11
کیا عورت واقعی بےوقوف ہوتی ہے؟
اشاعت: ماوراء306 بار دیکھا گیااگر آپ یہ تحریر پڑھنے جا رہے ہیں، تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میں عورتوں کے خلاف بالکل نہیں ہوئی۔ یہ صرف ایک حقیقت لکھی ہے۔ کئی دنوں سے عورت کی بےوقوفیوں پر لکھنے کا دل کر رہا تھا۔ یہ سب اس کی روشنی میں لکھ رہی ہوں، جو سب مجھے اپنے ارد گرد سے دیکھنے کو ملا۔
دنیا میں سیانے لوگ بھی ہوتے ہیں اور بےوقوف بھی۔ اسی طرح کئی عورتیں بھی بہت سیانی ہوتی ہیں، اور کچھ بےوقوف اور کچھ بہت ہی زیادہ بےوقوف۔ اور یہی عورت ایک مرد کے سامنے بالکل ہی بےوقوف ہو جاتی ہے۔ تو دوسری طرف کئی عورتیں مردوں کو بےوقوف بنا دیتی ہیں۔ مجھے بےوقوف عورت پر شدید غصہ آتا ہے۔ (ہو سکتا ہے میں خود بھی بےوقوف ہی ہوں، لیکن کچھ بےوقوفیاں کرنے سے پہلے بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔)
عورت کی عظمت کیا ہے۔ اگر عورت کو اس کا احساس ہو جائے تو شاید یہ بےوقوفیوں والے کام کرنا چھوڑ دے۔ عورت مرد کے جھانسے میں اتنی جلدی کیوں آتی ہے؟ دو میٹھے بول کسی نے بولے تو بس سب کچھ اس کو دان کر دیا۔ اسے ہی دنیا میں اپنا مخلص سمجھنے لگتی ہیں۔ اور کسی کی بات اس وقت تک اس کو سنائی نہیں دیتی، جب تک وہ انھیں دھوکا دے کر چلا نہیں جاتا۔
سب سے زیادہ تکلیف مجھے اس وقت ہوتی ہے، جب ایک پڑھی لکھی، باشعور عورت مرد کے سامنے جھک جاتی ہے۔ اور پھر اس کا کام کسی اور کی نہیں سننا ہوتا۔ اگر کوئی ان کو سمجھائے تو الٹا دوسرے پر دھاوا بول دیتی ہیں۔
عورت دوسری عورت کو اپنا دشمن کیوں سمجھتی ہے؟ اگر ایک ہی بات دو انداز میں دو لوگ (ایک مرد اور ایک عورت) ایک عورت کو بتا رہے ہوں گے، تو عورت کس کا یقین کرے گی؟ ایک مرد کا۔۔۔!! وہ سمجھتی ہے کہ دوسری عورت اس کی دشمن ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ شاید اس کی ایک مثال ہمارا معاشرہ بھی ہے جہاں عورت کو عورت کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔ اس بارے میں راشد نے بھی کچھ لکھا تھا۔ 1۔ رشتے دیکھتے وقت ایک عورت ہی دوسری عورت کو کس طرح ذلیل کرتی ہے۔ 2۔ ساس، بہو یا نندوں کے آپس کے جھگڑے۔ اور اس طرح کی کئی مثالیں ہیں۔
کچھ عورتوں کی بہت بری عادت ہوتی ہے، ہر کام میں آگے آگے ہوتی ہیں۔ اپنے بارے میں سمجھتی ہیں کہ وہ ہی سب کچھ کر سکتی ہیں، اسی دوران دوسری عورتوں کا کچھ نہ سمجھنا۔ اپنے آپ کو ہی ذہین فطین کا تمغہ دینا۔ ایسی عورت کو آخر میں بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اور اگر کوئی مسئلہ گڑ بڑ ہو جائے تو دبک کر بیٹھ جاتی ہیں اس وقت دوسروں کے پاس دوڑتی ہیں، کہ اب یہ کیا کریں۔
