Dec 15 2008

پاکستانی اخبار

شائع کیا: ماوراء at 8:00 pm زمرہ: تصاویر, متفرقات, ناروے نامہ, پاکستان نامہ

1,584 بار دیکھا گیا

مجھے تو پاکستانی اخبار دیکھے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے، لیکن ہمارے ٹیچر نے پچھلے دنوں پاکستانی اخبارات پر کافی تنقید کی۔ دراصل ہم نے نومبر میں اخبارات ، اخباری تصاویر اور اشتہارات پر کام کیا۔  جس میں ہمیں مختلف اخباروں کا تجزیہ کرنا تھا۔ ہم نے تو جو کیا سو کیا۔۔۔لیکن ہمارے ٹیچر نے برے معیار کے اخبارات میں پاکستان کے اخبارات کی مثال دی۔ اخبارات میں تصاویر کی کمی  کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ انتہائی چھوٹا اور کالمز کو انتا لمبا کیا ہوتا ہے جس سے خبر پڑھتے وقت تسلسل قائم نہیں رہ سکتا۔ اور اخبارات کی سیاہی اتر کر ہاتھوں پر لگتی رہتی ہے۔ اخبارات کا معیار اچھا کرنے کے لیے یقینا پیسہ لگانا پڑتا ہے۔ جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سب سے اہم بات پاکستانی اخبارات میں اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے، جہاں خبر ہونی چاہیے وہاں آپ کو اشتہارات نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

نیچے دی گئی اخبارات میں تصاویر تو مجھے نظر آہی رہی ہیں۔ :)

Source: daylife.com

اخبارات کی ویب سائٹ دیکھنے پر بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹس کا کوئی اچھا حال نہیں ہے۔ اگر ہم کچھ نیوز سائٹس کا مشاہدہ کریں:

Pakobserver.net

2- nation.co.ke

3- aftenposten.no

nation.co.ke اپنے تھیم کے ساتھ بہت بہتر سائٹ ہے۔ امریکہ کے انتخابات کی  آخری رات جب ہر اخبار کی ٹاپ سٹوری میں امریکہ کی خبر تھی، تب پاک ابزرور پر صبح تک کوئی اور ہی خبر تھی۔ پاک ابزرور کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ کتنی بڑی سائٹ ہے، لیکن اپنی شرمندگی ختم کرنے کے لیے میں نے جھٹ سے  ڈان اور دی نیشن کا نام لیا۔   ڈان کا صفحہ کھولا تو ٹیچر کو سمجھ ہی نہ آئے کہ جانا کہاں ہے۔ :p صفحہ کھولتے ساتھ سامنے تو کچھ اور ہی کھل جاتا ہے۔۔جس میں اشتہارات چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

دی نیشن کی سائٹ کچھ بہتر تھی۔ ہم چونکہ تصاویر پر کام کر رہے تھے تو دی نیشن پر  ہمیں تصاویر بہت اچھی مل گئیں۔ جس سے ہمیں (پاکستانیوں کو) مزید شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔

18 تبصرے

18 تبصرے “پاکستانی اخبار”

    MyAvatars 0.2
  1. [...] ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔ بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’  میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی [...]

  2. MyAvatars 0.2
  3. ساجداقبال
    on 15 Dec 2008 at 10:11 pm

    کیا یہ تجزیہ صرف ویب تک مخصوص‌تھا اور انگریزی اخبارات تک؟
    میں‌کل ہی باس سے بات کر رہا تھا کہ ہمارے یہاں اکثر اخبارات کی پریزنٹیشن انتہائی تھکی ہوئی ہے۔ صرف دی نیوز کی ٹائپوگرافی کام پڑھے جانے کے قابل ہے، لیکن اشتہارات کی عقل سے ماوراء‌پلیسمنٹ اسے بھی بدصورت بنانے میں کوئی کمی نہیں‌چھوڑتی۔ اور ان کی نیوز سائٹس کا تو اللہ ہی حافظ‌ ہے۔ انکی پوری سائٹس سے تو ورڈپریس بلاگز کے تھیم ہی اچھے ہیں۔ میں تو کہتا رہتا ہوں‌ کہ ان میدانوں میں پاکستان مارکیٹ کو فتح کرنے کیلیے میدان بالکل خالی ہے۔ عجیب بات نہیں کہ پاکستان میں خبروں کی سب سے مقبول سائٹ برطانیہ کی بی بی سی اردو ہے؟

    اس تبصرے کا جواب دیں

  4. MyAvatars 0.2
  5. عمار ابنِ ضیاء
    on 15 Dec 2008 at 10:43 pm

    کیا خیال ہے ماوراء؟ آن۔لائن اخبار نہ نکال لیں؟ :p
    شاہد اہل یہی کام رہ گیا ہے باقی۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  6. MyAvatars 0.2
  7. [...] ڈیٹ 1۔ دسمبر 15، 2008۔ بلاگر ماوراء کی پوسٹ ‘پاکستانی اخبار’  میں اس مسئلے پر مزید روشنی ڈالی گئی [...]

