Dec 23 2008
کیسا یہ جنون
آجکل اے آر وائی ڈیجیٹل پر ڈرامہ “کیسا یہ جنون” ہر اتوار کی شام کو نشر کیا جا رہا ہے۔ ڈرامے کے اشتہار تو جون ، جولائی سے چینل پر دکھائے جا رہے تھے، پہلے کہا گیا کہ ڈرامہ بیس جولائی کو نشر کیا جائے گا۔ لیکن اب دسمبر میں آ کر ڈرامے کو چلایا گیا۔ اتنے مہینوں سے ڈرامے کا اشتہار چلا کر جانے تجسس پھیلایا جا رہا تھا یا پھر ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہی ہمیں بور کرنا چاہ رہے تھے۔
اے آر وائی کے مطابق :
ڈرامہ سیریل کیسا یہ جنون پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے بڑا سیریل ہے ۔شدت پسندی پر مبنی اس ڈرامے میں شدت پسندی کی وجوہات، انکے ہماری قوم پر پڑنے والے اثرات اور ان بنیادی مسائل کو سامنے لایا جائیگا جس سے آجکل کی نوجوان نسل دوچار ہے ۔
کیسا یہ جنون میں دنیا میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا جائیگا سیریل کی کہانی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے جس کی پرورش تین خاندانوں میں ہوتی ہے ۔ڈرامے کی کاسٹ کرن کھیر، آصف رضا میر، سویرا ندیم ، اظفر رحمن ، علی کاظمی ، مدیحہ افتخار، محمود اسلم ، صبا حمید ، سونیا رحمان اور عدنان صدیقی پر مشتمل ہے ۔
ڈرامے کو ڈائریکٹ رعنا شیخ نے کیا ہے، جبکہ ڈرامے کے ڈائیلاگ حسینہ معین نے لکھے ہیں۔ ڈرامے کا ٹائیٹل گانا “کیسا یہ جنون” راحت فتح علی خان نے نہایت خوبصورت گایا ہے۔ جبکہ کمپوز وقار علی نے کیا ہے۔
ڈرامہ 22 اقساط پر مشتمل ہے، میرا خیال ہے کہ ڈرامہ پاکستان میں پہلے سے دکھایا جا رہا ہے، کیونکہ muft.tv پر اس کی کچھ قسطیں موجود ہیں۔ ہماری طرف اس اتوار کو دوسری قسط تھی۔ ڈرامے کا اے آر وائی والوں نے اتنا چرچا کیا ہے۔ جیسے خدا جانے کیا بنا دیا ہے۔ لیکن ابھی تو دوسری قسط تھی، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔لیکن پاکستان کی تاریخ میں سات کروڑ کی لاگت سے بننے والا یہ پہلا ڈرامہ سیریل ہے



حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 23 Dec 2008 at 10:18 pm
ہاں یہاں پہلے سے آ رہا ہے یہ ڈرامہ، کیونکہ میں ٹی وی والے کمرے میںنوٹ بک لے کر بیٹھتا ہوں، اس لئے اس گانے کے بول اور ٹون اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ ڈرامے کی سٹوری تو نہیں پر میوزک واقعی اچھا ہے۔
عیاشی پروگرام رکھا ہوا ہے ڈرامہ بنانے والوں نے، سات کروڑ بھی کم ہیں
پاکستان میں تو اب ڈرامے شوٹ بھی نہیں کرتے، شائد فنکاروں کو بھی خودکش حملوں کا ڈر ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
on 24 Dec 2008 at 4:02 am
سات کروڑ کی سرمایہ کاری بھی کسی این جی او یا ملک نے اپنے مخصوص مقصد کیلیے کی ہو گی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 24 Dec 2008 at 4:17 am
پاکستان میں ٹی وی ڈرامہ دیکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ ایوانِ صدر سے لے کر بازاروں اور گلیوں تک ایک سے ایک نیا اور حیران کُن ڈرامہ ہو رہا ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
on 24 Dec 2008 at 5:37 am
افتخار اجمل صاحب نے ٹھیک فرمایا۔
یہاں تو روز ہی ڈرامے ہوتے ہیںسب سے بڑے فنکار تو سیاستدان ہیں۔
خیر آپ ڈرامہ دیکھیں ۔ پھر ہمیںبتائیں کہ کیسا ڈرامہ تھا
اس تبصرے کا جواب دیں
on 03 Jan 2009 at 2:14 am
ڈفر نے ٹھیک کہا عیاشی پروگرام رکھا ہوا ہے ڈرامہ بنانے والوں نے، سات کروڑ بھی کم ہیں اور ڈرامہ پاکستانی تو تب کہلاتا جب پوری طرح پاکستانی ہوتا۔
اس تبصرے کا جواب دیں