Feb 13 2009

میں پاکستانی نہیں ہوں!

شائع کیا: ماوراء at 6:55 pm زمرہ: میری باتیں, ناروے نامہ, پاکستان نامہ

1,024 بار دیکھا گیا

یونیورسٹی کے تقریباً آغاز میں چھ ماہ پہلے ایک پاکستانی لڑکی کا دوسری پاکستانی لڑکی کے ساتھ مکالمہ:

پہلی لڑکی ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آتی ہے، کلاس کا کمرہ بدل جانے کی وجہ سے دوسری پاکستانی سے کلاس کے بارے میں پوچھتی ہے۔

پہلی: (اردو میں پوچھتی ہے کہ) کیا اسی کلاس روم میں ہم نے جانا ہے؟
دوسری : (نارویجین میں جواب دیتے ہوئے؟) ہیین؟؟ کیا کہا؟
پہلی : (نارویجین) او۔۔شاید آپ اردو نہیں بولتیں؟ کیا آپ پاکستان سے نہیں ہیں؟
دوسری :  میرے والدین پاکستان سے ہیں۔ میں نہیں۔۔!
پہلی : او سوری۔۔لیکن میں پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا اسی کمرے میں ہماری کلاس ہے؟
دوسری : مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟ ٹیچر یا ریسپشن سے جا کر پوچھو۔

اگلے دن پہلی نے مجھے ساری کہانی سنائی۔ کہ ۔۔۔
فلاں لڑکی یاد ہے؟ اس نے تو میری اچھی بھلی عزت افزائی کر دی۔ مجھ سے تو زندگی میں پہلی بار کسی نے ایسے بات کی ہے۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ کیا کروں؟ آئندہ تو میں نے کبھی اس سے بھولے سے بھی بات نہیں کرنی۔ وغیرہ وغیرہ۔

کچھ دن پہلے وہی دوسری لڑکی ایک اور پاکستانی سے:

ٹیوب میں پاکستانی لڑکی ایک دوسری کلاس کی نارویجین لڑکی سے بات کر رہی تھی کہ یہی صاحبہ ایک سٹاپ سے چڑھیں اور آ دھمکیں بیچ میں۔ نارویجین ان صاحبہ کو جانتی تھیں۔ وہ پاکستانی لڑکی سے ان کو متعارف کروانے لگی تو پاکستانی لڑکی نے کہا کہ۔۔۔

پہلی : میں انھیں جانتی ہوں۔
دوسری : او؟ تم مجھے جانتی ہو؟
پہلی: ہاں، تم میری کلاس میں جاتی ہو۔
دوسری: میں تمھاری کلاس میں جاتی ہوں؟ تو تم مجھے جانتی ہو؟ مجھے تو نہیں پتہ
پہلی:ظاہری بات ہے، جو بھی میری کلاس میں جاتا ہے میں سب کو جانتی ہوں۔

دوسری : لیکن میں تمھیں نہیں جانتی، میں نے تو کلاس میں تمھیں کبھی دیکھا نہیں۔

ہا ہا ہا۔ حالانکہ یہ صاحبہ ہمیں روز دیکھتی ہیں، کلاس میں سب سے آگے ہم بیٹھی ہوتی ہیں۔ آتے جاتے بندہ دیکھ سکتا ہے۔

اب پہلی اور نارویجین آپس میں باتیں کر رہیں تو یہ دوسری جنابہ ان دونوں کی بات کاٹ کر بیچ میں خود بولنا شروع کر دیں۔

اگلے دن میں پہلی پاکستانی سے ملی، تو اس نے مجھے کہانی سنائی کہ کیا ہوا۔۔ اور کس طرح اس نے بدتمیزی کی۔
دونوں مکالموں میں “پہلی لڑکی“ الگ الگ ہیں، اور دونوں کو میں جانتی ہوں۔ اور اب میں محتاط ہوں کہ کہیں اب میری باری نہ ہو۔ :grin

یہ صاحبہ، نہ اپنے آپ کو پاکستانی کہلواتی ہیں اور نہ ہی پاکستانیوں سے بات کرنا پسند کرتی ہیں بلکہ الٹا پاکستانیوں کی بےعزتی کر دیتی ہیں۔

