Archive for December, 2008

Dec 31 2008

نیا ہجری و عیسوی سال مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع

میری طرف سے سب کو نیا سال مبارک ہو۔ اللہ سے دعا ہے آنے والا سال ہم سب کے لیے اور خاص طور پر ہمارے ملک کے لیے بہترین سال ہو۔ اور ہم سب کے لیے خوشیاں لے کر آئے۔ نئے سال کے آغاز سے عمار اور میں منظر نامہ کو ایک نئے انداز اور نئے ولولے سے آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن ابھی چونکہ آغاز ہے، اس لیے بلاگ یا تھیم میں بہت سی تبدیلیاں کرنا باقی ہیں جو کہ چند ایک دن میں مکمل ہو جائیں گی۔ منظر نامہ کا نیا ربط: http://manzarnamah.com/

17 تبصرے

Dec 28 2008

فرائیڈ چکن ونگز

شائع کیا: ماوراء زمرہ: خورد و نوش

اجزاء:

چکن ونگز : 16 عدد
میدہ : ایک کپ
زیرہ: ایک چائے کی چمچ
گرم مصالحہ : ایک چائے کی چمچ
نمک : حسبِ ذائقہ
سرخ مرچ : حسبِ ذائقہ
آئل : تلنے کے لیے

ساس کے لیے:

لہسن (پسا ہوا): چار سے پانچ جوئے
ادرک (پسی ہوئی) : ایک چائے کی چمچ
ہری مرچ: دو عدد
ٹماٹر : ایک بڑے سائز کا۔ چھوٹے ہیں تو دو۔
نمک ، مرچ : بالکل تھوڑا سا
چلی ساس : دو کھانے کے چمچ
سویا ساس: ایک چائے کا چمچ
اجینو موتو: آدھی چائے کا چمچ

لیموں کا رس :ایک کھانے کا چمچ
آئل : دو کھانے کے چمچ پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »

20 تبصرے

Dec 26 2008

بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی

benazir1

آج سے ایک سال پہلے 2007 جاتے جاتے ہماری بہادر لیڈر کو اپنے ساتھ لے گیا۔ اتنے سالوں بعد جب بے نظیر بھٹو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے وطن واپس لوٹیں تو ملک تحفے میں ان کے لیے موت لیے بیٹھا تھا۔ چاروں صوبوں کی زنجیر، بھٹو کی تصویر، سہانے خوابوں کی تعبیر اور اس ملک کی تقدیر۔۔۔ بے نظیر کو 27 دسمبر 2007 چوون سال کی عمر میں شہید کردیا گیا۔ ان کا جانا ہمارے ملک کے لیے ہر لحاظ سے برا ثابت ہوا۔ زرداری جیسے نااہل لوگوں کے پاس حکومت آ گئی، ملک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے سروں پر آج جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ آج اگر بے نظیر زندہ ہوتیں تو یقیناً حالات مختلف ہوتے۔ آج بے شک بے نظیر ہم میں موجود نہیں، لیکن وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلیں بھی ان کو یاد کریں گے۔خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔

پاکستان کی حکومت نے بے نظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر دس روپے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر بے نظیر بھٹو کی تصویر اور اس پر دختر مشرق، بے نظیر بھٹو شہید لکھا ہوگا۔ اور یہ سکہ اٹھائیس دسمبر سے جاری کیا جائے گا۔

سورس: بی بی سی اردو

23 تبصرے

Dec 23 2008

کیسا یہ جنون

شائع کیا: ماوراء زمرہ: پاکستان نامہ, ڈرامہ

آجکل اے آر وائی ڈیجیٹل پر ڈرامہ “کیسا یہ جنون” ہر اتوار کی شام کو نشر کیا جا رہا ہے۔ ڈرامے کے اشتہار تو جون ، جولائی سے چینل پر دکھائے جا رہے تھے، پہلے کہا گیا کہ ڈرامہ بیس جولائی کو نشر کیا جائے گا۔ لیکن اب دسمبر میں آ کر ڈرامے کو چلایا گیا۔ اتنے مہینوں سے ڈرامے کا اشتہار چلا کر جانے تجسس پھیلایا جا رہا تھا یا پھر ڈرامہ شروع ہونے سے پہلے ہی ہمیں بور کرنا چاہ رہے تھے۔

