Jul
31
2008
پتہ نہیں کیوں۔۔۔ لیکن اگست کے شروع ہونے پر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ اس ماہ میری سالگرہ ہوتی ہے، بلکہ یہ سارا مہینہ اور بھی بہت سے لوگوں کو سالگرہ وِش کرنے میں گزر جاتا ہے۔ اگست میں کس کس کی سالگرہ ہے، اس کا مختصر سا جائزہ۔ اگر کسی کا نام رہ گیا ہو توضرور بتائیں۔ تاکہ اسے بھی وِش کیا جا سکے۔ اور اگر کسی کو میرا بلاگ پر اس کی سالگرہ کا دن لکھنا اچھا نہ لگے تو مجھے بتا دے، میں ہٹا دوں گی۔
یکم اگست سے تو ہم ویسے بھی پاکستان کی سالگرہ منانے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔
| اجمل چچا |
چھ اگست |
| شمیل قریشی |
بارہ اگست |
| پاکستان + میرا بلاگ + جیہ (اردو محفل + میری بھتیجی |
چودہ اگست |
| امن ایمان |
پندرہ اگست |
| ماوراء |
اٹھارہ اگست |
| ساجد اقبال
کاشفی |
بیس اگست
بائیس اگست |
| میری دوست |
تیس اگست |
اس کے علاوہ انکل مشرف کی گیارہ اگست اور بل کلنٹن کی انیس اگست کی سالگرہ کے ساتھ ساتھ پندرہ اگست کو کوریا اور انڈیا، سترہ اگست کو انڈونیشیا اور اکتیس اگست کو ملائیشا بھی آزادی کے دن مناتے ہیں۔
—–
آج دن جب باجو کی کال آئی تو وہ اتنی جلدی میں تھیں مجھے کہنے لگیں کہ ماوراء میں شاپنگ کر رہی ہوں، رنگ کا کچھ سمجھ نہیں آ رہا، سوچا کہ تم سے مشورہ کر لوں۔۔تم بتاؤ کون سا لوں۔ میں نے رنگ بتایا تو کہنے لگی ، اچھا اب گھر آ کر فون کرتی ہوں۔۔۔!
کچھ دیر بعد پھر فون آیا تو کہنے لگیں ۔ تمھاری سالگرہ کا گفٹ پیک کر رہی ہوں۔ اب میل کا خاص دھیان رکھنا۔ بہت کہا کہ اس کی کیا ضرورت تھی۔۔ لیکن باجو ہیں کہ کسی کی سنتی ہی نہیں۔
میری سالگرہ کا تحفہ تو اتنے دن پہلے ہی مجھے مل رہا ہے۔
باجو، آپ کے لیے کارڈ۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کی محبت کے سامنے یہ بہت چھوٹا سا” تھینک یو” ہے۔ لیکن پھر بھی میری طرف سے لے لیں۔

Jul
30
2008
“آج دن بہت گرمی پڑی اور عجیب سا سناٹا رہا۔“ آمنہ نے ایک لمبی خاموشی توڑتے ہوئے قطب الدین سے کہا۔
قطب الدین جو کافی دیر سے نہر کے پرسکون اور ٹھہرے ہوئے پانی کو دیکھ رہا تھا، نے صرف “ہاں“ ہی کہا۔
وہ دونوں دن بھر کی گرمی کے بعد شام کو نہر کے کنارے ایک بینچ پر کافی دیر سے بیٹھے ہوئے تھے۔ قطب الدین سفید جوڑے، سفید ریش اور سفید بالوں میں نہایت ہی معزز بزرگ دکھائی دے رہا تھا۔ آمنہ نے بھی سفید بالوں پر سفید رنگ کا ڈوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔
قطب الدین دریا کے کنارے پرندوں کو پانی پیتے دیکھ رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سوچ کی کسی اور دنیا میں نکل گیا تھا۔
آمنہ کے پوچھنے پر کہ “قطب الدین کیا سوچ رہے ہو؟“ پر وہ چونکا۔ اور کہنے لگا کہ “ نہیں ، کچھ نہیں۔“
پھر خود ہی آمنہ سے مخاطب ہوا۔ “آمنہ، کیا تمھیں یاد ہے جب ہم نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا؟“
“ہاں، تب تم جوان اور تمھارے بال کالے ہوا کرتے تھے۔“ آمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
قطب الدین بھی اس کی بات سن کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ “ٹھیک کہتی ہو، وقت بھی کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔۔۔“ “لیکن اپنے ساتھ بہت کچھ لے کر بھی تو آتا ہے۔“ آمنہ نے اس کی بات کو مکمل کیا۔
قطب الدین نے ایک آہ بھرتے ہوئے صرف ہاں میں گردن ہی ہلائی۔ اور پھر دونوں ایک بار پھر کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے اور پرانے وقت کو یاد کرنے لگے۔
جب ان کی شادی ہوئی تو قطب الدین ایک سکول میں معلم کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ آمنہ نہایت ہی سمجھدار اور سگھڑ لڑکی تھی۔ گھر والے تو گھر والے محلے والے بھی آمنہ کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں تھے۔ آمنہ قطب الدین کی تنخواہ سے نہایت ہی سمجھداری سے گھر کو چلا رہی تھی۔ ایک پر سکون اور خوشیوں سے بھری زندگی گزر رہی تھی، اور جب ان کے گھر ان کا پہلا بیٹا فرحان آیا تو آمنہ اور قطب الدین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ قطب الدین نے تو اس دن سارے محلے میں مٹھائی بانٹی۔ آمنہ کا اب زیادہ تر وقت فرحان کو سنبھالنے میں ہی گزرتا۔ وہ اسکی ہر چیز کا خیال رکھنے لگی، اس کو اپنے بیٹے کی ہر آواز و حرکت کا علم ہوتا کہ اب اس کا بچہ کیا چاہتا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔آمنہ اور قطب الدین کے آنگن میں اب تین پھول کھیلتے رہتے۔ فرحان، ثاقب اور عائشہ۔ عائشہ کے آنے پر قطب الدین کو ایک اور خوشی یہ ملی کہ اس کی ترقی ہو گئی۔ زندگی اب نہایت ہی مصروف ہو گئی تھی۔ قطب الدین نے بچوں کی اچھی تعلیم کے لیے انہوں اچھے سکولوں میں داخل کروایا تھا۔ اور دونوں ماں باپ اپنے بچوں کو اچھے عہدوں پر فائز ہونے کے خواب دیکھتے رہتے۔
“ہمیشہ وقت گزر جانے کے بعد ہی احساس ہوتا ہے کہ وقت بہت جلدی گزر گیا۔“ وقت گزرتا گیا اور قطب الدین اور آمنہ کا بڑا بیٹا فرحان سرکاری عہدے پر فائز ہو گیا۔ ثاقب کے ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری ہوئی تو ادھر عائشہ اپنے ابا کی طرح تعلیم کے شعبہ سے منسلک ہونا چاہتی تھی۔ قطب الدین اور آمنہ اپنی زندگی سے نہایت ہی مطمئن تھے۔ لیکن جب بیٹے اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے اور اچھا کمانے لگے تو انھیں ہر چیز میں کوئی نہ کوئی خامی دکھائی دینے لگی۔ فرحان کو تو اپنا گھر بھی چھوٹا لگنے لگا تھا، اور اپنے رہن سہن کے انداز میں خامیاں دکھائی دینے لگیں۔ اسے محلے کے لوگ بھی غیرمہذب لگنے لگے۔ وہ بارہا اپنے والدین کو کہہ چکا تھا کہ وہ نیا بڑا گھر لے گا تو ہم وہاں شفٹ ہو جائیں گے۔ آمنہ اور قطب الدین یہ سن کر خاموش ہو جاتے۔ وہ دونوں ہی اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور جانے کو تیار نہ تھے۔ آخر فرحان نے اپنا گھر لے ہی لیا اور اپنی پسند کی شادی کا فیصلہ بھی اماں ابا کو سنا دیا۔۔ اس شادی پر آمنہ اور قطب الدین کے چہرے پر خوشی کے کوئی آثار نہ تھے۔ ثاقب بھی اپنے بڑے بھائی کے نقشِ قدم پر چلا اور اس نے بھی اپنی کولیگ ڈاکٹر سے شادی کر لی۔ اور اپنے نئے گھر میں رہنے لگا۔
قطب الدین اب ریٹائر ہو چکا تھا۔ اس کا کام صرف محلے کی مسجد اور گھر کا سودا سلف لانا رہ گیا تھا۔ اپنے دونوں بیٹوں کے چھوڑ جانے کا غم اسے اندر ہی اندر کھانے لگا تھا۔ اور پھر وہ بیٹی کو بیاہ دینے کا سوچ کر بھی ڈر جاتا تھا۔ آمنہ اسے سمجھاتی کہ “ہم دونوں تو ہیں ہی۔ ایک دوسرے سے باتیں کیا کریں گے۔“
