Archive for the 'مواقع' Category

Aug 25 2009

Protected: سالِ مصروفیت

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Enter your password to view comments

Feb 10 2009

Happy Mother’s Day

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, میری باتیں

اتوار کو ہمارے ہاں “ماں کا دن” منایا گیا. میں اتنی مصروف تھی کہ پوسٹ کرنے کا بھی وقت نہیں ملا. اس لیے دو دن بعد ہی سہی. امی کو رات بارہ بجے ہی ہم تینوں نے وش کیا اور تحفے سے بھی نوازا. تحفے کے سارے پیسے بڑی بہن یعنی مجھ معصوم کے سر پر تھوپ دئیے گئے. اتوار کو سارا دن اچھا بننے کی کوشش کی، لیکن……ناکام رہی. :sad:
شمار تو میرا بدتمیز ترین اولاد میں ہوتا ہے لیکن پتہ نہیں امی کو پتہ ہے یا نہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مجھے امی اور ابو پیارے ہیں اور شاید اسی لیے امی کی بات نہیں مانتی. :GRIN:

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

6 تبصرے

Dec 31 2008

نیا ہجری و عیسوی سال مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع

میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو۔ اللہ سے دعا ہے آنے والا سال ہم سب کے لیے اور خاص طور پر ہمارے ملک کے لیے بہترین سال ہو۔ اور ہم سب کے لیے خوشیاں لے کر آئے۔ نئے سال کے آغاز سے عمار اور میں منظر نامہ کو ایک نئے انداز اور نئے ولولے سے آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن ابھی چونکہ آغاز ہے، اس لیے بلاگ یا تھیم میں بہت سی تبدیلیاں کرنا باقی ہیں جو کہ چند ایک دن میں مکمل ہو جائیں گی۔ منظر نامہ کا نیا ربط: http://manzarnamah.com/

17 تبصرے

Dec 08 2008

عید ایسی گزری

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, میری باتیں, ٹیگ

ہماری عید تو گزر بھی گئی اور پتہ بھی نہیں چلا۔ ساجد نے پوچھا ہے کہ” آپ کے ہاں عید کیسے منائی جاتی ہے” اگر اس کے جواب میں میں صرف اتنا کہوں کہ ہمارے ہاں عید منائی ہی نہیں جاتی تو زیادہ بہتر ہو گا۔ :D

لیکن عید آنے پر مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے، کہ چھٹی کا بہانہ مل جائے گا۔ یہاں بہت سے ایسے بھی ہیں جو چھٹی نہیں لیتے، بلکہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ عید کیسے منا رہے ہیں؟ تو کسی کا جواب ہو گا۔۔میں نے تو کام پر جانا ہے۔ کسی کا ۔۔ کچھ خاص نہیں۔۔۔اور کئی ایسے ہیں جو منہ کے خاص زاویے بنا کر اور کندھے اچکا کر یہ ظاہر کرواتے ہیں کہ عید پر کیا کرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ حالانکہ اب ہمیں آسانی سے سکولوں ، کام وغیرہ پر چھٹی مل جاتی ہے۔ لیکن ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو عید پر کچھ کرنے کو تو ہوتا نہیں ہے، چھٹی کر کے سارا دن ضائع ہی جاتا ہے، جیسے میں نے آج ضائع کر دیا۔

خیر۔۔۔ پیر کو عید تھی تو اس طرح میری ہفتے سے منگل تک چار چھٹیاں ہو گئیں یعنی عید ہو گئی۔ ساری رات کمپیوٹر کی پوجا کرنے کے بعد دن بارہ بجے اٹھی۔ موبائل پر تین، چار ایس ایم ایس موجود تھے۔ میری ایک دوست جو یہیں ہوتی ہے، صبح دس بجے ایس ایم ایس کر کے مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ “آج عید ہی ہے نا یا نہیں ہے؟” بارہ بجے اس کو میں نے جواب دیا کہ “ہاں ، آج عید ہی ہے۔ عید مبارک۔” واپس جواب آیا۔ “عید مبارک۔” اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ہاں کیسے عید منائی جاتی ہے۔:D

