Aug 17 2009
ہفتہء بلاگستان: بچپن
لکھنا مجھے آتا تو نہیں…اسی لیے بلاگ بھی لکھنا چھوڑ دیا، لیکن لوگوں کے اصرار پر ہفتہ بلاگستان کے دوران لکھنے کا ارادہ کر ہی لیا. چاہے ایک ہی پوسٹ ہو. بچپن کے بارے میں کیا لکھوں..واقعے تو کئی ہیں لیکن ان کو ویسا ہی لکھنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے امی سے کچھ اپنے بچپن کے بارے میں پوچھ کر لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔
تو جناب بقول امی کے کہ گیارہ ماہ کی عمر میں “اماں” کے بعد پہلا لفظ “پھول” بولا تھا. جس کو سن کر امی کو بہت خوشی ہوئی تھی اور وہ خوشی آج بھی امی سے سنتے ان کے چہرے پر نظر آتی ہے. چھوٹے ہوتے میں ذہین تھی، اسی لیے چار سال کی عمر میں سکول میں داخل ہوئی. سکول کے پہلے دن بالکل بھی نہیں روئی، جیسے امی نے سمجھایا تھا، بالکل اسی کے مطابق پہلا دن گزارا. ذہین تھی تو ظاہری بات ہے لائق بھی تھی، اسی لیے کلاس ففتھ تک ہمیشہ فرسٹ پوزیشن لیتی رہی. بس اس کے بعد سے ذہانت و لیاقت کہیں کھو گئی…!آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید ختم کیا.
مجھے بالکل بھی یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی گڑیوں سے کھیلا ہو…یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کبھی کارٹون دیکھے ہوں. ہاں البتہ مجھے کہانیاں پڑھنے اور سننے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا. نانی اماں سے بہت کہانیاں سنیں. ابو سے بھی کئی کہانیاں سنی جو ان کے بچپن و جوانی سے متعلق ہوتی تھیں..لیکن بڑے ہو کر معلوم ہوا کہ کوئی کہانی سچی نہیں تھی. ابو کے مختلف ہیر سٹائل بنانے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا. ہر ایک نیا سٹائل بنا کر ابو کو شیشہ دکھایا کرتی تھی کہ یہ ہیر سٹائل پاکستان کا ہے..جب دیکھ لیتے تو دوسرا سٹائل بنا کر کہتی کہ یہ فلاں ملک کا ہے اور پھر یہ سلسلہ بڑی مشکل سے ہی ختم ہوتا تھا.
چھوٹے ہوتے مجھے بہت تجسس ہوتا تھا کہ انڈے کے اندر سے چوزا کیسے نکلتا ہے. ایک دن امی گھر میں نہیں تھیں..بہن کو ساتھ ملایا اور کہا کہ انڈے کے اندر چوزا ہے..آؤ اسے توڑ کے دیکھتے ہیں.اب سوال اٹھا کہ انڈے کو توڑا کیسے جائے؟ اینٹ سے توڑیں گے تو اندر چوزا تو مر جائے گا…لیکن پھر کہا کہ نہیں..اینٹ آہستہ سے ماریں گے. اینٹ انڈے کے اوپر دے ماری..انڈا ٹوٹ گیا لیکن اندر سے کوئی چوزا نہ نکلا..
اسے ٹوٹے ہوئے انڈے کے اوپر اینٹ رکھی اور وہاں سے بھاگ نکلے.