پھر ایک دن عائشہ کی بھی شادی ہو گئی۔ اور شادی کے بعد عائشہ کو اپنے شوہر کے ساتھ ملک سے باہر جانا پڑا۔ عائشہ کی شادی کے بعد دونوں بیٹوں نے اماں، ابا سے اپنے گھروں میں رہنے کو کہا تھا لیکن وہ دونوں نہ مانے۔
گھر میں عجیب سا سناٹا رہنے لگا تھا ہر وقت موت کا سا سماں رہتا تھا۔ گھر میں صرف اسی وقت کوئی آواز گونجتی، جب قطب الدین آمنہ سے کھانا لانے کو کہتا، یا پھر اپنے باہر جانے کا بتاتا۔
آج ساری رات قطب الدین کو ٹھیک سے نیند نہیں آئی تھی۔ عجیب سی بے چینی میں وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔ شاید گرمی کی وجہ سے وہ ٹھیک سے سو نہ سکا۔ صبح جب فجر کی اذان ہوئی تو وہ پہلے سے ہی جاگ رہا تھا۔ وہ بستر سے اٹھا اور وضو کر کے مسجد جانے کی تیاری کرنے لگا۔ جاتے ہوئے اس نے آمنہ کو آواز دے کر نماز کا وقت ہو جانے کا اور دروازہ بند کر لینے کا کہا۔ اور دروازے سے باہر نکل گیا۔ جب تک قطب الدین واپس لوٹا، آسمان پر سورج کی سرخی پھیل چکی تھی۔ اور سورج ابھی مکمل نکلا بھی نہ تھا کہ گرمی کی شدت کا اندازہ ہو رہا تھا۔
آمنہ نے کچن میں ناشتہ بناتے ہوئے قطب الدین سے پوچھا کہ “آج واپس آنے میں بہت دیر لگا دی؟“
“ہاں، بس کچھ محلے والوں سے باتیں کرنے کے لیے رکا تو باتیں ہی کرتا رہ گیا۔“ اس نے کچھ اس طرح کہا جیسے وہ اپنی اس حرکت پر طنزیہ سا ہنس رہا ہو۔
“اچھا، یہ لیں۔۔! آپ ناشتہ کریں۔“ آمنہ نے اس کے سامنے ناشتہ رکھتے ہوئے کہا۔
“تم نہیں کرو گی کیا؟“ قطب الدین نے کچھ اس طرح کہا کہ وہ آمنہ کے ساتھ ناشتہ کرنا چاہ رہا تھا۔
دونوں ناشتہ کرتے ہوئے باتیں کرنے لگے۔ باتوں باتوں میں آمنہ کہنے لگی کہ “آج بھنڈیاں کھانے کا جی کر رہا ہے۔“
“ہاں، مگر بازار سے تب لا کر دوں گا جب تم اس میں مرغی بھی شامل کرو گی۔“ قطب الدین نے جیسے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
“ہاں ہاں، مجھے معلوم ہے کہ تمھیں بھنڈی اور مرغی کا سالن پسند ہے، اس لیے ایسے ہی بناؤں گی۔“ آمنہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جولائی کے مہینے کا آخری دن تھا۔ دوپہر میں سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ چرند، پرند درختوں کے سائے میں زبانیں نکالے ہوئے بیٹھے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ سب اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ قطب الدین دروازے سے اندر داخل ہوا اور آمنہ کو آواز دی۔ اسے سامان پکڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ “آج تو بہت گرمی ہے“ ۔ آمنہ جلدی سے اس کے لیے ٹھنڈے پانی کا گلاس لے آئی۔
آمنہ جب تک کچن میں کھانا بناتی رہی۔ قطب الدین پنکھے کے سامنے بیٹھا بہت پرانے وقت کو یاد کر رہا تھا۔ آج جانے کیوں اس کو بار بار پچھلا وقت یاد آ رہا تھا۔ رات کی بے چینی میں بھی وہ اپنے بچپن سے لے کر اب تک کے تمام وقت کو یاد کرتا رہا۔
کھانا بننے پر دونوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا۔ اور وقفے وقفے سے باتیں بھی جاری رکھیں۔
“آمنہ۔۔۔میری وجہ سے اگر تمھیں کوئی دکھ پہنچا ہو یا میں نے تمھارے ساتھ کوئی نا انصافی کی ہو، تو مجھے معاف کر دینا۔“ کچھ خاموشی کے بعد قطب الدین نے رکتے رکتے ہوئے کہا۔
آمنہ اس کی طرف پیار سے دیکھ کر کہنے لگی “ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ میں نے آپ سے کبھی کوئی گلہ یا شکایت کی؟“