امی نے ناشتہ بنایا، کھا، پی کر واپس کمپیوٹر کے سامنے۔۔۔!! عید مبارک کے کچھ ایس ایم ایس کیے، ابو سے پاکستان میں بات ہوئی۔پولینڈ میں بھائی سے دو گھنٹے چیٹ کی۔ ایک، دو فون کیے۔ بکرا عید پر میں نے رات کو ہی مچھلی کا قورمہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ عید کے دن ہم نے مچھلی پر گزارہ کیا۔ ساجد کی نصیحت کے مطابق بالکل بھی زیادہ نہیں کھایا۔:D

نہایت ہی بور عید گزری۔ یہاں شاید وہی لوگ اچھی عید منا سکتے ہیں، جن کے رشتے دار بھی یہیں ہوں تو عید کے دن وہ اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ ہر عید پر ہم بھی کھانے پر کسی نہ کسی کو بلا لیتے ہیں یا کوئی ہمیں بلا لیتا ہے۔ لیکن اس عید پر نہ ہم نے کسی کو بلایا، اور نہ ہی کسی کی دعوت قبول کی۔:p

ایسے موقعوں پر پاکستان کی بہت یاد آتی ہے۔ :( پاکستان میں آج عید ہے، تو سب کو عید بہت مبارک ہو۔ امید ہے پاکستان میں سب کی اچھی عید گزرے گی۔

تصویر یہاں سے لی گئی ہے

ٹیگ بھی کرنا ہے تو کراچی سے شب کو کر رہی ہوں۔ اور امریکہ سے جہانزیب تو بتا ہی چکے ہیں، لیکن اگر کوئی اور بھی بتانا چاہے تو ضرور۔

21 تبصرے

Nov 03 2008

میں نے ووٹ ڈال دیا۔:D

شائع کیا: ماوراء زمرہ: سیاست, مواقع, میری باتیں

امریکہ امریکہ امریکہ۔۔۔۔آجکل جس کو دیکھو امریکہ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔لیکن ہماری ٹیچر نے تو ایک مہینے سے کچھ زیادہ ہی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ اپنے ساتھ ساتھ ہمارا سر بھی چکرا کے رکھ دیا۔ امریکہ کے الیکشن کیا، سارا سیاسی نظام اور صدارتی تاریخ پڑھوا کے رکھ دی۔ یو ٹیوب پر اللہ جانے کون کون سی ویڈیوز کھول کھول کر دکھا دیں۔ جب وہ ویڈیوز لگاتی تو میں اردو محفل کھول کر بیٹھ جاتی۔اور آج تو حد ہی کر دی، پورا بیلٹ بکس ہی کلاس میں اٹھا لائی، اور ووٹنگ شروع کر دی۔ اس لیے میں پیشن گوئی کرتی ہوں کہ اوبامہ جیت جائے گا، کیونکہ آج ہماری کلاس میں بھی اوبامہ انکل بائیس، تئیس ووٹوں سے جیتے۔ جبکہ مکین بابا کو صرف ایک ووٹ ملا۔ وہ بھی ٹیچر کا خیال تھا کہ جس نے مکین کو ووٹ دیا ہے، اس کو شاید امریکی الیکشنز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ بہرحال کس کو معلومات ہیں اور کس کو نہیں۔۔میں تو اللہ کا شکر ادا کر رہی ہوں کہ صبح یہ الیکشن ختم ہوں گے۔ اور امریکہ کے علاوہ ہمیں کچھ اور بھی سوجھے گا۔

میں نے اوبامہ کو ووٹ کیوں دیا؟ کیونکہ مجھے مکین پسند نہیں۔

7 تبصرے

Sep 30 2008

عید مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, مواقع

17 تبصرے

Sep 29 2008

آہ۔۔۔یہ عید؟

رمضان کا آغاز سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا تو یقین تھا کہ عید بھی سعودی عرب کے ساتھ ہی منائی جائے گی۔ ایک بلاگ پڑھنے پر پتہ چلا کہ سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے۔ حالانکہ میرا موڈ نہیں تھا کہ کل عید ہو کہ ابھی میری تیاریاں مکمل نہیں ہوئیں۔ لیکن پھر بھی یہ سن کر کے سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے، تو ذہن بنا ہی لیا۔ لیکن ہمارے مولوی تو اپنا ہی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں، انگلینڈ میں عید ہو گئی، سعودی عرب میں ہو گئی، خدا جانے انہوں نے تیس روزے رکھ کر کونسا ثواب کمانا ہے۔ جب رمضان سعودی عرب کے ساتھ شروع کیا تو عید پاکستان کے ساتھ کیوں؟؟

آخری روزہ کھلتا ہی ہے تو فون پہ فون آنا شروع ہو جاتے ہیں، کہ مسجد والے شام کے وقت اپنا فون ہی بند کر دیتے ہیں۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ مدنی مسجد والے عید منا رہے ہیں اور باقی مسجدوں والے روزہ رکھیں گے۔ اور عربی دوستیں بھی ایس ایم ایس کر کے عید کی مبارک دے رہی ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

19 تبصرے

Sep 28 2008

الوداع رمضان

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, میری باتیں

اگر آپ اس پوسٹ کو پڑھنے جا رہے ہیں تو پہلے سے بتا دوں کہ آپ کو نیند آ جائے گی۔ میرا یہ سب باتیں لکھنے کا موڈ ہو رہا تھا، اس لیے لکھ دیا، آپ بے شک نہ پڑھیں۔:)

کہا جاتا ہے کہ رمضان کا مہینہ ختم ہونے پر غم کا اظہار کرنا چاہیے کہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ رخصت ہو رہا ہے۔ لیکن خدا جانے میرے ساتھ اس بار ایسا کیا ہوا ہے کہ میں نے رمضان ختم ہونے کے لیے دن گن گن کر گزارے ہیں۔ (اللہ معاف کرنے والا ہے۔) زندگی کا بدترین رمضان گزرا۔۔ فجر کی نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھی۔۔قرآن مجید ایک دن کھولا۔لیکن اللہ کا شکر روزے سارے رکھے۔ زندگی کا سب سے اچھا رمضان پچھلا رمضان گزرا تھا۔ جب میں نے پورا قرآن مجید ختم کیا اور اعتکاف بھی بیٹھی۔ آگے بڑھنے کے بجائے اس بار میں پیچھے چلی گئی۔

اس بار تو سارا سارا دن نیند نے ہی پیچھا نہیں چھوڑا۔۔۔کلاس میں سارا وقت سو کر گزارا۔۔۔شام کو گھر آ کر سارا وقت سو کر گزارا ، روزہ کھلنے پر امی جگا دیتیں۔ صبح سحری بند آنکھوں کے ساتھ کی البتہ افطاری کے وقت آنکھیں کھل جاتی تھیں۔:D

پچھلے دنوں کچھ مصروفیت بھی رہیں، جس کی وجہ سے مسینجر پر کم آئی، جس کی کچھ لوگ شکایت کر رہے ہیں۔:) بھائی کو لاڈز یونیورسٹی میں ایڈمیشن ملا، اسے جانا تھا۔ اس کی تیاریاں بڑی مشکل سے ختم ہوئیں۔ اور جب اللہ اللہ کر کے چلا گیا تو ہر آدھے گھنٹے بعد تو اس کو فون کرنا پڑ رہا تھا۔ جہاز میں بیٹھ گئے ہو؟ جہاز سے اتر گئے ہو؟ ٹیکسی میں بیٹھ گئے ہو؟ ہاسٹل پہنچ گئے ہو؟ سحری کا وقت ہو گیا ہے اٹھ جاؤ، افطار ہو گئی ہے، اب روزہ کھول لو۔مارکیٹ گیا ہے تو فون کر کے بتاؤ کہ کیا کیا گھر کے لیے لے کر آنا ہے۔ کمرہ سیٹ کر ہو رہا ہے تو ساتھ ساتھ فون پر ہدایتیں دی جا رہی ہیں۔ غرض یہ کہ ایک ہفتہ تو میرا خوب خرچا ہوا ہے۔ اب میں اپنے موبائل کے بل کا انتظار کر رہی ہوں۔:)

ایک یا دو دن بعد عید ہے۔ اللہ کا شکر کہ عین وقت پر ہمیں موسمِ خزاں کی ہفتے کی چھٹیاں ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے عید اچھی گزر جائے گی۔ اور مجھے سال میں ایک بار کچن میں جانے کا موقع بھی مل جائے گا۔ تو میں نے عید کا مینو کچھ اس طرح بنایا ہے کہ پچھلی عید کی طرح اس بار بھی میٹھی ڈش میں لبِ شیریں بناؤں گی کیونکہ پچھلی بار سب کو بہت پسند آئی تھی۔ عربی پلاؤ اور اس کے ساتھ شیش کباب۔ اور امی اچار گوشت کے ساتھ نان بنائیں گی۔ ہماری فیملی پہلے ہی چھوٹی سی ہے، اور اب اور بھی چھوٹی چھوٹی لگ رہی ہے، گھر میں خاموشی سی۔۔:(اس عید پر کچھ خاص مزہ بھی نہیں آئے گا۔  :(

fall

7 تبصرے

Sep 16 2008

Protected: Endelig

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Enter your password to view comments

Aug 30 2008

رمضان مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مذہب, مواقع

رمضان اتنی جلدی آ بھی گیا؟ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ پچھلا رمضان ابھی ہی ختم ہوا تھا۔ اس بار تو ہمارے ہاں شروع کے روزے تقریبا سولہ گھنٹوں کے ہیں، اور اس پر ایک یہ غضب یہ ہوا کہ پہلے روزے سے ہی میری شام کی کلاس شروع ہو رہی ہے۔ ساڑھے آٹھ روزہ کھلے گا تو سوا نو میری کلاس ختم ہو گی۔ :dsadas:

کچھ دن پہلے بس میں میری کلاس کی ایک لڑکی مل گئی، باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے جاب کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ رمضان میں تو نہیں کروں گی، اس کے بعد ہی دیکھوں گی۔ کچھ حیرانی سے پوچھتی ہے، کہ روزے رکھتی ہو؟ میں نے “ہاں” میں جواب دے کر اس سے پوچھا کہ کیا تم نہیں رکھتی؟ مسکرا کر جواب دیا کہ “نہیں، جب میں ترکی میں تھی تو رکھتی تھی، جب سے ناروے آئی ہوں، نہیں رکھتی”۔ پھر شاید کچھ خود ہی احساس ہوا، کچھ دیر بعد بولی۔۔۔ “میں بیمار بھی رہتی ہوں، دوائی کھانی ہوتی ہے۔” میں نے بھی اس کی شرمندگی دور کرنے کے لیے کہا کہ “ہاں ہاں اگر تم بیمار ہو تو کوئی ضرورت نہیں رکھنے کی۔”
اس کے بعد میں نے سوچا، سب سے پوچھتی ہوں، ایران کی لڑکی سے پوچھا، اس نے بھی بالکل یہی جواب دیا، کہ “ایران میں تھی تو رکھتی تھی، اب نہیں رکھتی۔” ایک اور سے پوچھا تو جواب ملا۔۔۔”نہیں، میں بھوکی نہیں رہ سکتی، میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے، اس لیے نہیں رکھتی”۔ میں نے سوچا، ان سب کی تو موجیں ہیں۔ سب کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ ہے۔ ایک عراق کی لڑکی جو ماشاءاللہ حجاب میں تھی، اس نے کہا کہ “رکھوں گی”، لیکن نہایت ہی بےدلی سے کہا۔ پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

12 تبصرے

اگلی »