Archive for the 'دوست' Category

Feb 27 2009

اجتماعی دعا

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

جنوری کے آغاز میں ہمارے ایک بلاگر بچے “عمار” نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان کو یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے. اور یہ بھی فرمایا تھا کہ

جامعہ کراچی میں مجھے شعبہ تعلیم میں داخلہ ملا ہے۔ آج پہلے دن گیا تھا، بس گھوم پھر کر واپس آگیا۔ آثار نظر آرہے ہیں کہ اب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتا جاؤں گا۔ صبح کو جامعہ، دوپہر میں جامعہ سے سیدھا دفتر کو۔۔۔ رات گئے دفتر سے گھر واپسی تو بس۔۔۔ پھر نہ وقت نہ ہمت۔ اللہ جانے کیا ہوگا۔مزید…

اب صورتحال کچھ ایسی ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ باقی تو ہر جگہ سے غائب ہوتا جا رہا ہے…لیکن جامعہ جانے کے لیے ان کے پاس ہمت ہی ہمت ہے. محفل ، بلاگ ، مسینجر اور میلز …یعنی عمار آجکل منظر سے بالکل غائب ہیں، اپنے بلاگ پر نظر بھی آتے ہیں تو جامعہ کی کہانیوں کے ساتھ…پڑھئیے جامعہ نامہ!

پاکستان میں عموماً کہا جاتا ہے کہ اب بچہ کالج یا یونیورسٹی پہنچ گیا ہے تو اس کے پر نکل آئیں گے. پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

17 تبصرے

Oct 01 2008

عیدی: عمار کا شکریہ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: تھیمز, دوست, میری باتیں

ویسے تو بڑے چھوٹوں کو عیدی دیتے ہیں لیکن عمار نے اس بار یہ غلط ثابت کرتے ہوئے بڑوں کو یعنی مجھے تین تین عیدیاں (تین تین تھیم) دی ہیں۔ ایک تھیم تو آپ میرے بلاگ پر لگا دیکھ رہے ہیں، اور دو مزید۔ اب گاہے بگاہے ان کو بدلتی رہوں گی۔:D
یہ جو سائیڈ بار میں “میرے بارے میں” آپ پڑھ رہے ہیں، یہ تعارف میں نے نہیں لکھا یہ بھی عمار نے ہی لکھا ہے، اپنا تعارف لکھتے ہوئے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتی، تو عمار کا شکریہ کہ یہ تعارف اس نے لکھ کرمیری مشکل آسان کر دی۔ اور یہ جو تصویر آپ کو نظر آ رہی ہے، باخدا یہ میری نہیں ہے۔ اب یہ عمار ہی بتائے گا کہ اسے بدلنا ہو تو کیسے بدلنا ہے۔:D

بہرحال عمار بہت شکریہ۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اور رات بہت دیر سے میل دیکھی، اس لیے کل نہ لگا سکی، اس لیے آج لگایا ہے۔ عید پر تو عمار نے ایک اور سرپرائز دیا ہے، اور وہ یہ کہ اپنی ویب سائٹ آغاز کیا ہے۔ اس کی بھی عمار کو بہت مبارک۔ اللہ جانے یہ بچہ کیا کرے گا۔۔۔۔اس کے بس پلانز سنیں آپ۔۔۔!:p اور نہ صرف یہ کہ پلانز بناتا ہے، بلکہ ان پر عمل کرنا بھی جانتا ہے۔ ابھی تو مجھے مزید سرپرائز کا انتظار ہے۔:D

بچے کے لیے میری ڈھیر ساری دعائیں۔۔اللہ تمھیں زندگی کے ہر قدم پر کامیاب کرے۔ آمین۔

نوٹ: میں نے تمھارے لیے “بچے” کا لفظ استعمال کیا ہے، اب یہ نہ کہنا ہے کہ میں بچہ نہیں ہوں۔ لیکن میں سب کو ہی بچہ بنا دیتی ہوں۔ اس لیے فکر نہ کرو۔:D

13 تبصرے

Jul 31 2008

August: The Month Of Spirits

 calander-month-august پتہ نہیں کیوں۔۔۔ لیکن اگست کے شروع ہونے پر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس ماہ میری سالگرہ ہوتی ہے، بلکہ یہ سارا مہینہ اور بھی بہت سے لوگوں کو سالگرہ وِش کرنے میں گزر جاتا ہے۔ اگست میں کس کس کی سالگرہ ہے، اس کا مختصر سا جائزہ۔ اگر کسی کا نام رہ گیا ہو توضرور بتائیں۔ تاکہ اسے بھی وِش کیا جا سکے۔ اور اگر کسی کو میرا بلاگ پر اس کی سالگرہ کا دن لکھنا اچھا نہ لگے تو مجھے بتا دے، میں ہٹا دوں گی۔

یکم اگست سے تو ہم  ویسے بھی پاکستان کی سالگرہ منانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔

 اجمل چچا چھ اگست
شمیل قریشی بارہ اگست
پاکستان + میرا بلاگ + جیہ (اردو محفل + میری بھتیجی چودہ اگست
  امن ایمان پندرہ اگست
ماوراء اٹھارہ اگست
 ساجد اقبال

کاشفی

بیس اگست

بائیس اگست

میری دوست تیس اگست

 

اس کے علاوہ انکل مشرف کی گیارہ اگست اور بل کلنٹن کی انیس اگست کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ  پندرہ اگست کو کوریا اور انڈیا، سترہ اگست کو انڈونیشیا اور اکتیس اگست کو ملائیشا بھی آزادی کے دن مناتے ہیں۔

—–

آج دن جب باجو کی کال آئی تو وہ اتنی جلدی میں تھیں مجھے کہنے لگیں کہ ماوراء میں شاپنگ کر رہی ہوں، رنگ کا کچھ سمجھ نہیں آ رہا، سوچا کہ تم سے مشورہ کر لوں۔۔تم بتاؤ کون سا لوں۔ میں نے رنگ بتایا تو کہنے لگی ، اچھا اب گھر آ کر فون کرتی ہوں۔۔۔!
کچھ دیر بعد پھر فون آیا تو کہنے لگیں ۔ تمھاری سالگرہ کا گفٹ پیک کر رہی ہوں۔ اب میل کا خاص دھیان رکھنا۔ بہت کہا کہ اس کی کیا ضرورت تھی۔۔ لیکن باجو ہیں کہ کسی کی سنتی ہی نہیں۔Sadمیری سالگرہ کا تحفہ تو اتنے دن پہلے ہی مجھے مل رہا ہے۔

باجو، آپ کے لیے کارڈ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کی محبت کے سامنے یہ بہت چھوٹا سا” تھینک یو” ہے۔ لیکن پھر بھی میری طرف سے لے لیں۔Big Hug

24 تبصرے

Nov 24 2007

امن ایمان کی شادی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست, مواقع

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ امن ایمان جلد ہی رخصت ہونے والی ہیں۔ رخصتی کا مطلب ہے کہ اپنے ماں باپ کے گھر سے اپنے پیا گھر رخصت ہو رہی ہیں۔ ویسے اگر سوچا جائے تو عورت بے چاری کی بھی کیا زندگی ہے، کبھی ماں باپ کے گھر تو کبھی سسرال والوں کے گھر۔ کس گھر کو اپنا گھر کہنا ہے، یہ تو امن شادی کے بعد بتائے گی۔:p

