08
عالمی یومِ خواتین
اشاعت: ماوراء177 بار دیکھا گیا 
اسلام انسانیت کے لیے تکریم، وقار اور حقوق کے تحفظ کا پیغام لے کر آیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقت ور کے زیر نگیں تھا۔ تاہم معاشرے میں خواتین کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تاریخ انسانی میں عورت اور تکریم دو مختلف حقیقتیں رہی ہیں۔ قدیم یونانی فکر سے حالیہ مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم نظر آتا ہے۔ یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی جس نے ممنوعہ صندوق کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔ ابتدائی رومی قانون میں بھی عورت کو مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی عیسائی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔ سینٹ جیروم (St. Jerome) نے کہا۔
“Women Is The Gate Of The Devil, The Path Of Wickedness, The Sting Of The Serpent, In A Word A Perlious Object.”
مغرب میں عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک طویل اور جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑا۔ نوعی امتیاز کے خلاف عورت کے احتجاج کا اندازہ حقوقِ نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی طرف سے عورت کے لیے Womyn کی اصطلاح کے استعمال سے ہوتا ہے۔ جو انہوں نے نوعی امتیاز (Gender Discrimination) سے عورت کو آزاد کرنے کے لیے کیا۔ مختلف ادوار میں حقوق نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین میں (1820 - 1906) Susan B. Anthony کا نام نمایاں ہے۔ جس نے National Woman’s Suffrage Association قائم کی۔ اور اسے 1872 میں صرف اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی کوشش میں جیل جانا پڑا۔صدیوں کی جدوجہد کے بعد 1961 میں صدر John Kennedy نے خواتین کے حقوق کے لیے کمیشن قائم کیا جس کی سفارشات پر پہلی مرتبہ خواتین کے لیے Fair Hiring Paid Maternity Leave Practices اور Affordable Child Care کی منظوری دی گئی۔ سیاسی میدان میں بھی خواتین کی کامیابی طویل جدوجہد کے بعد ممکن ہوئی۔ Jeanette Rankin Of Montana پہلی مرتبہ 1971 میں امریکہ ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہو سکی۔
جبکہ اسلام کی حقوقِ نسواں کی تاریخ درخشاں روایات کی امین ہے۔ روزِ اول سے اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہلِ علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سے یکسر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
(”اسلام میں خواتین کے حقوق” سے)
———– ————
اسلام نے عورت کو بے شک وہ مقام دیا ہے جو کسی اور مذہب نے شاید ہی نہ دیا ہو۔ لیکن ہم مسلمان عملی طور پر اسلام پر کم ہی عمل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے یا دوسرے مسلمان ممالک میں عورت کا جو مقام ہے۔ وہ سب کو ہی معلوم ہے۔ ابھی بھی ہم میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو عورت کے معاملے میں بہت برس پیچھے جی رہے ہیں۔
“عورت ماں ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے، بہن ہے۔ ان رشتوں میں تقدس ہے، عورت کو یہ رشتے تحفظ دیتے ہیں۔اگر عورت کو ان رشتوں میں بھی تحفظ و آزادی حاصل نہیں تو وہ عورت بدقسمت نہیں بلکہ مرد بدقسمت ہے۔”
اگر مجھے موقع ملے تو میں ساری زندگی عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتی رہوں گی۔ بلکہ اب بھی کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی ہوں۔:d
ابھی پچھلے دنوں ایک لڑکی مجھ سے محبت کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ میں نے اسے جواب دیا کہ مرد اس قابل نہیں ہوتا کہ اس سے محبت کی جائے۔ اور میں عورتوں کے حق میں لڑنے والی ہوں۔اس لیے ایسا ہو نہیں سکتا۔ بیچاری خاموش ہو گئی۔:D
کل فلم (دا کائٹ رنر) میں عورت کو سنگسار کرتے دیکھا۔ بس اس کے بعد سارا وقت امی کا سر کھاتی رہی کہ اسلام میں ایسا کیوں ہے؟
آج ایک عورت کو روتے دیکھا۔ جِم پر اس کا پورا بیگ ہی کوئی چرا کر لے گیا۔ اور اس کی ہر چیز اس میں تھی۔ اس کو دلاسہ دیتی رہی۔
معاشرے میں عورت کی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عورت کے مظلوم ہونے میں اس کی اپنی ہی غلطی ہے، وہ کچھ زیادہ ہی حساس اور مرد کے سامنے جلد جھک جاتی ہے۔
پتہ نہیں کب تک حقوقِ نسواں (دوسرے الفاظ میں مرد اور عورت) کی جنگ چلتی رہے گی، عورت کو کبھی وہ مقام مل بھی سکے گا جو اس کو ملنا چاہیے۔?












آپ نے بلکل صیح کہا مرد محبت کے تو کیا کسی بھی قابل نہیں ہوتا ،
اور جس قابل ہوتے ہیں انکی بیویاں انکو اسی درجے پر رکھتیں ہیں :lol:
بہت خوب کرتیں ہیں ،
ایسے تو نہیں بولیں۔۔۔تمام مرد گدھے نہیں ہوتے۔۔۔ کچھ اچھے انسان بھی ہوتے ہیں۔۔
جہاں تک اسلام میں خواتین کا مقام ہے تو اسلام نے عورتوں کو ایویں درجے سے نکال کر ایک مستقل ”شخصیت“ عطا کی ہے اور اس کو حقیقی مقام و منزلت سے آشنا بنایا ہے ۔ عورت ایک الہی وجود ہے اور اسلام کے مکتب میں ، وہ مردوں سے زیادہ آزادی و انسانیت کی بشارت دیتی ہے ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانی تاریخ کے طویل دور میں کفر و شرک کی حکمرانی کے سبب قدیم و جدید ہر دور میں مختلف شکلوں سے اس کو ذلت و حقارت کے ساتھ کنیز و خدمتگار کی زندگي بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے ۔ اس کی صرف ظاہری شکل و صورت پر نظر رکھی گئی اور لوگ عیش و مستی کے کھلونوں کی طرح اس سے کھیلتے رہے خصوصا´ عصر حاضر میں تو فیشن اور جدت کے نام پر اس سے بد ترین شکل میں فائدہ اٹھایا جارہا ہے ، ایک عورت کے الہی پہلوؤں کو بالکل نظر انداز کردیا گيا ہے ۔ اور لطف یہ ہے کہ سنہری شمشیر سے عورت کاگلا کاٹنے والے یہی افراد خواتین کے حقوق اور آزادی کے علمبردار بنے ہوئے ہیں اور اپنی حقیقت و عظمت سے ناآشنا خواتین کا ایک گروہ اپنی رہائي اور نجات کی راہ تلاش کر رہا ہے اور اس بات سے بے خبر ہے کہ یہ لوگ ان کو حیات نہیں موت کے دلدل میں ڈھکیل دینے کے درپے ہیں ۔۔۔خیر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مردوں اورخواتین کو چاہیئے کہ وہ اپنی آزادی و خود مختاری اور انسانی معیارات کو مغرب اور اس کے آوارۂ ملک وقوم کے آلہ کاروں کے ذریعے کھولے گئے این جی اوز کی صورت میں برائیوں کے اڈوں میں جانے اور عیش و عشرت اور تجملات کی زندگی گزارنے پر قربان نہ کریں۔ اور ایک بات کہ تمام خواتین نے ایک نہ ایک دن تو اپنے شوہر کے بچوں کی امی تو بننا ہی ہے ۔۔۔میرے کہنے کا مطلب ہے کہ ماں کی صورت میں خواتیں کی آغوش میں ایک مدرسہ ہے اور اس مدرسہ میں عظیم جوانوں کی پرورش ہونی ہے لہذا عورتوں کو چاہیئے کہ وہ وہ اعلی ترین انسانی کمالات سے خود کومزین کریں تاکہ ان کے بچےان کی آغوش میں صاحب کمال بن سکیں اور کوئی بھی مرد ان سے ان کا صحیح مقام چھین نہ سکے۔۔۔
پتہ نہیں کب تک حقوقِ نسواں (دوسرے الفاظ میں مرد اور عورت) کی جنگ چلتی رہے گی، عورت کو کبھی وہ مقام مل بھی سکے گا جو اس کو ملنا چاہیے۔?
———————————
اس کے لیے ریاضت چاہیے ہوگی ۔ مردوں اور خواتین دونوں ریاضت کرنا ہوگی اور دونوں ہی کو کھلے ذہن و دل سے کام لینا ہونا گا عملی طور پر۔ خواتین پر اس کی ذمہ داری شاید زیادہ عائد ہو۔ اور اپنا مقام خود سب سے پہلے سمجھنا ہوگا۔
خواتین خود بھی خواتین کے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہوتی ہیں ۔ بہت سی جگہوں پر تو افراط و تفریط کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو پاتے اور کچھ نتیجہ نہیں نکلتا یا پھر صورت مزید بگڑ جاتی ہے۔
خواتین کی مظلومیت یا مسائل کے پیچھے بعض وقت محض مردوں کا ظلم نہیں ہوتا خود خاتون خود یا آس پاس کی دیگر خواتین بھی انوالو ہوتی ہیں۔
ماوراء ، فائر فاکس میں روابط کام نہیں کر رہے۔ اور یہ کمنٹ باکس بھی ۔
مجھے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں آپ کا بلاگ کھول کر یہاں لکھنے میں کامیابی ہوئی ۔
ایسے تو نہیں بولیں۔۔۔تمام مرد گدھے نہیں ہوتے۔۔۔
———————–
اپنے حقوق کے لیے لڑنا اچھی بات ہے۔۔۔ لیکن، میں نے نوٹ کیا ہے کہ خواتین برابری کا دعوی کرتے کرتے خود کو مرد سے برتر ثابت کرنے پر تل جاتی ہیں۔ :razz: اس سے گریز کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام میں صرف عورت ہی کے لیے نہیں، مرد کے لیے بھی سنگساری کی سزا ہے کیونکہ اگر دونوں سے جرم سرزد ہوا ہے تو دونوں برابر ہے۔۔۔ تاہم یہ سزا انتہائی جرم پر رکھی گئی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ اس سزا کے نافذ کرنے کے لیے اسلامی حکومت اور دیگر کئی شرائط کا ہونا ضروری ہے جو کہ موجودہ دور کے بیشتر مسلمان ممالک میں نہیں پائے جاتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شگفتہ: خواتین خود بھی خواتین کے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہوتی ہیں ۔ بہت سی جگہوں پر تو افراط و تفریط کی وجہ سے مسائل حل نہیں ہو پاتے اور کچھ نتیجہ نہیں نکلتا یا پھر صورت مزید بگڑ جاتی ہے۔
خواتین کی مظلومیت یا مسائل کے پیچھے بعض وقت محض مردوں کا ظلم نہیں ہوتا خود خاتون خود یا آس پاس کی دیگر خواتین بھی انوالو ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ کہ آپ نے یہ حقیقت میرے بیان کرنے سے پہلے ہی لکھ دی۔
راہبر’s last blog post..ربیع النور مبارک ہو
تم نے اس تھیم میں کوئی تبدیلی کی ہے کیا؟ کیونکہ یہ ایک بار پھر فائر فوکس پر مسائل کھڑے کررہی ہے۔۔۔ :???:
راہبر’s last blog post..ربیع النور مبارک ہو
میں مرد ہوں اسلئے میری رائے کو معاندانہ ہی سمجھا جائے گا لیکن مجھے حقیقت بیان کرنے میں کوئی عار نہیں ۔ میں مختصر فقروں میں لکھوں گا ۔ اگر کسی کی تفصیل درکار ہو تو رابطہ کر لیجئے گا ۔
