Sep 29 2008
آہ۔۔۔یہ عید؟
رمضان کا آغاز سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا تو یقین تھا کہ عید بھی سعودی عرب کے ساتھ ہی منائی جائے گی۔ ایک بلاگ پڑھنے پر پتہ چلا کہ سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے۔ حالانکہ میرا موڈ نہیں تھا کہ کل عید ہو کہ ابھی میری تیاریاں مکمل نہیں ہوئیں۔ لیکن پھر بھی یہ سن کر کے سعودی عرب میں چاند نظر آ گیا ہے، تو ذہن بنا ہی لیا۔ لیکن ہمارے مولوی تو اپنا ہی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں، انگلینڈ میں عید ہو گئی، سعودی عرب میں ہو گئی، خدا جانے انہوں نے تیس روزے رکھ کر کونسا ثواب کمانا ہے۔ جب رمضان سعودی عرب کے ساتھ شروع کیا تو عید پاکستان کے ساتھ کیوں؟؟![]()
آخری روزہ کھلتا ہی ہے تو فون پہ فون آنا شروع ہو جاتے ہیں، کہ مسجد والے شام کے وقت اپنا فون ہی بند کر دیتے ہیں۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ مدنی مسجد والے عید منا رہے ہیں اور باقی مسجدوں والے روزہ رکھیں گے۔ اور عربی دوستیں بھی ایس ایم ایس کر کے عید کی مبارک دے رہی ہیں۔![]()
یہ مولوی بھی عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں، بندہ ان کی کس بات پر یقین کریں اور کس بات پر نہیں۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ پنیر حرام ہے، کچھ عرصے بعد کہنے لگے کہ حلال ہے۔ پھر پچھلے سال فتویٰ لگا دیا کہ جی مرغیاں حرام ہیں،گھر میں موجود مرغیوں کو پھینک دیں، بعد میں کہنے لگے کہ کھا لیں۔۔۔کوئی حرام نہیں۔ اب نیا شور کہ Maarud چپس حرام ہے۔ جو کہ ہمارے ایک مولوی انکل چپس بنتے ہوئے دیکھ کر آئے ہیں۔ ہمیں تو ان پر اعتبار نہیں۔۔ اس لیے میں ابھی بھی یہی چپس کھا رہی ہوں۔
![]()
بہرحال۔۔۔جن کے ہاں عید ہے سب کو مبارک ہو۔ ہم ذرا ایک فالتو روزہ رکھ کر ثواب کما لیں۔![]()
میں نے تو امی کو کہا ہے کہ ہم اپنی عید صبح منا لیتے ہیں۔ لیکن یہ بڑے مان ہی نہیں رہے۔ ہمارے جاننے والے انکل کا بھی فون آیا کہنے لگے کہ “کیا کریں۔۔؟بچے کہہ رہے ہیں کہ ابو صبح ہی عید کر لیتے ہیں۔” انکل کہتے ہیں، اب بچوں کو کیسے بتائیں کہ دین کا مسئلہ ہے، کوئی مذاق نہیں۔ لیکن ہمارے مولویوں نے بھی تو مذاق ہی بنایا ہوا ہے۔![]()




حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 29 Sep 2008 at 4:56 pm
آپ کے ہاں چاند تو نظر آتا نہیں ہوگا؟ اسی وجہ سے مسئلہ ہوتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 29 Sep 2008 at 6:17 pm
:grin:
بہرحال آخری روزہ مبارک! ورنہ عید!
پاکستان میں ایسا جھگڑا پشاور کے آس پاس ہوتا ہے!!!
اس تبصرے کا جواب دیں
on 29 Sep 2008 at 6:38 pm
مولویوں سے پرہیز صحت کے لیے مفید ہوتا ہے..
اس تبصرے کا جواب دیں
on 29 Sep 2008 at 10:34 pm
جھگڑا صرف پشاور کے آس پاس نہیں جہاں پشاوری ہوں وہاں یہ جھگڑا ہوتا ہی ہے۔ مولوی بھی بے شک پشاوری ہو یا نا ہو لیکن پشاوری النسل ہی ہوتا ہے۔ مکی صاحب کی بات سے سو فیصد متفق ہوں۔ مولویوں سے تھری ناٹ تھری کے فاصلے پر رہنا چاہیے
یہ بھی تو ہر چوک میں گئیر بدل لیتے ہیں اور رستہ بھی۔ ہماری مسجد میں کسی کو مانگنے کی اجازت نہیں جب مانگنے والا آ بھی جائے یہ اسکو “کھپ پا پا” کے بٹھا دیتے ہیں کہ مسجد میں مانگنا منع ہے۔ دوسری طرف مولوی صاحب خود نماز کے بعد الاؤڈ سپیکر پہ اعلان فرماتے ہیں فلانے صاحب بیٹھے ہیں ضرورتمند ہیں ۔۔۔۔ انکی مدد فرمائیں۔ منع ہے تو سب کے لئے منع ہے پر نہیں یہ مولوی بھی کرپٹ ہیں ہماری سرکاری مشینری کی طرح۔ اپنا کام نکالنے کے لئے حلال حلال کی گردانیں شروع کر دیتے ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 30 Sep 2008 at 12:49 am
یہ اتنا غصہ صرف اس لیے ہے کہ ایک روزہ اضافی رکھنا پڑ گیا؟ :haha:
ہمارے ہاں اگر آج جاند نظر نہیں آیا تو؟ مولوی صاحبان اکتیس روزے رکھیں گے؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 30 Sep 2008 at 3:10 am
قبلہ جو انتیس روزے رکھ سکتا ہے وہ آٹھ دس روزے اور بھی رکھ سکتا ہے ایک روزے سے کوئی مسلمان نہیں گھبراتا.. اعتراض اس بات پر ہے کہ ایک مولوی روزہ رکھوا رہا ہے اور دوسرا اسی دن عید منوا رہا ہے..؟!
اوپر سے جو الٹے سیدھے فتووں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے انہیں آپ کس زنبیل میں ڈالیں گے..؟؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 30 Sep 2008 at 6:03 am
الگتا ہے آپ کو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دہونے کی عادت ہے۔ جہاں کہیں بات سمجھ نہ آئے فورا مولویوں کو نشانہ بنا دو۔ خیر آج کل یہ کوئ نئ بات نہیں۔ آپ نے کہا۔
“لیکن ہمارے مولوی تو اپنا ہی راگ الاپنے میں لگے ہوئے ہیں، انگلینڈ میں عید ہو گئی، سعودی عرب میں ہو گئی، خدا جانے انہوں نے تیس روزے رکھ کر کونسا ثواب کمانا ہے۔ جب رمضان سعودی عرب کے ساتھ شروع کیا تو عید پاکستان کے ساتھ کیوں؟؟”
ارے بھیا آُ کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ استقبال رمضان اور عید روئت ہلال کے ساتھ مشروط ہین۔ سعقدی عرب کے ساتھ عید سے نہیں۔ اور روئت ہلال کا مطلب ہے، چاند کا نظر آنا۔
اُمید ہے میں اپنا ما فی الضمیر آپ کو پہنچانے میں کامیاب رہا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 30 Sep 2008 at 3:45 pm
دوست، کوشش تو کریں نا ۔۔شاید نظر آ ہی جائے۔لیکن ان کو دوسروں کے پیچھے چلنے کی عادت ہو گئی ہے۔




—
شعیب، شکریہ۔ بس یہ بھی پشاور سے کم نہیں ہیں۔ یہاں تو تین تین عیدیں بھی منائی گئی ہیں۔