کچھ عورتیں شک کی بہت بری بیماری میں مبتلا ہوتی ہیں۔ اور آخر میں اسی شک کا انھیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کچھ عورتوں کو دوسری عورتوں پر طنز کرنے کا بھی بہت شوق ہوتا ہے۔
لڑکیوں سے میری صرف ایک ہی گزارش ہے، کہ خدارا اپنے مقام کو اگر آپ نے ٹھیک رکھنا ہے تو اپنے حرکتوں کو درست رکھیں، کوئی ایسی حرکت نہ کریں ، جس کی وجہ سے دوسروں کی نظر میں آپ گر جائیں۔ کیونکہ عزت ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے، یہ چلی جائے ایک بار، تو دوبارہ نہیں آتی۔ اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی آپ کے حصار کو توڑ نہ سکے۔
اگر کسی لڑکی کو برا لگے تو معذرت۔ اور مجھے عورت دشمن بالکل نہ سمجھیں۔ میں ہمیشہ عورت کی حمایت کرتی تھی، ہوں اور کرتی رہوں گی۔ 












یہ بیٹھے بٹھائے آپ کو کیا سوجھی ؟ کہیں مردوں کے خلاف سازش تو نہیں ؟ اِدھر ایک مرد نے عورت کے خلاف لکھا اور اُدھر اس کی چھُٹی ۔
:lol:
اجملکے بلاگ کی آخری پوسٹ..روانگی منزل تک ۔ Long March
ماوراء ، عورت کسی بھی طبقے کی ہو ، عورت کی سب سے بڑی کمزوری ہے محبت ، کسی نے دو جملے محبت سے بولے پھر عورت بڑی سے بڑی بات بھول جاتی ہے ، عورت کی اسی عادت کی وجہ سے گھر خوش اسلوبی سے چلتے ہیں ، عورت کی دشمن عورت اس لیئے ہوتی ہے کہ عورت صرف اپنی حکومت چاہتی ہے دوسرے کو برداشت ذرا مشکل سے کرتی ہے مگر ہر عورت ایسی نہیں ہوتی ، عورتوں کی بہت ساری قسمیں ہیں ، بہت ساری تو نایاب قسمیں بھی ہیں جو کم ہی ملتی ہیں :lol:
ماوراء ، عورت کو اپنی عزت کروانی آنا چاہیئے ایسا بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ موم کی طرح پگھل جائے نہ اتنا سخت حصار کے اُس حصار کے اندر قید ہو جائے ہر بات لمٹ میں اچھی لگتی ہے ۔
اتنا مظبوط حصار نہ بنانے کو کہو کسی کو کہ کوئی اُس کو فتح ہی نہ کرسکے :lol: ورنہ تمہاری خیر نہیں :lol:
ماوراء اچھی کلاس لی تم نے بے وقوف عورتوں کی ۔۔ :razz: اللہ کرے سب عورتیں یہ سبق سیکھ جائیں کہ عزت ہی سب سے پہلی ترجیح ہوتی ہے ۔۔ اس کے آگے کسی اور چیز کی کوئی اہمیت نہیں ۔۔۔
حجاب نایاب قسمیں اتنی بھی کم نہیں ملتیں ۔۔ اب دیکھ لو میں ماورہ اور تم تو سامنے ہی ہیں ۔۔۔ :razz: :lol:
میرے خیالات بالکل حجاب والے ہیں
+
اگر عورت یہ سب نہ ہوتی تو بندہ ہوتی،
یہاں بندے کا مطلب انسان نہیں آدمی ہے،
یعنی کہ پھر تو کچھ ہوتا ہی نا
ڈفرکے بلاگ کی آخری پوسٹ..پہلا بچہ
:lol: میں بھی تو ہوں :razz: بےوقوف نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نایاب :lol: :lol: :razz:
