Jul 30 2008
موت
“آج دن بہت گرمی پڑی اور عجیب سا سناٹا رہا۔“ آمنہ نے ایک لمبی خاموشی توڑتے ہوئے قطب الدین سے کہا۔
قطب الدین جو کافی دیر سے نہر کے پرسکون اور ٹھہرے ہوئے پانی کو دیکھ رہا تھا، نے صرف “ہاں“ ہی کہا۔
وہ دونوں دن بھر کی گرمی کے بعد شام کو نہر کے کنارے ایک بینچ پر کافی دیر سے بیٹھے ہوئے تھے۔ قطب الدین سفید جوڑے، سفید ریش اور سفید بالوں میں نہایت ہی معزز بزرگ دکھائی دے رہا تھا۔ آمنہ نے بھی سفید بالوں پر سفید رنگ کا ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔
قطب الدین دریا کے کنارے پرندوں کو پانی پیتے دیکھ رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سوچ کی کسی اور دنیا میں نکل گیا تھا۔
آمنہ کے پوچھنے پر کہ “قطب الدین کیا سوچ رہے ہو؟“ پر وہ چونکا۔ اور کہنے لگا کہ “ نہیں ، کچھ نہیں۔“
پھر خود ہی آمنہ سے مخاطب ہوا۔ “آمنہ، کیا تمھیں یاد ہے جب ہم نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا؟“
“ہاں، تب تم جوان اور تمھارے بال کالے ہوا کرتے تھے۔“ آمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
قطب الدین بھی اس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ “ٹھیک کہتی ہو، وقت بھی کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔۔۔“ “لیکن اپنے ساتھ بہت کچھ لے کر بھی تو آتا ہے۔“ آمنہ نے اس کی بات کو مکمل کیا۔
قطب الدین نے ایک آہ بھرتے ہوئے صرف ہاں میں گردن ہی ہلائی۔ اور پھر دونوں ایک بار پھر کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے اور پرانے وقت کو یاد کرنے لگے۔
جب ان کی شادی ہوئی تو قطب الدین ایک سکول میں معلم کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ آمنہ نہایت ہی سمجھدار اور سگھڑ لڑکی تھی۔ گھر والے تو گھر والے محلے والے بھی آمنہ کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں تھے۔ آمنہ قطب الدین کی تنخواہ سے نہایت ہی سمجھداری سے گھر کو چلا رہی تھی۔ ایک پر سکون اور خوشیوں سے بھری زندگی گزر رہی تھی، اور جب ان کے گھر ان کا پہلا بیٹا فرحان آیا تو آمنہ اور قطب الدین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ قطب الدین نے تو اس دن سارے محلے میں مٹھائی بانٹی۔ آمنہ کا اب زیادہ تر وقت فرحان کو سنبھالنے میں ہی گزرتا۔ وہ اسکی ہر چیز کا خیال رکھنے لگی، اس کو اپنے بیٹے کی ہر آواز و حرکت کا علم ہوتا کہ اب اس کا بچہ کیا چاہتا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔آمنہ اور قطب الدین کے آنگن میں اب تین پھول کھیلتے رہتے۔ فرحان، ثاقب اور عائشہ۔ عائشہ کے آنے پر قطب الدین کو ایک اور خوشی یہ ملی کہ اس کی ترقی ہو گئی۔ زندگی اب نہایت ہی مصروف ہو گئی تھی۔ قطب الدین نے بچوں کی اچھی تعلیم کے لیے انہوں اچھے سکولوں میں داخل کروایا تھا۔ اور دونوں ماں باپ اپنے بچوں کو اچھے عہدوں پر فائز ہونے کے خواب دیکھتے رہتے۔
“ہمیشہ وقت گزر جانے کے بعد ہی احساس ہوتا ہے کہ وقت بہت جلدی گزر گیا۔“ وقت گزرتا گیا اور قطب الدین اور آمنہ کا بڑا بیٹا فرحان سرکاری عہدے پر فائز ہو گیا۔ ثاقب کے ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری ہوئی تو ادھر عائشہ اپنے ابا کی طرح تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہونا چاہتی تھی۔ قطب الدین اور آمنہ اپنی زندگی سے نہایت ہی مطمئن تھے۔ لیکن جب بیٹے اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے اور اچھا کمانے لگے تو انھیں ہر چیز میں کوئی نہ کوئی خامی دکھائی دینے لگی۔ فرحان کو تو اپنا گھر بھی چھوٹا لگنے لگا تھا، اور اپنے رہن سہن کے انداز میں خامیاں دکھائی دینے لگیں۔ اسے محلے کے لوگ بھی غیرمہذب لگنے لگے۔ وہ بارہا اپنے والدین کو کہہ چکا تھا کہ وہ نیا بڑا گھر لے گا تو ہم وہاں شفٹ ہو جائیں گے۔ آمنہ اور قطب الدین یہ سن کر خاموش ہو جاتے۔ وہ دونوں ہی اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور جانے کو تیار نہ تھے۔ آخر فرحان نے اپنا گھر لے ہی لیا اور اپنی پسند کی شادی کا فیصلہ بھی اماں ابا کو سنا دیا۔۔ اس شادی پر آمنہ اور قطب الدین کے چہرے پر خوشی کے کوئی آثار نہ تھے۔ ثاقب بھی اپنے بڑے بھائی کے نقشِ قدم پر چلا اور اس نے بھی اپنی کولیگ ڈاکٹر سے شادی کر لی۔ اور اپنے نئے گھر میں رہنے لگا۔
قطب الدین اب ریٹائر ہو چکا تھا۔ اس کا کام صرف محلے کی مسجد اور گھر کا سودا سلف لانا رہ گیا تھا۔ اپنے دونوں بیٹوں کے چھوڑ جانے کا غم اسے اندر ہی اندر کھانے لگا تھا۔ اور پھر وہ بیٹی کو بیاہ دینے کا سوچ کر بھی ڈر جاتا تھا۔ آمنہ اسے سمجھاتی کہ “ہم دونوں تو ہیں ہی۔ ایک دوسرے سے باتیں کیا کریں گے۔“
پھر ایک دن عائشہ کی بھی شادی ہو گئی۔ اور شادی کے بعد عائشہ کو اپنے شوہر کے ساتھ ملک سے باہر جانا پڑا۔ عائشہ کی شادی کے بعد دونوں بیٹوں نے اماں، ابا سے اپنے گھروں میں رہنے کو کہا تھا لیکن وہ دونوں نہ مانے۔
گھر میں عجیب سا سناٹا رہنے لگا تھا ہر وقت موت کا سا سماں رہتا تھا۔ گھر میں صرف اسی وقت کوئی آواز گونجتی، جب قطب الدین آمنہ سے کھانا لانے کو کہتا، یا پھر اپنے باہر جانے کا بتاتا۔
آج ساری رات قطب الدین کو ٹھیک سے نیند نہیں آئی تھی۔ عجیب سی بے چینی میں وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔ شاید گرمی کی وجہ سے وہ ٹھیک سے سو نہ سکا۔ صبح جب فجر کی اذان ہوئی تو وہ پہلے سے ہی جاگ رہا تھا۔ وہ بستر سے اٹھا اور وضو کر کے مسجد جانے کی تیاری کرنے لگا۔ جاتے ہوئے اس نے آمنہ کو آواز دے کر نماز کا وقت ہو جانے کا اور دروازہ بند کر لینے کا کہا۔ اور دروازے سے باہر نکل گیا۔ جب تک قطب الدین واپس لوٹا، آسمان پر سورج کی سرخی پھیل چکی تھی۔ اور سورج ابھی مکمل نکلا بھی نہ تھا کہ گرمی کی شدت کا اندازہ ہو رہا تھا۔
آمنہ نے کچن میں ناشتہ بناتے ہوئے قطب الدین سے پوچھا کہ “آج واپس آنے میں بہت دیر لگا دی؟“
“ہاں، بس کچھ محلے والوں سے باتیں کرنے کے لیے رکا تو باتیں ہی کرتا رہ گیا۔“ اس نے کچھ اس طرح کہا جیسے وہ اپنی اس حرکت پر طنزیہ سا ہنس رہا ہو۔
“اچھا، یہ لیں۔۔! آپ ناشتہ کریں۔“ آمنہ نے اس کے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے کہا۔
“تم نہیں کرو گی کیا؟“ قطب الدین نے کچھ اس طرح کہا کہ وہ آمنہ کے ساتھ ناشتہ کرنا چاہ رہا تھا۔
دونوں ناشتہ کرتے ہوئے باتیں کرنے لگے۔ باتوں باتوں میں آمنہ کہنے لگی کہ “آج بھنڈیاں کھانے کا جی کر رہا ہے۔“
“ہاں، مگر بازار سے تب لا کر دوں گا جب تم اس میں مرغی بھی شامل کرو گی۔“ قطب الدین نے جیسے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
“ہاں ہاں، مجھے معلوم ہے کہ تمھیں بھنڈی اور مرغی کا سالن پسند ہے، اس لیے ایسے ہی بناؤں گی۔“ آمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جولائی کے مہینے کا آخری دن تھا۔ دوپہر میں سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ چرند، پرند درختوں کے سائے میں زبانیں نکالے ہوئے بیٹھے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ سب اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ قطب الدین دروازے سے اندر داخل ہوا اور آمنہ کو آواز دی۔ اسے سامان پکڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ “آج تو بہت گرمی ہے“ ۔ آمنہ جلدی سے اس کے لیے ٹھنڈے پانی کا گلاس لے آئی۔