مختصر یہ کہ اگر آپ کسی دوسرے ملک میں رہ بھی رہے ہیں تو اپنا آپ بھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے میں کیا شرم ہے؟ مجھے حیرت ہوتی ہے، ان پر جو اپنا آپ بھلا دیتے ہیں۔ اپنی پہچان بھلا دیتے ہیں۔

پچھلے دنوں انٹرنیٹ پر ہی ایک بچے نے پوچھنے پر بتایا کہ “نہیں، پاکستانی نہیں ہوں، امریکن ہوں“ آں ہاں۔۔۔؟ امریکن ہو تو نام کیوں پاکستانیوں والا ہے بھئی؟ میں نے نام کا پوچھا تو نہیں۔۔۔لیکن پہلے امریکن لکھنے کے بعد پاکستانی ہی لکھنا پڑا۔ اور ساتھ وہی ایک سدا کا جملہ۔۔۔”میرے والدین پاکستان سے ہیں، لیکن میں نہیں۔”

ہم کیسے یہ سب کر سکتے ہیں؟ ٹھیک ہے اگر آپ کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت ہے بھی یا پھر اس ملک میں پلے بڑھے ہیں تو پھر بھی یہ کیوں کہنے میں جھجکتے ہیں کہ پاکستانی ہیں؟ باقیوں کا علم تو نہیں لیکن میں تو ظاہر ہی دیکھ کر کہتی ہوں کہ فلاں کا تعلق کہاں سے ہے۔ جو اپنے آپ کو پاکستانی نہیں مانتے، اگر ذرا سا غور کر لیا کریں۔ آپ کی ظاہری شکل و صورت، آپ کا نام ، آپ کے کام اگر Typical پاکستانیوں جیسے ہیں تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ پاکستان سے نہیں ہیں؟ کیا کوئی کمپلیس ہے؟ یا کوئی مسئلہ ہے؟ مجھے معلوم نہیں۔۔۔لیکن ایسے لوگ مجھے ایک پل نہیں بھاتے۔

لیکن اگر کوئی مجھے دلائل کے ساتھ کنونس کر سکتا ہے کہ “نہیں بھئی۔۔۔جن کی دوسرے ممالک کی شہریت ہے یا وہاں پلے بڑھے ہیں تو وہ اسی ملک کے باشندے کہلائیں گے” تو شاید میری سوچ کچھ بدل جائے۔ لیکن صرف اتنا کہوں گی کہ کم از کم ناروے کے قانون  مطابق “غیرملکی” ہونے کی تعریف یہ ہے کہ “بے شک آپ ناروے میں پیدا ہوئے ہیں اور پلے بڑھے ہیں، لیکن آپ کے والدین کسی دوسرے ملک سے ہیں تو آپ “غیر ملکی” کہلائیں گے۔  جسے ہم نارویجین ، پاکستانی کہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کی ایک سے زیادہ جینریشن ناروے میں رہ چکی ہیں تو شاید تب آپ کو نارویجین کہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ہمارے بچے تو اپنے آپ کو مکمل نارویجین بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔

24 تبصرے

24 تبصرے “میں پاکستانی نہیں ہوں!”

    MyAvatars 0.2
  1. نعمان علی
    on 13 Feb 2009 at 7:50 pm

    ًمیں تو اس شعر کا قائل ھوں کہ:

    افراد کے ہاتھوں میں ھے اقوام کی تقدیر
    ھر فرد ھے ملت کے مقدر کا ستارہ

    :pkflag:

    مگر جانے لوگ کیوں اپنی اصلیت کو چھپانے میں فخر محسوس کرتے ھیں… افسوس

    اس تبصرے کا جواب دیں

  2. MyAvatars 0.2
  3. راشد کامران
    on 13 Feb 2009 at 9:24 pm

    برے اخلاق کا تعلق کسی قومیت سے نہیں ہے اور نہ ہی اس کو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مخصوص کیا جاسکتا ہے۔ میرے والدین پاکستان میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور پاکستان کے شہری بن گئے لیکن میں کبھی بھی اپنے آپ کو بھارتی-پاکستانی نہیں کہہ سکتا کیوں کے میں پیدائشی پاکستانی ہوں اور اسی پر مجھے فخر ہے۔ اسی طرح اگر میرا بیٹا امریکہ میں پیدا ہوا ہے تو وہ پیدائشی امریکی ہے اور امریکہ سے اس کی وفاداری یا امریکی ہونے پر اسکا فخر وطن سے محبت کی انسانی خصلت ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ کسی کی قومیت کی وجہ سے وہ کسی کو کم تر سمجھنے لگے تو یہ میری تربیت کی کمی اور برے اخلاق ہونگے اسے قومیت سے مخصوص کرنا میرا نہیں خیال درست ہے۔ کسی ملک کے قوانین کے مطابق اگر کوئی پیدائشی شہری ہو اور اپنے آپ کو پاکستانی نہ کہلانا چاہے تو اس میں حرج نہیں جیسے میں اپنے آپ کو کسی صورت بھارتی پاکستانی کہلانا پسند نہیں کرتا لیکن اس کی بنیاد پر میں کسی بھارتی کی بے عزتی کروں تو اسکا تعلق برے اخلاق سے ہوگا۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  4. MyAvatars 0.2
  5. افتخار اجمل بھوپال
    on 13 Feb 2009 at 10:44 pm

    کم ظرفی اور کم عقلی میں کوئی زیادہ فرق نہيں ہے ۔ انسانیت ناریجین یا امریکن ہونے میں نہيں ہے بلکہ اپنے عمل میں ہے ۔ علامہ اقبال کو پاکستانیوں میں کم اور یورپینوں میں زیادہ فلاسفر مانا جاتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا تھا

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    اس تبصرے کا جواب دیں

  6. MyAvatars 0.2
  7. خاور
    on 14 Feb 2009 at 3:52 am

    آپ نے اس بات کو برا محسوس کیا که جو بندے کی اصل نسل ہے اس کوچھپا کر اچھانهیں کر رها ـ
    قانونی طور بر تو جی یه لوگ اسی ملک کےهوں گے جن کی ان کی پیدائیش هے
    مگر ان کو اپنا پاسپورٹ دیکھا دیکھا کر بتانا پڑے گا که جی هماری شکل پر ناں جاؤ همین اپنے میں سے هی سمجھو
    مجھے ایسا لگتا ہے که ایسے لوگ کسی کیا حقیر جانیں گے یه خو د اپنی نسل کو حقیر جان کر اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش میں هوتے هیں ـ
    مجھے ان لوگوں سے گله نهیں هے جو کسی کو اس کی نسل یا هنر سے حقیر جانتے هیں
    هاں
    مجھے گله ہے
    ان سے
    جو خود کو حقیر جان کر اپنی اصل کو چھپانے کی کوشش میں هوتے هیں ـ

    اس تبصرے کا جواب دیں

  8. MyAvatars 0.2
  9. حنا
    on 14 Feb 2009 at 4:12 am

    کتنے بدنصیب ہیں ہم لوگ!!!
    60 سال میں کاش ایسا ہوتا کہ لوگ فخر سے کہتے کہ ہم پاکستانی ہیں-
    باہر رہینے والوں اور ان کے بچوں کو وہ ندامت اور شرمندگی نییں ہوتی جو ہر زور حکومت کے کسی بیان یا حرکت سے ہوتی ہے-

    اس تبصرے کا جواب دیں

  10. MyAvatars 0.2
  11. احمد
    on 14 Feb 2009 at 4:28 am

    جو قوم اپنی عزت نہ کرے اسکی دوسری قومیں کبھی عزت نھیں کریں گی…بہرحال آپ کا حلیہ ہی آپ کی نشانی ہے کم از کم یورپ میں دوسری صورت میں آپ کو اپنا پاسپورٹ منہ پر چپکانہ پڑے گا…
    اس سے ایک بات اور ثابت ہوتی ہے کہ پہلی نسل اگر نئی نسل کی بے راہروی یا کلچر سے دوری کا رونا روتی ہے تو بےجا ہے ..یہ وہ قیمت ہے جو آپ کو بہرحال چکانہ ھی پڑے گی