ماورہ ، مزہ نہیں آیا :neutral: اتنا کم لکھا ہے کچھ تفصیل سے لمبا سا لکھوں نا ،
:roll: یہ کیا ابھی پڑھا ، اور ختم بھی ہوگئی تحریر ، :???:
عورتیں واقعی بے وقوف ہوتی ہیں۔۔ آزادی نسواں کے نام پر مردوں نے اپنی تفریح طبع کے لیے عورتوں کو نیم برہنہ کرڈالا اور عورتیں اسے اپنی آزادی سمجھتی ہیں نسوانی لباس کے بجائے فرانسیسی مردوں کے ڈیزائن کردہ پانٹ سوٹ پہن کر یہ گمان کرتی ہیں کے وہ مردوں کے برابر آگئی ہیں۔۔ عورتیں اس وقت علقمندی کا ثبوت دیں گی جب وہ “عورت” ہونے کا حق حاصل کرلیں گی نا کے “مرد” ہونے کا۔۔ اور ان کو اس غلط راہ پر بھی عورتوں نے ہی لگایا ہے ۔۔
راشد کامرانکے بلاگ کی آخری پوسٹ..شہر کراچی ہے جس کا نام
:roll:
بالکل ٹھیک ہے میں تو کلنٹن کے پیچے دیوانی ہو گئ ہوں-
عورتیں ہر جگہ لڑتی ہیں یہ نہیںکہ صرف ہمارے معاشرے میں لڑتی ہیں۔ میں نے تو یہاں بھی نند بھابھی کی لڑائی دیکھی ہے جس کا اختتام پولیس ہی کرتی ہے۔ خاتون مرد اور عورت میں سے مرد کی بات کا کیوں یقین کرتی ہے تو اس کا سیدھا سادہ جواب ہے کہ اس نے ساری زندگی بندے کے ساتھ گزارنی ہے بندی کے ساتھ نہین۔ :twisted: پھر ہماری سائیکی ایسی ہے کہ معاشرتی ٹرینڈ کے عین مطابق جس میں آپ انٹرسٹڈ نہیں اس کے شب و روز کی ٹوہ بھی نہیںرکھتے تو جب آپ غیر بندے کی بات اس سے متعقلہ خاتون کو بتائیں تو وہ آپ پر ہی شک کرتی ہے۔ویسے یہاں بھی بندے پر ہی لڑائی ہوتی ہےکیا کمال کیٹ فائٹ ہوتی ہے بندہ بیچارہ ریفری بنا ہوتا ہے اور خواتین پروفیشنل ریسلر۔
پڑھی لکھی باشعور بھی عورت ہوتی ہے اور فرماں برداری سے جھک جاتی ہے۔عورت کا انتخاب اسی صورت غلط ہوتا ہے جب وہ نام نہاد آزادی کو سپورٹ کرتے کرتے عورت نہیں مرد بن جاتی ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو عورت اور مرد دونوں میں ہی دھوکے باز ہوتے ہیں (نہیںنہیں مجھے کسی نے دھوکہ نہیں دیا) لیکن چونکہ مرد ہر معاملے میں بدنام ہیں لہذا پکڑے جاتے ہیں۔ اور مردوںپر تو فلرٹ کا لیبل بھی بڑی جلدی لگ جاتا ہے۔
گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے بی بی :twisted: خاتون خود اپنا حصار توڑتی ہے۔
سارہ باجی واقعی میں نایاب ہیں :twisted:
(اف اتنا لمبا تبصرہ میں خود کی پوسٹ نہ کر لیتا۔)
بدتمیزکے بلاگ کی آخری پوسٹ..یہ مرغ ہائے بیٹھے بٹھائے
ڈفر صاحب نے کیا کہا ہے
اگر عورت یہ سب نہ ہوتی تو بندہ ہوتی، یہاں بندے کا مطلب انسان نہیں آدمی ہے،
بندہ ۔ انسان ۔ آدمی ۔ ان سب کا مطلب عورت اور مرد دونو ہے ۔
بھتیجی ماوراء ۔ یہ آپ کی سہیلیاں مجھے مجبور کر رہی ہیں کہ میں عورت کے متعلق اپنے آدھی صدی سے زائد عرصہ کے تجربات لکھوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کب لکھوں گا ؟ یہ اللہ بہتر جانتا ہے ۔
