Feb 27 2009

اجتماعی دعا

شائع کیا: ماوراء at 2:59 pm زمرہ: دوست

670 بار دیکھا گیا

جنوری کے آغاز میں ہمارے ایک بلاگر بچے “عمار” نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان کو یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے. اور یہ بھی فرمایا تھا کہ

جامعہ کراچی میں مجھے شعبہ تعلیم میں داخلہ ملا ہے۔ آج پہلے دن گیا تھا، بس گھوم پھر کر واپس آگیا۔ آثار نظر آرہے ہیں کہ اب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتا جاؤں گا۔ صبح کو جامعہ، دوپہر میں جامعہ سے سیدھا دفتر کو۔۔۔ رات گئے دفتر سے گھر واپسی تو بس۔۔۔ پھر نہ وقت نہ ہمت۔ اللہ جانے کیا ہوگا۔مزید…

اب صورتحال کچھ ایسی ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ باقی تو ہر جگہ سے غائب ہوتا جا رہا ہے…لیکن جامعہ جانے کے لیے ان کے پاس ہمت ہی ہمت ہے. محفل ، بلاگ ، مسینجر اور میلز …یعنی عمار آجکل منظر سے بالکل غائب ہیں، اپنے بلاگ پر نظر بھی آتے ہیں تو جامعہ کی کہانیوں کے ساتھ…پڑھئیے جامعہ نامہ!

پاکستان میں عموماً کہا جاتا ہے کہ اب بچہ کالج یا یونیورسٹی پہنچ گیا ہے تو اس کے پر نکل آئیں گے. ہماری ایک ٹیچر سکول کے آخری سال میں کہتی تھیں کہ “اب ان لڑکیوں کو “سرخاب کے پر” نکل آئیں گے. اور کئی کے تو سکول میں ہی نکل آتے ہیں.” لیکن مجھے اس کا بالکل اندازہ نہیں کہ کالج یا یونیورسٹی جانے کے بعد  بچے، بچیوں کو “سرخاب کے پر” کیوں نکل آتے ہیں. ہمارے تو نکلے نہیں..:(

لیکن یہاں کسی اور کے نکل آئے ہیں… میں نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ عمار صاحب یونیورسٹی کی “باجیوں” میں کہیں کھو گئے ہیں یا پھر پھنس گئے ہیں یا پھر پھنسا لیے گئے ہیں…! نہ صرف یہ…بلکہ موصوف نے پی جی یعنی پریم گلی کا بھی پتہ لگا لیا ہے یا پھر پتہ لگوا دیا گیا ہے.

یونیورسٹی میں آجکل نہایت ہی شرافت کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ہر لڑکی ان کی شرافت پر فدا ہوئے جا رہی ہے اور یہاں تک کہ ان کی شرافت کو آزما بھی رہی ہے. اپنی کلاس تو کلاس…سینئر کلاس کی “باجیاں” بھی اردو گرد منڈلا رہی ہیں. اور سنیں…موصوف کہتے ہیں کہ وہ آجکل کچھ “خاص قسم” کے کیسز کی سٹڈی بھی کر رہے ہیں” جب لڑکیوں سے دور رہنے اور صرف لڑکوں سے دوستی کا مشورہ دیا تو جناب کا کہنا تھا کہ “لڑکے ہیں ہی نہیں :( اور جو ہیں، ایسے ایسے نمونے کہ ان کے ساتھ گزارا ناممکن ہے” تحقیق کے مطابق کچھ دنوں میں موصوف کو “دو ، ڈھائی سو ایس ایم ایس” موصول ہوئے.جنوری سے فروری کے آخر تک بھیجے گئے ایس ایم ایس کی تعداد “سات ہزار” رہی.اور وصول کیے ہوئے پیغامات کی تعداد “دس ہزار” سے تجاوز کر گئی ہے. :dwh:

تو مختصر یہ کہ بچہ “منی کراچی” میں کہیں کھو گیا ہے.  سب مل کر دعا کریں کہ اللہ بچے کا ایمان محفوظ رکھے اور “الاؤں بلاؤں” سے اسے محفوظ رکھے ۔ صرف پڑھائی پر توجہ دے اور جو اتنے لمبے لمبے پراجیکٹس نیٹ پر کھولے ہوئے ہیں،  باقی وقت ان کاموں پر لگائے۔ :P:

17 تبصرے

17 تبصرے “اجتماعی دعا”

    MyAvatars 0.2
  1. بوچھی
    on 27 Feb 2009 at 4:14 pm

    :lol: :lol:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  2. MyAvatars 0.2
  3. نبیل
    on 27 Feb 2009 at 4:23 pm

    اب لگتا ہے کہ پول کھولنے کا کام آپ نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔ :clap:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  4. MyAvatars 0.2
  5. عمران القادری
    on 27 Feb 2009 at 6:05 pm

    ہا ہا ہا ہا
    نبیل بھاءی نے صحیح کہا۔۔
    :laugh: :laugh: :laugh:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  6. MyAvatars 0.2
  7. دوست
    on 27 Feb 2009 at 6:41 pm

    :twist: میں اسی لیے جی سی نامہ اپنے بلاگ پر نہیں لکھتا.

