Mar 23 2008
یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
![]()

سب کو یومِ پاکستان مبارک ہو۔ ہمارے بزرگ تو قربانیاں دے کر ہمیں پاکستان دے گئے، لیکن ہم اس کی قدر نہ کر سکے۔
Mar 23 2008
![]()

سب کو یومِ پاکستان مبارک ہو۔ ہمارے بزرگ تو قربانیاں دے کر ہمیں پاکستان دے گئے، لیکن ہم اس کی قدر نہ کر سکے۔
Mar 21 2008

![]()

ہم سب ہر رات خواب دیکھتے ہیں۔ اب خواب کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، لیکن عام طور پر ہم دو طرح کے خواب دیکھتے ہیں۔ سوتی آنکھوں کے خواب اور جاگتی آنکھوں کے خواب۔۔! کن خوابوں کی اہمیت ہوتی ہے یہ خواب دیکھنے والے پر منحصر ہے۔
ڈریم لینڈ کے مین گیٹ کی تصویر یہاں سے لی گئی ہے۔
خواب “ہمارے احساسات، خیالات اور تصورات کا نتیجہ ہوتے ہیں جو سوتے ہوئے ہمارے دماغ میں آتے ہیں۔“ ہم اپنے خواب میں کہیں بھی جا سکتے ہیں، کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ خواب دیکھتے ہوئے ہم کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی حقیقی زندگی کے دروازے سے باہر نکل کر خوابوں کی دنیا کے دروازے کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہم اس عالمِ خواب میں کیا دیکھتے ہیں۔کیا کرتے ہیں، کبھی کبھار ہم وہ کچھ دیکھتے ہیں کہ دل کرتا ہے ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جائیں، اور یہی حقیقت ہو۔ اور کبھی کبھار ہم وہ کچھ دیکھتے ہیں کہ ہم اکثر خواب میں ہی سوچتے ہیں کہ یہ خواب ہی ہو، یہ سچ نہیں ہو سکتا ہے۔
شاہدہ نے کچھ دن پہلے خوابوں کے بارے میں لکھا تھا۔ اتفاق سے خوابوں کے بارے لکھنے کا میں نے سوچا تھا، لیکن شاہدہ کی تحریر کے بعد سوچا تھوڑا سا(زیادہ نہیں) تفصیل سے لکھوں۔
اگر آپ کو کوئی کہتا ہے کہ وہ خواب نہیں دیکھتا۔ تو وہ جھوٹ کہتا ہے۔ ہر کوئی خواب دیکھتا ہے۔ ہم ہر رات اوسطاً ایک سے دو گھنٹے خواب دیکھتے ہیں۔ اور ایک رات میں ہم چار سے سات خواب دیکھتے ہیں۔ خواب ختم ہونے کے پانچ منٹ بعد ہم خواب کا آدھا جبکہ دس منٹ کے بعد ٩٠٪ حصہ بھول جاتے ہیں۔
اگر آپ کی زندگی میں خوابوں کی اہمیت ہے تو آپ خواب ضرور یاد رکھتے یا کرنے کی کوشش کرتے ہونگے۔ کچھ ایسے خواب بھی ہوتے ہیں، جن کو ہم بھلانا نہیں چاہتے۔ اور کچھ بھلائے نہیں بھولتے۔ خوابوں کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ بہت سے خواب آپ کی حقیقی زندگی میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے خواب آپ کی خفیہ خواہشات اور لاشعوری احساسات کو ظاہر کر دے۔ خواب کو یاد رکھنے سے آپ کو اپنے آپ کو جاننے میں مدد مل سکتی ہیں۔ آپ کو آگاہی مل سکتی ہے۔ کیونکہ خواب میں آپ کو کوئی بھی ایسا اشارہ مل سکتا ہے، جسے آپ حقیقی زندگی میں استعمال میں لا سکتے ہیں۔
ٹیلی پیتھی کا بھی ایک اصول ہے کہ اپنے خواب یاد رکھنے کے لیے یا تو خواب کسی کو سنائیں یا پھر اسے کاغذ پر لکھ لیں یا بول کر ریکارڈ کر لیں۔ اور کچھ عرصے بعد اسے سنیں یا پڑھیں۔
مجھے خواب دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ دن ہو یا رات، گھر یا باہر خواب ۔۔خواب۔۔اسی لیے اب میں نے ڈریم لینڈ میں ہی رہنا شروع کر دیا ہے۔