ابھی میں سوچ رہی ہوں کہ امن کی شادی کی خوشی میں میں کیا کروں کہ امن کی خوشی میں تھوڑا بہت اضافہ ہو جائے، لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ یہ وہی امن ہے جس نے جیہ کی شادی پر زبردست پوسٹ کی تھی۔ اور اب جب اس کی اپنی باری آئی تو محفل پر ہلا گلا کرنے سے ہی منع کر دیا۔ لیکن اچھا ہی کیا۔ :p ویسے تو میرا دل چاہ رہا ہے کہ امن کی شادی پر میں خود موجود ہوتی اور ڈھولکی بجاتی۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔امن کی شادی پر ڈھولکی بجانے کا بہت مَن کر رہا ہے۔ لیکن امن نے تو شادی پر بلایا ہی نہیں، بلکہ صاف کہہ دیا کہ مہنگائی کا دور ہے اس لیے کسی کو بلانا نہیں۔ اب بھلا میں نے اس کا کتنا خرچہ کروا دینا تھا؟ خیر ۔۔کوئی مسئلہ نہیں، اس کا بدلہ لینا مجھے بھی آتا ہے۔ جیسا امن نے میرے ساتھ کیا ہے، ویسا ہی میں بھی کروں گی۔:D
اچھا، امن میرے لیے اتنا تو کر سکتی ہو نہ کہ شادی کے جوڑے کی ایک تصویر بلاگ پر لگا دو، اور جب شادی ہو جائے گی تو پھر اپنی اور جیجا جی کی بھی تصویر لگانا بلکہ میں نے شادی کی فلم دیکھنی ہے، اس لیے مجھے تو فلم بھجوا دینا۔۔۔!!!:p

اچھا، ایک اور بات میں نے نوٹ کی ہے، جب سے امن کو چاند ملا ہے تب سے اسے دوسروں کے چاندوں کی بہت فکر ہو گئی ہے۔ اور یہاں تک کہ دوسروں کے چاند کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ لگتا ہے امن نے سوچا ہو گا کہ اگر اس کی آزادی سلب کی جا رہی ہے تو دوسروں کی میں کیوں نہ کر دوں۔۔؟ :D امن کی آزادی کے ٢٠ دن رہ گئے ہیں۔ ویسے تو اپنا گھر، ماں باپ، بہن بھائی سب کو چھوڑ کر ایک دوسرے گھر، نئے لوگوں میں جانا بڑی ہمت کی بات ہے۔ امن نے تو شادی کی رٹ لگائی ہوتی تھی کہ شادی بڑی ضروری ہے۔ چلو، شکر ہے اب شادی ہو رہی ہے۔ پاکستان میں آجکل شاید شادیوں کا سیزن چل رہا ہے، فضہ کی شادی، امن کی شادی۔۔۔اور پھر میرے دو کزنز کی بھی شادی دسمبر کے شروع میں  ہو رہی ہے، میرا آجکل پاکستان جانے کا اتنا دل کر رہا ہے۔ خاص طور پر ڈھولکی بجانے کا۔۔حالانکہ مجھے بجانے نہیں آتی۔ شگفتہ بھی آجکل ڈھولکی بجانا سیکھنے کا سوچ رہی تھیں، معلوم نہیں۔۔۔کچھ سیکھی بھی یا نہیں۔۔!
اچھا، امن اگر تم مجھے اپنی شادی پر بلاتی تو کوئی گفٹ دینے کا بھی سوچتی۔ لیکن اب تمھارا تحفہ ادھار رہا۔:D ابھی تو ایک گھنٹے سے کوئی شادی کا گانا ڈھونڈ رہی تھی کوئی اچھا سا مل ہی نہیں رہا۔ اب ایسا کرنا کہ مووی بنانے والے کو کہنا کہ شادی کی فلم میں بارات کے دن جب دولہا امن کے گھر آئے تو یہ گانا فلم میں اس وقت ہونا چاہیے۔ :p

 یہ نظم میری طرف سے تمھارے لیے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تمھاری آنے والی زندگی میں تمھیں ڈھیر ساری خوشیاں دے۔ آمین۔

میرے دل کی یہ دُعا ہے
کہ خدا کرے
تیری زیست کا ہر ایک پل
ہر لمحہ
گلاب ہو جائے
شاداب ہو جائے
تیری روح کی تشنگی
سیراب ہو جائے
تیری ذات کا محور
کوئی ماہتاب ہو جائے
جن پر برستی ہیں
خدا کی خاص رحمتیں
اُن چند ہستیوں میں
تیرا انتخاب ہو جائے

آمین

اور امن یہ گانا مجھے بہت اچھا لگا تھا،جیہ کے لیے بھی لکھا تھا اور تمھارے لیے بھی لکھ رہی ہوں۔ لیکن سننے کے لیے نہیں مل سکا۔

بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
ایک راجہ کی تمکو رانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
بنو رانی اک دن تمکو بنے راجہ کے گھر ڈولی میں جا کے
ہم سکھیوں سے یوں انجانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا

نینوں میں ہے کاجل کی ڈورے، مہندی سے رچے ہاتھ گورے
جھومر تیرا دم دم دھمکے، جھمکا تیرا جھم جھم جھمکے
ہار گلے میں جگمگائے
آنچل تیرا ریشم ریشم ہولے ہولے مدھم مدھم
تو من ہی من مسکائے، تو من ہی من مسکائے
سکھ سپنوں میں یوں مستانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا

بنے راجہ جو پاس آئے، چاہے کہ یہ گھنگھٹا اٹھا لیں
دیکھو بنو مان نہ جانا، مکھڑا ان کو نہ دکھلانا
پہلے سب باتیں منوانا
کہنا بولو کر کے سلامی بنو کروں گا تیری غلامی
میں تو ہوں تیرا دیوانہ ہاں میں تو ہوں تیرا دیوانہ
تمھیں دیوانہ تمھیں دیوانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا۔

بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
اک راجہ کی تمکو رانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
بنو رانی اک دن تمکو بنے راجہ کے گھر ڈولی میں جا کے
ہم سکھیوں سے یوں انجانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا

13 تبصرے

Oct 26 2007

عام اعلان۔۔۔!!

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست, میری باتیں

آج اردو بلاگز میں ایک اور بلاگ کا اضافہ ہو گیا۔ میری اور امن کی کوششیں رنگ لائیں، اس نے اور میں نے جو تحریک چلائی تھی اس کی پہلی کامیابی یہ ہے کہ خواتین بلاگرز میں ایک اور بلاگ کا اضافہ ہو گیا۔ اب تک جن اردو ٹیک کی خواتین بلاگرز کو  ہم جانتے ہیں، ان میں شگفتہ، امن، ماورا، فرحت اور اب حجاب۔امن، ماورا اور حجاب کی مثلث تو پہلے سے ہی بنی ہوئی ہے، لیکن اب بلاگنگ میں بھی بن گئی ہے۔ اب اللہ خیر ہی کرے۔:p

حجاب کے بارے میں کچھ بتاتی چلوں۔ حجاب اردو محفل کی ممبر ہونے کے علاوہ میری بہت اچھی دوست بھی ہے۔ اس کی تعریف میں صرف اتنا ہی کہوں گی کہ اس سے زیادہ اچھی لڑکی میں نے نہیں دیکھی۔ سب ہی بہت اچھی ہیں۔ لیکن حجاب میں کچھ ایسی خاص اچھی عادتیں ہیں جن کی وجہ سے اس کی شخصیت نہایت ہی متاثر کن ہے۔ زیادہ تعریف نہیں کروں گی، کہیں زیادہ ہی خوش نہ ہو جائے۔ یاد رہے کہ حجاب نے اپنا بلاگ “شب“ کے نام سے بنایا ہے۔ اور اس نے تھیم بھی اپنے لیے منتخب کی ہے۔ اس لیے اردو ٹیک کے ان افراد جو تھیم اردوانے کا کام کر رہے ہیں، سے گزارش ہے کہ جلدی سے یہ تھیم بھی اردوا دیں۔ حجاب جلد ہی اپنے بلاگ پر کوئی اچھی سی تحریر پوسٹ کریں گی۔ میری طرف سے حجاب کو بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید اور شکریہ کہ ہمارے کہنے پر بلاگ بھی بنایا۔