    اس تبصرے کا جواب دیں

  12. MyAvatars 0.2
  13. اعجاز
    on 14 Feb 2009 at 3:53 pm

    اب میں کیا اس پر تبصرہ کروں کوئی پاکستانی ہی کرے تو اچھا ہے :noway:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  14. MyAvatars 0.2
  15. ماوراء
    on 15 Feb 2009 at 5:40 pm

    نعمان، ہم وہ قوم ہیں، جو انگریزی بولنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور وہ قوم ہیں جو اپنے ملک کے بجائے دوسرے ملکوں پر فخر کرتے ہیں.

    راشد، بھارت اور پاکستان کی بات اور تھی. آپ کے بڑے اس لیے پاکستان آئے تھے کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک بن گیا تھا. جہاں وہ آزادی سے رہ سکتے تھے ، جہاں انھیں حقارت سے دیکھنے والا کوئی نہیں ہو گا. اور یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ جہاں رہتے ہیں، اس جگہ سے آپ کو محبت ہوتی ہے. ہمیں بھی اسی جگہ سے لگاؤ ہے، یہیں گھر ہے، ہماری بھی اسی ملک کی شہریت ہے، لیکن اپنی پہچان اور اپنی جڑوں کو کبھی نہیں بھولے. اکثریت بچوں سے اگر ملیں، جو یہیں کی پیدائش ہیں. اگر ان سے بھی پوچھا جائے کہ کون سا ملک اچھا ہے. تو ان کا جواب پاکستان ہوتا ہے. مجھے حیرت صرف اس بات پر ہے کہ اتنی سینس ایبل اتنی بڑی لڑکی ایسا رویہ کیوں اپنائے ہوئے ہے.
    —-
    اجمل چچا، بجا فرمایا. :smile: لیکن بات انسانیت کی نہیں ہے. :shy1:
    —–
    خاور، بہت خوب کہا. :smile:
    —-
    حنا، بلاگ پر خوش آمدید. بس، جیسے حکمران، ویسی عوام. :grin
    —-
    احمد، درست کہا. ماں باپ کی بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے. ماں باپ پہلے تو سوچتے نہیں، بعد میں بہت سوں کو روتا دیکھا ہے.
    —-
    اعجاز، غیر ملکیوں کو بھی تبصرہ کرنے کی اجازت ہے. :grin

    اس تبصرے کا جواب دیں

  16. MyAvatars 0.2
  17. ماوراء » سنہری الفاظ
    on 15 Feb 2009 at 6:15 pm

    [...] “جو قوم اپنی عزت نہ کرے اسکی دوسری قومیں کبھی عزت نہیں کریں گی…”[احمد] [...]

  18. MyAvatars 0.2
  19. ساجداقبال
    on 15 Feb 2009 at 10:06 pm

    آپ نے وہ کہانی سنی ہے جب ایک دیسی پنڈ میں آکر انگریزی بولتا ہے اور پنڈوالے جب شہد کا چھتہ چھیڑتے ہیں تو جناب اپنی اوقات میں واپس آ جاتے ہیں…آپ بھی کچھ ایسا انتظام کیجیے. :shy:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  20. MyAvatars 0.2
  21. ڈفر
    on 16 Feb 2009 at 5:06 am

    جہاں تک بات ہے پاکستانی ہونے پر ندامت کی تو مجھے کبھی ندامت نہیں ہوئی بلکہ مجھے ہمیشہ فخر رہا ہے. میں پاکستانی حکومت اور فوج سے جتنے مرضی اختلاف میں ہوں لیکن ہمیشہ پاکستان کی بات کرتا ہوں. اس وقت بھی جب کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ پاکستان کے خلاف کوئی بات کسی غیر کے منہ سے سن کر بے وجہ ہی غصہ آنے لگتا ہے، دل کرتا ہے کہ منہ توڑ دوں سالے … کا. اب بے شک ممبئی میں دھماکے ہوں یا پاکستان میں طالباں کے زور پکڑنے کی بات. کسی عربی یا ہندو کی اتنی جرات نہیں ہوتی کہ مجھ سے یا میرے سامنے پاکستان کے متعلق کوئی بات کریں. عزت تو کرانے سے ہوتی ہے نا جی. ایک چپیڑ کے بدلے دو مارو گے تو اگلا جھک کر بات کرے گا. انسان کی فظرت ہی ایسی ہے. ہماری حکومت یہ کام نہیں کرتی لیکن بیرون وطن پاکستانی یہ کام بڑے سلیقے سے کرتے ہیں. تھوڑے دنوں کی بات ہے آپکی اس دوست ”دوسری لڑکی“ کے ہوش ٹھکانے آنے میں زیادہ دن نہیں لگیں گے. ایسے کیس آپکو مانچسٹر بریڈفورڈ میں کافی سارے مل جائیں گے.
    اب ایسا کریں کہ یہ پوسٹ اس ”دوسری لڑکی“ کو پڑھا دیں، بمع ان تبصرہ جات کے :sd:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  22. MyAvatars 0.2
  23. عمار ابنِ ضیاء
    on 16 Feb 2009 at 8:47 am

    چلو یہ تو کہانی ہوئی ایک ایسی لڑکی کی جو دوسرے ملک میں پلی بڑھی. گزشتہ دنوں کی بات ہے، میں کلاس میں بیٹھا ہوا تھا… فارغ تھا تو اپنی کاپی کے اندرونی سرورق پر بڑا بڑا لکھا “پاکستانی”. بہت سجا کر… تو ایک لڑکے نے دیکھ کر کہا، تمہیں فخر ہے پاکستانی ہونے پر؟ میں نے کہا، کیوں نہیں؟ کہنے لگا، اس ملک پر فخر نہیں، شرم کرنی چاہیے. :devil:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  24. MyAvatars 0.2
  25. راشد کامران
    on 16 Feb 2009 at 11:32 am

    اقتباس–راشد، بھارت اور پاکستان کی بات اور تھی. آپ کے بڑے اس لیے پاکستان آئے تھے کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک بن گیا تھا. جہاں وہ آزادی سے رہ سکتے تھے ، جہاں انھیں حقارت سے دیکھنے والا کوئی نہیں ہو گا –
    لیکن ایسا ہوا نہیں اور اس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے یہاں تک کے ہجرت کے نام پر ایک قومیت وجود میں آگئی.. دوسرا یہ کہ ہجرت کسی بھی حالات میں ہو ہجرت ہی ہوتی ہے اور پیدائشی وطن کی محبت آپ کے دل سے نہیں نکال سکتی.. اس لیے میرا تو موقف یہی ہے کہ ایسے بچے جو پاکستانی خاندان میں پیدا ہوں لیکن پاکستانی شہریت نہ رکھتے ہوں اور انکی زندگی کا بڑا حصہ اپنے پیدائشی وطن میں گزرا ہو انہیں پاکستانی سمجھنا ہی نہیں چاہیے… ویسے بھی جب اولمپک میں تمغے جیتتے ہیں تو برطانوی ہوجاتے ہیں اور جب ٹرینوں میں دھماکے کرتے ہیں تو پاکستانی نژاد… تو صرف برائی اون کرنے کے لیے تو نہیں ہے پاکستان.

    اس تبصرے کا جواب دیں

  26. MyAvatars 0.2
  27. بوچھی
    on 16 Feb 2009 at 4:00 pm

    میں کلاس میں بیٹھا ہوا تھا… فارغ تھا تو اپنی کاپی کے اندرونی سرورق پر بڑا بڑا لکھا “پاکستانی”. بہت سجا کر… تو ایک لڑکے نے دیکھ کر کہا، تمہیں فخر ہے پاکستانی ہونے پر؟ میں نے کہا، کیوں نہیں؟ کہنے لگا، اس ملک پر فخر نہیں، شرم کرنی چاہیے.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عمار ، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آپ یونیورسٹی کلاس میں موجود ، اگر اگر ، فارغ بھی بیٹھے ہوئے تھے تو آخر ، پاکستانی ‘ ہی بڑا بڑا کیوں لکھ کر سجا رہے تھے ؟ :hm: لکھنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے ۔ پھر یونیورسٹی میں سب کے سامنے یہ لکھنے کا مطلب ۔؟ مجھے تو سچی میں یہ منطق سمجھ نہیں آسکی :rollngeyes:
    ٹھیک ہے مانا کہ آپ اک سچے ،پاکستانی ہو ، جس کے دل میں اپنے ملک کی بے انتہا محبت ہے ، ٹھاٹھیں مارتی ہوئی محبت ،۔ ۔ ۔۔ ۔
    مگر کیا ضروری ہوتا ہے کہ ہم اٹھتے بیٹھتے ، ہر جگہ پاکستان ۔ ۔ پاکستانی بول بول ، اور لکھ لکھ ثابت کرتے رہے ؟
    اور پھر کلاس میں سب کے سامنے :hm:
    حالنکہ لکھنا بری بات بھی نہیں ۔ ۔۔ نا ہی غلط ،، مگر جب آپ جانتے ہو کہ وہاں کا ماحؤل ، سٹوڈنٹ اکثریت کیسی آجکل چل رہی ہوتی ہے تو پھر بھی ؟ :hm:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  28. MyAvatars 0.2
  29. عمار ابنِ ضیاء
    on 18 Feb 2009 at 2:48 am

    باجو! اگر اسٹوڈینٹس کی اکثریت ایسی ہو تو ہم وطن سے اظہارِ محبت چھوڑ دیں؟ کل کو لوگ جشنِ آزادی منانے پر مذاق اڑائیں تو جشنِ آزادی منانا چھوڑ دیں کہ لوگوں کی اکثریت ایسی ہے، مذاق اڑائے گی. :hm:
    اور دراصل فرصت میں مجھے خطاطی کرنے کا شوق ہے، ابو کا جو فن ہوا… تو میں اسی طرح کچھ بھی لکھتا رہتا ہوں بنا سنوار کے… وہ میرا نام بھی ہوسکتا ہے یا کچھ اور بھی… اس وقت جو میں لکھ رہا تھا تو اس سے مراد کوئی پاکستانی ہونے کا ثبوت دینا نہیں تھا بلکہ بس ایویں ہی اندر کا آرٹسٹ جاگا ہوا تھا… اور نہ ہی سب کے سامنے دکھا رہا تھا… اپنا الگ سے لکھ رہا تھا، اب کسی نے دیکھ لیا تو اس کے کمنٹس… بہرحال….

    اس تبصرے کا جواب دیں

  30. MyAvatars 0.2
  31. بوچھی
    on 18 Feb 2009 at 5:50 am

    اوکے ، نو پرابلم ،
    مگر میں چاہتی ہوں آپ بہت پرُاعتماد بنو ، اپنے آپکو کسی سٹوڈنٹ سے کمتر مت سوچو کبھی بھی ، ویل ڈرسیڈ ، پروقار ،
    باقی جزباتی ہونے کی ضرورت نہیں ،،
    میرے بھائی ہو تو بولڈنیس لاؤ ، اور ڈھیر سارا اعتماد ،
    اور پڑھائی ۔۔ اور بس پڑھائی ، ۔۔ باقیوں کو دفعہ کرو ، :johukam:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  32. MyAvatars 0.2
  33. ماوراء
    on 21 Feb 2009 at 8:53 pm

    ہاہاہا.. ساجد. اب کچھ کیا اس نے تو کچھ کرنا ہی پڑے گا. :P:

    ڈفر، بہت خوب. :grin اور دوسری لڑکی سے تو اللہ مجھے بچائے رکھے. البتہ دوسری دونوں نے پڑھنے کا کہا تھا. :grin

    عمار، اپنی اپنی سوچ کی بات ہے. کیا کیا جا سکتا ہے. :sad:
    —-
    راشد، آپ کی بات بھی ایک حد تک ٹھیک ہے.. شاید میں پاکستان میں پیدا ہوئی..اسی لیے ایسے خیالات رکھتی ہوں. اگر کسی اور ملک میں پیدا ہوئی ہوتی تو سوچ مختلف ہوتی.

