Archive for May, 2008

May 21 2008

فٹ بال کھلاڑی:D

شائع کیا: ماوراء زمرہ: تصاویر

آج گھر واپسی پر ان بچوں کو راستے میں کھیلتا دیکھا تو سوچا ان کی اردو محفل پر فوٹو گرافی کے تھیم کے لیے تصویر لے لیتی ہوں۔ یہ سارے گراؤنڈ کا چکر لگا رہے تھے، شاید ان کا سیکھانے والا ایکٹو کر رہا تھا۔ میں نے تصویر بنانے کا پوچھا تو سارے اکھٹے ہو گئے، پھر اتنی دیر تک انہیں سمجھ نہ آئے کہ کھڑا کیسے ہوں، ہر کوئی اپنا اپنا سٹائل بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے ریڈی کہا تو ان کو اسی وقت سمجھ آ گئی کہ کیسے کھڑے ہونا ہے۔:D

 

 

dsc00503.JPG

14 تبصرے

May 17 2008

17 مئی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, ناروے نامہ

17 mai

آج ناروے کا قومی (آئینی) دن منایا جا رہا ہے۔ 17 مئی 1814 میں ناروے کا آئین منظور ہوا۔ جس میں ناروے ایک آزاد قوم ہونے کا اعلان کیا گیا۔ ناروے میں قومی دن کا آغاز ہمارے پاکستان کی طرح اسلحے کی نمائش اور فوجی پریڈ سے بالکل نہیں ہوتا۔ یہاں کے رواج کے مطابق بچے اس دن پریڈ کرتے ہوئے بادشاہ کے گھر تک جاتے ہیں۔ اور بادشاہ، ملکہ، شہزادہ، شہزادی بالکونی میں کھڑے ہاتھ ہلاتے رہتے ہیں۔

ہر سکول اپنے بچوں کو اس پریڈ کے لیے صبح اکھٹے ہو کر نکلتا ہے۔ جسے ہم 17 مئی ٹرین کہتے ہیں۔ بچوں نے ملک کے جھنڈے ہاتھوں میں پکڑے ہوتے ہیں۔ اور سنئیر کلاسز کے بچے سب سے آگے سکول کے بینرز کو اٹھائے ہوتے ہیں، بینڈز، میوزک اور قومی ترانے گاتے ہوئے بادشاہ کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ زیادہ تر بچے، بڑے، بوڑھے ناروے کا قومی لباس اس دن پہنتے ہیں۔ شاہی گارڈ بینڈ بجاتا ہوا بھی نظر آتا ہے اور مختلف شہروں میں توپوں کی سلامی بھی دی جاتی ہے۔

گریجویٹ سٹوڈنٹس (Russ) بھی اس دن کو خاص طور پر مناتے ہیں۔ اور اپنے اپنے سکولوں سے لمبی قطار میں پریڈ کرتے ہوئے بادشاہ کے گھر تک جاتے ہیں۔ ناروے کے ایک روایت کے مطابق گریجویٹ طلباء طالبات اپنے اپنے سبجیکٹس کے مطابق مختلف رنگوں میں پینٹس پہنتے ہیں۔ اور بہت الٹے الٹے کام کرتے ہیں. میرا بھائی بھی آجکل Russ بنا ہوا ہے، اور رُس ٹرین کے ساتھ گیا ہوا ہے۔ لیکن میں اتنے سالوں میں ایک بار بھی 17 مئی کے لیے باہر نہیں نکلی، چھٹی کے دن تو ویسے بھی صبح اٹھنے کا دل نہیں کرتا۔

اوسلو میں اس دن بے شمار لوگ اکھٹے ہوتے ہیں، اور ہر سال ٹی وی پر لائیو دیکھایا جاتا ہے۔ پریڈ سے واپسی پر بچے سکولوں میں واپس آ کر پارٹی کرتے ہیں۔ جس میں مزے کے کیک اور کھانے ہوتے ہیں۔

L 

17 mai kake

 Source:

17 may pic. 

cake pic.