اے آر وائی کے مطابق :
ڈرامہ سیریل کیسا یہ جنون پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے بڑا سیریل ہے ۔شدت پسندی پر مبنی اس ڈرامے میں شدت پسندی کی وجوہات، انکے ہماری قوم پر پڑنے والے اثرات اور ان بنیادی مسائل کو سامنے لایا جائیگا جس سے آجکل کی نوجوان نسل دوچار ہے ۔
کیسا یہ جنون میں دنیا میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا جائیگا سیریل کی کہانی ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے جس کی پرورش تین خاندانوں میں ہوتی ہے ۔ڈرامے کی کاسٹ کرن کھیر، آصف رضا میر، سویرا ندیم ، اظفر رحمن ، علی کاظمی ، مدیحہ افتخار، محمود اسلم ، صبا حمید ، سونیا رحمان اور عدنان صدیقی پر مشتمل ہے ۔

ڈرامے کو ڈائریکٹ رعنا شیخ نے کیا ہے، جبکہ ڈرامے کے ڈائیلاگ حسینہ معین نے لکھے ہیں۔ ڈرامے کا ٹائیٹل گانا “کیسا یہ جنون” راحت فتح علی خان نے نہایت خوبصورت گایا ہے۔ جبکہ کمپوز وقار علی نے کیا ہے۔

ڈرامہ 22 اقساط پر مشتمل ہے، میرا خیال ہے کہ ڈرامہ پاکستان میں پہلے سے دکھایا جا رہا ہے، کیونکہ muft.tv پر اس کی کچھ قسطیں موجود ہیں۔ ہماری طرف اس اتوار کو دوسری قسط تھی۔ ڈرامے کا اے آر وائی والوں نے اتنا چرچا کیا ہے۔ جیسے خدا جانے کیا بنا دیا ہے۔ لیکن ابھی تو دوسری قسط تھی، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔لیکن پاکستان کی تاریخ میں سات کروڑ کی لاگت سے بننے والا یہ پہلا ڈرامہ سیریل ہے

5 تبصرے

Dec 15 2008

پاکستانی اخبار

مجھے تو پاکستانی اخبار دیکھے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے، لیکن ہمارے ٹیچر نے پچھلے دنوں پاکستانی اخبارات پر کافی تنقید کی۔ دراصل ہم نے نومبر میں اخبارات ، اخباری تصاویر اور اشتہارات پر کام کیا۔  جس میں ہمیں مختلف اخباروں کا تجزیہ کرنا تھا۔ ہم نے تو جو کیا سو کیا۔۔۔لیکن ہمارے ٹیچر نے برے معیار کے اخبارات میں پاکستان کے اخبارات کی مثال دی۔ اخبارات میں تصاویر کی کمی  کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ انتہائی چھوٹا اور کالمز کو انتا لمبا کیا ہوتا ہے جس سے خبر پڑھتے وقت تسلسل قائم نہیں رہ سکتا۔ اور اخبارات کی سیاہی اتر کر ہاتھوں پر لگتی رہتی ہے۔ اخبارات کا معیار اچھا کرنے کے لیے یقینا پیسہ لگانا پڑتا ہے۔ جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سب سے اہم بات پاکستانی اخبارات میں اشتہارات کی بھرمار ہوتی ہے، جہاں خبر ہونی چاہیے وہاں آپ کو اشتہارات نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

نیچے دی گئی اخبارات میں تصاویر تو مجھے نظر آہی رہی ہیں۔ :)

Source: daylife.com

اخبارات کی ویب سائٹ دیکھنے پر بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹس کا کوئی اچھا حال نہیں ہے۔ اگر ہم کچھ نیوز سائٹس کا مشاہدہ کریں:

Pakobserver.net

2- nation.co.ke

3- aftenposten.no

nation.co.ke اپنے تھیم کے ساتھ بہت بہتر سائٹ ہے۔ امریکہ کے انتخابات کی  آخری رات جب ہر اخبار کی ٹاپ سٹوری میں امریکہ کی خبر تھی، تب پاک ابزرور پر صبح تک کوئی اور ہی خبر تھی۔ پاک ابزرور کے بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ کتنی بڑی سائٹ ہے، لیکن اپنی شرمندگی ختم کرنے کے لیے میں نے جھٹ سے  ڈان اور دی نیشن کا نام لیا۔   ڈان کا صفحہ کھولا تو ٹیچر کو سمجھ ہی نہ آئے کہ جانا کہاں ہے۔ :p صفحہ کھولتے ساتھ سامنے تو کچھ اور ہی کھل جاتا ہے۔۔جس میں اشتہارات چمکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

