رمضان اتنی جلدی آ بھی گیا؟ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ پچھلا رمضان ابھی ہی ختم ہوا تھا۔ اس بار تو ہمارے ہاں شروع کے روزے تقریبا سولہ گھنٹوں کے ہیں، اور اس پر ایک یہ غضب یہ ہوا کہ پہلے روزے سے ہی میری شام کی کلاس شروع ہو رہی ہے۔ ساڑھے آٹھ روزہ کھلے گا تو سوا نو میری کلاس ختم ہو گی۔ :dsadas:
کچھ دن پہلے بس میں میری کلاس کی ایک لڑکی مل گئی، باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے جاب کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ رمضان میں تو نہیں کروں گی، اس کے بعد ہی دیکھوں گی۔ کچھ حیرانی سے پوچھتی ہے، کہ روزے رکھتی ہو؟ میں نے “ہاں” میں جواب دے کر اس سے پوچھا کہ کیا تم نہیں رکھتی؟ مسکرا کر جواب دیا کہ “نہیں، جب میں ترکی میں تھی تو رکھتی تھی، جب سے ناروے آئی ہوں، نہیں رکھتی”۔ پھر شاید کچھ خود ہی احساس ہوا، کچھ دیر بعد بولی۔۔۔ “میں بیمار بھی رہتی ہوں، دوائی کھانی ہوتی ہے۔” میں نے بھی اس کی شرمندگی دور کرنے کے لیے کہا کہ “ہاں ہاں اگر تم بیمار ہو تو کوئی ضرورت نہیں رکھنے کی۔”
اس کے بعد میں نے سوچا، سب سے پوچھتی ہوں، ایران کی لڑکی سے پوچھا، اس نے بھی بالکل یہی جواب دیا، کہ “ایران میں تھی تو رکھتی تھی، اب نہیں رکھتی۔” ایک اور سے پوچھا تو جواب ملا۔۔۔”نہیں، میں بھوکی نہیں رہ سکتی، میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے، اس لیے نہیں رکھتی”۔ میں نے سوچا، ان سب کی تو موجیں ہیں۔ سب کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ ہے۔ ایک عراق کی لڑکی جو ماشاءاللہ حجاب میں تھی، اس نے کہا کہ “رکھوں گی”، لیکن نہایت ہی بےدلی سے کہا۔ پڑھنا جاری رکھیں۔۔۔ »
پچھلے سال اتنے تھیم خراب کیے، کچھ اردوائے اور کچھ کا کام آدھا ہی چھوڑ دیا۔ اس لیے اب میں سارے ایک ایک کر کے ایک یہاں ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے رکھوں گی۔تاکہ محفوظ بھی ہو جائیں اور میرا کمپیوٹر کئی درجن تھیمز سے خالی بھی ہو جائے۔
ہماری زندگی کیا ہے
شعورِ ذات کی خاطر ہی بس ایک آزمائش ہے۔
ہماری لرزشیں ہم کو سکھاتی ہیں
نئی راہیں دکھاتی ہیں
ہماری انتہائے شوق کیا ہے
ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی
ہماری آرزو کیا ہے
کہ ہم اپنی رگِ جانِ وفا کے رنگ بھر دیں
ہماری آگہی ہم کو بناتی ہے
نئی شمعیں جگاتی ہے
ہماری انتہائے شوق کیا ہے
ہمیں ہر راہگزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی
ارادوں کی زمیں پر
کاوشوں کے پھول کھلتے ہیں
کوئی آندھی کو ئی طوفاں
کبھی رستہ نہ روکے
ہمیں پھر بھی یقین ہے جب
ہمارے دل سے ہر دم
ایک ہی آواز آتی ہے۔
اللہ۔۔۔۔
اللہ تو ہے میرا سائیں
اللہ تو ہے میرا سائیں
اللہ تو ہے میرا سائیں
ہماری انتہائے شوق کیا ہے۔
ہمیں ہر راہ گزر پہچان لے گی
ہمارے سامنے منزل نشاں ہے
نئی صبح ہمیں بھی جان لے گی
ہمیں بھی جان لے گی
واؤ انکل مشرف مستعفی ہو گئے۔ ورنہ میں تو سمجھ رہی تھی کہ اپنے برے ترین انجام کو دیکھ کر ہی صدارت کا عہدہ چھوڑیں گے۔ لیکن انکل سیانے نکلے۔ اب اللہ سے دعا ہے کہ کم از کم زرداری کو تو صدر نہ بنائے۔ اے اللہ ہمیں کوئی مخلص رہنما دینا۔ آمین۔
لگتا ہے شبِ برات کو لوگوں نے دل سے دعائیں کی ہیں، کہ آج دعا قبول بھی ہو گئی۔ ویسے میری سالگرہ کا بھی آج مبارک دن ہے۔ یا پھر اللہ تعالی نے پاکستان کا خط پڑھ لیا ہے?
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے کتنا درست ثابت ہوتا ہے۔
صبح صبح انکل مشرف کی تقریر کی آواز نے بغیر الارم کے اٹھا دیا۔ اب مجھے جانا بھی ہے، شام گھر آ کر ہی دیکھوں گی کہ مزید پاکستان میں کیا ہوا ہے۔۔۔۔ :dsadas:
پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے۔
ہمارے ہاں گرمیوں کی چھٹیاں آج ختم ہو گئیں۔ اور آج سالگرہ کے دن سے میری کلاسز شروع ہو رہی ہیں۔ اس لیے مجھے اس بار سالگرہ کی خوشی کم اور پڑھائی کی ٹینشن زیادہ ہو رہی ہے۔ اب ویسے بھی جوں جوں عمر بڑھنی ہے، سالگرہ چپکے سے ہی منایا کروں گی، کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلے کہ میں بڑی ہو گئی ہوں۔ ویسے اس بار میری اصل عمر شب نے بتانے کا فیصلہ کیا۔
خیر۔۔۔یہ سال میں بھرپور انداز سے گزارنے کا ارادہ رکھتی ہوں اور اس سال کو میں “سالِ آزادی” کا نام دے رہی ہوں۔ کیونکہ یہ سال میری آزادی کا آخری سال تصور کیا جا رہا ہے۔
باجو نے تو اگست کے پہلے ہفتے ہی گفٹ بھیج دیا تھا۔ باجو اتنے اچھے گفٹ اور کارڈ کا بہت شکریہ۔ یہ تصویر بھی اسی کارڈ کی ہے۔
دوسرا گفٹ اشعار کی صورت میں ملا ہے۔ جو کہ کچھ دن پہلے کہے گئے ہیں، اور انھیں میں نے سالگرہ کے تحفے کے طور پر لیا ہے۔ شاعر گمنامی میں رہنا چاہتے ہیں، اس لیے کوئی شاعر کا نام نہ پوچھے۔:P:
باقی ابھی ایک بجے تک جس جس کے ایس ایم ایس آ چکے ہیں۔ سب کا بہت شکریہ۔
اس سے پہلے کہ میں تیری خیریت دریافت کروں، اپنی حالت تیرے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ تُو بالکل خیر خیریت سے ہو گا کیونکہ دکھ، پریشانی اور تکلیفوں کے لیے تُو نے یہ زمین اور مخلوقات جو بنا دی ہیں۔ بس اسی لیے آج میں نے تجھے خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میں تیرا زیادہ وقت بالکل نہیں لوں گا، مجھے معلوم ہے تُو بہت مصروف رہتا ہے۔ امید ہے کہ تو وقت نکال کر نہ صرف اسے پڑھے گا بلکہ میری حالات پر سنجیدگی سے سوچے گا بھی۔
مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں سے شروع کروں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تُو سب جانتا ہے، لیکن پھر بھی میں تجھے اپنا دکھ اور حالات بتانا چاہتا ہوں۔ کیا تجھے معلوم ہے کہ آج تیری اتنی بڑی کائنات میں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے؟ اس زمین کے ٹکڑے کا یعنی میرا نام “پاکستان“ ہے۔ آج میری باسٹھویں سالگرہ بڑے جوش و خروش سے منائی جا رہی ہے۔ نہ صرف آج بلکہ پچھلے اکسٹھ سالوں سے یہی ہوتا آ رہا ہے۔ اب تک تو میں یہ سب سہتا آیا تھا، لیکن اب مزید مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اس خط کے ذریعے میں اپنا دکھ تجھ سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔
میرا وجود 1947 میں اسی دن آیا۔ میں بڑی مشکلوں اور بہت قربانیوں کے بعد آزاد ہوا۔ تب سے اب تک کئی حکومتیں آئیں اور ختم ہو گئیں۔ ان سارے عرصے میں مجھے کوئی بھی مخلص رہنما نہ ملا، اور اگر کوئی ملا بھی تو اس کو دشمنوں نے راستے سے ہٹا دیا۔ ان سیاستدانوں نے مجھے دن بدن زوال کی طرف دھکیل دیا۔ اور میری حالت بد سے بدترین ہوتی گئی۔ ان سیاستدانوں کو اگر ایک طرف رکھیں تو اس میں بسنے والے عام انسانوں نے بھی مجھے بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ – دین و مذہب سے دوری، فرقہ واریت، انتہاپسندی، بے حیائی، گانا بجانا، جھوٹ، فراڈ ، دھوکے، چوریاں، ڈاکے، دہشت گردی، خودکش حملے غرض یہ کہ کون سا غلط عمل نہیں ہے جو مجھ میں بسنے والوں نے نہیں کیا۔ علامہ اقبال کیا خوب کہہ گئے۔
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر
اے اللہ، میں یہ جانتا ہوں کہ تُو اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ اپنی حالت خود نہیں بدلتی لیکن اس سے پہلے کہ اس قوم کی ذرا سی لاپرواہی کے باعث میں ایک بار پھر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ جاؤں۔ میری تجھ سے درخواست ہے کہ اپنی مصروفیت سے ذرا سا وقت نکال کر مجھ پر نظرِ کرم فرما لے، میں اس وقت سخت مصیبت، تکلیف میں ہوں، تیرے سوا مجھے اور کوئی دکھائی نہیں دیتا جو مجھ پر رحم کھائے۔ اے میرے اللہ، مجھ میں بسنے والوں کے گناہ اور کوتاہیاں معاف فرما دے، ان کو ایک تکلیف ملتی ہے تو میری تکلیف دگنی ہو جاتی ہے، مجھے اپنے لوگوں سے بہت پیار ہے، وہ مجھ سے ہیں تو میں ان سے ہوں۔ اس زمین کے ٹکڑے پر وہ لوگ بستے ہیں جو تیرے آخری رسول محمد صلی علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں، اپنے نبی کے صدقے ہی ان کی حالت پر رحم فرما دے۔ اور مجھے مخلص رہنما عطا فرما دے۔ اور ان لوگوں کو متحد ہو کر رہنے توفیق عطا فرما دے۔ بس تُو صرف ایک بار رحم کی نظر سے دیکھ لے اور اس زمین پر اپنی رحمتوں کی بارش کر دے۔ مجھے اپنی ایک صدی مکمل ہونے کا شدت سے انتظار ہے۔ مجھے امید بلکہ یقین ہے کہ تب تک میں مکمل آزاد اور ترقی یافتہ ملک ہوں گا۔ اور میرے لوگ ہر برائی سے آزاد ہوں گے۔ وہ ہر وہ کام کریں گے جن میں ان کی اور میری بھلائی اور عزت ہو گی۔ ابھی مجھے وجود میں آئے صرف اکسٹھ سال ہوئے ہیں، لیکن اے اللہ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ پیچھے جانے کے بجائے میرے لوگ مجھے آگے ہی لے کر جائیں، چاہے کچھوے کے ہی چال چلیں، لیکن صرف آگے ہی چلیں۔
میں تجھ سے کہنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں، لیکن سوچتا ہوں کہ تیرے پاس میرا خط پڑھنے کا وقت ہو گا بھی یا نہیں، کیا تُو اس کو پڑھ بھی سکے گا یا نہیں، اگر تُو نے پڑھ لیا تو مجھے جواب ضرور بھیجے گا، چاہے وہ کسی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ پھر باقی باتیں دوسرے خط میں کہوں گا۔