    اس تبصرے کا جواب دیں

  34. MyAvatars 0.2
  35. انکل ٹام
    on 26 Feb 2009 at 5:09 pm

    اسلام علیکم
    میرا خیال ہے کہ جو بچے چھوٹی عمر سے یہاں آجاتے ہیں یا یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں میں نے اس لڑکی جیسے کچھ لوگ دیکھے ہیں ۔۔۔۔ ایسے لوگوں سے بحث کرنا فضول ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن جب بات کی جاے تو یہ ہی پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ احساس کمتری کا شکار ہیں امی ابو چاہتے ہیں کہ یہ پاکستانی بنیں اور یہ پاکستان میں رہتے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ بس دونوں کلچروں میں مکس ہو کر رہ جاتے ہیں اور پھر ایسا ہی رویہ جنم لیتا ہے ۔۔۔۔اس سچویشن سے بچانے کا چھا طریقہ میرے خیال سے انکو پاکستان کے زیادہ سے زیادہ چکر لگواے جائیں ملک کے بارے میں بتایا جاے ۔ اور خاص کر دین کے متعلق سکھایا جاے ۔۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  36. MyAvatars 0.2
  37. فرحت کیانی
    on 27 Feb 2009 at 3:01 pm

    السلام علیکم ماوراء
    کیسی ہیں؟
    یہ بات مجھے بھی بہت عجیب لگتی ہے کہ ہم لوگ اپنی شناخت چھپانا کیوں چاہتے ہیں. اگر اپنا اصل چھپایا جا سکتا تو ہمیںدنیا میں ہر طرف ہنس ہی ملتے اور کوئے کا نام سننے کو بھی نہ ملتا.

    بیرونِ ملک رہنے والوں کو کچھ حد تک چُھوٹ دی جا سکتی ہے کہ جس بچے کی پیدائش ہی وہاں ہوئی ہے وہ تو اسی جگہ کو اپنا جانے گا. اس لحاظ سے راشد کامران کی بات درست ہے کہ ایسے بچوں کا اپنی پیدائش کے ملک سے لگاؤ فطری ہے لیکن جہاں تک میں اس مسئلے کو سمجھی ہوں وہ یہ کہ اکثر لوگ ایسا امریکہ، ناروے یا برطانیہ کی محبت میں نہیں کہتے بلکہ پاکستان سے بیزاری سے اظہار کے طور پر کہتے ہیں. اور اس میں خاصی حد تک ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے. جب ایک بچے کو اس کے بڑوں کے وطن کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہو گا تو وہ کیسے اس کو اپنی شناخت مانے گا.دوسرا یہ کہ کچھ والدین خود بھی پاکستان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تو بچہ بھی اسی ڈگر پر چلے گا۔
    لیکن دکھ اس رویے پر ہوتا ہے کہ اگر میں ساری زندگی پاکستان گزار کر کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر لیتی ہوں تو میرے لئے پاکستان ایک پسماندہ اور نا قابلِ رہائش جگہ کا نام بن جاتا ہے. پاکستان کا نام لیتے ہوئے میرے لہجہ ہمیشہ طنز بھرا ہوتا ہے. میں خود کو امریکن یا یورپین کہلانے کے لئے ‘الطاف حسین’ انکل کی طرح نئی شہریت والا پاسپورٹ اٹھائے تصویر بنوا کر جگہ جگہ دکھاتی پھرتی ہوں کہ میں پاکستانی نہیں ہوں. لیکن ہوتا وہی ہے جو راشد کامران نے لکھا کہ اعزاز ملا تو امریکن و یورپین . اور الزام لگا تو میں پاکستانی نژاد.
    مزید افسوس اس بات پر کہ پاکستان میں رہنے والے بھی پاکستانی کہلانے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں.آپ دس لوگوں سے بات کریں ان میں سے دو چار ہی آپ کو پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ملیں گے.

