28
امام ابوحنیفہ اور خلیفہ منصور
اشاعت : ماوراءعباسی خلیفہ منصور سے اس کی بیوی کی شکایت یہ تھی کہ خلیفہ شوہر کی حیثیت سے عدل و انصاف نہیں کر رہا۔ منصور کو یہ بات تسلیم نہ تھی۔ آخر منصور نے ثالث کی تجویز رکھی۔ بیوی نے امام ابو حنیفہ کا نام تجویز کیا۔
امام ابو حنیفہ کو بلایا گیا۔ خاتون پردے کے پیچھے بیٹھی اور گفتگو کا آغاز ہوا۔ خلیفہ منصور نے گفتگو کو اس سوال سے اٹھایا کہ “ازروئے شریعت ایک مرد کو کتنے نکاح کرنے کی اجازت ہے؟“
“چار“ ابو حنیفہ نے مختصر اور سادہ سا جواب دیا۔
منصور نے فاتحانہ انداز میں پردے کی طرف رخ کر کے خاتون سے کہا “سنتی ہو؟“
“جی ہاں سنا۔۔۔“ خاتون نے جواب دیا اور اس کی آواز میں نسوانی موقف کے سلسلے میں دبی دبی پکار تھی۔ امام ابو حنیفہ سے آواز سنی تو معاملے کو بھانپ لیا۔ فوراً خلیفہ کی طرف رخ کر کے کہا “لیکن یہ اجازت اس شخص کے لیے خاص ہے جو عدل و انصاف پر قادر ہو۔ ورنہ ایک سے زیادہ نکاح کرنا ٹھیک نہیں ہے۔“
خلیفہ کے موقف کے خلاف یہ اعلائے کلمتہ الحق پوری جرات اور قوت کے ساتھ کیا گیا تھا۔ خلیفہ نے احساس شکست کے ساتھ سر جھکا لیا۔ پس پردہ خاتون اپنا مقدمہ جیت چکی تھی۔ ابو حنیفہ مکان پر واپس چلے گئے۔
جیسے ہی امام صاحب گھر پہنچے۔ ایک شاہی غلام خاتون کی طرف سے پچاس ہزار کی مالیت کا تحفہ لیے ہوئے پہنچا۔ اور کہا کہ یہ خلیفہ کی بیوی نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ آپ کی کنیز سلام عرض کرتی ہے اور آپ کی حق گوئی کی دل سے شکر گزار ہے۔
امام ابو حنیفہ نے اس بیش قیمت عطیہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہلا دیا : میں نے محض اپنا فرض ادا کیا ہے۔ جس کے پیچھے میری کوئی ذاتی خواہش اور غرض نہیں ہے۔
ذرائع: نویدِ سحر مجلہ