    اس تبصرے کا جواب دیں

  8. MyAvatars 0.2
  9. شعیب صفدر
    on 27 Feb 2009 at 8:41 pm

    :ono:
    پہلے یہ کام قدیر کیا کرتا تھا!! دوسرے کے پول کھولنے والا! اور ایس ایم ایس کی تعداد ذیادہ نہیں ہو گئی!!!! اگر تعداد اتنی ہی ہے تو پھر دعا سے کام چلنے والا نہیں!!!

    اس تبصرے کا جواب دیں

  10. MyAvatars 0.2
  11. افتخار اجمل بھوپال
    on 27 Feb 2009 at 11:55 pm

    آپ عمار صاحب کے سر پر ڈھولک نہ باندھئے ۔ وہ شریف بچہ ہے ۔ آجکل تو جامعہ کراچی طالبات کے مکمل کنٹرول میں ہے ۔ میں پہلی بار جامعہ کراچی آج سے کوئی ساڑھے چار دہائیاں پہلے گیا تھا اُن دنوں میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں بی ایس سی انجنیئرنگ کے آخری سال میں تھا ۔ جونہی میں پھاٹک سے اندر داخل ہوا چار لڑکیوں نے مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا اور فرمایا “کس شعبہ میں تشریف لائے ہیں آپ؟” میں اُن کی شرارتی نگاہیں بھانپ گیا اور کہا “جناب کا شکریہ ۔ میرا معصوم چہرہ آپ کو دھوکہ دے گیا ۔ میں بی ایس سی انجنیئرنگ کے آخری سال میں ہوں اور فلاں صاحب سے ملنے آیا ہوں”۔ پریم گلی تو نمعلوم کہاں پر ہے ۔ میں 1983ء سے 2000ء تک سرکاری فرائض کے سلسلہ میں وائس چانسلر صاحب سے ملنے جامعہ کراچی جاتا رہا ہوں ۔ میرے مشاہدہ کے مطابق پوری جامعہ کراچی ہی کو پریم گلی کہا جا سکتا ہے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  12. MyAvatars 0.2
  13. جہانزیب
    on 28 Feb 2009 at 4:55 am

    چیوں کو “سرخاب کے پر” کیوں نکل آتے ہیں. ہمارے تو نکلے نہیں..:(

    ہمیں کیا پتہ کہ کوئی کالج گیا بھی ہے کہ نہیں :GRIN:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  14. MyAvatars 0.2
  15. فیصل
    on 28 Feb 2009 at 8:45 am

    گیا کام سے. جیسے بہت سے جاتے ہیں. :grin

    اس تبصرے کا جواب دیں

  16. MyAvatars 0.2
  17. ڈفر
    on 28 Feb 2009 at 8:58 am

    افتخار صاحب نے ٹھیک کہا اور میرے خیال میں جامعہ کو پریم گلی کی بجائے پریم کالونی ہی کہا جانا چاہئے
    اب دعا سے کام نہیں چلنے والا شادی کروا دو بچے کی، جامعہ کی ہی کسی پری سے
    لیکن لگتا ہے کہ بچہ ہاتھ سے نکل ہی گیاہے

    اس تبصرے کا جواب دیں

  18. MyAvatars 0.2
  19. ماوراء
    on 28 Feb 2009 at 9:06 am

    نبیل بھائی، پول تو خیر نہیں کھولے…عمار نے خود بتایا اور اس کی اجازت سے یہ پوسٹ کی ہے. وہ تو ویسے بھی اپنے بلاگ پر سب لکھ ہی رہا ہے. میرا لکھنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ عمار نے یہاں جو کام شروع کیے ہوئے ہیں..ان پر بھی توجہ دے..کیونکہ میں خود بھی مصروف ہونے والی ہوں.
    —–
    عمران القادری، خوش آمدید. :smile:
    —–
    دوست، آپ کس لیے نہیں لکھتے؟ کیا آپ بھی عمار کی طرح…؟ :P:
    —–
    شعیب، زیادہ تو وہی لکھا ہے جو اس نے اپنے بلاگ پر لکھا ہے. باقی کچھ باتیں اس نے خود بتائیں اور جیسا اوپر کہا، اس کی اجازت سے ہی لکھا ہے.
    —–
    اجمل چچا، اگر اس وقت ایسی صورتِ حال تھی تو اب کا میں اندازہ لگا سکتی ہوں. یعنی بچہ واقعی کام سے گیا. :)
    —–
    جہانزیب، یہ بھی ٹھیک کہا.
    —–
    فیصل، ڈرائیں تو نہیں مجھے. :sad: مجھے تو وہ ویسے بھی دو ماہ سے کم ہی نظر نہیں آ رہا ہے….اگر بالکل ہی چلا گیا تو منظر نامہ بند ہو سکتا ہے. :lol:
    —-
    ڈفر، نہیں نہیں۔۔جامعہ کی کسی پری سے نہیں۔۔اس کی منگنی ہوئی ہوئی ہے۔ میں نے تو اس کو کہا تھا کہ اپنے منگیتر کا ایک بیج بنوا لو اور سینے پر لگائے پھرتے رہنا تاکہ کوئی لڑکی نزدیک نہ بھٹکے۔ :P:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  20. MyAvatars 0.2
  21. عمار ابنِ ضیاء
    on 28 Feb 2009 at 12:35 pm