دوسری بات یہ کہ کل تک مجھے تھیم میں اردو پیڈ ایڈ کرنے کا طریقہ آیا تھا لیکن آج اس نے کام کرنا بھی شروع کر دیا۔ میرے بلاگ کے پچھلے تھیم کے حلیے سے مجھے اور آپ کو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ماشاءاللہ میں کتنی محنت کر رہی ہوں۔ لوکل ہوسٹ پر تھیم اے ون لگ رہا ہے۔ بس اب کچھ فانٹ سائز کا مسئلہ رہ گیا ہے اور کچھ فائلز کا ترجمہ۔ لیکن ترجمے کا تو مسئلہ ہی نہیں۔ سب سے مشکل کام اردو اوپن پیڈ کو ایڈ کرنے کا تھا۔ جو حل ہو گیا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں اتنے کام کی بندی بھی ہو سکتی ہوں۔ منڈے سے میری جاب بھی شروع ہے، وقت کم ملے گا لیکن پھر بھی اب اسے پہلے فرصت میں مکمل کر کے آپ سب کو اس کا دیدار کرواتی ہوں۔ ویسے تو انگریزی میں ہی بہت اچھا لگ رہا ہے۔ بس اردو پیڈ ڈال دیا جائے تو کام ختم۔ باقی سارے اضافی کام ہیں۔

شگفتہ نے ایک بار کسی کام پر مجھے “ویل ڈن ماورا“ کہا تھا۔ آج مجھے بھی اپنے آپ کو کہنے کا دل کر رہا ہے۔ “ویل ڈن ماورا“۔:p

 آج پھر تھیم کی وجہ سے صبح کے پانچ بج گئے ہیں۔ لیکن ایک اہم بات یہ کہ میں بلاگنگ کے موڈ میں نہیں ہوں، اس لیے میرا بلاگ کچھ دنوں یا عرصے کے لیے ٹیسٹنگ بلاگ ہی سمجھئے۔ اور باقی کچھ نہایت ہی اہم باتیں کسی اگلی پوسٹ میں۔

 یہ کپ میرے لیے۔

 

 

16 تبصرے

Oct 19 2007

دوست داری

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

13 تبصرے

Sep 17 2007

امن ایمان

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

کل رات تقریباً نو، دس بجے جب میں آن لائن آئی تو خلافِ توقع امن آن لائن تھی۔ پاکستان میں گیارہ، بارہ کا وقت تھا۔ میرے آن لائن ہوتے ہی امن نے شکوہ کیا کہ اتنی دیر بعد آن لائن آئیں، میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ امن چیٹ بہت کم کرتی ہے۔ میلز سے ہی ہمارا زیادہ رابطہ رہتا ہے۔ امن کو میں نے کہا کہ میرا فون نمبر لے لو۔ اگر بات کرنی ہو تو مجھے ایس ایم ایس کر دیا کرو تو اس وقت میں آن لائن آ جایا کروں گی۔ یاد رہے، جب کوئی بہت ضروری بات ہو تو تب ہی امن آن لائن آتی ہے۔  کچھ دن پہلے ہی اردو محفل پر ہماری “فون پر بات“ کرنے کی بات ہو رہی تھی۔  تو رات کو امن نے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور میرا انتظار کر رہی تھی۔ فون پر تو نہیں لیکن ہماری وائس چیٹ ہوئی۔ امن نے پہلی بار کسی نیٹ فرینڈ سے بات کی تو میں نے پہلی بار وائس چیٹ کی۔  بہت شروع میں ایک بار میں نے ٹرائی کی تھی لیکن مسئلہ وہی کہ آواز ٹھیک سے نہیں آتی، اس کے بعد میں نے فون پر ہی بات کرنے کو ترجیح دی۔

امن نے اتنے پیارے انداز سے اس بات چیت کو یادگار قرار دیا ہے اور اس طرح امن کے اس انداز کی وجہ سے ہماری یہ بات چیت میرے لیے بھی یادگار بن گئی۔ حالانکہ مجھے امن کی آواز ٹھیک سے سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن پھر بھی جتنی بات چیت ہوئی، بہت اچھا لگا۔ یقیناً اگر میں فون پر بات کروں گی تو اور بھی اچھا لگے گا۔ اب تک باجو نے علاوہ زیادہ سے بات چیت کراچی والوں سے ہوئی۔ کراچی والوں کا انداز نہایت ہی دھیما اور نہایت ہی سلجھا ہوا ہوتا ہے۔ اور ہم ٹھہرے پنجابی۔۔۔!! کراچی والوں سے بات کرنے کے لیے نہایت ہی سلجھے انداز میں بات چیت کرنا پڑتی ہے۔ اور اپنے پنجابیوں کا لہجہ سن کر تھوڑا سکون ہوتا ہے کہ اپنے انداز میں ہی بولنا ہے۔

اچھا، ہم اکثر پنجابی لوگ بولتے بھی بہت تیز ہیں۔ امن کا کہنا ہے کہ وہ بھی بہت تیز بولتی ہے، لیکن وائس چیٹ کی وجہ سے ہم بہت ہی ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہے تھے۔ باجو (بوچھی) جتنا تیز تو کوئی بول ہی نہیں سکتا۔ ان سے بات کریں تو بندہ سوچتا ہے کہ باجو اب کب رکیں تو اپنی بات کہیں۔  اور ماشاءاللہ میں خود بھی بہت تیز بولتی ہوں۔ امن جب جب بولتی تھی، کانوں میں میوزک بجنا شروع ہو جاتا تھا۔ پھر کبھی ایسا لگتا کہ امن کی آواز کسی گہرے کنوئیں سے آ رہی ہے۔ خیر، تھوڑی دیر کے بعد آدھے جملوں کی سمجھ آنا شروع ہو گئی۔ اور میں اس آدھے جملے سے اندازہ لگا رہی تھی کہ امن نے کیا کہا ہو گا۔ اور شکر ہے کہ سب باتوں کا جواب درست ہی دیا۔

جیسا امن نے بھی کہا ہے اور واقعی مجھے بھی امن سے بات کر کے ایسا ہی لگا جیسے ہمارا بڑا پرانا ساتھ ہے اور روز ہی ہماری بات ہوتی ہے۔ امن کے رات کا ایک بج گیا تھا۔ اس دوران ہماری کافی موضوع پر بات چیت ہو گئی۔ امن نے جیہ کی مہندی پر بھی ٹپے گا کر اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔ اور کل بھی گا کر تو نہیں لیکن بول کر اپنی آواز کا جادو جگایا۔ امن کے بات چیت کے انداز، لہجے میں بھی اتنی ہی معصومیت ہے جتنی امن کی باتیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے۔

 امن کی پوسٹ اور باتوں سے مجھے اپنے لیے اسکی محبت کا اندازہ ہو رہا ہے۔ محبت کے بدلے میں شکریہ تو نہیں محبت ہی دی جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی امن کی اتنی محبت کا بہت شکریہ۔ اور امن کو لگ رہا تھا کہ میرے پاس کوئی ہے۔ تو امن، میرے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ میں اپنے کمرے میں اٹھ کر آ گئی تھی اور دروازہ بند کر دیا۔ اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ میں نے کسی سے آدھی رات کو بات بھی کی ہے یا نہیں۔ اور امن سے بات کرنے کا سب سے بڑا یہ فائدہ ہوا کہ امن کے ساتھ اس کی ماما کو بھی یقین ہوا کہ ماوراء کوئی لڑکی ہی ہے۔

 میں امن کے بارے میں مزید بھی لکھنا چاہ رہی تھی لیکن سوچا امن کو ذرا اور جان لوں۔ کیونکہ ابھی میں نے امن کا باقاعدہ انٹرویو بھی لینا ہے۔ تب شاید امن کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملے۔