  8. MyAvatars 0.2
  9. اسماء
    on 16 Dec 2008 at 1:23 am

    میرے خیال میں‌ تو پاکستانی اخبارات انگلیڈ یا امریکہ کے کثیر صفحاتی اخبارات سے کافی بہتر ہیں۔ انگریزی کے اخبار اور بھی بہتر۔ تصاویر بھی کافی ہوتی ہیں۔ انکے اپنے اخباروں میں یا تو اسکینڈلوں کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں یا پھر سینڈلوں کے ;)

    As for Dawn do have a look at their beta site which is available for viewing at the moment too and even the availability of paper as it is online is quite commendable too.

    There’s always a slight learning curve attached in any website or UI but rejecting it altogether not a commendable job. Do you think your teacher was trying to be a little biased here?

    When I opened few Indian papers available online .. I wasn’t much impressed ;) See this and this for example … too many ads … don’t know where to go :)

    ps: I’m not saying that Pakistani Papers are the best but I’m just not ready to accept that they are the worst :)

    اس تبصرے کا جواب دیں

  10. MyAvatars 0.2
  11. ڈفر
    on 16 Dec 2008 at 1:28 am

    ماوراء‌پلیسمنٹ اسے بھی بدصورت بنانے میں کوئی کمی نہیں‌چھوڑتی :peace:
    کیا ہو گیا ساجد صاحب؟
    اور ماورا شکر کریں کہ آن لائن اخبار ہی پڑھوایا تھا اگر جو پیپر پڑھوا دیتیں تو آپکے ٹیچر نے ہر صفحے پہ ہومیو پیتھ اور بال اگانے کے اشتہار دیکھ کر ہی پاگل ہو جانا تھا

    اس تبصرے کا جواب دیں

  12. MyAvatars 0.2
  13. افتخار اجمل بھوپال
    on 16 Dec 2008 at 3:48 am

    وطنِ عزیز کے اخبار اور ٹی وی ہماری مجبوری ہے ۔ جو خامیاں لکھی گئی ہیں ان کے باوجود

    اس تبصرے کا جواب دیں

  14. MyAvatars 0.2
  15. عبدالقدوس
    on 16 Dec 2008 at 9:22 am

    میں نے ایک بندے کی ذمہ داری میں تمام نیوز ایجنسز میں‌بات کرنے کا ارادہ کیا ہے دعا کریں مال مفت والا حساب نا ہو تو ایک خبروں کی زبردست سائٹ شروع کردیں گے

    اس تبصرے کا جواب دیں

  16. MyAvatars 0.2
  17. فیصل
    on 16 Dec 2008 at 9:57 am

    پاکستانی اخبارات کی ویب سائیٹس اس لیے فضول ہیں کہ پاکستان میں‌انٹرنیٹ‌تک لوگوں کی رسائی کم ہے، جب گھر گھر میں‌کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ہو گا تو یہ بھی ٹھیک ہو جائیں گی، اشتہارات دیکھ کر بھی آپکو اندازہ ہو جائے گا کہ اخبارات جانتے ہیں‌کہ انکے آنلائین قارئین زیادہ تر بیرون ملک ہیں۔ ویسے بھی مغرب کیساتھ موازنہ کرنا زیادتی ہے کہ وہ دنیا ہی اور ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  18. MyAvatars 0.2
  19. ماوراء
    on 16 Dec 2008 at 3:14 pm