آمنہ جب تک کچن میں کھانا بناتی رہی۔ قطب الدین پنکھے کے سامنے بیٹھا بہت پرانے وقت کو یاد کر رہا تھا۔ آج جانے کیوں اس کو بار بار پچھلا وقت یاد آ رہا تھا۔ رات کی بے چینی میں بھی وہ اپنے بچپن سے لے کر اب تک کے تمام وقت کو یاد کرتا رہا۔
کھانا بننے پر دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا۔ اور وقفے وقفے سے باتیں بھی جاری رکھیں۔
“آمنہ۔۔۔میری وجہ سے اگر تمھیں کوئی دکھ پہنچا ہو یا میں نے تمھارے ساتھ کوئی نا انصافی کی ہو، تو مجھے معاف کر دینا۔“ کچھ خاموشی کے بعد قطب الدین نے رکتے رکتے ہوئے کہا۔
آمنہ اس کی طرف پیار سے دیکھ کر کہنے لگی “ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ میں نے آپ سے کبھی کوئی گلہ یا شکایت کی؟“
“اچھا، چلو آج شام نہر کی طرف چلتے ہیں۔“ قطب الدین نے بات کا رخ موڑتے ہوئے کہا۔
قطب الدین کے ایک، دو بار کہنے پر آمنہ مان گئی۔
شام مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد جب دونوں گھر سے نکلے تو پرندے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع ہو رہے تھے۔ وہ گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ہی موجود نہر کی طرف چل پڑے تھے۔
اور وہاں بیٹھے وہ اپنے بیتے دنوں کو یاد کر رہے تھے کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
آمنہ نے شمال کی طرف دیکھا، جہاں آسمان سرخ ہو رہا تھا۔ قطب الدین سے کہنے لگی کہ “لگتا ہے آج دن بھر کی خاموشی طوفان لے کر آنے والی ہے۔“
“ہاں، لگتا ہے آج بارش کے ساتھ ساتھ آندھی بھی آئے گی“ قطب الدین نے شمال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
آمنہ گھر جانے کے لیے اٹھی اور کہنے لگی “جلدی گھر چلو، میں صحن میں کچھ کپڑے دھو کر ڈال آئی تھی“
قطب الدین نے قدرے جھنجھلا کر کہا کہ “کتنی بار تمھیں کہا ہے کہ گھر سے نکلتے ہوئے سارے چیزیں سنبھال کر نکلا کرو۔“
وہ دونوں اٹھے اور گھر کی طرف بڑھنے لگے۔ سڑک پار کرتے ہوئے انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ اس طرح پکڑا، جیسے ہاتھ پکڑے بغیر وہ اکیلے سڑک پار ہی نہ کر پائیں گے۔
جونہی وہ سڑک کے دوسرے کنارے پہنچے کہ سامنے سے تیز رفتار میں آتی ہوئی “موت“ نے ان دونوں کو کچل دیا۔ آسمان کی سرخی کے ساتھ ان کے سفید کپڑے بھی سرخ ہو گئے۔
—————–
نوٹ: اس افسانے کی کہانی ایک فرضی کہانی ہے۔ یہ کہانی اور اس کے کردار کی کسی سے مشابہت محض اتفاق ہو سکتا ہے۔



حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 31 Jul 2008 at 11:01 am
اچھا لکھا ہے۔ مکالمے کافی مربوط ہیں۔۔
ازراہ تفنن ۔۔ یہ شمال میںسرخی کب سے ہونے لگی ۔۔ ہمارے یہاں تو سورج مغرب میں ڈوبتا ہے۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 31 Jul 2008 at 12:42 pm
اچھا لکھا ہے ماوراء ، تم افسانہ بھی لکھنے لگی ہو کب سے ؟؟؟؟؟؟؟ خود سے لکھا یا کوئی آئیڈ یا لیا کہیں سے ؟ شاعری بھی کی کبھی ؟؟؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 Aug 2008 at 4:23 pm
راشد، سورج کی سرخی نہیں تھی یہ۔ :dsadas:
جب آندھی نے آنا ہوتا ہے، یا برف پڑتی ہے تو اس سے پہلے جو آسمان سرخ ہوتا ہے۔ وہ والی تھی۔
—
حجاب، ہاں خواب آئی تھی۔
