Apr 26 2008
کتاب سروے 2008
پچھلے دنوں ایک سروے (synovate) کے مطابق نارویجین لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر لڑکوں میں پڑھنے کا اضافہ ہوا۔
- دس میں سے نو لوگوں نے ایک یا اس سے زیادہ کتابیں 2007 میں پڑھیں۔ اور دس میں سے سات نے تقریبا ہفتے میں ایک بار یا اس سے زیادہ بار پڑھی۔
- ہم میں سے 72% لوگ ہفتے میں ایک بار، جبکہ 33% ہر روز کتاب پڑھتے ہیں۔ جب سروے لیا گیا تو 59% ان دنوں میں کتاب پڑھ رہے تھے۔
2007 : 15 – 29 سال کے 43% مردوں کا جواب تھا کہ وہ ہفتہ وار یا اس سے زیادہ کتابیں پڑھتے ہیں۔ جبکہ 64% خواتین کا جواب بھی یہی تھا۔
2008 : اور اب 48% لڑکے کتابیں پڑھتے ہیں۔ جبکہ 67% لڑکیاں ہیں۔ مرد اور عورتوں دونوں میں پڑھنے کا رحجان بڑھا لیکن نوجوان لڑکوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ ہوا۔
- نیٹ سے کتابیں خریدنے والے مردوں کی تعداد زیادہ رہی۔ 40% مرد جبکہ 36% خواتین نے نیٹ سے کتابیں خریدیں۔
سب سے مزے کا رزلٹ تھا کہ ہم سب سے زیادہ کتابیں کونسی خریدتے ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زیادہ تر لوگ ناولز پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔
ناولز 44%
کرائم 36%
فیکٹ بکس 33%
بچوں کی کتابیں 24%
سبجیکٹس بکس 17%
ہابی اور کھانے پکانے کی کتابیں 15%
بائیوگرافی 14%
مختلف 14%
شاعری 4%
Source: aftenposten.no


حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 26 Apr 2008 at 9:41 pm
بہت خوب۔ آپ بھی یہاں کتابوں کے بارے میں لکھیںتا کہ کوئی نہ کوئی دلچسپی لے۔ ہمارے یہاںتو لوگوں کو آٹے کی پڑی ہوتی ہے، کتابوں کی فرصت کسی کو کہاں؟ : :???:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 27 Apr 2008 at 2:06 pm
ماوراء بہت زبردست کام کيا ہے ، بہترين سروے ہے ساجد صاحب نے درُست کہا کہ آج کل تو کتابوں کی کوئ بات ہی نہيں کرتا اور ميرے خيال ميں جتنی اچھی دوست انسان کی کتاب ہوتی ہے اور کوئ نہيں ہو سکتا ليکن آج کل کتاب سے وہ مُحبت لوگوں ميں باقی نہيں رہی حالانکہ علم وہ خزانہ ہے جس کا شايد کوئ اختتام نہيں بندہ سيراب ہونے ميں ہی نہيں آتا ميرے گھر کے ہر کونے ميں آپ کو کتابوں کی چھوٹي سي دُکان ملے گی اور دل پھر بھی نہيں بھرتا
اپنا خيال رکھنا
دُعاگو
شاہدہ اکرم
شاہدہ اکرم’s last blog post..تاريخی مُقامات
اس تبصرے کا جواب دیں
on 28 Apr 2008 at 2:54 am
اس دور خانہ خراب میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کا اوڑھنا بچھونا بھی کتابیں ہیں۔ حتٰی کہ میرے ایک دوست تو یہ تک کہتے ہیں کہ کتاب کسی سے لے کر نہ پڑھو بلکہ خرید کر پڑھو، ایک تو اس کو بار بار پڑھ کر نئے نتائج اخذ کر سکو گے بلکہ ایک اچھی کتاب لکھنے والے کی کتاب خریدنے سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور مالی پریشانیوں سے بچ کر وہ اگلی مرتبہ زیادہ بہتر خیالات پیش کر سکتا ہے۔
ابوشامل’s last blog post..انسانی فطرت
اس تبصرے کا جواب دیں
on 28 Apr 2008 at 8:15 am