9 تبصرے

Sep 01 2007

(وفا پرست) محب علوی مدظلہ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

محب علوی سے آج بلاگز کے حوالے سے  بات ہو رہی تھی کہ میں نے ایسے ہی پوچھا کہ آپکے بارے میں ہجو نہ لکھ ڈالوں۔۔؟ مسکراہٹ کے ساتھ جواب ملا “ہاں نا“۔ اب معلوم نہیں کہ “ہاں“ کہہ رہے تھے یا “نا“۔ بہرحال خوشی سے میں نے اندازہ لگایا کہ “ہاں“ ہی کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے کہا کہ تعریف تو میں نے بالکل نہیں کرنی، اس لیے برا بالکل نہ منانا۔ جواب ملا کہ “نہ کرنا، طنز لکھو ہر کسی نے یہی لکھا ہے“۔ اس جملے کو پڑھنے کے بعد میرا ارادہ بدل گیا۔(لیکن مکمل ارادہ نہیں بدلا) محب علوی کبھی کبھی مجھے بالکل ایک معصوم بچے کی طرح لگتے ہیں۔ حالانکہ اتنے بھی معصوم نہیں ہیں۔

جنوری ٢٠٠٦ میں اردو محفل پر محب علوی کی آمد ہوئی۔ اور آتے ساتھ اپنے تعارف کا تھریڈ “آگئے ہیں ہم تو گرمی بازار دیکھنا “ کھولا۔ میرا خیال ہے تب محب نے بالکل درست کہا تھا اور آج واقعی گرمئی بازار دکھا رہے ہیں۔ حالانکہ محب کے مزاج میں گرمی کھانا بالکل بھی نہیں ہے۔ محب نہایت ہی تحمل مزاج کے مالک ہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں جذباتیت دکھا ہی جاتے ہیں۔

محب علوی کے بارے میں چند ایک لوگ لکھ چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی محب کا دل نہیں بھرا اور ان کا دل ہوتا ہے کہ ہر کوئی ان کے قصیدے ہی  پڑھتا رہے۔ نبیل بھائی نے محب علوی کے لیے ایک بہت ہی زبردست جملہ لکھا کہ “محفل پر اگر کوئی خاتون آ جائے تو محب علوی ان کے سامنے قالین ہو جاتے ہیں۔ ان کی بانچھیں کھل جاتی ہیں۔“ یہ بات حقیقت ہے لیکن جانے محب علوی کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے یا کیا معاملہ ہے کہ میرے علاوہ محب کو کبھی کسی سے جوتیاں نہیں پڑیں،(کھری کھری سنانا)۔:P محب علوی اب میرا خیال   تیس سال کے بابے ہو چکے ہیں لیکن ان کی باتوں سے ایسے لگتا ہے کہ بائیس سال کا کوئی لڑکا ہو۔ محب علوی کی معصومیت کہ اپنے قصے بڑے فخریہ انداز میں خود ہی سناتے ہیں۔ قصے سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب محب علوی کو لڑکیوں سے کھری کھری کیوں نہیں سننا پڑتیں۔ اصل میں محب بچپن سے ہی ایسا مزاج رکھنے کی وجہ سے اب تک اس کام میں تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ جانے تجربہ حاصل کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنا پڑے ہوں گے۔ اور شاید اسی وجہ سے اب تک یہ اتنے ٹھنڈے مزاج کے ہو چکے ہیں۔

“باتیں بنانا“ میرا خیال ہے ایک بہت مشکل کام ہے۔ دوسرا بہترین کام ان کو باتیں بنانے کا آتا ہے۔ کام کم کریں گے اور باتیں زیادہ۔ ان کی باتیں سن کر بندہ “واہ واہ“ کہہ اٹھتا ہے۔ اب جو ان کو جانتا نہیں ہے وہ تو اچھا بھلا ان کی باتوں میں آ جاتا ہے۔ اسی لیے میں ساتھ ساتھ سب کو خبردار کرتی رہتی ہوں کہ محب علوی کی باتوں میں جو آ گیا وہ کام سے گیا۔ پہلے دن سے ہی میرے اور محب کے درمیان جنگ رہی ہے۔ اور ان لڑائیوں کی وجہ سے مجھے کئی بار (باجو سے) ڈانٹ بھی پڑ چکی ہے۔ لیکن جب تک محب کو کچھ سنا نہ لوں مزہ نہیں آتا۔ محب اس لحاظ سے بہت اچھے ہیں کہ محب نے شروع میں ایک دو بار کے بعد مجھے کبھی کھری کھری نہیں سنائیں۔ شاید ان کو اب تک اندازہ ہو چکا ہے کہ “مجھ سے بڑا ڈھیٹ کوئی نہیں، اس لیے بہتر ہے خاموش رہا جائے۔“ بس اسی وجہ سے میری ہمت بڑھی اور میں نے اس کام میں ترقی ہی کرتی گئی۔ کبھی کبھی مجھے بہت حیرت ہوتی ہے کہ کیا کوئی واقعی ایسا بھی ہوتا ہے جو اتنا سننے کے بعد بھی کچھ نہ کہے۔ اور پہلے کی ہی طرح ہنس کے بات کرتا رہے۔ شاید محب کی اسی عادت کی وجہ سے کبھی میری یہ عادت ختم ہو جائے، لیکن ابھی تو کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

محب علوی دو بار الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ اور دونوں ہی بار بہت بری طرح پِٹ چکے ہیں۔ اور ابھی بھی ان کا شوق ختم نہیں ہوا۔ ایک بار پھر پِٹنے کے لیے الیکشن میں کھڑا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ محب علوی کو ہر بار ہی آسٹریلیا، امریکہ کی حسینائیں ووٹ دینے کا وعدہ کر کے دغا دے جاتی ہیں۔ اب کی بار دیکھیں کہ اپنی پچھلی غلطیوں سے کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں۔ ویسے اب سننے میں آیا ہے کہ محب کافی بدل چکے ہیں۔ خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محب نے خواتین سے دوستیاں کم کر دی ہیں۔ کیونکہ ان کے مسینجر میں کوئی پچاس (یا اس سے زیادہ) کے لگ بھگ خواتین ایڈ ہو چکی تھیں۔ اب اگر ایک وقت میں پانچ بھی آن لائن ہو جاتیں تو ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ اور آجکل تو بیگم بھی بیلنا لے کر سر پر کھڑی ہوتی ہیں۔ باقاعدہ اجازت لے کر انٹرنیٹ یوز کرنا پڑتا ہے۔ اکثر رات کو یہ آفس میں بھی پائے جاتے ہیں۔ استفسار پر یہی کہا جاتا ہے کہ آفس میں کام بہت ہے۔ اور دوسری طرف اردو محفل پر باتیں اور چیٹنگ پر مصروف ہوتے ہیں۔

ابھی بہت کچھ ذہن میں ہے لیکن آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ شاید پھر کسی دن رونا رونا پڑ جائے۔ مختصر یہ کہ جو بھی ہو محب علوی ہمارے ایک بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔ مجھے ان سے سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملا۔ بقول محب کے ہی کہ یہ اتنے بڑے بڑے خطبے جو میں کرتی ہوں یہ انہی کی بدولت ہے۔lol  محب ایک بہت اچھے دوست بھی ہیں۔ جن پر آپ مکمل اعتماد بھی کر سکتے ہیں۔ میں خود محب سے ہر بات گرم اختلاطی سے کر جاتی ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ محب کسی بات کا برا نہیں منائے گا یا مجھے کوئی ڈر نہیں ہوتا کہ میری کوئی بات کسی کو بتا دے گا۔