    بہت سی باتیں ذہن میں آ رہی ہیں لیکن خطبہ بہت طویل ہو جائے گا :grin

    اس تبصرے کا جواب دیں

  38. MyAvatars 0.2
  39. صبا سیّد
    on 08 Mar 2009 at 7:12 am

    اسلامُ علیکم
    رسٌول پاک نے فرمایا، “جس شخص نے اپنا حسب و نصب تبدیل کیا وہ ہم میں سے نہیں“۔
    اور ایسے لوگ جو اپنے ملک سے وفادار نہ ہو، ملک کو بھی ان کی ضرورت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں میں ایسے لوگوں بھی جانتی ہوں (اللہ انہیں جنت نصیب کرے) جو ساری زندگی کہتے رہے کہ ہم تو کبھی پاکستان کھنکارنے بھی نہ آئیں آخر ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے۔ اور اپنے آخری وقت میں وہ اپنے وطن میں دفن ہونا چاہتے تھے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے اپنے دیس سے وفا نہیں کی لیکن دیس نے ان کے pet sentence کہ (اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے) کا قرض اتار دیا۔
    جو لوگ اپنی توانائی، اپنی محنت، اپنا پیسہ، اپنی جوانی اس ملک کو نہیں دیتے، تو اس ملک کو بھی اُن کی قبروں اور پڑھاپے کی ضرورت نہیں۔
    فی امان اللہ

    اس تبصرے کا جواب دیں

  40. MyAvatars 0.2
  41. م۔م۔مغل
    on 01 Apr 2009 at 5:48 am

    ہممم۔ ہم کیا لکھیں کہ اتنا سارہ تو لکھا جاچکا ۔
    بہرحال بلاگ خوب سجایا گیا ہے۔
    شکریہ

    اس تبصرے کا جواب دیں

  42. MyAvatars 0.2
  43. ڈاکٹر منیر عباسی
    on 19 Apr 2009 at 12:43 pm

    بہت دیر ہو گئی، ہمیشہ کی طرح.

    اب تو اس قسم کے جذبات کا اظہار انٹرنیٹ پر ہی ملتا ہے. حقیقی زندگی میں بہت سے ایسے لوگ یہاں پاکستان میں میں بھی مِل جائیں گے جو یاسیت کا شکار ہیں.

    بہر حال، اللہ سے دُعا ہے کہ ہماری یہ شناخت قائم و دائم رہے.

    پس نوشت: میں نے پھر بلاگنگ کا اردہ کر لیا ہے، اور تبصروں کی ابتداء بھی یہیں سے کر رہا ہوں۔..
    :sd:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  44. MyAvatars 0.2
  45. غفران
    on 02 May 2009 at 5:40 pm

    یہ غالبن کم ہمت اور بزدل لوگ ہوتے ہیں جو یہ نہیں سمجھتے کہ ملک گرد سے نہیں ‘ فرد سے بنتا ہے۔ آپ کچھ کرنے جوگے ہوتے نہیں، پکی پکائی کھانے کا شوق ہوتا ہے ان لوزرز کو۔ ان کے گھٹیا پن کی دلیل ان کی یہ سوچ ہے کی کسی بڑے ملک میں پیدا ہوجاتے اورہات پیر ہلائے بنا سہولتیں دستیاب ہوتیں۔

    ایسے لوگوں کو پہلے تو جوتی کی نوک پر رکھنا چاہیے تاکہ ان کے پاوں ذرا زمیں پر لگیں پھر پیار سے دلیل دے کر سمجھانا چاہیے’ :shy:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  46. MyAvatars 0.2
  47. Wakas Mir
    on 18 Jul 2009 at 11:12 pm

    Humare idhar Norway mein kafi aise log hein waise. Ek do forums pe meine dekha hei ke mein jab bhi koi PAkistan ke haq mein likhta hoon koi laloo manjoo Norwegian Pakistan aa kar aise act karta hei ke “Oh Wakas shukar karo Norway mein ho” ye aur wo.. sochta hoon ke shukar to Allah ka karna chahye ya in gore bandaron ka.. I mean kuch humare log kafi “Norwegianized” ho chuke hei… munh kala aur dil us se bhi kale kar ke apne aap ko gora samajte hein.. bohat ghalt baat hmm

    اس تبصرے کا جواب دیں

ٹریک بیک یو آر آئی | تبصرہ جات آر ایس ایس

اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