ہمارے یہاں لوگوں کے پاس کتابیں نہ پڑھنے کو مہنگائی کا بہانہ اچھا ملا ہوا ہے۔ ارے بھائی جب لوگ اتنے مہنگے موبائل فونز رکھ سکتے ہییں ان میں سینکڑوں روپے کا بیلنس پھونک سکتے ہیں۔ تو مہینے میں کوئی ایک دو کتابیں نہیں خرید سکتے؟
ہمارے گھر میں کتابیں پڑھنے کا سب کو بہت شوق ہے اور ہم خرید کر ہی پڑھتے ہیں۔ اگر آپ کسی کتابوں کی دکان میں جائیں تو ہزار روپے میں کئی اردو کتابیں خرید سکتے ہیں۔ اور اتوار بازار وغیرہ میں تو سمجھیں ردی کے بھاؤ کتابیں مل رہی ہوتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کراچی میں لوگوں کو پڑھنے کا زیادہ شوق ہو لیکن میں جب راولپنڈی اور اسلام آباد میں تھا تو مجھے وہاں بہت سی اچھی اور معیاری کتابوں کی دکانیں نظر آئیں۔ جہاں لوگ کتابیں خرید بھی رہے تھے۔ قصہ مختصر بات مہنگائی کی نہیں شوق کی ہے۔
نعمان’s last blog post..تین سال کی بے فکری ۔ ابنٹو کا نیا نسخہ
اس تبصرے کا جواب دیں
on 29 Apr 2008 at 12:37 pm
ساجد، جن کے پاس آٹا ہو ، وہ بھی کہاں کتابیں پڑھتے ہیں؟ اتنی فضول خرچیاں کرتے ہیں لیکن کتابوں سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے ہیں، وہ بتا رہے تھے کہ ایک لڑکے نے پورا سال یونیورسٹی میں ایک ہی پینٹ پہنی رکھی۔ وہ پیسے بچاتا تھا کہ کتابیں خرید سکے۔
۔۔۔۔۔
شاہدہ، بالکل درست کہا۔ ہماری نوجوان نسل کو تو بالکل ہی شوق نہیں ہے۔ میں نے بہت ہی کم بچے کتابیں پڑھتے دیکھے ہیں۔ البتہ ایک بات نوٹ کی ہے میں نے، شاعری کی کتابوں سے بہت سوں کو لگاؤ ہے۔
۔۔۔۔
ابو شامل۔ آپ کے دوست بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔ میں نے خود کبھی کسی سے نہ کتاب لی ہے، نہ کبھی دی ہے۔ (ایک بار دے کر پچھتائی تھی۔ :oops: )
۔۔۔
نعمان، درست کہا۔ لوگ اتنی فضول خرچیاں کر لیتے ہیں۔ کتابوں کے لیے پیسے نہیں ہوتے ان کے پاس۔
اور واقعی اتنی مہنگی کتابیں بھی نہیں ملتیں۔ اگر آپ زیادہ کتابیں لیتے ہیں تو آپ کو دسکاؤنٹ بھی ملتا ہے۔ جیسا آپ نے کہا کہ قصہ مختصر ۔۔بات شوق کی ہے۔ شوق ہو تو کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 May 2008 at 3:08 am
زززبردست موضوع پر لکھا ہے ماورا ۔
یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ناولز زیادہ پڑھے جاتے ہیں مجھے بھی یہ صنف بہت پسند ہے اور دلچسپ بھی بہت ہوتی ہے۔
تمہیں نارویجن ناولز پسند ہیں تو کسی ایک کا مرکزی خیال تو لکھو کسی دن
محب علوی’s last blog post..AUTISM
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 May 2008 at 3:18 pm
میں تو اس سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔
ٹائم نکالنا بھی مشکل ہے۔ صح ناشتہ اس کے بعد چہل قدمی۔۔۔ اتنی دیر میں لنچ کا وقت آجاتا ہے۔۔۔ پھر قیلولہ ۔۔۔شام کی چائے ۔۔۔ڈنر ۔۔۔ شام کی سیر ۔۔۔ دوست و احباب ۔۔۔ سونے کا وقت
کیا تمہیں وقت ملتا ہے؟ :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 03 May 2008 at 10:01 am
محب، اور مجھے افسوس ہوا کہ اتنے لوگ ناولز پڑھتے ہیں۔
نارویجین ناولز میں نے تو کبھی بھی نہیں پڑھے تو مرکزی خیال کیا لکھوں۔ :???:
——-
تفسیر بھیا، خوش آمدید۔
مجھے تو خود بھی وقت نہیں ملتا۔ گھر میں تو بالکل بھی نہیں پڑھ سکتی۔ زیادہ تر بس میں اگر لمبا راستہ ہو تو پڑھ لیتی ہوں یا جاب کر بریک میں وقت مل جائے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 05 May 2008 at 12:17 am
السلام علیکم بہت دنوں کے بعد آپ کے بلاگ پر آنا ہوا بلکے کسی بھی بلاک پر بہت دنوں کے بعد ہی آنا ہوا بہت مصروف تھا کیوں کے فارغ تھا :grin: کتاب سروے 2008 کے نتائج پڑھ کر خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی ہوا خوشی اس بات کی کے اس کمپیوٹر کے دور میں بھی کتاب سے محبت کرنے والے مجود ہیں لیکن دکھ اس بات کا کہ میرے حساب میں یہ لوگ بھی بہت کم ہیں اور شاعری کو پڑھنے والے بہت کم ہیں لیکن اگر دیھکا جائے تو شاعری لکھنے والے بہت زیادہ ہیں اسی طرح باقی کتابوں کا بھی ایسا ہی حال ہے لکھنے والے بہت زیادہ ہیں لیکن پڑھنے والے بہت کم ہیں لیکن ہم اس سلسلہ میں کیا کر سکتے ہیں
نوائے ادب’s last blog post..کرایہ ، عوام اور میں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 May 2008 at 2:31 pm
خرم، شکریہ کہ آپ بلاگ پر آئے۔ میں خود آجکل بہت مصروف ہوں۔
دونوں باتیں ٹھیک کی ہیں کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں بھی کتابیں پڑھنے والے ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ سے بڑی لائبریری تو اب آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔
اور واقعی کتابیں لکھنے والا زیادہ اور پڑھنے والے کم ہیں۔ اس سروے میں تو شاعری پڑھنے والے کم ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے پاکستان میں شاعری لکھنے والے اور پڑھنے والے بھی بہت ہیں۔ جس جس کو روگ لگا تو اس کو شاعری سے لگاؤ ہو گیا، یعنی بچہ بچہ شعر و شاعری پڑھتا نظر آئے گا۔ :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 May 2008 at 10:10 pm
السلام علیکم مصرف رہنا اچھی بات ہے کوئی پرشانی نہیں رہتی
ویسےایسی بھی بات نہیں ہے اور نا ہی شاعری بچوں کا کھیل ہے شاعری جتنی آسان لگتی ہے اتنی ہی مشکل ہے اس کو فنی حوالے سے درست رکھنا بہت ہی مشکل ہے بہت محنت ہوتی ہے دو مصرے لکھ کر اس کو شعر کہہ دینا شاعری نہیں ہے شاعری میں عروض ہوتا ہے وزن ہوتا ہے خیال ہوتا ہے سوچ ہوتی ہے اس بات کو تو میں مانتا ہوں پاکستان میں زیادہ شاعری ہی لکھی پڑھی جاتی ہے لیکن شاعر اس وقت ہی شاعر ہے جس وقت اس کو کوئی اچھا شاعر تسلیم کرے مثال کو طور پر اگر میں شاعری کرتا ہوں اور آپ میرے شاعرہ پسند کرتی ہے تو میںاپنے آپ کو اچھا شاعری نہیں کہ سکتا لیکن میری شاعری کو اگر اختر اعجاز صاحب وارث صاحب جیسے استاد اچھی شاعری کہتے ہیں تو میںخود کو شاعر مانوںگا
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 May 2008 at 8:46 am
وعلیکم السلام خرم، درست کہا کہ شاعری بچوں کو کھیل نہیں ہے۔ اسی لیے تو میرے اوپر سے گزر جاتی ہے۔ :oops:
اس تبصرے کا جواب دیں