Archive for the 'بے نظیر' Category

Dec 26 2008

بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی

benazir1

آج سے ایک سال پہلے 2007 جاتے جاتے ہماری بہادر لیڈر کو اپنے ساتھ لے گیا۔ اتنے سالوں بعد جب بے نظیر بھٹو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے وطن واپس لوٹیں تو ملک تحفے میں ان کے لیے موت لیے بیٹھا تھا۔ چاروں صوبوں کی زنجیر، بھٹو کی تصویر، سہانے خوابوں کی تعبیر اور اس ملک کی تقدیر۔۔۔ بے نظیر کو 27 دسمبر 2007 چوون سال کی عمر میں شہید کردیا گیا۔ ان کا جانا ہمارے ملک کے لیے ہر لحاظ سے برا ثابت ہوا۔ زرداری جیسے نااہل لوگوں کے پاس حکومت آ گئی، ملک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے سروں پر آج جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ آج اگر بے نظیر زندہ ہوتیں تو یقیناً حالات مختلف ہوتے۔ آج بے شک بے نظیر ہم میں موجود نہیں، لیکن وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلیں بھی ان کو یاد کریں گے۔خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔

پاکستان کی حکومت نے بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر دس روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر بے نظیر بھٹو کی تصویر اور اس پر دختر مشرق، بے نظیر بھٹو شہید لکھا ہوگا۔ اور یہ سکہ اٹھائیس دسمبر سے جاری کیا جائے گا۔

سورس: بی بی سی اردو

23 تبصرے

Feb 19 2008

الیکشن 2008

شائع کیا: ماوراء زمرہ: بے نظیر, سیاست

 

ا٨ فروری پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن۔ الیکشن ٢٠٠٨ میں دہشت گردی اوردھاندلی کے واضح امکانات تھے۔ اس تذبذب اور خوف کی فضا میں الیکشن نہ صرف خیریت سے ہو گئے بلکہ بِنا کسی دھاندلی کے بھی انجام پا گئے۔ انکل مشرف کا اس پر شکریہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ ڈے ١٨ فروری کو کچھ پولنگ اسٹیشنز پر چند واقعات ہوئے۔ پی پی پی کے ستائیس افراد شہید ہوئے ہیں۔

پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخاب کہانی
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ
چوتھا اور آخری حصہ۔

کل بلاگز اور ارد گرد شیر شیر ہو رہی تھی۔ میں کل سارا دن ٹینشن میں رہی کہ یہ تو شیر جیت جائے گا۔ جیو، ائے آر وائے اور مختلف سائٹس جہاں رزلٹس آ رہے تھے۔ سب کھول کر سامنے رکھے ہوئے تھے۔ کل رات بارہ بجے تک ن لیگ ہی جیتتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ میں نے تو رات پی پی پی کے جیتنے کے لیے نفل مانگ لیے۔ اور اللہ سے دعا کر کے سو گئی۔ صبح جاب پر جانے سے پہلے رزلٹ دیکھا تو اللہ نے میری دعا سن لی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ملکی اور صوبائی سطح پر واضح اکثریت حاصل کر لی تھی۔

بے نظیر کی شہادت کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی تھی۔ وہ شہید ہی پی پی پی کو جتانے کے لیے ہوئی تھی۔ اوپر اللہ سے صلاح مشورہ کر رہی ہو گی۔ کہ اب پارٹی کو کیسے چلانا ہے۔:p اور یقیناً اس وقت بے نظیر کی روح بہت خوش ہو رہی ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی اصل اور منجھی ہوئی سیاستدان صرف اور صرف بے نظیر تھیں۔ اور پیپلز پارٹی ہی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس کا اندازہ نتائج سے واضح ہے۔ پیپلز پارٹی کے چاہنے والے صرف پنجاب میں نہیں۔۔بلکہ ہر صوبے میں موجود ہیں۔ “بے نظیر۔۔۔چاروں صوبوں کی زنجیر“۔
اس کے بدلے مسلم لیگ (ن) کو صرف پنجاب میں ہی اکثریت حاصل ہوئی۔ جبکہ نواز شریف ایک نہایت ہی بھولے اور سادے سے سیاست دان ہیں۔ ٹھیک سے بات بھی کرنے نہیں آتی۔ بہرحال بہت اچھا ہوا کہ نیشنل اسمبلی میں ن لیگ پیچھے ہی رہی۔
چوہدریوں کی اور شیخ رشید کی ہار کا بہت افسوس ہوا۔:D لیکن شکر ہے زیادہ اکڑ نہیں دکھائی۔ شجاعت نے کھلے دل سے نتائج کو قبول کیا ہے۔

ہمارے حلقے میں بھی ق اور ن لیگ کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ پی پی پی کے امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارتِ عظمٰی کا عہدہ کون سنبھالتا ہے۔ امین فہیم، اعتزاز ، زرداری یا کوئی اور۔۔ پی پی پی اور ن لیگ کیا ایک ساتھ چل سکیں گی؟ کیا انکل مشرف عزت سے استعفٰی دے دیں گے؟(انکل مشرف کو تو دونوں پارٹیوں کی طرف سے استعفٰی دینے کا مطالبہ آ گیا ہے۔)اگر مشرف استعفٰی نہیں دیتا تو کیا وہ ان پارٹیوں کے ساتھ چل سکے گا؟ اب یہ سب باتیں آئندہ آنے والوں دنوں میں دیکھنی ہیں۔  وفاقی حکومت نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد کی نظر بندی ختم کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے حامیوں کو میری طرف سے بہت مبارک باد۔ کم از کم ان نتائج سے میں تو بہت خوش ہوں۔ پاکستان آج ایک نیا ٹرن لینے جا رہا ہے۔ میری سچے دل سے دعا ہے کہ عوام کا یہ فیصلہ ان کے لیے بہترین ثابت ہو۔ اور ہمارے رہنماؤں کو صحیح فیصلے کی ہمت اور توفیق دے۔ آمین۔
آج بے نظیر ہوتیں تو یقیناً آج ہم ان کو مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ رہے ہوتے۔ لیکن وہ ہم میں نہ ہونے کے باوجود ہم میں موجود رہیں گی۔ اور آنے والی نسلیں ان کو یاد کرتی رہیں گی۔

17 تبصرے

Dec 30 2007

دو نظمیں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: بے نظیر, شاعری

محمود شام کی یہ ایک نظم جو کہ بے نظیر کے لیے لکھی گئی ہے۔

ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی
ایسے بیٹی کو تو میکے سے نہیں بھیجتے ہیں
ایسے تاریخ تو قومیں نہیں لکھتیں اپنی
ایسے تہذیب کا چہرہ نہیں جھلسا جاتا
اس طرح قیمتی میراث لٹاتے ہیں کہاں
یوں تدّبر کو کہاں زہر دیا جاتا ہے
ایسے جرات پہ کہاں وار کیے جاتے ہیں
ایسے اقدار پہ تلوار کہاں اُٹھتی ہے
ایسے افکار پہ نیزے نہیں پھینکے جاتے
ایسے تقدیر پہ شمشیر کہاں چلتی ہے
یوں عقیدوں سے ہلاکت نہیں بانٹی جاتی
ایسے امید کو کب قتل کیا جاتا ہے
اپنے آئندہ سے یوں خوف کہاں ہوتا ہے
چھوڑیں بچّوں کے لیئے آگ لہو کا ورثہ
ایسے ماں باپ تو دنیا میں نہیں ہوتے ہیں
ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقتلِ شہر میں اک شور سنائی دے گا
سر پھرا کوئی سرِداردکھائی دے گا

ایک دن عدل کی زنجیر ہلے گی یارو
وقت کا لمحہ ہمیں ازنِ رہائی دے گا

چہرہِ زیست سے سرکے گی جو شب کی چادر
ہم کو خورشیدٍ جہاں تاب دکھائی دے گا

شور تا حشر بپا ہوگا ستم گر کے خلاف
ہم نہ ہوں گے تو کوئی اور دُہائی دے گا

ذہن میں ابھریں گے گم گشتہ محبت کے نقوش
جب وہ ہاتوں میں مرے دستِ حنائی دے گا

منصب و جاہ کی سن سے ہے تجھے بخش اُمید
وہ تیرے ہاتھ میں کشکولِ گدائی دے گا

2 تبصرے

Dec 28 2007

بے نظیر: تصویری جھلکیاں

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا۔

6 تبصرے

Dec 27 2007

بے نظیر(1953 – 2007) ایک مختصر سیاسی جائزہ

 

ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو 21 جون 1953میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔  بے نظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم  Lady Jennings Nursery School  اور Convent of Jesus and Mary  کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال Rawalpindi Presentation Convent میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے Jesus and Mary  میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969 میں انھوں نے Harvard University  کے  Radcliffe College میں داخلہ کیا۔  بے نظیر بھٹو نے Harvard University سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ اس دوران بے نظیر آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر بھی رہیں۔

بے نظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کے کے بعد جون ١٩٧٧ میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کی خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ انھوں نے اٹھارہ ماہ تک قید اور نظر بندی کی مشکلات کے ساتھ ساتھ آمرانہ اقدام کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ اپریل ١٩٧٩ میں جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازعہ کیس میں پھانسی پر چڑھا دیا۔

 ١٩٨١ میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف ١٤ اگست ١٩٨٣ سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر ١٩٨٣ میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ ١٩٨٤ میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل ١٩٨٦ میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو  ١٩٨٧ میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ ١٧ اگست ١٩٨٨ میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ ١٦ نومبر ١٩٨٨ میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر ١٩٨٨ میں ٣٥ سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست ١٩٩٠ میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔ ٢ اکتوبر ١٩٩٠ کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے  جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔  ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ ١٩٩٣ میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔  جس کے بعد اکتوبر ١٩٩٣ میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد لغاری نے ١٩٩٦ میں بدامنی اور کرپشن کے الزمات لگا کر بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔  

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصے  بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب ١٤ مئی ٢٠٠٦ میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب ٢٧ جولائی ٢٠٠٧ کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے ١٨ اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں ١٥٠ کو موت کی نیند سلا دیا گیا، جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ قیامت صغریٰ کے اس منظر کے دوران بے نظیر کو باحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔  

پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے ٣ نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔  

اس وقت ملک میں نگران حکومت بن چکی ہے اور مختلف پارٹیز انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اور آج ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧ کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ اور اس طرح آج ایک اور لیڈر پاکستان کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔

یہ سب لکھنے کے لیے میں نے اے آر واے، وکی پیڈیا، بی بی سی اردو سے مدد لی ہے۔ کہیں غلطی نظر آئے تو نشاندہی کریں۔ اور لکھ لینے کے بعد یہ مضمون نظر آیا۔ لیکن اب میں لکھ چکی تھی۔ :(

3 تبصرے

Dec 27 2007

بے نظیر قتل ہو گئی۔۔؟

  ٢١ جون ١٩٥٣ – ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧

تصویر یہاں سے لی گئی ہے۔  

مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا۔ میں تو خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی کہ ابو کا سعودی عرب سے فون آیا کہ انھیں کنفرم کر کے بتائیں کہ کیا واقعی بے نظیر قتل ہو گئی ہے؟ بے نظیر قتل کیسے ہو سکتی ہے؟ صبح تک کی خبریں تو میں سن کر سوئی تھی۔ لیکن اے آر وائے لگایا تو ہماری قوم گانے بجانے میں مصروف تھی، بی بی سی سنا تو مجھے ابھی بھی لگ رہا ہے کہ یہ جھوٹی خبر ہے۔ صرف ایک ہی تو ہماری لیڈر تھی، ان ظالموں نے اس کو بھی نہ چھوڑا۔ چلو، جو اس کے خلاف تھے ان کو تو سکون ملا۔ ملک کا سرمایہ، ملک کے ایک اور لیڈر کو نگل لیا ان لوگوں نے۔ کاش کہ یہ گولی انکل مشرف کی گردن میں جا کر لگتی۔ ان گجراتی چوہدریوں کو بھی آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ ٹھنڈے ہو گئے ہوں گے۔ بے نظیر  نے اپنے دشمنوں کے نام لکھ کر دئیے تو تھے، امید ہے کہ اس سے اس کے قاتلوں تک پہنچنے میں آسانی ہو گی۔  اگر نہ بھی پکڑے گئے تو مجھے یقین ہے کہ خدا ان کا اس سے بھی برا حال ہو گا۔ یہ سال پاکستان کے لیے بدترین سال تھا۔ اختتام انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہوا ہے۔ میری طرف سے اب پورے پاکستان کو بم سے اڑا دیا جائے۔  

بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ بے نظیر کی ہلاکت کی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں کر سکتے جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں۔ اس کے معصوم تین بچے ماں کے بغیر کیسے رہیں گے؟ میں تو یہ سوچ کر ہلکان ہو رہی ہوں۔ اور میری نظر میں اس قوم کی بیٹی کو شہادت کا رتبہ حاصل ہوا ہے۔

  جو سب بے نظیر کے خلاف تھے نا۔۔اب لڈیاں ڈالیں۔ یا چاہیں تو اب کالی پٹیاں اور چوڑیاں پہن کر افسوس کا اظہار کریں اور سوگ منائیں۔ اب تو ہماری سوئی ہوئی قوم کو جاگ جانا چاہیے۔ 

9 تبصرے