دو بڈھا، بڈھی ہوتے ہیں، سفید رنگ کے کپڑوں، بالوں میں اور رات کے اندھیرے میں دریا کے کنارے چاند کی سفید چاندنی میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ دونوں بہت اداس تھے۔ ان کو ایک دوسرے کے مرنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ وہ ساتھ مرنا چاہ رہے تھے۔ :dsadas:
اب خواب کو میں ادھورا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ اس لیے اس کی کہانی بنا دی۔ :dsadsad:
شاعری؟ توبہ کرو۔۔ میری جان جاتی ہے اس کو دیکھ کر۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 02 Aug 2008 at 5:12 am
ابھی میں جلدی میں ہوں، بعد میں آکر پڑھتا ہوں۔ یہ خود لکھا ہے یا؟
اس تبصرے کا جواب دیں
on 02 Aug 2008 at 5:13 am
ویسے خواب آئی نہیں کرتی، آیا کرتا ہے۔
اور اسی تبصرے کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ خود لکھا ہے۔۔۔ تبصرہ بعد میں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 02 Aug 2008 at 9:56 am
ماوراء ، خواب میں جو اولڈ کپل نظر آیا وہ پٹھان تو نہیں تھے ؟؟ اگر پٹھان تھے تو خواب آئی ٹھیک ہے
ورنہ راہبر کی بات ٹھیک ہے خواب آتا ہے اگر خواب میں لڑکی نظر آئے تو بھی خواب آتا ہے آتی نہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 02 Aug 2008 at 10:39 am
ہاں عمار، خود لکھا ہے۔ پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا۔ :dsadsad:
–
حجاب، پٹھان کیوں؟ پھر کیسے ٹھیک آئی ہے؟ اچھا ویسے یہ جاگتی آنکھ کا خواب تھا۔ اور اس میں پٹھان کا کوئی تصور نہیں تھا۔
ہاں واقعی، خواب آیا تھا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 03 Aug 2008 at 10:16 am
ماوراء ، پٹھان اس لیئے پوچھا کہ پٹھان بولتے ہیں نہ کہ ہم آتی ہے توپٹھان کا خواب بھی آتی ہوگا
میں سمجھی تم خواب میں پٹھان کپل کو دیکھ کر خواب آتی لکھ گئی ہو
اس تبصرے کا جواب دیں
on 03 Aug 2008 at 10:04 pm
واہ! تم نے تو پورا افسانہ ہی لکھ مارا۔۔۔ لگتا ہے ادب کی اس صنف کا کافی مطالعہ رہا ہے کیونکہ کرداروں کے نام اور ان کا انداز تکلم دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔۔۔ کلاسک ٹچ۔۔۔
بہت خوب!
اس تبصرے کا جواب دیں
on 04 Aug 2008 at 4:07 pm
او ہاں حجاب۔۔۔ اب سمجھ آئی۔ پٹھان کی۔
ویسے میرے ذہن میں بہت سی مکمل کہانیاں ہیں۔۔ لیکن بس کاغذ پر اتارنا نہیں آتا۔ :dsadas:
—
توبہ عمار۔۔۔اتنا بھی نہ کہو۔۔
لیکن اپنی زندگی میں ایک اردو میں کتاب تو لکھنی ہی ہے۔۔ تو سوچ رہی ہوں۔۔لکھنے کی ہمت کروں۔۔تاکہ جب کتاب لکھنی ہو تب تک کانفیڈنس آیا ہو۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 05 Aug 2008 at 1:11 pm
السلامُ عليکُم
ماوراء بہت اچھی کوشش ہے، لکھنے کی کوشش کرو افسانہ بھی اچھا انجام کيا جب بے چارے دونوں تنہا ہی رہ گۓ تھے تو اچھا ہے کہ جہاں گۓ ايک ساتھ گۓ گو تبصرہ شايد آپ کو سخت لگے ليکن بہت مُشکل ہوتا ہے ايک کے بعد دُوسرے کا تنہا رہنا جُملوں پر گرِفت اچھی تھی
اس تبصرے کا جواب دیں
on 05 Aug 2008 at 11:54 pm
بہت خوبصورت لکھا ہے۔ نہ صرف یہ کہ تحریر پر گرفت رہی ہے بلکہ کہانی بھی جاندار ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 25 Aug 2008 at 2:55 pm
وعلیکم السلام شاہدہ، تبصرہ سخت بالکل بھی نہیں، مجھے اندازہ ہے، کہ عمر کے آخری حصے میں اکیلا رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے ایک ساتھ ان کو موت آئی۔
—
عارم، شکریہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں