری میں مصروف رہی۔ اور آج سردی بہت شدید ہے۔ منفی بارہ دن کو درجہ حرارت تھا۔ مختصر یہ کہ زندگی کی سب سے بری عید تھی۔ لیکن کل سے چھٹیاں شروع ہیں، امید ہے کہ چھٹیاں اچھی گزریں گی۔  

پاکستان میں صبح عید ہے اس لیے میری طرف سے سب کو عید مبارک۔ یہاں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کب عید منا رہا ہے۔  

 

 

7 تبصرے

Dec 18 2007

حج

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, مواقع

 

 آج اماں ابا کا حج ہو گیا۔ ابھی امی ابو شاید مزدلفہ میں ہوں گے اور صبح منٰی جائیں گے۔ پچھلے ایک سال سے ہمارے گھر میں حج حج ہو رہی تھی۔ وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، پتہ بھی نہیں چلتا۔ لیکن ابھی دو ہفتے مزید امی ابو سے دور رہنا ہو گا۔ میں بس دن گن رہی ہوں۔ مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں بچوں کی طرح behave  کروں گی اور امی کو اتنا مِس کروں گی، ایک تو مجھے رونا بھی بہت جلدی آتا ہے۔:( :p 

سننے میں آیا ہے کہ یہاں حاجیوں کا ایک گروپ واپس لوٹ آیا ہے کہ جو بندہ اس گروپ کو لے کر جا رہا تھا وہ سارے پیسے لے کر بھاگ گیا ہے۔ 

 خیر جس جس نے حج کیا ہے میری طرف سے سب کو مبارک۔ اگر اللہ نے چاہا تو اگلے سال یا زندگی نے ساتھ دیا تو ایک دن میں بھی وہاں موجود ہوں گی, انشاءاللہ۔ :D

یورپ اور ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ سعودی عرب کے ساتھ عید منا رہے ہیں۔ جو منا رہے ہیں ان کو عید مبارک۔ ہم تو جمعرات کو منائیں گے۔

11 تبصرے

Sep 11 2007

ماہِ رمضان المبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب

رمضان اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ اور اب اس کی آمد آمد ہے۔ پاکستان ہوتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ رمضان آ رہا ہے۔ بڑے زور و شور سے رمضان کا استقبال کیا جاتا تھا۔ اب رمضان شروع ہو کر ختم بھی ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ بس پتہ اسی وقت چلتا ہے جب آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی ہوتی ہیں۔ اور نہ ہی یہاں عید کی خوشی۔ عید کی خوشی کیا ہونی ہے، ہمارے مولوی ہمیں دو دو عیدیں کروا دیتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی عید منا رہا ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں تو کئی بار تین تین عیدیں بھی منائی گئی ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس دن عید ہے۔

خیر رمضان نہایت ہی مبارک مہینہ ہے۔ اس کی ہر ساعت رحمت بھری ہے۔ اس مہینے میں نفل کا ثواب فرض کے برابر، اور فرض کا ثواب ستر گنا کر دیا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات اس مہینے کی یہ ہے کہ اس مہینے مرنے والے مومن سے سوالاتِ قبر نہیں کیے جاتے۔ یہ جب میں نے پڑھا تھا تو میری اسی دن سے رمضان میں ہی جانے کی خواہش ہے۔ لیکن اب پتہ نہیں میرا شمار مومنوں میں ہوتا بھی ہے یا نہیں۔

پچھلا رمضان میں نے صرف روزے رکھ کر اور مر مر کے تھوڑی بہت عبادت کر کے گزار دیا تھا۔ لیکن اس بار بھر پور انداز سے گزارنے کا ارادہ ہے۔ سوچ رہی ہوں اعتکاف بیٹھ جاؤں۔ :p رمضان میں دس دن اعتکاف کر لینا ایسا ہی ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔ لیکن پھر کمپیوٹر پر کیسے آؤں گی؟ چلو، کیا معلوم اللہ ہدایت کر ہی دے۔ رمضان میں تو ویسے بھی شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور رحمت اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔جہنم کے دروازے بند۔

رمضان کے مہینے کے بہت فضائل ہیں۔ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔“ “ جو شخص ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے رمضان کا روزہ رکھے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“ اگر میرے ابو جیسے بندوں کو ایسی باتیں بتائی جائیں تو وہ یقیناً ہنسی میں ٹال دیتے ہیں کہ ان کا دماغ ان سب باتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن حقیقت میں ایمان کی بات ہے۔ آپ کا جتنا ایمان پختہ ہو گا اتنا ہی ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر یقین ہو گا۔

میری طرف سے سب کو رمضان مبارک اور اگر ہو سکے تو میری ہدایت کے لیے کوئی دعا بھی کر دے۔ کیا معلوم کس کی دعا قبول ہو جائے۔

12 تبصرے