10
The Kite Runner
اشاعت: ماوراء146 بار دیکھا گیامیں نے 2006 میں “دا کائٹ رنرر“(Drageløperen) کتاب پڑھی تھی، اتنی اچھی کہانی تھی، کہ جب تک ختم نہ ہوئی، میں کتاب کو ہر وقت ساتھ ساتھ لیے پھرتی کہ جب وقت ملے گا، آگے پڑھوں گی۔ کہانی بہت چھو جانے اور رلا دینے والی تھی۔
کہانی دو دوستوں کی ہے۔ امیر افغانی لڑکا جبکہ حسن امیر کے باپ کے نوکر کا بیٹا ہے، جس کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔محلے کے لڑکے اس کو ہزارہ ہونے کی وجہ سے ہرٹ کرتے ہیں۔ امیر کو بھی اس کا دوست ہونے پر برا بھلا کہتے ہیں۔
حسن ، امیر کے لیے پتنگ اڑاتا ہے۔ اور پتنگ کے کٹنے پر پتنگ کے پیچھے پیچھے بھاگ کر پتنگ پکڑ کر لاتا ہے۔ حسن اور امیر کیسے بچھڑتے ہیں؟ امیر ملک کو چھوڑ کر امریکہ کب، کیسے اور کیوں جاتا ہے؟ امیر واپس افغانستان کیوں آتا ہے؟اور افغانستان میں وہ کیا کیا دیکھتا ہے۔ فلم میں صرف ایک، دو سین میں چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے۔ باقی ساری فلم میں (اگر آپ مجھ جیسے ہیں تو) سارا وقت رو کر گزاریں گے۔
خالد حسینی نے اتنی زبردست کہانی لکھی ہے کہ یہی گمان گزرتا ہے کہ یہ سب اس کے اپنے ساتھ بیت چکا ہے، اور انہی احساسات کو اس نے کاغذ پر اتارنے کے بعد فلم بنائی ہے۔
فلم میں بورنگ چیز “زبان” تھی۔ فلم فارسی یا پشتو (جو بھی تھی) تھوڑی سی اردو اور انگریزی میں ہے۔ پشتو کی وجہ سے سارا وقت ٹیکسٹ پڑھنے میں گزر گیا۔
فلم میں مرد اور عورت کو سنگسار کرنے کے لیے میدان میں لایا جاتا ہے۔ لیکن صرف عورت کو پتھر مارتے ہوئے دکھایا۔ مرد کو پتھر مارتے ہوئے دکھایا نہیں۔ اس لیے مجھے مرد کا درد محسوس نہیں ہوا۔ لیکن عورت کی چیخیں ابھی بھی یاد ہیں۔(ویسے اللہ کو سزا یہ نظام نہیں رکھنی چاہیے تھا۔ کم از کم ایک انسان کو تو سزا دینے کا نہ کہتا۔ خود جیسے مرضی دے دیتاL۔
دو ہفتے پہلے مجھے فلم کے بارے میں پتہ چلا، دونوں بچوں کو تیار کیا کہ میرے ساتھ سینما چلیں، وہاں پہنچے تو ٹکٹس بِک چکے تھے۔ وہاں سے واپس۔ اور دوسری بار سب کا خرچہ خود اٹھانا پڑا۔ لیکن فلم اتنی اچھی تھی کہ وقت اور پیسے جانے کا افسوس نہیں ہوا۔ اس لیے میری طرف سے فری مشورہ ہے کہ آپ اگر فلم دیکھ سکتے ہیں تو ضرور دیکھیں۔ اگر نہیں دیکھنا چاہتے تو پھر بھی دیکھیں۔:)












جی بہتر ، آپ کہتی ہیں تو ضرور دیکھ لیں گے :lol: اور کچھ ؟
زوہا، اور تو کچھ نہیں۔ لیکن آپ اپنا تعارف تو کروا دیں پلیز۔
کہانی بیشک اچھی ہے لیکن پروپیگنڈے کا سہارا بھی لیا گیا۔ جیسے آپ نے ذکر کیا وہ سنگسار کرنے والے سین کا جس میں مرد کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ عورت کو مار دیا جاتا ہے۔ یعنی طالبان دور میں صرف عورتوں کو سزا دی جاتی تھی، جو کہ قطعی غلط ہے۔ دوسرے اس پوری فلم میں پشتونوں کو صرف انتہا پسندوں کے طور پر دکھایا گیا جبکہ ہزارگان(جس سے ہیرو گروپ کا تعلق تھا) کو مظلوم دکھایا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے بچے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ اصل میں ہزارہ لوگوں کا خاصہ ہے۔ فلم اچھی ہے لیکن جانبداری کی جھلک نے ایک پشتون کو تھوڑا اپ سیٹ ضرور کیا۔ :roll:
واضح رہے کہ اس سے مراد تمام ہزارگان نہیں بلکہ وہ وار لارڈز ہیں جو اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
جی ضرور ،۔ آپ کہیں اور ہم نا تعارف کروایں اب ایسے بھی حالات نہیں :lol:
امید کرتی ہوں کچھ نا کچھ تو آپکو یاد ہی ہوگا 
نام ہے زوہا، اگر آپکو یاد ہو تو ایک ہی زوہا ہوا کرتی تھیں ، کہاں بھلا :?: اب تھوڑا سا آپ بھی بھولی بسری یادوں کو کنگالئیے
ہاں ساجد، فلم کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔ اب مجھے تو پشتون اور ہزارہ کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا، اس لیے فلم اچھی لگی۔ لیکن جو پشتون ہے، وہی اس کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سچ کیا اور جھوٹ کیا تھا۔
—
زوہا، مجھے کچھ اندازہ تھا کہ آپ وہی ہیں۔ لیکن مجھے پکا نہیں پتہ تھا تو اس لیے پوچھ لیا۔ اتنے عرصے بعد جو آپ کو دیکھا ہے۔
ماوراء’s last blog post..The Kite Runner
اللہ کا شکر۔ ہم سب ٹھیک ہیں۔
اور ایسی تو کوئی بات نہیں کہ آپ کے جانے سے شکر ادا کیا ہو کسی نے ۔ سب کو ہی آپ یاد ہیں۔
زاسلام علیکم زوہا ۔۔ کیا حال ہیں ۔۔ بھول تو آپ گئیں ہم سب کو ۔۔ یتنے عرے بعد کیسے خیال آگیا پھر ہمارا ۔۔ :razz:
:neutral: وعلیکم سارہ جی ، ہم بھول گئے رے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے ۔ :lol: کیا کیا ہوا دل پہ ستم ، مگر تم سب کا پیار نہیں بھولے ۔ :razz:
ھمم زوہا لگتا ہے واقعی نہیں بھولیں
لیکن پھر غائب کہاں ہو گئیں تھیں ۔۔ :razz:
زوہا، ہم نے تو کسی سے کوئی پیار نہیں کیا تھا؟ آپ کس پیار کی بات کر رہی ہیں؟ :razz:
اپنی رائے کا اظہار کریں۔