—
مکی، بات آپ کی درست ہے، لیکن ان انکل والی ہی بات جن کا میں آخر میں ذکر کیا ہے، کہ ہم لوگ دین کے معاملے میں خود سے کچھ کر کے خطا بھی نہیں کرنے چاہتے نا۔
—
ڈفر، ابھی شکر ہے کم از کم ہمارا مولویوں سے واسطہ آ کر رمضان اور عید پر ہی پڑتا ہے۔ورنہ اللہ جانے کیا حال ہو۔
—-
عمار، روزے رکھنے کا نہیں غصہ۔ بلکہ میں نے ذکر بھی کیا۔۔ کہ میں تیس روزے ہی چاہ رہی تھی کہ میری تیاری مکمل نہیں ہوئی تھی۔ لیکن ہوا یوں کہ سعودی عرب کا سن کر میں نے عید پر جو کچھ بنانا تھا اس کی تیاری کرنا شروع ہو گئی، کپڑے بھی نکال لیے۔ کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ہی آغاز کیا تھا اور عید بھی تو سعودی عرب کے ساتھ منانی تھی۔ لیکن جب میرا مائنڈ بن گیا، تو پتہ چلا کہ یہاں نہیں منا رہے۔اور آدھی مسجدوں والوں نے عید منائی اور آدھی نے نہیں منائی۔
—
مکی، بالکل یہی بات ہے۔
—-
ڈاکٹر منیر عباسی۔ بلاگ پر خوش آمدید۔
ڈاکٹر صاحب، کوئی تو بات ہو گی ہی نا تبھی تو لوگ مولویوں کو کہتے ہیں، ورنہ جان بوجھ کر ایسے ہی کوئی کہتا ہے۔
اور ہمارے ہاں چاند بمشکل ہی نظر آتا ہے، اس لیے ہمارے ہاں کے مولوی چاند دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے، سعودی عرب کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اور کچھ مسجدوں والے پاکستان کے ساتھ رکھتے ہیں، کچھ انگلینڈ کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اب بتائیں۔۔۔ کیا کریں؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 02 Oct 2008 at 2:10 am
عمار کا شکریہ کہ اس نے اتنا پیارا تھیم تمہیںدیا ہے ۔۔۔
اور عید کو پاکستانی ہی مسئلہ بناتے ہیں باقی ہر جگہ اتنی ٹینشن نہیں ہے ؛ :S
خیر اپنی لوکل مسجد کے ساتھ عید منانی چاہئیے۔ یہی اچھا ہے۔
عید مبارک
:)
اس تبصرے کا جواب دیں
on 06 Oct 2008 at 6:10 am
بہر حال عید ہو گئی۔ اچھا فیصلہ تھا یا برا۔ ہمیں اس سے کچھ نہیں لینا۔
فارسی میں کہتے ہیں،
” الا بلا بر گردن مُلا”۔
رہ گئی مولویوں والی بات۔ اس پر پھر کبھی بشرط صحت و زندگی بات ہو گی۔
پس حرف:
اب کی بار تھیم اچھی ہے۔ نظر آتا ہے کہ محنت کی گئی ہے۔ تہنیت قبول کیجئے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 06 Oct 2008 at 9:40 am
اعجاز، شکریہ۔
—
منیر صاحب، بہت شکریہ۔
اورمیں معذرت خواہ ہوں اگر میری کہی کوئی بات آپ کو بری لگی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 Oct 2008 at 9:06 am
لیجئے، وہ جو کہتے ہیں نا صحبت کا اثر ہوتا ہے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، وہی ہوا میرے ساتھ۔- ویسے میں نے آپ کو خربوزہ نہیں کہا۔
میں نے بھی ایک عدد بلاگ بنا ڈالا۔ اب کرنا کیا ہے اس کے ساتھ؟ اس کا علم شائد میرے فرشتوں کو بھی نہیں۔ !!!
آپ سے درخواست ہے کہ میری رہنمائ کریں۔ اور مجھے یہ بھی بتائیں کہ یہ سیارہ اور اردو وینس کیا چیزیں ہیں؟ اور میں ان تک رسائ کیسے حاصل کر سکتا ہوں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 Oct 2008 at 12:56 pm
زبردست۔ اردو بلاگنگ میں خوش آمدید۔
رہنمائی کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔ سیارہ اور وینس پر تمام اردو بلاگرز کو اکھٹا کیا گیا ہے، جہاں آپ بآسانی تمام اردو بلاگرز کی نئی پوسٹس دیکھ سکتے ہیں۔ سیارہ میں شمولیت کی تو یہ شرط ہے کہ آپ کو بلاگ بنائے ہوئے دو ماہ ہوں۔ لیکن وینس پر ایڈمن خود ہی شامل کر دیں گے۔
وینس پر شامل ہونے کے لیے بدتمیز کی بلاگ پر تبصرہ کر دیں۔ وہی ایڈمن ہیں، لنک یہ ہے۔ http://www.badtamiz.com/blog/
اور سیارہ میں شمولیت کے لیے یہاں آپ کو ایک مختصر سا فارم فل کرنا ہو گا۔ http://www.urduweb.org/planet/blog-submit.html
ابھی آپ کے بلاگ پر تبصرے بند ہیں۔ آپ نے شاید پوسٹ کرتے ہوئے کمنٹس کی اجازت کے لیے مارک کو ہٹا دیا ہے۔ پوسٹ ایڈیٹ کر کے اس کو دیکھ لیں۔ کمنٹس اینڈ پنگز ہو گا۔وہاں دیکھیں۔
مزید۔۔۔چند دن پہلے ایک پوسٹ کی تھی، اس سے بھی آپ کو شاید کچھ مدد ملے http://mawra.urdutech.com/2008/09/24/blog-keasy-bania-jaye/
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Oct 2008 at 11:35 pm
بہت شکریہ ماوراء،
جیسا کہ آپ کو علم ہے، مجھے کچھ مسائل درپیش ہیں، بلاگ کے سلسلے میں۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ ان کا حل نکال لوں۔ اس کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے کام بھی کرنے ہوتے ہیں۔ وقت کی کمی اور اناڑی پن رکاوٹ بن رہے ہیں۔ :)
میں اپنی بلاگ شفٹ کر رہا ہوں۔ رہی بات کمنٹس کی تو میں نے آن رکھے تھے۔ دیکھتا ہوں کیا ہوا۔
آپ کی فراہم کردہ اردو تھیمز لے لی ہیں۔
لنکس فراہم کرنے کا شکریہ۔
دعا کریں انھیں چلانے میں کامیاب ہو جاؤں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 31 Oct 2008 at 4:20 am
فالتو روزہ؟؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 31 Oct 2008 at 4:33 am
http://www.darsequran.com/weeklyvoice/presnd/insaanilmsekhalihay_1.wma
http://www.darsequran.com/weeklyvoice/presnd/insaanilmsekhalihay_2.wma
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 Nov 2008 at 5:47 pm
سمیر، بلاگ پر خوش آمدید۔ اور روابط دینے کا بہت شکریہ۔ میں ذرا کند ذہن ثابت ہوئی ہوں، اس لیے جلدی سیکھ نہیں سکتی، لیکن کوشش جاری ہے۔
فالتو روزہ ایسے تھا کہ کچھ نے عید منائی تھی۔ اور کچھ نے روزہ رکھا تھا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 02 Nov 2008 at 10:46 pm
Thank You ماوراء
Seekhna (learn Karna) tou saari zindagi hota hai jis din koi yeh samajhne lage kah woh sab seekh gaya hai us din se us ka downfall start honay lagta hai…baaqi raha “falto” ka tou mujhe samaj main aagaya kah is ka matlab “اضافی” hoga.
اس تبصرے کا جواب دیں
on 03 Nov 2008 at 5:50 pm
اضافی۔۔ فالتو۔۔ ہمم۔۔ میرا خیال ہے الفاظ کے چناؤ میں مجھے احتیاط برتنی ہو گی۔
اس تبصرے کا جواب دیں