18 تبصرے

Aug 29 2007

جیہ کا ولیمہ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

کتنے دنوں سے ہم جیہ کی شادی کا انتظار کر رہے تھے۔ اور جب یہ دن آیا تو پلک جھپکنے میں گزر بھی گیا۔ جیہ بابل کے گھر کو چھوڑ کر پیا گھر سدھار چکی تھی۔ جیہ کے جانے سے گھر میں کیسی یکدم خاموشی چھا گئی تھی۔ سارہ تو رونے بیٹھی ہوئی تھی۔ اور ماوراء اس کے پاس کھڑے اسے طعنے دے رہی تھی کہ تم تو بیسویں صدی کی لڑکی نکلی، آجکل تو دلہنیں بھی نہیں روتیں، تم کیوں رونے بیٹھی ہوئی ہے۔ سارہ کہنے لگی کہ تم بھی کتنی سخت دل لڑکی ہو، بھلا اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر بھی کسی کا جانے کو دل کرتا ہو گا۔ امن بھی ماوراء کا ساتھ دے رہی تھی۔ سارہ نے وہاں سے جانے کو ہی ترجیح دی اور سونے چلی گئی۔ صبح بھی تو ہونی تھی نا۔ اور جیہ سے ملنے بھی جانا تھا۔ آج کا دن تو بہت اچھا گزر گیا تھا۔ ہم سب خوش تھے کہ پہلی شادی ایسی ہو گی جہاں خاندان والوں کا نام و نشان نہیں ہو گا۔ ذرا آزادی سے انجوائے کر سکیں گے۔ لیکن صبح صبح منتطمین اعلی نے ہمیں اچھی بھلی ڈانٹ پلا دی۔ نبیل کی گرج دار آواز سے اور زکریا کی کھا جانے والی آنکھوں سے سب ہی سہم گئے تھے۔ اور آصف کھانا کھا کر رخصتی سے پہلے ہی شادی والے گھر سے رفوچکر ہو چکے تھے۔ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ آصف کس طرف کو نکل گئے ہیں۔ آخری بار ان کو موبائل پر بات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

٢٥ فروری ولیمے کا دن تھا۔ ولیمے کا فنکشن شام کو لیٹ تھا، اس لیے سب کے پاس تیاری کے لیے کافی وقت تھا۔ پچھلے دو دنوں میں تو مجھے اور امن کو تیاری کے لیے بھی زیادہ وقت نہ مل سکا تھا۔ آخر ہم نے شادی کے سارے انتظامات بھی تو سنبھالے ہوئے تھے نا۔ لیکن آج ہم دونوں نے اپنی زبردست تیاری کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود ہم نے سب کی سرگرمیوں پر نظر بھی رکھنی تھی جو کہ آسان کام نہیں تھا۔

صبح صبح گھر میں ایک ہل چل سی مچ گئی۔ مجھے اندازہ لگانے میں ذرا سی بھی دقت نہیں ہوئی تھی کہ باجو اٹھ گئیں تھیں اور اب سب کو اٹھانے کے چکر میں تھیں۔ ساتھ ہی فرزانہ سسٹر بھی کمرے میں داخل ہوئیں۔ جو بڑے پیار سے سب کو اٹھانے لگیں۔ میں تو دن کے گیارہ بجے بھی گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔ سب ہی اپنی آنکھیں مل کر اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے اچھے خواب سے باہر اس وقت آنا پڑا جب باجو نے میری ہی جوتی کھینچ کر مجھی کو ماری۔
دوسری طرف نبیل، زکریا ڈانٹ ڈانٹ اور گھور گھور کر لڑکوں کو اٹھانے میں مصروف تھے۔ نبیل نے گھر کے درمیان والے ہال میں کھڑے ہو کر زور دار آواز میں کہا کہ “آج رات ولیمے سے فارغ ہونے کے بعد ہی ہم واپس محفل میں جائیں گے۔ بہت ہلا گلا ہو گیا۔ ادھر سارے میرے کام ادھورے پڑے ہیں اور یہ کام چور مجھے بھی یہاں لے آئے ہیں۔“ مطلب مزید قیام کا کوئی چانس نہیں تھا۔ زکریا نبیل کی حمایت کرتے ہوئے بولے۔ “بالکل“۔ اصل میں آصف بھی کل رات سے غائب تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے واپس جرمنی چلے گئے ہوں۔

فرزانہ سسٹر، باجو، شگفتہ، فرحت، سارہ اور حجاب اپنی اپنی تیاری میں مصروف ہو گئیں ۔ اتنے میں میں نے اور امن نے سوچا ہم جلدی سے بیوٹی پالر سے ہو آتے ہیں۔ ہم دونوں نے فہیم کو کہہ کر زکریا کی گاڑی کی چابی ان کے کمرے سے چپکے سے اٹھوائی اور بیوٹی پالر کی طرف روانہ ہو گئے۔ دو، تین گھنٹے بعد جب ہم گھر واپس آئے تو تقریباً سب ہی تیار تھے۔ سارہ کی تو ہمیں دیکھ کر چیخ ہی نکل گئی۔ باجو سارہ کی چیخ سن کر دوڑی ہوئی آئیں، تو ہمیں دیکھ کر چونک گئیں۔ پھر ہم سے گلہ کرنے لگیں کہ کس بیوٹی پالر سے تیار ہو کر آئی ہو؟ مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔!! سب ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہی تھیں۔ فرزانہ سسٹر نے Viloet-Orchid ساڑھی پہن رکھی تھی۔ جس پر beads ، کورا، کٹ گلاس اور زردوسی دھاگے کا کام ہوا ہوا تھا۔ کالے رنگ کے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔ ہاتھوں میں سفید موتیے کے پھولوں کا گجرا تھا۔ اور ساتھ خوب صورت سی سلور پرپل جیولری پہن رکھی تھی۔ (فرزانہ سسٹر ضرور بتائیے گا کہ وہ جیولری سیٹ کہاں سے لیا تھا، میں نے بھی بالکل ویسا ہی لینا ہے۔) باجوگلابی رنگ کے چوڑی دار پاجامہ اور سلور دھاگے کے کام والی قمیض میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ نیچے پیروں میں پائل چھن چھن کر رہی تھی۔ اور سوٹ کے رنگ سے ملتا جلتا سلور رنگ کا جیولری کا سیٹ پہنا ہوا تھا۔ ماتھے پر چھوٹی سی بندیا چمک رہی تھی۔ شگفتہ، فیروزی اور ہاٹ پنک رنگ کے ٹراؤزر اور شرٹ میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ فیروزی قمیض پر پنک باریک کڑھائی لگتا تھا، شگفتہ نے خاص طور پر کروائی تھی۔ شبو نے ہلکے سبز رنگ کی بہت ہی زبردست شیفون کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی، بالوں کو نہایت ہی خوبصورتی سے بنایا تھا۔ جوڑے میں موتیے کے پھول بھی لگے ہوئے تھے۔ اور زلفوں کی کرلی لٹیں دائیں بائیں لٹک رہی تھیں۔ سارہ تو آج بالکل سندھی کڑی لگ رہی تھی، شکار پور سے خاص طور پر قمیض پر سندھی کڑھائی کروائی تھی۔ فیروزی رنگ کے کرنکل شیفون غرراہ اور قمیض کے کناروں پر سرخ رنگ کا گوٹا لگا تھا۔ فیروزی غرارے پر سرخ ڈوپٹے کے کنارے پر بھی کڑھائی ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں چوڑیاں، کلاسیکل ڈیزائن کا جیولری سیٹ۔ سارہ نے سندھی روایت اور رواج کا خاص خیال رکھا تھا۔ دوسری طرف فرحت صحیح پنجابن لگ رہی تھیں۔ سن گولڈ اینڈ ریڈ قمیض جس پر گوٹا کناری کا کام ہوا تھا ، پٹیالہ شلوار اور ڈوپٹے کے کناروں پر کڑھائی کافی روایتی اور بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ بالوں میں لمبا سا پراندہ بالوں کے ایک طرف پیلے رنگ کا پھول۔ کانوں میں بھاری کانٹے تھے۔ اور پیروں میں پائل اور کھسہ بھی بہت بھا رہا تھا۔ امن گہرے سبز اور نیلے رنگ کے نہایت ہی خوبصورت اور فل کام ہوا لہنگے میں تھی۔ جس پر beads کا کافی کام ہوا ہوا تھا۔اپنے لیئر کٹ کالے لمبے بالوں کو اس نے کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ امن نے بھاری لہنگے کے ساتھ ہلکا سا جیولری سیٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ مختصر کہ امن دلہن سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ مارواء نے لائٹ چاکلیٹ براؤن اینڈ گولڈن رنگ کا Mermaid لہنگا پہنا ہوا تھا۔ جس پر کورا، زردوسی، دبکا، موتی اور دھاگے کا بہت ہی خوب صورت کام ہوا تھا۔