ہمارے پیارے وطن عزیز کا نیا سال شروع ہو چکا ہے۔آپ سب کو یومِ آزادی بہت مبارک ہو۔ میری اللہ سے سچے دل سے دعا ہے کہ آنے والا سال ہمارے ملک کے لیے ڈھیر ساری خوشیاں اور کامیابیاں ساتھ لے کر آئے۔
میری کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی نئے سال کا آغاز اللہ کے پاک نام اور اس سے ڈھیر ساری دعائیں مانگ کر کیا جائے، چاہے وہ عیسوی سال کا آغاز ہو یا اسلامی سال کا، چاہے اپنی سالگرہ ہو یا ملک کی سالگرہ۔
کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آنے والا سال اپنے ساتھ کیا لے کر آئے، پچھلے چند سالوں سے پاکستان نہایت ہی برے حالات کا شکار ہے۔ مجھے یقین ہے ایک دن ہم سب کی دعائیں قبول ہوں گی اور ہم پاکستان کو ایک مکمل آزاد ملک کے طور پر دیکھ سکیں گے۔
میں نے تو اللہ سے دعا کر دی ہے، کہ 2047 تک مجھے زندہ رکھے، تاکہ ایک صدی مکمل ہونے کا جشن میں بھی منا سکوں۔ صرف جشن ہی نہیں، بلکہ اپنے ملک کے لیے میرے بہت سے ارادے ہیں۔ اللہ مجھے ان ارادوں میں کامیاب کرے۔ آمین
نوٹ: آج کے دن منظر نامہ پر 14 اگست کوئز کو بھی یاد رکھیں۔
پاکستان اور میرے بلاگ کی سالگرہیں ایک ساتھ آ گئی ہیں، اب سمجھ نہیں آ رہی کہ کون کون سی پوسٹ کروں۔ خیر۔۔۔بلاگ پہلے شروع کیا تھا تو پہلے بلاگ کو سالگرہ منا لیتی ہوں۔ اتفاق سے گھر میں اورنج موم بتیاں بھی پڑی ہوئی تو اورنج بلاگ اور موم بتی کی ایک ساتھ تصویر بھی لے لی۔
پچھلے سال کیا معرکہ آرائیاں کیں، ان پر ایک مختصر سی نظر۔
بلاگ کا آغاز اللہ کے نام سے کیا تھا، اس لیے اس سال بھی اللہ کے نام سے ہی نئے سال کا آغاز کرتی ہوں۔ حالانکہ اس سال میں نے کم بلاگنگ کرنے کا سوچا ہے۔ یعنی تھوڑا لیکن اچھا۔
میرا پچھلا سارا سال تو تھیم پر ہی فوکس رہا، جانے کتنی بدلیں۔ مسئلہ یہی رہا کہ جو میں نے آخری سمجھ کر لگائی اس میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہو جاتا۔ اب یہ تھیم بھی پسند تھی، لیکن یہ بھی کچھ مسائل کا شکار ہے۔تھیمز اردوانا بھی سیکھا، جس کے لیے عبید نے میرے ساتھ بہت سر کھپایا، ان کی میں ہمیشہ شکرگزار رہوں گی۔
سال کے آغاز میں باقاعدگی سے لکھتی رہی، لیکن پھر کچھ مصروفیت کی وجہ سے کم کم لکھا۔ دسمبر میں سب سے زیادہ بائیس پوسٹس کیں، جبکہ اپریل میں سب سے کم صرف دو کیں۔ اب تک ٹوٹل 112پوسٹس ہوئیں ہیں۔ میں اپنے بلاگ کے قارئین کی بھی شکرگزار ہوں، جو میری فضول باتوں کو نا صرف پڑھتے ہیں بلکہ تبصرے بھی کرتے ہیں۔
بہرحال مختصر یہ کہ پچھلا پورا بلاگنگ کا سال بہت کچھ نیا سیکھا،جنہوں نے سکھایا ان کا بہت شکریہ۔ بہت سے بلاگر کو جاننے کا موقع ملا۔ اور پھر منظر نامہ کا بھی آغاز کیا۔ جس پر کام کرنے کا اتنا مزہ آ رہا ہے کہ اپنے بلاگ پر میرا اکثر کچھ لکھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔
پچھلا سال آرام و سکون سے گزرنے کے بعد اللہ کرے کہ بلاگنگ کا اگلا سال بھی خیریت سے گزر جائے۔ اور اللہ مجھے اچھا لکھنے کی ہمت دے۔
اس عرصے میں اگر کسی کو میری کوئی بات بری لگی ہو، یا کوئی تبصرہ اچھا نہ لگا ہو تو ان سے معذرت۔ اگلی بار نہیں ہو گا۔
اپنا تھوڑا سا وقت نکال کر اگر آپ یہاں انصاف سے کلک کر دیں، تو مجھے اندازہ ہو سکے گا کہ میں کتنا فضول بولتی ہوں۔
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے قدم قدم آباد ، قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری، تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی، ہم دیکھیں آزاد
ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی اللہ رکھے
دھڑکن دھڑکن پیارا ہے تیرا، قدم قدم پر گیت رے
بستی بستی تیرا چرچا، نگر نگر ہے میت تیرے
جب تک ہے یہ دنیا باقی
ہم دیکھیں آزاد، ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے قدم قدم آباد، قدم قدم آباد تجھے
تیری پیاری سج دھج پر ہم واری واری جائیں
آنے والی نسلیں تیری عظمت کے گن گائیں
جب تک ہے یہ دنیا باقی
ہم دیکھیں آزاد، ہم دیکھیں آزاد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی
اللہ رکھے قدم قدم آباد، قدم قدم آباد تجھے
عمر 84 بیویاں 86 یہ خبر آپ سب نے یقینا بی بی سی اردو پر پڑھی ہی ہو گی۔ دو دن سے میں یہی سوچ رہی ہوں کہ مسلمان بھی کیا چیز ہیں۔ 84 سالہ بابا جی کا کہنا ہے کہ۔۔۔
” قرآن میں چار سے زیادہ شادی کرنے والے شخص کے لیے کسی طرح کی سزا کی بات نہیں کی گئی ہے۔”
ابو بکر کی 86 بیویاں اور 170 بچے ہیں۔ وہ نائجیریا میں رہتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ نہایت ہی پر سکون اور خوشی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ باقی مرد اس کو ایک مثال نہ بنائیں۔
ابوبکر کا کہنا ہے کہ ’میں بیویوں کی تلاش میں نہیں جاتا وہ میرے پاس آتی ہیں۔‘
سبحان اللہ۔ کیا کہنے ہیں۔ اگر عورتیں پاس آتی بھی ہیں تو یہ بابا جی کیا انہی کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں؟
انکی ایک بیوی شریفت بیلو ابوبکر نے بتایا: ’جیسے ہی میں ان سے ملی میرے سر کا درد جاتا رہا۔ اللہ نے مجھے بتایا کہ ان سے شادی کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری ان سے شادی ہوئی ہے۔ ‘
کیا اتنی بے وقوف عورتیں بھی ہوتی ہیں؟
بابا جی سے یہ پوچھنے پر کہ ان کے خاندان کا گزارا کیسے ہوتا ہے تو نہایت ہی دلچسپ جواب دیا کہ۔۔۔
’سب اللہ کی مہربانی ہے۔ ‘
یہ مہربانی کیا صرف چھیاسی شادیاں کرنے والے کے گھر میں ہی ہوتی ہے؟
ابوبکر کی زیادہ تر بیویوں کی عمر 25 برس سے بھی کم ہے اور ان کی بیویوں نے بی بی سی کوبتایا وہ ابوبکر کے پاس اپنی بیماریوں کا علاج کرانے کی مقصد سے آئی تھیں اور انکی مدد سے انکی بیماری ٹھیک بھی ہوگئی۔
مکمل خبر بی بی سی پر پڑھیں۔ میں بس یہ دلچسپ خبر بلاگ پر سیو ہی کرنا چاہ رہی تھی۔