:lol:
اجملکے بلاگ کی آخری پوسٹ..فَن اور فنکار ؟ ؟ ؟
راشد کامران صاحب سے میں متفق ھوں۔
انہوں نے سو فیصد درست کہا ھے۔
ماوراء، آپکی پوسٹ کچھ ادھوری سی ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ آپ لکھنا کچھ اور چاہ رہی تھیں اور لکھ یہ دیا۔ :lol:
ساجداقبالکے بلاگ کی آخری پوسٹ..ورڈپریس ہیلپ شیٹ
اجمل چچا۔ مجھے عورتوں نے بہت مایوس کیا ہے، بس اسی لیے کچھ لکھ دیا۔

ویسے ابھی کلاس اچھے طریقے سے نہیں لی۔ زیادہ کا موڈ نہیں بن رہا تھا۔ 




—
حجاب، پتہ نہیں کیوں، لیکن میں یہی چاہتی ہوں کہ عورت کو کوئی فتح نہ کر سکے، بلکہ ساری فتوحات عورت کے حصے میں ہی آئیں۔
باقی تمھاری بات بالکل درست ہے۔ محبت کرنا جرم نہیں۔ لیکن محبت میں اتنا نہ گم ہوں کہ سب کچھ بھول جائیں۔ ایک عورت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
—-
سارہ، ہاہاہا۔ اچھا کیا کہ ہم تینوں کو نایاب کی لسٹ میں شامل کر لیا۔
—-
ڈفر، لگتا ہے آپ کی شادی نہیں ہوئی ابھی؟ :razz:
—-
باجو، میں خود بھی تو ایک عورت ہوں نا۔۔ اس لیے ہاتھ کو ہلکا ہی رکھنا پڑا۔ زیادہ بےوقوفیاں سامنے لانے سے مردوں کو بات کرنے کا زیادہ موقع مل جاتا۔
—-
راشد، یورپ، امریکہ میں تو مرد اور عورت کا ایک جیسا ہی لباس ہے نا۔ اس لیے لباس ایک بہت چھوٹی چیز ہے۔ لباس کے بارے میں آزادی ہونی چاہیے۔ ہاں البتہ جیسے آپ نیم برہنہ ہونے کا کہہ رہے ہیں تو واقعی کچھ کہا جا سکتا ہے۔
—-
ہیلری، بلاگ پر خوش آمدید۔ چلیں، آپ کا دیوانہ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے۔ لیکن وہ مونیکا کا کیا قصہ تھا؟ :???:
—-
بدتمیز، چونکہ میں اردو میں لکھ رہی ہوں، اور اپنے ملک سے متعلق خواتین کی بات کر رہی تھی تو اسی لیے ایسا کہا۔ ورنہ مجھے اندازہ ہے کہ دنیا بھر کی خواتین کیسی ہوتی ہیں۔ (کیونکہ عورت کی فطرت ایک ہی ہے۔)
آپ عورت کی آزادی سے کیوں ڈرتے ہیں۔ حالانکہ اس طرح تو مرد کو بھی مزید آزادی مل سکتی ہے۔
جی ہاں۔ عورت اور مرد دونوں دھوکا دے سکتے ہیں اور دیتے ہیں۔ لیکن میرے ذہن میں صرف وہ واقعات تھے، جو میں نے ہوتے دیکھے یا سنے۔
—–
اجمل چچا، ضرور لکھیں۔ مجھے انتظار رہے گا۔ اور میرے خیال میں یہ بہت ضروری ہے۔ اگر میری تحریر یا کسی اور کی تحریر سے کوئی ایک عورت بھی ایک لفظ بھی سمجھ لے، تو میرے لیے یہ ایک کامیابی ہو گی۔ :razz:
میں پاکستان کی عورت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے دیکھنا چاہتی ہوں۔ اور مردوں کے سامنے جھکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ کہ بہت سی عورتیں ساری زندگی مرد کے رحم و کرم پر گزار دیتی ہیں۔ اللہ نے ان کو ہاتھ ، پیر، دماغ سب کچھ دیا ہے، جو مرد کو دیا ہے، تو وہ کیوں نہیں اپنی زندگی میں کچھ کر سکتی؟ :neutral:
کچھ زیادہ ہو گیا۔
—-
نور، بلاگ پر خوش آمدید۔ میں سب کی رائے کو سمجھ سکتی ہوں۔ کوئی بھی ایسے ہی نہیں کہتا۔ بلکہ اس نے ایسا ہوتے دیکھا یا محسوس کیا ہوتا ہے۔ اس لیے راشد اور نور کا خیال بھی درست ہے۔
—-
ساجد، مجھے خود بھی یہی لگ رہا تھا۔ لیکن زیادہ نہیں لکھ سکی۔ آگے ہاتھ نہیں چل سکے تھے۔ بہت سی باتیں میں لکھ نہیں سکی۔
ویسے تو بحث تقریبا سمٹ چکی ہے ۔۔ لیکن صرف تصیح کے لیے ۔۔ یورب اور امریکہ میں لباس اب ایک جیسا معلوم ہوتا ہے پہلے ایسا نہیںتھا۔۔ لباس چھوٹی چیز کہاں ہے ۔۔ یہ سارا قضیہ فساد ہی لباس کا کھڑا کیا ہوا ہے ۔۔ کہیں حجاب پے جگھڑا کہیںبرقعے کا مسئلہ ۔۔ :razz:
راشد کامرانکے بلاگ کی آخری پوسٹ..شہر کراچی ہے جس کا نام
راشد صاحب آپ کی بات پر بدتمیز کی کہی ہوئی ایک بات یاد آ گئی کہ عورت کی بے پردگی کا زمہ دار بھی مرد ہی ہے کیونکہ اس ہی کے آشیر باد سے وہ ایسا کرتی ہے ۔۔
بد تمیز کتنے نادر خیالات ہیں عورت کے بارے میں آپ کے پھر بھی چار شادیوں کا شوق ہے ۔۔ :razz: پھر تو گھر میں بھی کیٹ فائٹ دیکھنے کو ملے گی اور ریفری کا رول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :razz: :razz:
السلام علیکم ماوراء
۔سچی بات تو ہے کہ عورتوں کی اکثریت’غیر ضروری جذباتیت’ کا شکار رہتی ہے ۔۔۔نتیجتاً دوسروں کا انہیں بےوقوف بنانا چنداں مشکل نہیں ہوتا۔۔۔ اور ایسی صورتحال میں زیادہ قصور عورت کا خود ہوتا ہے۔ وہ خود دوسروں کو اپنا مضحکہ اڑانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اور تب کسی کی نصیحت اور مشورہ پر کون کان دھرتا ہے۔ 
میرا خیال ہے کہ عورت ان پڑھ ہو یا پڑھی لکھی، ہاؤس وائف ہو یا ورکنگ ویمن ۔۔اس کا بیرونی دنیا اور لوگوں کے بارے میں مشاہدہ مردوں کی نسبت کم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اکثر خواتین مردوں کی نفسیات سمجھنے یا دوسرے لفظوں میں اس کے سچ جھوٹ کو پرکھنے میں ناکام رہتی ہیں۔۔(یہ بات آپ کی اس پوسٹ کے مخصوص تناظر میں کہہ رہی ہوں ۔۔۔ جیسے میں اگر اپنا اور اپنے بھائی کا موازنہ کروں تو دونوں ایک سے تعلیمی اداروں میں پڑھے ہیں دونوں کی ڈگریز بھی ایک ہی لیول کی ہیں۔۔۔لیکن مجھ سے چھوٹا ہونے کے باوجود وہ دنیا اور لوگوں کو مجھ سے بدرجہا بہتر سمجھتا ہے۔۔
بہرحال یہ عورت کے بےوفوف ہونے کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے
اگر اپنی حدود خود متعین کر لی جائیں تو کوئی بھی کسی کو بےوفوف نہیں بنا سکتا۔