تیاری مکمل ہونے کے بعد ہم سب ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے، زکریا اپنی گاڑی ہی ڈھونڈتے رہ گئے اور ہم ہوٹل کے دروازے پر پہنچ بھی گئے۔ وہ تو نبیل کا بھلا ہو کہ وہ زکریا کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے آئے۔ ہوٹل پہنچنے پر شاندار استقبال کرنے کے لیے لڑکے والے لائن بنا کر پہلے ہی کھڑے تھے۔ زکریا پارکنگ میں اپنی گاڑی پہلے سے کھڑی دیکھ کر ادھر ادھر گھورنے لگے۔ خیر اس وقت تو کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے۔ سیدھے آگے کی طرف چلنے لگے۔ ہم ابھی دروازے سے داخل ہو ہی رہے تھے کہ پیچھے ایک فراٹے لیتی ہوئی گاڑی یکدم آ کر رکی۔ سب اس گاڑی کی طرف دیکھنے لگے۔ گاڑی کے دروازے کھلے۔ اندر سے چار مرد مونچھیں مڑوڑتے ہوئے باہر نکلے۔ گولڈن کھسے اور کلف لگی سفید شلوار قمیض میں چاروں بالکل پنجاب کے چوہدری لگ رہے تھے۔ یہ چاروں خاموشی سے ہال میں جا کر ایک سائیڈ پر لگی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔

ہال کے سٹیج پر جیہ گولڈن رنگ کے خوب صورت سے لہنگے میں بیٹھی ڈاکٹر مشتاق سے خوش گپیوں میں مصروف تھی۔ اور دونوں ہی بہت چہک رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر تو جیہ کی بانچھیں ہی کھل گئیں۔ جبکہ جیجا جی کا رنگ ہمیں دیکھ کر پیلا پڑ گیا۔ شاید وہ ابھی تک کل والے پچاس ہزار نہیں بھولے تھے۔ جیہ سے ملنے کے بعد سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔ آج تقریباً سبھی لڑکے سوٹ میں آئے تھے۔ نبیل کالے سوٹ، سفید شرٹ اور کالی ٹائی میں ہیرو لگ رہے تھے۔ زکریا ڈارک بلیو سوٹ کے ساتھ ہلکی نیلے رنگ کی شرٹ اور گہرے نیلے رنگ کی ٹائی میں بہت ڈیشنگ لگ رہے تھے۔ شمشاد بھائی، تفسیر بھیا، پاکستانی بھائی، ڈاکٹر عباس، باسم، فرضی، وارث، فرذوق، ضبط، اعجاز اور اعجاز انکل سبھی ماشاءاللہ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ اعجاز انکل کی تو ریاض انکل سے خوب دوستی ہو گئی تھی۔ دونوں باتوں میں ایسے مگن ہوئے کہ کچھ اور انھیں یاد ہی نہیں رہا۔ راہبر اور فہیم کالے سوٹ میں آئے تھے۔ فہیم نے ہلکے جامنی رنگ کی شرٹ اور گہرے جامنی رنگ کی ٹائی پہنی ہوئی تھی۔ لیکن انھیں تیاری کا وقت بہت کم ملا تھا، جلدی میں شاید وہ جوتے پہننا ہی بھول گئے تھے، اور گھر میں پہننے والے ہی جوتیوں میں ہی آ گئے۔ وہ تو عمار کے بتانے پر ہی انھیں احساس ہوا۔ پھر اس کے بعد فہیم اپنی سیٹ سے ایک بار بھی اٹھ نہ سکے۔

اچانک ہال میں مہوش داخل ہوئیں۔ ہلکے سے میک اپ اور خوبصورت سی شلوار قمیض میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ اور ہاتھ میں انہوں نے ایک فائل پکڑی ہوئی تھی۔ آتے ساتھ ہی نبیل کے میز تک چلی گئیں۔ اور فائل کھول کر انھیں وکی ارود لائبریری کی صورتِ حال سے آگاہ کرنے لگیں۔ اور نبیل بھی بڑے انہماک سے اس فائل کو دیکھنے لگے۔ لیکن خدا کا شکر کچھ دیر میں ہی نبیل کو خیال آ گیا اور مہوش کو کہنے لگے، مہوش بہن آپ نے بہت محنت کی ہے۔ میں اسے انشاءاللہ کل دیکھتا ہوں۔ آپ کل یہ فائل لے آئیے گا۔ شگفتہ نے یہ سب دیکھا تو وہ بھی پرس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگیں۔ میرے پوچھنے پر کہا کہ اچھا موقع ہے میں بھی لائبریری کی وش لسٹ نبیل بھائی کو دکھا آؤں۔ اگر میری شگفتہ سے دوستی نہ ہوتی تو آج کے دن بھی شگفتہ لسٹ نبیل بھائی کو دینے پہنچ جاتیں۔ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ شگفتہ آج رہنے دیں۔ کل دے دینا۔ شکر ہے مان گئیں۔

اچھا۔۔وہ سب سے آخر میں کونے والی ٹیبل پر چار چوہدری خدا جانے کن رازداریوں میں مصروف تھے۔ لیکن میں نے اور امن نے اس کا بھی مکمل بندوبست کیا ہوا تھا۔ ہم نے ان کی ٹیبل کے نیچے ٹیپ ریکاڈر پہلے سے ہی رکھ دیا تھا۔ اور وہ ٹیپ ہم نے سننے کے بعد زکریا کے پاس جمع کروا دی ہے۔ عمار، فرذوق، فہیم، ضبط نے ولیمے پر بھی زبردست ڈانس کیا۔ اور محفل کو کوب جمایا۔

کھانے کا بھی وقت ہو چکا تھا۔ سب لوگ کھانے پر جھپٹ پڑے۔ جیسے جانے کتنے دنوں سے بھوکے ہوں۔ میں نے کھانے کے دوران اپنے کیمرے کو بند کر دینا ہی مناسب سمجھا۔ ورنہ خواہ مخواہ سب کی اصلیت کھل جاتی۔ کھانے میں بریانی، کڑھائی، قورمہ، روسٹ، پالک گوشت، پلاؤ، زردے، چٹنیاں، اور بے شمار کھانے تھے۔ سب نے جی بھر کر کھانا کھایا۔ کھانے کھا چکنے کے بعد جب میں نے ہال کا جائزہ لیا تو کھانے کا ہال کم اور گند کا ہال زیادہ لگ رہا تھا۔ کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں فرش پر ٹوٹی پڑی تھیں۔ تو مرغی کی ہڈیاں فرش پر گری ہوئیں تھیں۔ ٹشو پیپر ہر طرف بکھرے نظر آ رہے تھے۔ میں تو وہاں سے بھاگی، کہ ایسا نہ ہو باجو یہاں آ کر مجھ پر یہ سارا الزام لگا دے۔ کھانے سے پہلے تو سبھی آرام و سکون سے بیٹھے تھے۔ لیکن کھانے کے بعد سب کو ہی گھر جانے کی جلدی پڑ گئی۔ جیسے ولیمے پر صرف کھانا کھانے ہی آئے ہوں۔