 

12 تبصرے

May 12 2008

منظر نامہ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: اردو بلاگنگ

منظر نامہ ایک مشترکہ اردو بلاگ ہے۔ جسے ہم نے یعنی میں نے اور عمار نے چند دن پہلے ہی ترتیب دیا ہے۔ ہمارا مقصد اس بلاگ کے ذریعے اردو بلاگرز سے شناسائی اور ان پر فوکس کرنا ہے۔ چونکہ اردو بلاگرز کی ابھی ایک چھوٹی سی کمیونٹی ہے۔ تو ہم نے ان کو ایک جگہ اکھٹا کرنے کا سوچا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو کیسے جانیں گے؟ اس کے لیے ہم اردو بلاگرز کا انٹرویو لیں گے، مزید اردو بلاگرز کو ایک مشترکہ عنوان دیا جائے گا، جس پر وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ آپ کے تعاون، تجاویز و آراء سے ہم اس میں مزید بہتری لا سکیں گے۔ اس طرح شاید ہمارے اردو بلاگرز متحرک ہو سکیں، اور بہت سے نئے اردو بلاگرز بھی ہم میں شامل ہو جائیں۔ اس سب کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ اردو بلاگنگ کے پہلے بلاگرز کو ہم ایک جگہ اکھٹا کر سکیں، تاکہ آئندہ آنے والے اردو بلاگرز کے علم میں ہو کہ اردو بلاگنگ کی تاریخ کیا رہی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے  پاکستانی سپیکٹیٹر  والوں نے کچھ بلاگرز کے انٹرویوز لیے تھے۔ تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نا اردو بلاگرز کے اردو میں ہی انٹرویو لیے جائیں۔ سوچا کہ امن سے بات کرتی ہوں، لیکن امن بھی چلی گئی تو میرا خیال وہیں کا وہیں رہ گیا۔ کچھ دن پہلے مجھے کسی نے بتایا کہ عمار ان کا انٹرویو لینے کا کہہ رہا ہے۔ میں نے تو کوئی اور بات نہ کی نہ سنی، بس اسی وقت عمار کو میل کر دی۔ عمار تو جیسے پہلے سے ہی بالکل تیار بیٹھا ہوا تھا۔ بہرحال ہم نے چند دن کی سوچ بچار کے بعد فائنل کر لیا۔ اور نتیجتاً ایک بلاگ بنایا۔ اردو بلاگران کی ایک فہرست زکریا کے تعاون سے تیار کی۔ اور اردو بلاگنگ کی مختصر تاریخ لکھنے کا سوچا تو محب علوی کی ایک تحریر ہمارے کام آ گئی۔اگر آپ بھی ہماری کسی طرح مدد یا تجاویز دینا چاہتے ہیں تو اس ای میل پر ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

انٹرویوز کے حوالے سے ہم ان تمام بلاگرز کا بھی انٹرویو کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے اردو بلاگنگ چھوڑ دی، لیکن وہ پہلے اردو بلاگرز رہ چکے ہیں۔ ان میں سے چند ایک سے ہمارا رابطہ ممکن ہوا ہے، اور آپ کو جلد ان کے انٹرویو پڑھنے کو ملے گے۔ ہمارے انٹرویوز پرانے بلاگرز سے شروع ہوتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں گے۔ امید ہے کہ بلاگرز تعاون کریں گے اور انٹرویو کے سوالوں کے جواب جلد از جلد بھیجیں گے، نا کہ ہمارے بھیجے ہوئے سوالوں کو بھول ہی جائیں۔۔ اور ان باکس میں وہ کہیں نیچے دب جائیں۔:(

امید ہے کہ آپ ہماری اس چھوٹی سی کاوش کو پسند کریں گے اور بلاگرز کے انٹرویوز کو انجوائے کریں گے۔ تو انتظار کیجئے کہ پہلا انٹرویو کس کا منظرِ عام پر آتا ہے۔ اس سلسلے کو شروع کر کے میں تو بہت پر جوش ہوں۔ امید ہے کہ آپ بھی ہوں گے۔ اب اگر کچھ مجھ سے اس پوسٹ میں بتانا رہ گیا ہو تو آپ کو عمار کے بلاگ پر بھی “منظر نامہ“ کے بارے میں ایک پوسٹ پڑھنے کو ملے گی۔

13 تبصرے