اجمل نے کہا,
ڈفر صاحب نے کیا کہا ہے
اگر عورت یہ سب نہ ہوتی تو بندہ ہوتی، یہاں بندے کا مطلب انسان نہیں آدمی ہے،
بندہ ۔ انسان ۔ آدمی ۔ ان سب کا مطلب عورت اور مرد دونو ہے ۔
تو پھر بندی اور عورت کس کو کہتے ہیں؟
آج تو علم کے در وا ہو رہے ہیں
ماوراء ، آپکو کیسے اندازہ ہوا کہ میری شادی نہیں ہوئی؟
آپکے درست اندازے کے بعد ڈر لگتا ہے کہ واقعی شادی ہونی بھی نہیں چاہیے
ڈفرکے بلاگ کی آخری پوسٹ..پہلا بچہ
راشد، ویسے درست کہا کہ کہیں حجاب تو کہیں نقاب کا مسئلہ۔۔۔ اور آج تک حجاب اور نقاب نہ لینے والیوں کا کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنایا۔ :???:
–
فرحت، تبصرے کا شکریہ۔ پتہ نہیں فرحت، مجھے خوش فہمی ہے کہ میں کم از کم اپنے بھائی سے تو زیادہ ہی جانتی ہوں۔ الٹا اس کو ہی مجھے سمجھانا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ ابو کو بار مشورے دے چکی ہوں۔ اسی لیے ابو مجھے “سیانی” کا خطاب دے چکے ہیں۔ :oops:
باقی آپ کی بات بہت درست ہے کہ اپنی حدود متعین کر لے تو عورت کیا کوئی بھی کسی مسئلے سے دوچار نہیں ہو سکتا۔
—
ڈفر، شادی سے پہلے مردوں کے خیالات کچھ اور ہوتے ہیں، شادی کے بعد عموماً وہی خیالات بالکل بدل جاتے ہیں۔ آپ ضرور شادی کریں، اور اس کے بعد اپنے خیالات کے بارے میں بھی بتائیے گا۔
ویسے آپ بلاگ کیوں نہیں لکھ رہے آجکل؟
آجکل کا کیا مطلب؟
میں نے بلاگ لکھا ہی کب ہے؟
ایک پوسٹ بلاگی تھی صرف
وہ بھی ٹیسٹنے کو کہ اردوٹیک کام کرتا بھی ہے کہ نہیں؟
سارا دن فراغت ہے اور میں نے بس کمنٹنے کی ڈیوٹی سنبھالی وی
اور میں اپنےشادی کے بعد کے خیالات اس بلاگ پہ شیئر کرنے کو شادی کر لوں؟
اشکے وئی اشکے
احتجاج
اور بھی بہت لوگ وزٹ کرتے ہیں اس بلاگ کو
اس قیمتی مشورے سے ان کو بھی نوازا جائے
میں نے کسی کا کیا نقصان کیا؟
ڈفرکے بلاگ کی آخری پوسٹ.. پہلا بچہ
ماوراء سیانا ہونے اور لوگوں کو سمجھنے میں یقیناً تعلق ہوتا ہے لیکن مشاہدہ یہ بھی کہتا ہے کہ پھر بھی عورتوں کی اکثریت سمجھدار ہونے کے باوجود اس ایک میدان میں مار کھا جاتی ہیں۔ اور اس کا احساس بھی انہیں کافی دیر سے ہوتا ہے۔ کیا کہتے ہیں کہ۔۔۔ ‘وہ بازی جیت جاتا ہے میرے چالاک ہونے تک’

ماوراء! آپ بہن بھائیوں میں پہلے نمبر پر ہیں؟؟؟
ویسے میں بھی اپنے ابا کی ایڈوائزر ہوں۔۔ بارہا تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے کے باوجود
بالکل فرحت، اسی لیے میں نے عورت کو بے وقوف کہا ہے کہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد اسے کچھ پتہ چلتا ہے۔
جی پہلا نمبر ہی ہے۔
اپنی رائے کا اظہار کریں۔