دی نیشن کی سائٹ کچھ بہتر تھی۔ ہم چونکہ تصاویر پر کام کر رہے تھے تو دی نیشن پر  ہمیں تصاویر بہت اچھی مل گئیں۔ جس سے ہمیں (پاکستانیوں کو) مزید شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔

18 تبصرے

Dec 08 2008

عید ایسی گزری

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, میری باتیں, ٹیگ

ہماری عید تو گزر بھی گئی اور پتہ بھی نہیں چلا۔ ساجد نے پوچھا ہے کہ” آپ کے ہاں عید کیسے منائی جاتی ہے” اگر اس کے جواب میں میں صرف اتنا کہوں کہ ہمارے ہاں عید منائی ہی نہیں جاتی تو زیادہ بہتر ہو گا۔ :D

لیکن عید آنے پر مجھے زیادہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے، کہ چھٹی کا بہانہ مل جائے گا۔ یہاں بہت سے ایسے بھی ہیں جو چھٹی نہیں لیتے، بلکہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ عید کیسے منا رہے ہیں؟ تو کسی کا جواب ہو گا۔۔میں نے تو کام پر جانا ہے۔ کسی کا ۔۔ کچھ خاص نہیں۔۔۔اور کئی ایسے ہیں جو منہ کے خاص زاویے بنا کر اور کندھے اچکا کر یہ ظاہر کرواتے ہیں کہ عید پر کیا کرنا ہے؟ وغیرہ وغیرہ حالانکہ اب ہمیں آسانی سے سکولوں ، کام وغیرہ پر چھٹی مل جاتی ہے۔ لیکن ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو عید پر کچھ کرنے کو تو ہوتا نہیں ہے، چھٹی کر کے سارا دن ضائع ہی جاتا ہے، جیسے میں نے آج ضائع کر دیا۔

خیر۔۔۔ پیر کو عید تھی تو اس طرح میری ہفتے سے منگل تک چار چھٹیاں ہو گئیں یعنی عید ہو گئی۔ ساری رات کمپیوٹر کی پوجا کرنے کے بعد دن بارہ بجے اٹھی۔ موبائل پر تین، چار ایس ایم ایس موجود تھے۔ میری ایک دوست جو یہیں ہوتی ہے، صبح دس بجے ایس ایم ایس کر کے مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ “آج عید ہی ہے نا یا نہیں ہے؟” بارہ بجے اس کو میں نے جواب دیا کہ “ہاں ، آج عید ہی ہے۔ عید مبارک۔” واپس جواب آیا۔ “عید مبارک۔” اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے ہاں کیسے عید منائی جاتی ہے۔:D

امی نے ناشتہ بنایا، کھا، پی کر واپس کمپیوٹر کے سامنے۔۔۔!! عید مبارک کے کچھ ایس ایم ایس کیے، ابو سے پاکستان میں بات ہوئی۔پولینڈ میں بھائی سے دو گھنٹے چیٹ کی۔ ایک، دو فون کیے۔ بکرا عید پر میں نے رات کو ہی مچھلی کا قورمہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ عید کے دن ہم نے مچھلی پر گزارہ کیا۔ ساجد کی نصیحت کے مطابق بالکل بھی زیادہ نہیں کھایا۔:D

نہایت ہی بور عید گزری۔ یہاں شاید وہی لوگ اچھی عید منا سکتے ہیں، جن کے رشتے دار بھی یہیں ہوں تو عید کے دن وہ اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ ہر عید پر ہم بھی کھانے پر کسی نہ کسی کو بلا لیتے ہیں یا کوئی ہمیں بلا لیتا ہے۔ لیکن اس عید پر نہ ہم نے کسی کو بلایا، اور نہ ہی کسی کی دعوت قبول کی۔:p

ایسے موقعوں پر پاکستان کی بہت یاد آتی ہے۔ :( پاکستان میں آج عید ہے، تو سب کو عید بہت مبارک ہو۔ امید ہے پاکستان میں سب کی اچھی عید گزرے گی۔

تصویر یہاں سے لی گئی ہے

ٹیگ بھی کرنا ہے تو کراچی سے شب کو کر رہی ہوں۔ اور امریکہ سے جہانزیب تو بتا ہی چکے ہیں، لیکن اگر کوئی اور بھی بتانا چاہے تو ضرور۔

21 تبصرے