    تم نے تو ایک لائن کی پوسٹ کا کہا تھا، یہ اتنی بڑی کیسے ہوگئی؟ :ono: چلو خیر ہے… :P
    اور تم کہاں مصروف ہونے لگی ہو؟ ہمم… کچھ کرنا ہی پڑے گا. :hm:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  22. MyAvatars 0.2
  23. زین
    on 28 Feb 2009 at 3:17 pm

    ہممم تو یہ بات ہے ۔۔۔ :dil: ۔۔۔۔ :hm: ۔۔۔۔۔۔“بچے“ کی چوکیداری اور نگرانی کا کام ان کی منگیتر کو سونپ دینا چاہیئے :smile

    اس تبصرے کا جواب دیں

  24. MyAvatars 0.2
  25. بلوُ
    on 01 Mar 2009 at 8:53 am

    جامعہ میں پڑھنے سے کیا بچے خراب ہوجاتے ہیں؟؟؟؟

    اس تبصرے کا جواب دیں

  26. MyAvatars 0.2
  27. ملائکہ
    on 03 Mar 2009 at 8:03 am

    ماوراء میں نے بھی تو جانا ہے یونیورسٹی ہم بھی ایسے ہوجائیں گے :sd: :sd: :sd:

    ایک تو بچارے عمار بھائی اتنی لڑکیوں میں پھنس گئے ہیں اور آپ اس طرح کہہ رہی ہیں :GRIN: :GRIN: :GRIN: :twist:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  28. MyAvatars 0.2
  29. جعفر
    on 04 Mar 2009 at 1:10 am

    ماوراء جی … جان لیں گی اب بچے کی کیا؟؟؟؟
    یہی دو تین سال ہوتے ہیں جن کے قصے پھر ساری عمر بچے نمک مرچ لگا کر سناتے رہتے ہیں… عیش کرنے دیں بچے کو…
    :GRIN:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  30. MyAvatars 0.2
  31. شعیب سعید شوبی
    on 04 Mar 2009 at 9:31 am

    واقعی عمار اب پہلے جیسے متحرک نظر نہیں آرہے محفل اور بلاگ کی دنیا میں. خیر ہماری دعا ہے کہ وہ دوبارہ پہلے کی طرح متحرک ہو جائیں. :shy::

    اس تبصرے کا جواب دیں

  32. MyAvatars 0.2
  33. ماوراء
    on 05 Mar 2009 at 1:53 pm

    عمار، لکھنی تو ایک ہی لائن تھی..لیکن لکھتے لکھتے زیادہ ہی ہو گئیں.
    —–
    زین، اب کیا منگیتر اس کے پیچھے پیچھے یونیورسٹی جایا کرے گی؟ :grin
    —–
    بلو، یہی تو میں پوچھ رہی ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ لیکن سب تو خراب نہیں ہوتے.لیکن میں نے عمار کا یہ تو نہیں کہا کہ خراب ہو گیا ہے. بس اس کے سرخاب کے پر نکل آئے ہیں.. اور باجیاں آجکل اسے اڑنا سکھا رہی ہیں. :smile:
    ——
    ملائکہ، بلاگ پر خوش آمدید. نہ بچے..تم نا خراب ہونا.
    میں نے کب کہا کچھ… وہ تو سب مجھے خود کہہ رہا تھا. :P:
    —–
    جعفر، بلاگ پر خوش آمدید. یہ بھی ٹھیک کہا. چلو بھئی عمار، عیش کرو…کیونکہ بعد میں بڑھاپا بھی تو آنا ہے نا…ذرا اچھا گزر جائے گا. :P:
    —-
    شوبی، آدھی دعا دی. :sad: لیکن ہمارے لیے یہی ٹھیک ہے…باقی کچھ کرے یا نہ کرے..ہمیں تو متحرک ہونے سے غرض ہے. :grin

    اس تبصرے کا جواب دیں

ٹریک بیک یو آر آئی | تبصرہ جات آر ایس ایس

اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