پھر امی سے ایک دن پوچھا کہ انڈے میں سے چوزا کیسے نکلتا ہے، امی نے بتایا کہ مرغی اپنے پروں کے نیچے انڈے رکھتی ہے، تاکہ انڈے گرم رہیں اور اکیس دن کے بعد چوزا نکل آتا ہے. میں نے کہا کہ انڈے کو گرم ہی رکھنا ہے تو اسے تو کسی اور طریقے سے بھی رکھا جا سکتا ہے. اسے میں نے امی کے ڈوپٹے میں لپیٹ کر الماری میں رکھ دیا. ہر روز ڈوپٹے میں سے انڈا نکال کر اسے ہلا کر دیکھتی کہ اندر چوزا بن رہا ہے یا نہیں…! امی ہمیشہ یہی کہتیں کہ اسے باہر نکالو گی تو ٹھنڈا ہو جائے گا..اسے اکیس دن تک اندر ہی رہنے دو…اب اکیس دن تک اتنا لمبا انتظار کون کرتا…رات امی جب کھانا بناتیں تو انڈا نکل کر چولھے کے سامنے آ جاتا. تاکہ کچھ تو گرم ہو. حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ امی نے کبھی منع نہیں کیا تھا کہ ایسا کرنے سے کوئی چوزا نہیں نکلے گا. خیر، اکیس دن ہونے میں ابھی کچھ دن باقی تھے..امی سے پوچھا کہ امی اب انڈا توڑ کر دیکھ لوں..؟ اب تک چوزا بن گیا ہو گا نا؟ زیادہ انتظار نہیں ہو رہا تھا. بہن کو بلایا کہ میں انڈا توڑنے لگی ہوں…تم نے چوزا دیکھنا ہے تو آ کر دیکھ لو…!بسم اللہ کر کے انڈا توڑا تو وہ تو اندر سے ابلا ہوئے انڈے کی صورت میں تھا..اور چولھے کے سامنے رکھ رکھ کر اندر سے جل کر کالا ہوا گیا تھا…اتنی مایوسی کبھی نہیں ہوئی تھی..جتنی اس دن ہوئی…


حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 17 Aug 2009 at 11:43 am
چلیں آپ مایوس نا ہوں .. آپ ابھی تو مان گئے کہ آپ کو لکھنا آتا ہے
اور آج اور زیادہ بڑے ہوگئے ہیں سو اداس نا ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Aug 2009 at 11:57 am
ہیئر اسٹائل بنا کے دکھانے والی بات پر ہنسی آئی ابّو ہی ہوتے ہیں واقعی اس طرح کے کام کے لیئے کہ ابّو دیکھیں یہ کیسا لگ رہا ہے یا اب یہ دیکھیں کیسا
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Aug 2009 at 12:30 pm
چوزے بننے کا تجسس اور اس جیسے کئی اور تجسس ہی تھے کہ آج میں ویٹرنری ڈاکٹر ہوں
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔ مرغیوں نے ہڑتال کر دینی ہے اگر یہ تحریر پڑھ لی تو
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Aug 2009 at 1:18 pm
تھیوری تو درست ہی تھی.. اور آپ کی امی کا منع نہ کرنا نہایت ہی مناسب بات معلوم ہوتی ہے کہ مشاہدات اور تجربات کا نعم البدل کوئی دوسری چیز نہیں.