    ساجد، ویب سائٹس کے علاوہ دوسری اخبارات کا بھی ذکر کیا ہے۔ لمبے لمبے کالمز عموماً اخبارات میں ہی ہوتے ہیں۔
    اور نہیں۔ صرف انگریزی اخبارات نہیں۔ اردو کے اخبارات بھی۔ اردو اخبارات کی مجھے کوئی تصویر نہیں مل سکی، ورنہ وہی لگاتی۔
    میرا ارادہ تھا کہ کچھ غیر ملکی اخبارات کی تصاویر بھی لے کر پوسٹ کروں گی، لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے مختصر ہی لکھ دیا۔
    اور بالکل یہی بات میرے ذہن میں بھی تھی کہ کئی بلاگز کی تھیمز اِن پروفیشنل سائٹس سے بہت بہتر ہیں۔
    بی بی سی اردو کی سائٹ ہماری اردو نیوز سائٹس سے بہت بہتر ہے۔
    ——
    عمار بیٹے، تم جلدی سے اپنی پڑھائی مکمل کر لو نا۔ میں بھی جرنلزم مکمل کر لوں۔ پھر ان شاءاللہ شروع کرتے ہیں۔ تمھیں تو تیکنیکی باتوں کا پتہ ہے، مجھے بھی کچھ سیکھنے دو پہلے۔ :p
    ——
    اسماء، انگریزی؟ :D
    مجھے اب تک امریکی اور برطانوی اخبارات پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لیکن پھر بھی میں یہی کہوں گی کہ پاکستانی اخبارات کا معیار اتنا اچھا نہیں ہے۔
    بیٹا سائٹ اور ای پیپر کا علم ہے۔ لیکن ہم صرف فرنٹ پیجز پر کام کر رہے تھے۔
    اور بالکل۔۔ انڈین اخبارات پر بھی ہم نے بات کی تھی۔ انڈین اخبارات کا معیار بھی تقریباً پاکستانی معیار جیسا ہی ہے۔ لیکن ٹائمز آف انڈیا کچھ بہتر ہے۔
    آپ کی رائے سے میں بھی متفق ہوں کہ پاکستانی اخبارات بہت برے نہیں ہیں، لیکن بہترین بھی نہیں ہیں۔
    ——
    ڈفر، اس نے پاکستان کے اخبار دیکھے ہوئے تھے۔ اسی لیے ان پر وہ بات کر رہا تھا۔ لیکن خدا کا شکر کہ اس کے پاس موجود نہیں تھے۔ :D
    ——-
    اجمل چچا، مجبوری تو ہے ہی۔۔۔! لیکن میڈیا کو ہمارا بھی کچھ خیال رکھنا چاہیے نا۔ اگر وہ اپنی خامیاں دور کریں گے، ان کا ہی فائدہ ہو گا۔
    ——
    عبدالقدوس، گڈ۔ اللہ آپ کو کامیاب کرے۔
    —-
    فیصل، پاکستان میں اگر کم لوگ ویب سائٹس کو دیکھنے والے ہیں تو مغربی دنیا میں تو یہ ویب سائٹس دیکھی جاتی ہیں نا۔ اسی لحاظ سے ان کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ چلیں، مغرب سے مقابلہ نہیں کرتے۔ کینیا کی نیوز سائٹ ہماری سائٹس سے بہت زیادہ بہتر ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  20. MyAvatars 0.2
  21. عمار ابنِ ضیاء
    on 16 Dec 2008 at 11:08 pm

    عمار بیٹے، تم جلدی سے اپنی پڑھائی مکمل کر لو نا۔ میں بھی جرنلزم مکمل کر لوں۔ پھر ان شاءاللہ شروع کرتے ہیں۔ تمھیں تو تیکنیکی باتوں کا پتہ ہے، مجھے بھی کچھ سیکھنے دو پہلے۔ :p
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اچھا دادی اماں :D
    تو تم نے جرنلزم کا ارادہ پکا کرلیا ہے؟ گڈ لک

    اس تبصرے کا جواب دیں

  22. MyAvatars 0.2
  23. آن لائن اخباری رپوٹر
    on 17 Dec 2008 at 2:05 am

    ماورا آپ کبہی فری اخبار ڈاٹ خام کی سائٹ وزٹ نہیں کی؟ یہاں مفت کی خبریں مل جاتی ہیں، ہاہاہا
    اچھا میری ایک گزارش یے کہ اگر آپ میری سائٹ کو اپنے روابط میں شامل کر لیں تو مہربانی ہو گی۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  24. MyAvatars 0.2
  25. ماوراء
    on 18 Dec 2008 at 2:14 pm

    عمار، دعا کرو کہ پکا ہی رہے۔ :D
    ——–
    رپورٹر، آپ اپنا نام لکھیں تو مخاطب کرنے میں آسانی بھی ہو۔
    فری اخبار ڈاٹ کام کی سائٹ دیکھی نہیں تھی، ورنہ اس کے بارے میں بھی پوسٹ میں لکھتی۔ :D
    ضرور۔میں شامل کیے دیتی ہوں۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  26. MyAvatars 0.2
  27. آن لائن اخباری رپوٹر
    on 19 Dec 2008 at 2:52 am

    اوہ! گریٹ، بیت شکریہ ماورا آپکا مجھے اپنی اس محفل میں شامل کرنے کا۔ اور اگر میں نے نام بتا دیا تو ایف بی آئی نے مجھے اٹھا کے لے جانا ہے، انیہں مری یی تو تلاش ہے! ہاہاہا D:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  28. MyAvatars 0.2
  29. فرحان دانش
    on 20 Dec 2008 at 5:31 am

    پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کام صرف ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے علاوہ کچھ نہیں۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  30. MyAvatars 0.2
  31. اعجاز
    on 20 Dec 2008 at 7:05 pm

    ایک تو تم شرمندہ بہت ہوتی ہو۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  32. MyAvatars 0.2
  33. ڈفر
    on 23 Dec 2008 at 10:21 pm

    یہ کس نے شرمندہ ہونے کی بات کی؟
    مجھے اس کی پاکستانیت پہ شک ہے :D

    اس تبصرے کا جواب دیں

  34. MyAvatars 0.2
  35. [...] ماوراء نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ نمبر ۳۶ صحفہ نمبر ۷ ۔ [...]

ٹریک بیک یو آر آئی | تبصرہ جات آر ایس ایس

اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