1 ۔ عورت کی پریشانی کا باعث اکثر عورت ہی ہوتی ہے وہ خود یا کوئی دوسری ۔
2 ۔ سنگسار کی سزا اسلام میں شادی شدہ مرد یا عورت کے بدکاری کرنے پر ہے ۔ یہ سزا یہودیوں میں بھی تھی لیکن غیر شادی شدہ کیلئے بھی ۔ اسلام میں غیر شادی شدہ کیلئے 100 کوڑے کی سزا ہے ۔ جھوٹا الزام لگانے والے کو 80 کوڑے کی سزا ہے جو یہودیوں میں نہ تھی ۔
3 ۔ آزادی کا مطلب وہ نہیں جو ترقی پسند عورتیں پاکستان میں لیتی ہیں یعنی عورتیں جو چاہیں سو کریں
4 ۔ جب ایک طبقہ حقوق مانگتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہونا چاہیئے کہ کسی دوسرے طبقے کا کوئی حق سلب کیا جائے ۔
5 ۔ کچھ کام ایسے ہیں کہ صرف مردوں کو کرنے چاہئیں کچھ ایسے ہیں جو صرف عورتوں کو کرنے چاہئیں اور کچھ ایسے ہیں جو دونو کر سکتے ہیں ۔ دونو اصناف کو چاہئیے کہ اپنی اپنی بیالوجی کے مطابق کام کریں ۔
5 ۔ حقوق حاصل کرنے کا یہ طریقہ نہیں کہ پہلے سے مکمل آزاد عورتیں فیشن شو بن کر سڑکوں پر جلوس نکالیں اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں تقریریں کر کے تصویریں کھچوائیں اور دعوتیں اُڑائیں جب کہ جن کو حقوق کی ضرورت ہے اُن کا پرسانِ حال کوئی بھی نہ ہو ۔
اجمل’s last blog post..کیا یہی عُمدہ حکمرانیgood governance ہے ؟
زوہا، تو اور کیا۔


—–
کاشفی، اچھا لکھا ہے۔ اور بالکل درست کہا ہے۔
کاشف، اب مرد گدھی ہونے سے تو رہے۔ :razz:
بے شک ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین بہت اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔ اور ہماری خواتین میں شعور اجاگر ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی عورت کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح سے پِس رہی ہے۔ عورتوں پر ظلم کی کہانیوں پر الگ سے پوسٹ کرنا پڑے گی۔
—-
شگفتہ، آپ نے درست کہا کہ عورت کو سب سے پہلے اپنے مقام کو سمجھنا ہو گا۔ جیسا کہ میں نے بھی کہا ہے کہ عورت کی اپنی بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔
عورت سے عورت کی جنگ پر بھی ایک پوسٹ لکھی جا سکتی ہے۔
بلاگ کو پتہ نہیں کیا ہوا ہے، میں دیکھتی ہوں۔ :???:
——
عمار، برتری کا شوق صرف مرد کو ہے۔ عورت کو تو برابری کا مرتبہ بھی دے دیا جائے تو بہت بڑی بات ہے۔
اور سنگسار کرنے پر میں کچھ نہیں کہہ رہی۔ :cry:
بلاگ کےساتھ کچھ کیا تو نہیں۔۔پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔
–
اجمل انکل، آپ کی باتوں سے سو فیصد متفق ہوں۔ لیکن چونکہ مجھے عورتوں کے حق میں بولنا ہے تو ان کے خلاف بولنے سے پرہیز کرتی ہوں۔ ورنہ خواتین بھی کسی سے کم نہیں ہوتیں۔
شگفتہ صاحبہ نے صحیح شکائت کی ہے آپ کا بلاگ فائرفاکس سے ناراض لگتا ہے ۔
تو گویا آپ عورت ہو کر عورت سے ڈرتی ہیں ۔میں تو یہ مقولہ سامنے رکھتا ہوں - اوکھلی میں سر دیا تو دھمکوں کا ڈر کیا ؟ جب ہم مسلمان ہیں تو بلا خوف و خطر سچ کیوں نہ بولیں ۔مجھے زندگی میں بڑی بڑی دھمکیاں ملیں ۔ میرا کیریئر برباد کرنے کی ۔ میری ٹانگیں توڑنے کی اور اس سے بھی بڑھ کر اور دھمکی دینے والے دسترس رکھتے تھے لیکن میرے سوہنے اللہ نے مجھے ہمیشہ بچائے رکھا ۔ اللہ بہت بڑا مہربان اور محافظ ہے ۔
اجمل’s last blog post..امریکہ کی آرزو ۔ مُطیع پاکستان
فائر فاکس ہر میری طرف ٹھیک ہے۔ لیکن اگر کسی کو مسئلہ ہے تو آئی ای یوز کر لیں۔ :sad:
اجمل انکل، عورت سے ڈر نہیں لگتا، اصل میں میں کہنا چاہ رہی تھی کہ عورتوں کے حق میں جب مجھے کچھ کرنا ہے تو ان کے خلاف نہیں بول سکتی، پھر تو قول اور فعل میں تضاد ہو جائے گا۔ مجھے عورت کی وکالت کرنی ہے، اور عورت کے خلاف ہی بول کر کیس کمزور تو نہیں کر سکتی نا۔
بی بی!
یہ بتاؤ کہ عورت پر لکھنا ہو تو تم اور تم جیسے اکثر اور لوگ اسلام کو کیوں ساتھ میں گھسیٹ لیتے ہیں؟
عورت پر ظلم ہوتا ہے، بہت طریقوں سے ہوتا ہے اور بہت نہیں بلکہ ہر جگہ ہوتا ہے۔ جتنا بھی ان کے لیے ہم کر سکتے ہیں کرنا چاہئے لیکن باتوںکو ان کے صحیح کنٹیکسٹ میںرکھنا چاہئے۔
سنگسار مرد کو بھی کیا جاتا ہے۔
تمہارے بلاگ کو پڑھنے کے لیے مجھے یہ بیوقوف آئی ای چلانا پڑ رہا ہے۔
اعجاز’s last blog post..عجیب مصیبت
بھائی صاحب، اسلام کو نہیں مسلمانوں کو گھیسٹتے ہیں۔ ہم لوگ اسلام اسلام تو بہت کرتے ہیں۔ لیکن عمل نام کی چیز نہیں ہے۔
اور آئی ای پر اوپن کرنے کا تو ایسے کہہ رہے ہیں، جیسے مجھ پر احسان کر رہے ہیں۔
ویسے اب تھیم بدل دی ہے۔ امید ہے کہ اب ٹھیک ہو گا۔
بالکل۔ میرا بھی یہی خیال تھا کہ تم چاہ مسلمانوں کو گھسیٹنا رہی ہو۔ لیکن گھسٹتا اسلام نظر آتا ہے۔
احسان ہی تو ہے اور کیا :mrgreen:
وہ اپنا شادی کارڈ والا تھیم لگا دو ۔ وہی صحیح ہے ۔ اس میں بلاگ کی روح نظر آتی ہے۔ :razz:
بیچارہ اسلام کیا تھا اور ہم نے کیا بنا دیا۔ :sad:
اور دنیا واقعی کسی حال میں خوش نہیں رہتی۔۔۔سب نے اتنا شور مچایا کہ بلاگ فائر فاکس پر نہیں چل رہا۔ اب تھیم بدلی ہے تو اس پر بھی اعتراض۔ :neutral:
تو تم تھیم پھر بدل لو ۔ کونسا پیسے لگتے ہیں :idea:
واقعی صحیح کہا۔ پیسے نہیں لگتے اسی لیے تو ہر روز بدل لیتی ہوں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں۔