آخر میں مکلاوے کی رسم کے مطابق جیہ کو سسرال سے میکے جانا تھا۔ ہم سب جیہ کے ساتھ رات کو گھر پہنچے۔ ابھی ہم جیہ سے باتیں کرنے میں ہی مصروف تھے۔ کہ نیچے والے ہال میں اعلان ہوا۔ آج رات کی ہم سب کی واپسی کی فلائٹس ہیں۔ سب جلدی سے باہر آ جائیں۔ نبیل اور زکریا دونوں ہاتھ میں بیگ پکڑے کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ مرتے نہ تو کیا کرتے۔ سب منہ بنائے لائن بنا کر اپنے اپنے بیگ گھسیٹتے ہوئے نبیل اور زکریا کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ ایرپورٹ پہنچنے سے پہلے ہی ہم سب کی آنکھ کھل گئی۔ اور ہم سب نے اپنے آپ کو اردو محفل میں ہی موجود پایا۔ جیہ کی بھی اس کے بعد کوئی خبر نہیں تھی۔ پھر اچانک ایک دن جیہ محفل پر نمودار ہوئیں۔ تب ہم سب نے سکھ کر سانس لیا کہ جیہ خیر خیریت سے ہے۔ اور آگے کی کہانی جیہ نے کچھ اس طرح سنائی کہ ڈاکٹر مشتاق کچھ ہی دنوں بعد آئرلینڈ چلے گئے۔ اور جیہ اب اپنے بابا کے گھر میں ہے۔ اگست کے شروع میں جیجا جی واپس آ رہے ہیں اور جیہ پھر سسرال چلی جائیں گی۔ اللہ ہماری جیہ کو ڈھیروں خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔ آمین۔

9 تبصرے

Aug 29 2007

جیہ کی مہندی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

جمعہ ٢٣ فروری ایک بہت ہی خاص دن تھا۔ صبح سے ہی ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کہیں سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی تو کہیں گانے بجنے کا شور تو کہیں کچھ لڑکیاں اپنی تیاری کے لیے شور مچا رہی تھیں۔ بچے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ بڑے آج کے دن کے لیے خصوصی انتظامات کا بندوبست کر رہے تھے۔ جیہ کا گھر آج مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ دور دراز سے آئے ہوئے رشتے دار، دوستوں نے کچھ دن پہلے سے ہی آ کر ڈیرہ جما لیا تھا۔ ہفتہ بھر پہلے ہی ڈھولکی رکھ لی گئی تھی۔ رات بھر گانے گا گا کر ہم سب نے ہی محلے والوں کی نیند حرام کی ہوئی تھی۔ باجو نے تو کمال کی ڈھولک بجائی، امن، حجاب، سارہ تو چھپی رستم نکلیں۔۔مایوں، مہندی کے ایسے ایسے زبردست گانے گائے کہ سب کے منہ ہی کھلے کے کھلے رہ گئے۔

آج مہندی کا دن آ گیا۔ امن اور ماوراء صبح صبح اٹھ گئیں تھیں۔ مہندی کے چھوٹے موٹے کاموں (جو کہ ہمارے لیے بہت بڑے تھے) کا ذمہ ہم نے لیا ہوا تھا۔ سٹیج سجوانا، گجروں کا بندوبست، مہندی کی پلیٹیں، موم بتیاں، مہندی وغیرہ وغیرہ۔ اور ساتھ ساتھ ہمیں کیمرہ لئے بھی پھرنا تھا۔ تاکہ مہندی سے پہلے کی بھی ساری خبریں آپ تک پہنچائی جا سکیں۔ شبو، سارہ، شگفتہ اور باجو اپنی تیاریوں کے ساتھ ساتھ جیہ کی تیاریوں میں بھی مصروف تھیں۔ باجو آج صبح سے ہی اپنی تینوں بیٹیوں کی تیاری کے لیے شور مچا رہی تھیں۔ مناہل تھی کہ قابو ہی نہیں آ رہی تھی۔ وہ باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے میں ایسی مصروف ہوئی کہ باقی سب کچھ بھول ہی گئی۔ آج حمزہ بھی خوب چہک رہا تھا۔ شکر ہے آج پھپھو اس کے ارد گرد نہیں تھیں۔ بچوں نے الگ سے شور مچایا ہوا تھا۔ مہندی کے دن بھی پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے۔

اوپر والی منزل کے ایک بند کمرے میں کچھ لڑکے خاموشی سے جانے کن سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ لیکن باہر گانے کی آواز ضرور آ رہی تھی۔ امن نے چپکے سے دروازہ کھولا، تو ہم دونوں کی اندر دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئی۔ کمرے میں راہبر، فہیم، ضبط، قدیر، بدتمیز، دوست، فرذوق ۔۔۔ رات ڈانس کرنے کی پریکٹس میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی اپنے کیمرے میں ان کی پریکٹس کو محفوظ کر لیا۔ ملاحظہ کریں۔

اس کے بعد ہم نے دوسرے کمرے میں جھانک کر دیکھا، تو حجاب موتیے کے پھولوں کا گجرا بنانے میں مصروف تھی اور سامنے درجنوں تو چوڑیاں رکھی ہوئی تھیں، شگفتہ حمزہ کے کپڑے استری کر رہی تھیں، اور باجو شگفتہ سے کہہ رہیں تھیں کہ شگفتہ پلیز جلدی کریں۔ میں نے تو چار، چار جوڑے استری کرنے ہیں۔ سارہ جو دوسری طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی جانے کیا کر رہی تھی۔ جب میں اپنا کیمرہ اس کی طرف لے کر گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سارہ بی بی میری میک اپ کٹ سنبھالے بیٹھی ہے۔ بس پھر میری اور سارہ کی تو وہیں لڑائی شروع ہو گئی۔ جیہ جو بیٹھی اس کمرے میں ہونے والی سرگرمیاں دیکھنے میں مصروف تھی، نے آ کر ہماری لڑائی کو ختم کروایا۔ لڑائی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ سارہ نے میرا میک اپ سنبھالا ہوا تھا بلکہ سارہ کو میک کرنے کا طریقہ ہی نہیں آتا تھا۔اس نے میرا میک اپ کا سامان تو برباد کیا ہی کیا لیکن اس نے مسکارا سے اپنا پورا چہرہ بھی کالا کیا ہوا تھا۔

گھر میں آہستہ آہستہ مہمان اکھٹے ہو رہے تھے۔ مہندی کی رسم شام سات بجے تھی۔ شمشاد بھائی اور بھابی کی آمد پر گھر میں شور سا مچ گیا۔ شمشاد بھائی سفید جوڑے میں تشریف لائے۔ امن نے ان کے آتے ہی ان کو پیلا ڈوپٹہ تھما دیا۔شمشاد بھائی بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ بھابھی بھی چنری کے پیلے اور سبز کپڑوں میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔
ابھی شمشاد بھائی کے آنے کی خوشی ہی ہو رہی تھی کہ اچانک دروازے سے چار لڑکے داخل ہوئے۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ لیکن یہ سب اکیلے کیوں تھے؟ اوپس، یہ چاروں تو اکیلے ہی مہندی میں آ گئے۔ حالانکہ بھابھیاں بھی انوائٹ تھیں۔ لگتا تھا کہ آج کی محفل میں یہ کوئی انوکھا ہی کام کرنے والے ہیں۔ خیر، سب سے سلام دعا کے بعد انھوں نے اپنی تشستیں سنبھال لیں۔ پوری مہندی کی محفل میں یہ چار لڑکے نمایاں تھے۔ سب سفید شلوار قمیض کے ساتھ پیلے ڈوپٹوں میں تھے۔ جبکہ یہ چاروں سوٹ بوٹ میں تشریف آور ہوئے تھے۔ یہ کون تھے۔۔اس کے لیے آپ کو پوری رپورٹ پڑھنا ہو گی۔

کچھ ہی دیر میں نبیل اور آصف خاموشی سے ہال میں داخل ہوئے اور چپکے سے پیچھے کہیں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے زکریا میشل کی انگلی پکڑے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے۔ واہ واہ۔۔۔سفید شلوار قمیض ان پر بہت جچ رہی تھی۔ میشل نے لہنگا پہنا ہوا تھا۔میشل گو کہ کسی سے زیادہ گھلتی ملتی نہیں ہے، لیکن پھر بھی بچوں سے اس کی جلدی ہی دوستی ہو گئی۔ لیکن عنبر کہاں ہیں؟ کیا ان کو آج کے دن بھی جاب سے چھٹی نہیں مل سکی تھی؟ سب سے آخر میں تفسیر بھیا بھابی کے ساتھ آئے۔ امن اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے سرگوشی کرنے لگے کہ تمھیں تو پتہ ہی ہے یہ عورتیں تیاری میں کتنا وقت لگاتی ہیں۔۔۔۔!! بھابی ساڑھی میں آئیں تھیں۔ اور تفسیر بھیا بھی کمال لگ رہے تھے۔ اور خوب چہک رہے تھے۔ جیہ کے لیے تو ڈھیر ساری چوڑیاں اور مہندی بھی لائے تھے۔ جیہ کی طرف سے سارے مہمان آ چکے تھے۔ اب دولہے والوں کا انتظار تھا۔

اس ویڈیو میں آپ میری اور امن کے انتطامات دیکھ سکتے ہیں۔ کہ ماشاءاللہ ہم کتنی سگھڑ ہیں


دولہے والے وقت پر پہنچے۔ ہم سب نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ پھر سب لڑکیاں گانے گاتے ہوئے جیہ کو پھولوں کی چادر تلے لے کر سٹیج تک آئیں۔ جیہ پیلے جوڑے اور گوٹا لگے چنری کے ڈوپٹے، پھولوں کے گجرے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ دولہا کے بہنیں تو جیہ کی بلائیں ہی لیتی رہ گئیں۔ شگفتہ، حجاب، سارہ، امن، باجو، فرزانہ، ماوراء، فرحت سب لڑکیوں نے لہنگے پہنے تھے۔ سب نے پھولوں کے گجرے، چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ رسم کا آغاز ہوا۔ تو خواتین نے جیہ کے ایک ہاتھ پر پان کا پتہ رکھا اور دوسرے ہاتھ پر ابٹن لگانا شروع کی۔ سب لڑکیاں سجی ہوئی مہندی کی پلیٹیں جن پر موم بتیاں بھی جلائی گئی تھیں، ہاتھ میں پکڑے ہوئے لائیں۔ سب نے باری باری جیہ کے ہاتھ میں مہندی اور مٹھائی کھلائی۔ اور سارہ تو اتنی خوش ہو رہی تھی کہ جیہ کےمنہ پر بھی ابٹن لگا رہی تھی۔ ابھی تو سارہ نے تیل بھی سامنے رکھا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے تیل کو وہاں سے ہٹایا کہ اس رسم کو رہنے دو۔ یہ رسم اسی کی مہندی پر کریں گے۔ رسم کے دوران ہی دوسری طرف آنٹیاں ڈھولکی بجانے میں مصروف تھیں۔ اور مزے مزے کے گانے اور ٹپے گا رہی تھیں۔ مسرت نذیر کو تو خاص طور پر ہم نے جیہ کی شادی پر بلایا تھا۔


امن نے بھی اپنے آواز کا جادو کئی گانے گا کر جگایا۔ سارہ نے تو خوب گانے گائے۔ حجاب، فرحت اور شگفتہ ہم سب کے ساتھ گا گا کر ہمارا ساتھ دے رہی تھیں۔ فرزانہ نے جب گانے گئے تو سب کو چپ ہی لگ گئی۔ ان کی سریلی آواز کے سامنے سب کی آوازیں دھیمی پڑ گئیں ڈھولک بجاتے ہوئے بھی باجو نے دس کلو والا مٹھائی کا ٹوکرا پاس ہی رکھا ہوا تھا۔ ایک بار ڈھول بجاتیں تو دوسری طرف مٹھائی منہ میں ڈال لیتیں۔

متھے تے چکمن وال میرے بنڑے دے
لاؤ نی لاؤ اینو شگناں دی مہندی
مہندی کرے ہتھ لال میرے بنرے دے

سوئے وتیریاں والیا میں کہنی آں
کر چھتری دی چھاں میں بینی آں
ماپایاں نے چن لیا ساتھی تینوں تیرا
جندڑی تو پیارا ہن پیار مینوں تیرا

پھر سب نے ڈانس بھی خوب کیا۔


دولہے اور دلہن کے مہمانوں کے درمیان گانوں کا مقابلہ بھی ہوا۔ گانے کا مقابلہ با آسانی ہم یعنی لڑکی والے جیت گئے۔

ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریوں
میرے سنگ سنگ گاؤ گوریوں
شرماؤ نہ لگا کے مہندی
ذرا تالیاں بجاؤ گوریوں
یہ گھڑی ہے ملن کی
اک سجن سے سجن کی
یہ گھڑی ہے ملن کی
اک سجن سے سجن کی

مہندی کی یہ رات مہندی کی یہ رات
آئی مہندی کی یہ رات لائی سپنوں کی بارات
سجنیا ساجن کے ہے ساتھ رہے ہاتھوں میں ایسے ہاتھ
گوری کرت سنگھار گوری کرت سنگھار

ہاتھوں میں مہندی بالوں میں پھول
بول دے میری گڈی تجھے گڈا قبول

یہ مہندی یہ مہندی مہندی سجناں دی
مہندی لگاؤں گی میں سجناں کے نام کی
کچھ نہ خبر مجھے اب صبح و شام کی

یہی سماں دلبر یہی سماں ہے پیار کا
موسم کہہ رہا ہے بار بار کر لے آج دل کو بے قرار
سامنے سے جو ہواؤں کے جھونکے جو لہرا کے آئے
چاہتوں بھرا ایک سندیسہ لائے۔

گانے کے مقابلے کے بعد لڑکیوں نے لڈی ڈالی۔پیچھے حمزہ بھی ڈانس کر رہا ہے۔

اور لڑکوں نے بھنگڑا ڈالا۔ آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔ محفل کے سب لڑکے موجود ہیں۔ جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھے تھے۔ آخر میں وہ بھی جوش میں آ گئے اور خوب بھنگڑا ڈالا۔ نبیل، زکریا، آصف، شمشاد بھائی، فہیم، راہبر، پاکستانی، جاوید بھائی، ڈاکٹر عباس، اعجاز، ابوشامل، راجہ نعیم، اعجاز انکل، وارث، باسم، ثناءاللہ، ضبط۔۔۔۔ سب نے مل کر زبردست بھنگڑا ڈالا۔

ہال میں ایک دم اس وقت خاموشی چھا گئی۔ جب چار سوٹ بوٹ والے اٹھ کر سٹیج کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ اور ڈانس شروع کر دیا۔ ہال میں قیصرانی، محب، ظفری اور رضوان کا نام گونجنے لگا۔ ان کا ڈانس ملاحظہ کیجئے۔

اب رات کافی ہو چکی تھی، باجو کی تو بھوک زروں پر تھی۔ رات کے کھانے میں رسم کے مطابق حلوہ پڑی، چھولے، پراٹھے، کباب ،حلیم ، نان تھے۔ سارہ نے تو قلفی کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ حالانکہ سو بار سمجھایا کہ سردیوں میں قلفی رہنے دو۔ پر نہیں مانی یہ لڑکی۔ کھانے کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔ صبح بارات کے لیے بھی اٹھنا تھا۔ کچھ لڑکیاں تو رات کو ہی بارات کے تیاری کے لیے پریشان تھیں۔ بہرحال میرا تو کیمرہ بھی اور میں بھی بہت تھک چکے تھے۔ میرے سو جانے کے بعد جانے کیا ہوا، آگے کا حال امن نے محفل پر بیان کیا ہے۔ ۔

11 تبصرے