اپنے تجربے سے میں بتاتی ہوں کہ اگر آپ نے کوئی خاص خواب دیکھنا ہے، تو سونے سے پہلے آنکھیں بند کر کے پوی یکسوئی کے ساتھ سوچیں کہ آج رات آپ یہ خواب دیکھیں گے۔ اگر آپ نے اپنے دماغ کو پورے فوکس پر رکھ کر سوچا ہے تو یقین کریں آپ مطلوبہ خواب دیکھ لیں گے۔ حقیقی زندگی میں آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کو کوئی کام کیسے کرنا ہے، رات کو سچے دل (یکسوئی) سے اللہ سے دعا کر کے سوئیں کہ رات مجھے خواب میں بتا دے۔ یا کوئی ایسی بات ہے جس کو آپ سوچ رہے ہیں، یا پھر کوئی ایسی بھی بات ہے جو آپ ظاہری طور پر سوچ تو نہیں رہے لیکن ہمارے لاشعور میں وہ بات ہوتی ہے۔ آپ جو دن بھر سوچتے ہیں، اس بارے میں بھی خواب آتا ہے۔
بہت پہلے کہیں پڑھا تھا مجھے ٹھیک سے یاد نہیں لیکن شاید ہندو مذہب میں یہ ماننا ہے کہ رات جب ہم سوتے ہیں تو ہماری روح جسم سے نکل کر دنیا کی سیر کو نکل جاتی ہے۔ اور جو روح دیکھتی ہے وہی ہمیں خواب کی صورت میں یاد رہتا ہے۔
اچھا، ہم میں سے بہت سے یا شاید سبھی کہتے ہیں کہ میں نے ایسا خواب دیکھا اور وہ سچ ہو گیا۔ تو وہ سچ ہی کہتے ہیں کہ ایسے خوابوں کو “الہامی خواب“ کہتے ہیں۔ جس میں ہمیں ہونے والے واقعہ کے بارے میں کسی نہ کسی طرح اشارہ ہو جاتا ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جاگنے کی نسبت خواب کے دوران ہمارا دماغ زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔
خوابوں کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں۔
ہم دن میں اوسطاً ٧٠ سے ١٢٠ منٹ تک خواب دیکھتے ہیں۔ دن کے خواب ہم جاگتے ہوئے اور ایسی نیند جس میں ہمارے شعور بیدار ہوں، دیکھتے ہیں۔ تب ہمارا دماغ سوچ میں گم ہو جاتا ہے اور ہماری بیداری (آگاہی) کا لیول کم ہو جاتا ہے۔
وہ ہیں، جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ خواب دیکھ رہے ہیں۔ بہت سے خواب دیکھنے والے اپنے آپ کو جگا دیتے ہیں جب ان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ اور کچھ خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
وہ ہیں، جو آپ کو پریشان کر دیتے ہیں اور آپ جاگ جاتے ہیں اور آپ کو خوف اور گھبراہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ اور ان کا تعلق آپ کی حقیقی زندگی سے ہو سکتا ہے، شاید آپ کی زندگی میں کوئی ایسی صورتِ حال ہو اور اسی سے متعلق آپ کو ایسے خواب آئیں۔
وہ خواب ہیں جو آپ کو بار بار آتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایک سے نہیں بلکہ کہانی مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کا مطلب ایک جیسا نکلتا ہو۔ یہ خواب مثبت بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر ڈراؤنے ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق آپ کی حقیقی زندگی سے ہو سکتا ہے کہ شاید آپ کی زندگی میں کوئی مسئلہ ہو، جب تک وہ حل نہیں ہو گا، ایسے خواب آنا بند نہیں ہوتے۔
یہ خواب، خواب دیکھنے والے کو ان کی صحت کے بارے میں پیغامات دینے کے کام آتے ہیں۔ ایسے خوابوں میں آپ کو آپ کی صحت کے بارے میں کسی قسم کا اشارہ ہو سکتا ہے، کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے۔
یہ وہ خواب ہیں جو ہمیں مستقبل کے بارے آگاہی، پیشن گوئی کرتے ہیں۔ سوتے ہوئے ہمارا دماغ ہماری معلومات اور ہمارے کیے ہوئے مشاہدات کو اکھٹا کرتا ہے، جن کو ہم عام طور پر سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ دوسرے الفاظ میں، ہمارا لاشعور، شعور کی ساری باتیں جانتا ہے۔ جو پھر خواب کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔
یہ خواب آپ کے مسائل حل کرنے میں آپ کی مدد کرتے ہیں یا پھر آپ کو زندگی میں فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ خواب اتنے واضح ہوتے ہیں کہ آپ ان کو کبھی بھول نہیں سکتے۔ جو آپ کو سالوں یاد رہتے ہیں، بالکل ایسے ہی لگتا ہے کہ جیسے ابھی پچھلی رات ہی آپ نے خواب دیکھا ہے۔ یہ خواب بہت خوبصورت ہو سکتے ہیں یا پھر خاص قسم کی علامتیں ہوتی ہیں۔ کہ جب آپ سو کر اٹھتے ہیں، تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو کچھ مل گیا ہے، اور عجیب سا اپنے یا دنیا کے بارے میں احساس ہوتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی بدل گئی ہو۔
خواب چاہے جیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے اس کے کسی خاص خواب کی تعبیر کا علم ہو جائے۔ شاید کسی اگلی پوسٹ میں کچھ خاص علامتوں کا خواب میں آنے کا مطلب بھی بتاؤں۔ (جی نہیں، میں خوابوں کی ماہر نہیں ہوں، بلکہ ایسے شوق میں پالے ہوئے ہیں، ٹیلی پیتھی، ہیپناٹزم، آسٹرالوجی، پامسٹری اور خوابوں وغیرہ کے بارے میں کتابیں پڑھتی رہتی ہوں۔)
Mar 14 2008
میرے پیارے اﷲ میاں
دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ ہے
اس کے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں
اور وہ بھی پاکستان ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
لیڈر کتنے نیک ہیں
ہم کو دیں وہ صبر کا پھل
خود وہ کھاتے کیک ہیں
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا نظام ہے
فلموں میں آزادی
ٹی وی پہ اسلام ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
سوچ کے دل گھبراتا ہے
بند ڈبوں میں خالص کھانا
ان کا کتا کھاتا ہے
میرا بچہ روتے روتے
بھوکا ہی سو جاتا ہے
دو طبقوں میں بٹتی جائے
ایسی اپنی سیرت ہے
اُن کی چھت پر ڈش انٹینا
میرے گھر بصیرت ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
میری آنکھ کیوں چھوٹی ہے
اُس کی آنکھ میں کوٹھی ہے
میری آنکھ میں روٹی ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
تیرے راز بھی گہرے ہیں
ان کے روزے سحری والے
اور میرے اَٹھ پہرے ہیں
دعوت روزہ کھلوانے کی
انہیں ملی سرکاری ہے
میرا بچہ روزہ رکھ کے
ڈھونڈتا پھرے افطاری ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسا وٹہ سٹہ ہے
این ٹی ایم کا سر ننگا
پی ٹی وی پہ دوپٹہ ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
بادل مینہ برسائے گا
اس کا گھر دھل جائے گا
میرا گھر بہہ جائے گا
میرے پیارے اﷲ میاں
چاند کی ویڈیو فلمیں دیکھ کے
اس کا بچہ سوتا ہے
میرا بچہ روٹی سمجھ کر
چاند کو دیکھ کر روتا ہے
میرے پیارے اﷲ میاں
یہ کیسی ترقی ہے
اُن کی قبریں تک ہیں پکی
میری بستی کچی ہے
فاروق قیصر
نظم یہاں سے لی ہے۔
Mar 10 2008
میں نے 2006 میں “دا کائٹ رنرر“(Drageløperen) کتاب پڑھی تھی، اتنی اچھی کہانی تھی، کہ جب تک ختم نہ ہوئی، میں کتاب کو ہر وقت ساتھ ساتھ لیے پھرتی کہ جب وقت ملے گا، آگے پڑھوں گی۔ کہانی بہت چھو جانے اور رلا دینے والی تھی۔
کہانی دو دوستوں کی ہے۔ امیر افغانی لڑکا جبکہ حسن امیر کے باپ کے نوکر کا بیٹا ہے، جس کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔محلے کے لڑکے اس کو ہزارہ ہونے کی وجہ سے ہرٹ کرتے ہیں۔ امیر کو بھی اس کا دوست ہونے پر برا بھلا کہتے ہیں۔
حسن ، امیر کے لیے پتنگ اڑاتا ہے۔ اور پتنگ کے کٹنے پر پتنگ کے پیچھے پیچھے بھاگ کر پتنگ پکڑ کر لاتا ہے۔ حسن اور امیر کیسے بچھڑتے ہیں؟ امیر ملک کو چھوڑ کر امریکہ کب، کیسے اور کیوں جاتا ہے؟ امیر واپس افغانستان کیوں آتا ہے؟اور افغانستان میں وہ کیا کیا دیکھتا ہے۔ فلم میں صرف ایک، دو سین میں چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے۔ باقی ساری فلم میں (اگر آپ مجھ جیسے ہیں تو) سارا وقت رو کر گزاریں گے۔
خالد حسینی نے اتنی زبردست کہانی لکھی ہے کہ یہی گمان گزرتا ہے کہ یہ سب اس کے اپنے ساتھ بیت چکا ہے، اور انہی احساسات کو اس نے کاغذ پر اتارنے کے بعد فلم بنائی ہے۔
فلم میں بورنگ چیز “زبان” تھی۔ فلم فارسی یا پشتو (جو بھی تھی) تھوڑی سی اردو اور انگریزی میں ہے۔ پشتو کی وجہ سے سارا وقت ٹیکسٹ پڑھنے میں گزر گیا۔
فلم میں مرد اور عورت کو سنگسار کرنے کے لیے میدان میں لایا جاتا ہے۔ لیکن صرف عورت کو پتھر مارتے ہوئے دکھایا۔ مرد کو پتھر مارتے ہوئے دکھایا نہیں۔ اس لیے مجھے مرد کا درد محسوس نہیں ہوا۔ لیکن عورت کی چیخیں ابھی بھی یاد ہیں۔(ویسے اللہ کو سزا یہ نظام نہیں رکھنی چاہیے تھا۔ کم از کم ایک انسان کو تو سزا دینے کا نہ کہتا۔ خود جیسے مرضی دے دیتاL۔
دو ہفتے پہلے مجھے فلم کے بارے میں پتہ چلا، دونوں بچوں کو تیار کیا کہ میرے ساتھ سینما چلیں، وہاں پہنچے تو ٹکٹس بِک چکے تھے۔ وہاں سے واپس۔ اور دوسری بار سب کا خرچہ خود اٹھانا پڑا۔ لیکن فلم اتنی اچھی تھی کہ وقت اور پیسے جانے کا افسوس نہیں ہوا۔ اس لیے میری طرف سے فری مشورہ ہے کہ آپ اگر فلم دیکھ سکتے ہیں تو ضرور دیکھیں۔ اگر نہیں دیکھنا چاہتے تو پھر بھی دیکھیں۔:)
Mar 08 2008

اسلام انسانیت کے لیے تکریم، وقار اور حقوق کے تحفظ کا پیغام لے کر آیا۔ اسلام سے قبل معاشرے کا ہر کمزور طبقہ طاقت ور کے زیر نگیں تھا۔ تاہم معاشرے میں خواتین کی حالت سب سے زیادہ ناگفتہ بہ تھی۔ تاریخ انسانی میں عورت اور تکریم دو مختلف حقیقتیں رہی ہیں۔ قدیم یونانی فکر سے حالیہ مغربی فکر تک یہ تسلسل قائم نظر آتا ہے۔ یونانی روایات کے مطابق پینڈورا (Pandora) ایک عورت تھی جس نے ممنوعہ صندوق کھول کر انسانیت کو طاعون اور غم کا شکار کر دیا۔ ابتدائی رومی قانون میں بھی عورت کو مرد سے کمتر قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی عیسائی روایت بھی اسی طرح کے افکار کی حامل تھی۔ سینٹ جیروم (St. Jerome) نے کہا۔
“Women Is The Gate Of The Devil, The Path Of Wickedness, The Sting Of The Serpent, In A Word A Perlious Object.”
مغرب میں عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک طویل اور جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑا۔ نوعی امتیاز کے خلاف عورت کے احتجاج کا اندازہ حقوقِ نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی طرف سے عورت کے لیے Womyn کی اصطلاح کے استعمال سے ہوتا ہے۔ جو انہوں نے نوعی امتیاز (Gender Discrimination) سے عورت کو آزاد کرنے کے لیے کیا۔ مختلف ادوار میں حقوق نسواں کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین میں (1820 – 1906) Susan B. Anthony کا نام نمایاں ہے۔ جس نے National Woman’s Suffrage Association قائم کی۔ اور اسے 1872 میں صرف اس جرم کی پاداش میں کہ اس نے صدارتی انتخاب میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کی کوشش میں جیل جانا پڑا۔صدیوں کی جدوجہد کے بعد 1961 میں صدر John Kennedy نے خواتین کے حقوق کے لیے کمیشن قائم کیا جس کی سفارشات پر پہلی مرتبہ خواتین کے لیے Fair Hiring Paid Maternity Leave Practices اور Affordable Child Care کی منظوری دی گئی۔ سیاسی میدان میں بھی خواتین کی کامیابی طویل جدوجہد کے بعد ممکن ہوئی۔ Jeanette Rankin Of Montana پہلی مرتبہ 1971 میں امریکہ ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہو سکی۔
جبکہ اسلام کی حقوقِ نسواں کی تاریخ درخشاں روایات کی امین ہے۔ روزِ اول سے اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی اور انتظامی کردار کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی۔ تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہلِ علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سے یکسر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
(”اسلام میں خواتین کے حقوق” سے)
———– ————
اسلام نے عورت کو بے شک وہ مقام دیا ہے جو کسی اور مذہب نے شاید ہی نہ دیا ہو۔ لیکن ہم مسلمان عملی طور پر اسلام پر کم ہی عمل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے یا دوسرے مسلمان ممالک میں عورت کا جو مقام ہے۔ وہ سب کو ہی معلوم ہے۔ ابھی بھی ہم میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو عورت کے معاملے میں بہت برس پیچھے جی رہے ہیں۔
“عورت ماں ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے، بہن ہے۔ ان رشتوں میں تقدس ہے، عورت کو یہ رشتے تحفظ دیتے ہیں۔اگر عورت کو ان رشتوں میں بھی تحفظ و آزادی حاصل نہیں تو وہ عورت بدقسمت نہیں بلکہ مرد بدقسمت ہے۔”
اگر مجھے موقع ملے تو میں ساری زندگی عورتوں کے حقوق کے لیے لڑتی رہوں گی۔ بلکہ اب بھی کسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی ہوں۔:d
ابھی پچھلے دنوں ایک لڑکی مجھ سے محبت کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ میں نے اسے جواب دیا کہ مرد اس قابل نہیں ہوتا کہ اس سے محبت کی جائے۔ اور میں عورتوں کے حق میں لڑنے والی ہوں۔اس لیے ایسا ہو نہیں سکتا۔ بیچاری خاموش ہو گئی۔:D
کل فلم (دا کائٹ رنر) میں عورت کو سنگسار کرتے دیکھا۔ بس اس کے بعد سارا وقت امی کا سر کھاتی رہی کہ اسلام میں ایسا کیوں ہے؟
آج ایک عورت کو روتے دیکھا۔ جِم پر اس کا پورا بیگ ہی کوئی چرا کر لے گیا۔ اور اس کی ہر چیز اس میں تھی۔ اس کو دلاسہ دیتی رہی۔
معاشرے میں عورت کی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عورت کے مظلوم ہونے میں اس کی اپنی ہی غلطی ہے، وہ کچھ زیادہ ہی حساس اور مرد کے سامنے جلد جھک جاتی ہے۔
پتہ نہیں کب تک حقوقِ نسواں (دوسرے الفاظ میں مرد اور عورت) کی جنگ چلتی رہے گی، عورت کو کبھی وہ مقام مل بھی سکے گا جو اس کو ملنا چاہیے۔?