“اچھا، چلو آج شام نہر کی طرف چلتے ہیں۔“ قطب الدین نے بات کا رخ موڑتے ہوئے کہا۔
قطب الدین کے ایک، دو بار کہنے پر آمنہ مان گئی۔
شام مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد جب دونوں گھر سے نکلے تو پرندے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع ہو رہے تھے۔ وہ گھر سے کچھ ہی فاصلے پر ہی موجود نہر کی طرف چل پڑے تھے۔
اور وہاں بیٹھے وہ اپنے بیتے دنوں کو یاد کر رہے تھے کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
آمنہ نے شمال کی طرف دیکھا، جہاں آسمان سرخ ہو رہا تھا۔ قطب الدین سے کہنے لگی کہ “لگتا ہے آج دن بھر کی خاموشی طوفان لے کر آنے والی ہے۔“
“ہاں، لگتا ہے آج بارش کے ساتھ ساتھ آندھی بھی آئے گی“ قطب الدین نے شمال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
آمنہ گھر جانے کے لیے اٹھی اور کہنے لگی “جلدی گھر چلو، میں صحن میں کچھ کپڑے دھو کر ڈال آئی تھی“
قطب الدین نے قدرے جھنجھلا کر کہا کہ “کتنی بار تمھیں کہا ہے کہ گھر سے نکلتے ہوئے سارے چیزیں سنبھال کر نکلا کرو۔“
وہ دونوں اٹھے اور گھر کی طرف بڑھنے لگے۔ سڑک پار کرتے ہوئے انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ اس طرح پکڑا، جیسے ہاتھ پکڑے بغیر وہ اکیلے سڑک پار ہی نہ کر پائیں گے۔
جونہی وہ سڑک کے دوسرے کنارے پہنچے کہ سامنے سے تیز رفتار میں آتی ہوئی “موت“ نے ان دونوں کو کچل دیا۔ آسمان کی سرخی کے ساتھ ان کے سفید کپڑے بھی سرخ ہو گئے۔
—————–
نوٹ: اس افسانے کی کہانی ایک فرضی کہانی ہے۔ یہ کہانی اور اس کے کردار کی کسی سے مشابہت محض اتفاق ہو سکتا ہے۔
Jul
28
2008
پچھلی پوسٹ میں فلرٹ کے بارے میں کچھ لکھا۔پھر امن نے بھی لکھا۔
فلرٹ کے معنی شاید میری سوچ سے زیادہ بڑے ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے پچھلی پوسٹ کے تبصروں سے ہوا۔ فلرٹ کرنے کو میں دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوں۔ ایک ایسا فلرٹ کرنا جو نہایت ہی مختصر وقت کے لیے ہو۔ اور دوسرا جو لمبے عرصے کے لیے۔
فلرٹ کیسے کیا جاتا ہے؟
پہلی سٹیج سے شروع کرتے ہوئے اگلی سٹیجز تک بڑھتے ہیں۔ فلرٹ کرنے میں سب سے پہلے آپ کی باڈی لینگوئج آتی ہے، آپ کا مخصوص انداز میں مسکرانا، آنکھوں کا رابطہ، آپ کا دوسرے کی کچھ زیادہ ہی تعریف کرنا، اپنے آپ کو اس طرح سے پیش کرنا کہ دوسرا متاثر ہو جائے اور پھر آخری حد جھوٹی محبت تک۔اب ہم پاکستانی ہیں تو فلرٹ کا مطلب پاکستان جتنا ہی سوچیں۔ جو مطلب مغرب میں لیا جاتا ہے، اس کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔
مختصر دورانیے کا فلرٹ کیسے؟
اکثر بسوں، ٹرینوں یا پبلک جگہ پر کہیں بھی آپ کو اگر کوئی پرانا دوست یا کوئی جاننے والا ملتا ہے تو آپ اس سے مختصر ملاقات کے دوران بھی فلرٹ کر سکتے ہیں۔ میں نے ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں۔ اگر بس میں کسی کو کوئی جاننے والا ملتا ہے یا ملتی ہے، تو ایک دوسرے کی حد سے زیادہ تعریفیں، دوسرے کی باتوں میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی ظاہر کرنا، باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو چھونا۔۔۔ اسطرح کی حرکات کے بعد بے اختیار یہی منہ سے نکلتا ہے کہ فلرٹ کر رہا ہے، یا رہی ہے۔ اس کے بعد آپ کا سٹاپ آیا۔۔۔ اور آپ اتر جاتے ہیں۔۔۔فلرٹ ختم۔۔۔!
فلرٹ کا مطلب لغت کے مطابق۔۔ ناز نخرے ، جھوٹی محبت کرنا ہیں۔ اب بات جب محبت تک آتی ہے تو یہاں آپ کا جذباتی معاملات میں نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ کیا کوئی کسی سے جھوٹ موٹ کی محبت کر سکتا ہے؟ کیا ایسے محبت ہو سکتی ہے؟ فلرٹ کرنے والا کہیں نہ کہیں تو خود بھی انوالو ہوتا ہی ہو گا، یہ تو بعد میں مجبوریاں آڑے آ جاتی ہوں گی، جس کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہوگا۔
بہرحال مختصر یہ کہ مرد اور عورت کے درمیان کشش ایک فطری عمل بھی ہے۔ زیادہ تر مردوں کو تو اپنی بیویوں کے بجائے دوسروں کی بیویاں اچھی لگتی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ انسان کا نفس کسی طور پر سیر نہیں ہوتا۔ اگر آپ ایک بار اس کام میں پڑ جائیں تو پھر دوبارہ کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے۔ اور آہستہ آہستہ اس کام میں ماہر ہو جاتے ہیں۔
میری تحریر کا مقصد صرف اتنا تھا کہ کم از کم مجھے فلرٹ کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ لیکن کسی کو منع نہیں کیا، ہر کسی کی اپنی زندگی ہے، جو مرضی کرے۔
لیکن ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ اس قسم کی حرکات میں سراسر آپ کا نقصان ہے۔ سب سے بڑا نقصان جو اس طرح کی حرکات سے ہوتا ہے وہ یہی کہ آپ کی عزت جاتی رہتی ہے، لوگ برے الفاظ میں آپ یاد کرتے ہیں۔ اور جب عزت چلی جائے تو بچتا کچھ بھی نہیں ہے۔
پچھلی تحریر کے تبصروں میں محبت پر بات ہو رہی تھی تو مجھے محبت نامی شے میں بھی کوئی خاص کشش دکھائی نہیں دیتی۔ محبت کے بارے میں میرا خیالات ویسے ہی (شاید) کچھ منفی سے ہیں۔ میرے خیال میں محبت جھکنے اور رکنے کا نام ہے۔ اور میں نہ ہی رک اور نہ ہی جھک سکتی ہوں۔ اور نہ ہی اپنے ہی جیسے انسان کو کوئی اتنی اہمیت دے سکتی ہوں۔ اگلا بھی انسان ہی ہے، اب اتنا بھی کیا سر چڑھانا۔
لیکن باقی سب کی رائے کی بھی قدر کرتی ہوں۔ کبھی کسی کو یہ نہیں کہا کہ میرے خیالات ایسے ہیں تو تم بھی ایسے ہی اپنے خیالات بنا لو۔ اور محبت نہ کرو۔
ٹاپک کلوزڈ۔۔۔!! اس فضول ٹاپک کے لیے مزید وقت ضائع نہیں کروں گی۔ :D
Jul
26
2008
کچھ عرصہ پہلے محب نے اس موضوع پر لکھا تھا۔ اور مزید لکھنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے، پھر جانے کیوں نہ لکھا۔ اس لیے اس کو میں آگے بڑھانے کی کوشش کرتی ہوں۔
فلرٹنگ کا مطلب جھوٹی محبت کرنا، دوسرے کو متاثر کرنے کے لیے مختلف حرکات اور باتیں اور ناز نخرے کرنا ہے۔ فلرٹ کرنے میں جنس کی قید کوئی نہیں ہے یعنی عورت بھی فلرٹ کر سکتی ہے اور مرد بھی کر سکتے ہیں۔
فلرٹ کے خلاف میں بالکل نہیں ہوں۔ اگر آپ تھوڑے وقت کے لیے فلرٹ کرتے ہیں تو اس میں حرج نہیں، یا پھر فلرٹ کی نوعیت اس قسم کی ہے کہ مذاق میں لیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
فلرٹ کرنے کو ایک آرٹ بھی مانا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کام میں اتنی مہارت رکھتے ہیں، کہ اگلا بندہ اس کے سحر میں آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایک وقت میں کئی لوگوں سے فلرٹ کر رہے ہوتے ہیں، کچھ ایک وقت میں ایک تک ہی رہتے ہیں۔:D
اگر آپ مختصر مدت کے لیے کسی سے ملے ہیں، تو آپ فلرٹ کر سکتے ہیں، لیکن ایک لمبے عرصے تک جھوٹی محبت کے دعوے کرتے رہنا سراسر بےوقوفی ہے۔ اور پھر ان لوگوں سے جو آپ میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے ، ان نے فلرٹ کرنا اس سے بھی بڑی بےوقوفی ہے۔
فلرٹ زیادہ تر مرد کرتے ہیں یا خواتین۔۔۔؟ مجھے معلوم تو نہیں لیکن میرے اندازے کے مطابق مرد ہی زیادہ کرتے ہیں۔ اس معاملے میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ میری دو خواتین کولیگز جن کا کام آفس میں صرف فلرٹ کرنا ہوتا تھا۔ آفس میں دو ہی لڑکے تھے، ایک آنٹی نے دونوں کو آگے لگایا ہوتا تھا۔ اور معصوم مرد اس کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔لیکن اس کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ جب اسے کوئی کام ہوتا تو دونوں جی جان سے حاضر ہو جاتے۔
جھوٹی محبت کر کے یا دوسروں کو متاثر کر کے کیا ملتا ہے؟ کم از کم مجھے اس میں صرف اور صرف وقت کا ضیاع لگتا ہے۔ اسی وقت میں ہم بہت سے اور کام بھی کر سکتے ہیں۔ ایک مصنوعی اور وقتی خوشی یا ذرا سی تفریح کے لیے انسان جانے کیا کیا کرتا ہے۔ فلرٹ کرنے والوں کو میں صرف ایک غیر سنجیدہ انسان کی حیثیت سے دیکھتی ہوں۔
آجکل تو فلرٹ کرنے والوں کے لیے بہت آسانی بھی ہو گئی ہے۔ آپ آن لائن چیٹ پر فلرٹ کر سکتے ہیں۔ آپ میلز بھیج کر فلرٹ کر سکتے ہیں، شاعری گانے بھیج کر فلرٹ کر سکتے ہیں۔ ویسے تو ان سب کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی، ہمارے نوجوان ماشااللہ بہت بے باک اور نڈر ہیں۔ بلاجھجھک بڑی آسانی سے فلرٹ کر لیتے ہیں۔ ان کی حالت کچھ اس قسم کی بھی ہوتی ہے کہ انھیں منع کیا جائے کہ بھائی معاف کرو ، ان فضولیات کا وقت نہیں ہے لیکن مجال ہے جو ان کے سر پر جوں بھی رینگ جائے۔ لیکن مردوں سے اگر کوئی لڑکی فلرٹ کرے تو یہ پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ وہ بھی شروع ہو جاتے ہیں۔:D
ہمارے معاشرے میں تو محبت کرنے والے کو بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ آجکل تو محبت کرنا بھی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اکثر ہمارے بڑے ہمیں پرانے وقتوں کی کہانیاں سناتے ہی رہتے ہیں یا پھر ڈراموں میں بھی بہت کچھ دکھایا جاتا ہے۔ جن سے بھی حالات کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ اگر سوچیں تو کسی کو خط لکھنا، کسی کو اپنی تصویر بھیجنا نہایت ہی گھٹیا قسم کی حرکتیں لگتی ہیں۔ اور اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ فلاں لڑکی یا لڑکے نے کسی کو خط یا تصویریں بھیجی ہیں۔ اس کے بعد کیا حالات ہوتے ہوں گے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
لیکن آجکل حالات اس سب کے بالکل برعکس ہیں۔ آپ روز ہی آن لائن چیٹ کر سکتے ہیں، روز ہی خط (میل) بھیج سکتے ہیں۔ آپ تصویروں کا تبادلہ بھی کرتے ہوں گے۔ سائنس نے واقعی بہت ترقی کر لی ہے۔ اب آپ محبت بھی بہت پرسکون ماحول میں کر سکتے ہیں۔ پہلے وقتوں کی طرح نہیں کہ خط اور تصویریں دوسرے تک پہنچانے کے لیے دوست کی منتیں کرنا پڑتیں اور نہ ہی آپ کے خطوط(ای میلز) کو کوئی پڑھ سکتا ہے۔سائنس نے سکیورٹی کا بھی خاص انتظام کیا ہے۔
تو بات ہو رہی تھی فلرٹ پر۔۔۔ سب شوق سے فلرٹ کریں، کسی کو منع نہیں کرتی، لیکن ایک حد میں رہ کر۔ کیونکہ ہر چیز ایک حد میں ہی اچھی لگتی ہے۔
ابھی مزید ذہن میں بہت کچھ ہے۔ لیکن تحریر لمبی اور بورنگ ہو جائے گی، اوراگر محب علوی اس دنیا میں ابھی موجود ہیں تو ان کے اگلی قسط آنے پر بھی لکھا جا سکتا ہے۔
Jul
26
2008
پچھلے دنوں میں نے کچھ تھیمز کو اردوایا تھا۔ ان میں سے ایک Splendid ڈاؤنلوڈ کے لیے رکھ رہی ہوں۔ یہ تھیم خاص طور پر شب کے لیے اردوایا ہے۔لیکن باقی سب بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اردو ٹیک کے ایڈمنز سے گزارش ہے کہ شب کے بلاگ پر اپلوڈ کر دیں۔
اصل تھیم آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
اردو تھیم ڈاؤنلوڈ کریں۔

Jul
18
2008
وقت اور حالات کے ساتھ انسان ضرور بدلتا ہے۔ اور انسان میں کئی تبدیلیاں آتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں وقت اور حالات سے سیکھ کر ان میں اچھی تبدیلیاں آتی ہیں، تو کچھ سیکھے بِنا ہی زندگی گزارتے جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان حالات و واقعات کا منفی اثر لیتے ہوئے اپنے آپ کو بدل لیتے ہیں۔
میں بدل گئی۔۔۔یہ سب کیسے اور کیوں ہوا۔۔۔ میری سمجھ سے باہر ہے۔ شاید عمر کا بھی تقاضا ہے،
کہ انسان میں عمر کے ساتھ ساتھ بھی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ اب امی مجھے کہتی ہیں کہ جوں جوں یہ لڑکی بڑی ہوتی جا رہی ہے، اس کی عقل ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ مجھے خود محسوس ہوتا ہے کہ میں سیانی ہوتی جا رہی ہوں۔
بہن بھائی کہتے ہیں کہ احساس نام کی کوئی چیز تم میں نہیں ہے، تم پتھر ہوتی جا رہی ہو۔ دوست کہتے ہیں اگنور کرنے لگی ہو۔ کوئی کہتا ہے مشین بنتی جا رہی ہوں، کوئی کہتا ہے اپنے خول میں ہی رہنے لگی ہو۔اور اس سب کے انجام سے بھی ڈراتے رہتے ہیں۔
سب سچ ہی کہتے ہیں۔۔۔ مجھے لوگوں سے دور رہنے لگی ہوں، پہلے اتنی باتیں کرتی تھی، اب باتیں کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ میں آجکل یہی سوچ رہی ہوں کہ پہلے ٹھیک تھی یا اب ٹھیک ہوں۔ لیکن سمجھ ہی نہیں آ رہا۔
خیر۔۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں، جو ہر وقت ایک جیسے ہی رہتے ہیں۔ جو کسی صورت بھی بدلتے نہیں ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ہی ایک صاحب نے بلاگ پر امریکی جھنڈا لگایا۔ میرے استفسار پر ایک اور جھنڈا لگا آئے۔ واہ۔ کیا بچگانہ حرکت۔ میں نے مذاق میں جھنڈا ڈس ایبل کیا، تو حضرت تبصرے میں اللہ جانے کیا الا بلا بول آئے۔ میں نے جھنڈے کو ایکٹو کیا تو دو مزید جھنڈے وہاں لگا دئیے گئے۔ لیں جی۔۔۔ ہم پاکستان پاکستان کر کے مرے جا رہے ہیں اور لوگ امریکی جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں۔ واہ واہ۔
ہم چاہتے تو سپیم سمجھ کر تبصرہ ڈیلیٹ بھی کر دیتے۔ لیکن سوچا چلو بچہ کھیل رہا ہے تو کھیل لے۔ بچے کی مزید حرکات دیکھنے کے لیے ان کا بلاگ پر دائیں طرف غور فرمائیں۔(اب حضرت آپ کے دیکھنے تک یہ جھنڈا ہٹا ہی نہ لیں۔)
اور ہاں، میرے بلاگ پر امریکی جھنڈا نہیں ہے، صرف پاکستانی ہے۔
Jul
10
2008
پچیس تاریخ کو صبح اٹھی تو پتہ چلا کہ ٹی وی نہیں چل رہا۔ ٹی وی میں نے کبھی دیکھا نہیں۔۔۔ اس لیے کوئی دھیان نہیں دیا۔ پھر آواز آئی کہ انٹرنیٹ بھی نہیں آ رہا۔ سن کر فوراً دیکھنے گئی، انٹرنیٹ واقعی نہیں آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد امی کی آواز آئی، فون بھی نہیں چل رہا۔ گھر میں ٹی وی کے بغیر بہن کا، فون کے بغیر امی کا اور انٹرنیٹ کے بغیر میرا گزارا نا ممکن ہے۔
انٹرنیٹ نا بھی آ رہا ہو تو میرے لیپ ٹاپ پر کہیں نا کہیں سے کنیکشن آ ہی جاتا ہے، اس لیے میں نے بڑے مزے سے کمپیوٹر آن کیا۔ لیکن آج انٹرنیٹ کسی طریقے سے بھی نہیں آ رہا تھا۔ فون کیا۔۔تو کہا گیا کہ دو، تین گھنٹوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے کہا ، چلو، اتنے میں ایک دو اور کام کر لیتی ہوں۔ ایک تھیم کو اردوایا، پھر دوسرے کو اردوایا پھر تیسرے کو اور پھر چوتھے کو۔۔۔اسی دوران دو دن گزر گئے۔ انٹرنیٹ غائب۔ دو دن بہت زیادہ تھے، اس لیے تیسرے دن میں خود ایکشن میں آئی۔ فون کر کے خوب لڑی کہ انٹرنیٹ اب تک ٹھیک نہیں ہوا۔ کہنے لگے کہ ٹیکنیشن بھیجتے ہیں۔ فون کرنے کے کچھ دیر بعد ہی بیل بجی۔ میں نے دروازہ کھولنے سے پہلے کہا کہ یااللہ کوئی فرشتہ ہی ہو۔ واقعی فرشتہ حاضر تھا۔ کچھ دیر ٹھیک کرنے کے بعد جناب فرمانے لگے کہ سب کچھ ٹھیک کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ ایک ٹی وی چلا ہے ابھی تو۔ انٹرنیٹ تو آیا ہی نہیں۔ جواب ملا۔ انٹرنیٹ ابھی کچھ دیر میں آ جائے گا۔
یہ کچھ دیر کچھ زیادہ ہی لمبی دیر ہو گئی۔ اگلے دن پھر فون کیا، جواب ملا، ٹیکنیشن صرف دس جولائی کو مل سکتا ہے۔ 
دوسری طرف اردو محفل کی سالگرہ کے دن قریب تھے۔ اور ادھر انٹرنیٹ کے نخرے جاری تھے۔ ہفتے کی صبح جلدی اٹھی کہ لائبریری جاتی ہوں، وہاں سے اردو محفل پر جاری ووٹنگ میں ووٹ تو ڈال دوں۔ اور کچھ ایک دو کام کر لوں گی۔لائبریری پہنچی تو لائبریری بند۔۔۔! ٹائمنگ دیکھنے پر پتہ چلا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کے نئے اوقات تھے۔غصہ آیا، تو واپسی پر گھر آتے آتے راستے میں شاپنگ کر کے جتنے پاس پیسے تھے، سارے خرچ کر آئی۔ اب کچھ تو صبح صبح اٹھنے کا فائدہ ہوتا نا۔
اب فون کر کے تو تھک چکی تھی، اس طرف سے کوئی امید نہ رہی، تو اللہ سے مدد مانگنے کا سوچا۔ چار نفل مانے اور اللہ سے دعا کی کہ انٹرنیٹ کنیکشن کہیں سے بھی بھیج دے ورنہ دس جولائی تک تو میری چھٹیاں ضائع ہو جائیں گی۔نفل مانگنے کی دیر تھی کہ انٹرنیٹ آ گیا۔ پہلے نفل پڑھے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر جلدی سے محفل پر پہنچی اور ووٹ ڈالے۔
اصل میں کسی ہمسائے کا وائرلیس کنکشن آ گیا تھا، جو تین دن پہلے نہیں آ رہا تھا۔ اور ہمارے پوری سٹریٹ کا انٹرنیٹ اور ٹی وی کنیکشن اس لیے غائب تھا کہ ہماری سٹریٹ میں بلڈنگ بن رہی تھی، اور شاید انہوں نے ہی کچھ گڑ بڑ کر دی تھی۔
اتنے دن مر مر کر انٹرنیٹ آتا رہا، لیکن اللہ کا شکر آتا رہا۔ تیرہ دن کے بعد دس جولائی کے بجائے آٹھ جولائی کو ہی ٹیکنیشن آ گیا اور صبح صبح ٹھیک کر کے چلا گیا۔ اور اب سب ٹھیک ہو گیا۔ huh
جتنے دن انٹرنیٹ غائب رہا، اتنے دن جن لوگوں نے مجھے تنگ کیا ، ان کا شکریہ۔
پہلے دو دن تو فون پے فون۔ اب امی کو میں نے سمجھایا کہ دیکھیں میرے بغیر انٹرنیٹ کا اور انٹرنیٹ کے بغیر میرا گزارہ نہیں ہے۔
Jul
06
2008
اللہ تعالٰی انسان سے فرماتا ہے۔۔۔
میری طرف آ کر تو دیکھ
متوجہ نہ ہوں تو کہنا
میری راہ پر چل کر تو دیکھ
راہیں نہ کھول دوں تو کہنا
مجھ سے سوال کر کے تو دیکھ
بخشش کی انتہا نہ کر دوں تو کہنا
میرے لئے بے قدر ہو کر تو دیکھ
قدر کی انتہا نہ کر دوں تو کہنا
میرے لیے ملامت سہہ کر تو دیکھ
اکرام کی حد نہ کر دوں تو کہنا
میرے لئے لٹ کر تو دیکھ
رحمت کے خزانے نہ لٹا دوں تو کہنا
میرے کوچے میں بک کر تو دیکھ
انمول نہ کر دوں تو کہنا
مجھے رب مان کر تو دیکھ
سب سے بے نیاز نہ کر دوں تو کہنا
میرے خوف سے آنسو بہا کر تو دیکھ
مغغرت کے دریا نہ بہا دوں تو کہنا
وفا کی لاج نبھا کر تو دیکھ
عطا کی حد نہ کر دوں تو کہنا
میرے نام کی تعظیم کر کے تو دیکھ
تکریم کی انتہا نہ کر دوں تو کہنا
مجھے حی القیوم مان کر تو دیکھ
ابدی حیات کا امین نہ بنا دوں تو کہنا
ہستی کو فنا کر کے تو دیکھ
جام بقا سے سرفراز نہ کر دوں تو کہنا
بلآخر میرا ہو کر تو دیکھ
ہر کسی کو تیرا نہ بنا دوں تو کہنا