اس تبصرے کا جواب دیں
ساجداقبال Reply:
August 17th, 2009 at 7:20 pm
ہین۔۔یعنی گلے محلے میں نہیں کھیلا آپ نے؟ آپ کے بھائی اسوقت نہیں پیدا ہوئے تھے کیا؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Aug 2009 at 8:20 pm
چلیں چوزے بننے کی تفصیل تو پتا لگی
ورنہ مجھے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ کتنے دن لگتے ہیں چوزی بننے میں
میں بھی آج ہی کپڑے میں لپیٹ کر ایک انڈہ رکھ دیتا ہوں
اور میں بڑا صبریلا بچہ ہوں 21 دن تک انتظار کر سکتا ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Aug 2009 at 9:55 pm
اس پر آپ کہتی ہیں کہ آپ کو لکھنا نہیں آتا۔۔۔
جب پہلی دفعہ میں نے درسی کتاب میں یہ پڑھا تھا کہ پاکستان قائد اّعظم نے بنایا تو میں بہت حیران ہوا تھا کہ اتنا بڑا ملک، عمارتیں، سڑکیں یہ ایک ہی شخص کیسے بنا سکتا ہے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Aug 2009 at 11:29 pm
کافی سائنسدانہ دماغ رکھتی تھیں آپ
شکریہ اچھی تحریر لکھنے کے لیے، لیکن سب کو دعوت دینے کے بعد، اپنی تحریر سب سے آخر میں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Aug 2009 at 12:59 am
ہا ہا۔۔ بہت خوب۔۔
سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔جیتی رہیں اور خوش رہیں۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Aug 2009 at 1:58 am
اسے ہی بچپن کہتے ہیں اگر آپ انڈے سے چوزہ نکال لیتیں تو پھر بچپن کیسا ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Aug 2009 at 5:48 am
ماورا جی اتنے سستے میں انڈے سے چوزہ تھوڑی نکلتا
ہمارے بھائی جان کو بھی یہی جنون تھا سو بچپن میں ایک عدد ٹین کا بڑا سا ڈبہ اس میں کہیں سے بھوسہ ارینج کر کے پھر ایک بڑا سارا بلب ،ایک عدد ہولڈر کچھ کھیس کمبل وغیر ہ اور ایک عدد کمرہ جہاں کوئی چوزے میاں کو ڈسٹرب نہ کرے کم از کم جب تک وہ باہر نہیں آجاتے …سو بائیس دن بھی پورے کئے مجھے یاد ہے ہم روز اس انڈے کا دیدار کیا کرتے تھے اور اپنے بھائی جان کے اس تجربے سے بہت متاثر اور مرعوب تھے کہ یہ کتنے بڑے سائنسدان ہیں نا …..بس پھر بائیس دن پورے ہوئے تو ہمارے یہ وہم بھی دور ہی ہوگیا کیونکہ انڈہ جوں کا توں تھا سو ہمیں بھی ویسی ہی کافی مایوسی ہوئی جیسی آپ کو ہوئی ….اور یہ بھی کہ بھائی جان نے اتنے سارے پیسے یوں ہی فضول خرچ کردئیے ہم کچھ کھا پی ہی لیتے
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Aug 2009 at 10:03 am
انڈے والا تجربہ کافی اچھا رہا آپ کا۔ اتنے دن ایک ہی دُھن کا سمائے رہنا آپ کی مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Aug 2009 at 12:11 pm
انڈے ، ابلے انڈے ، آملیٹ، انڈے سب کو بھائیں۔ مگر جو وہ پیپر میں آئیں ؟
ہمارے گھر میں انڈوں سے چوزے نکالنے کے کامیاب تجربے ہوا کرتے تھے ۔ ہماری دادو نے مرغیاں پالی ہوئی تھیں۔ بس کڑک مرغی سے بچ کر رہنا پڑتا تھا۔ اس کمرے میں کوئی نا جاتا تھا جہاں مرغی صاحبہ آرام فرما ہوتی تھیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Aug 2009 at 1:19 pm
اتنی محنت کی آپ نے
مرغی سے ہی پوچھ لیتی آپ
اس تبصرے کا جواب دیں
on 21 Aug 2009 at 2:41 pm
اس تبصرے کا جواب دیں
on 21 Aug 2009 at 9:15 pm
ریحان، کہاں لکھنا آتا ہے؟ اتنے اچھے بلاگرز کے سامنے تو کچھ بھی نہیں.









——
بالکل حجاب. اور ابو بڑے مزے سے بیٹھے سٹائل بنواتے رہتے تھے.
——
عمر، کیا واقعی؟
مرغیوں نے پوسٹ پڑھی ہوتی تو ہڑتال کرنے کے بجائے مجھے بتانے آ جاتیں.
—–
راشد، شاید یہی وجہ تھی.
—–
ساجد، میں گلی محلے میں کھیلنے والی بچی نہیں تھی. ہم تو گھر کے اندر ہی کھیلا کرتے تھے.
بھائی تھا لیکن شاید بہت چھوٹا تھا.
—–
ڈفر، تجربہ کریں. کامیاب ہوئے تو بتانا.
—–
جعفر، ہاہاہاہا…بہت خوب.
—–
یاسر، دیر سے لکھنے کے لیے معذرت خواہ ہوں. پہلے تو ارادہ نہیں تھا لکھنے کا. پھر جب ایک دو لوگوں نے کہا تو سوچا لکھ ہی لوں.
—–
کاشفی، بہت شکریہ. آج آپ کی سالگرہ ہے. آپ کو بھی مبارک ہو.
—–
کامی، بالکل. :D
—–
سارہ، واہ زبردست. یعنی باقی بچے بھی ایسا سوچا کرتے تھے، صرف میں ہی نہیں تھی. لیکن محسن کا طریقہ زیادہ اچھا تھا. بلب اور کمبل…!
لیکن ناکامی ہر طرح سے ہی ہوئی..
—–
خرم بھائی، یہ دھن جانے کیسے پیدا ہو گئی تھی ورنہ میں بالکل بھی مستقل مزاج نہیں.
—–
فائزہ، سکول والے انڈوں کو تو نہ ہی یاد کروائیں.
اور ہاں بالکل..میں نے بھی سنا ہے کہ مرغی انڈے سی رہی رہی ہو تو اس کے نزدیک نہیں جانا چاہیے کہ وہ بڑے غصے میں ہوتی ہے.
—–
نوائے ادب، مرغی ملتی تو پوچھتی نا..!
—–
تانیہ، ہاہاہاہا..میرا خیال ہے کہ ایک تجربہ ہی کافی تھا. اب آپ تجربہ کر کے دیکھیں.. پھر مجھے بتائیے گا.
اس تبصرے کا جواب دیں
on 24 Aug 2009 at 1:24 am
ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کبھی کارٹون ہی نہیں دیکھے
۔۔۔۔۔ شاید یہی خوبیاں جو ایک عظیم ٓادمی کو عام آدمی سے ممتاز کرتی ہیں کہ ان سے بچپن میں ہی ایسی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ ہممممممم
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Sep 2009 at 10:08 pm
بچپن کی کہانیاں کتنی دل چسپ ہوتی ہیں. جب یاد کرو، مسکراہٹ آجاتی ہے. یہ مختلف ہیئر اسٹائلز بنانے کا شوق ایک عرصے تک حلیمہ کو بھی رہا تھا. بہت دیر تک ابو کے بالوں کو مختلف طرح سے بناتی رہتی اور باپ بھی کتنا شفیق ہوتا ہے، بچے کو منع نہیں کرتا.
انڈے والا قصہ تو بہت ہی مزیدار ہے… بچپن سے جینئس تھیں تم تو…
اس تبصرے کا جواب دیں
on 29 Oct 2009 at 9:31 am
بہت اچھا لگا یہ پڑھ کر ،،، مجھے سب سے اچھی بات آپ کے امی ابو کا رویہ لگا ،،، آپکی امی کا آپکو چوزے کے تجربے سے نہ روکنا ،،، اور آپکا اپنے ابو کے ہیر سٹایل بنانا ،،، ویسے غفران بھای اور میں تو ابھی تک ناروٹو ،، دیکھتے ہیں
۔۔۔۔ ویسے مجھے اپنے بچپن کی بہت کم باتءیں یاد ہیں ،،
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 Nov 2009 at 12:36 pm
[...] بچپن از [...]
on 02 Nov 2009 at 7:55 am
غفران، یہ آپ نے کیا کہا..؟
عمار، اور کوئی کام جینیس والا نہیں کیا.. بس یہ انڈے والا بھی جنون جانے کیسے دماغ میں سما گیا.
انکل ٹام، شکریہ. لیکن مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ میں نے کارٹون کیوں نہیں دیکھے تھے، اس لیے اب اکثر دیکھ لیتی ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں