Feb
14

جشنِ بہاراں

اشاعت: ماوراء117 بار دیکھا گیا

 

 

 

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

کیسے کہیں کیا ہے ستم

سوچتے ہیں اب یہ ہم

کوئی کیسے کہے وہ ہیں یا نہیں ہمارے

کرتے تو ہیں ساتھ سفر

فاصلے ہیں پھر بھی مگر

جیسے ملتے نہیں کسی دریا کے دو کنارے

پاس ہیں پھر بھی پاس نہیں

ہم کو یہ غم راس نہیں

شیشے کی ایک دیوار ہے جیسے درمیاں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

ہم نے جو تھا نغمہ سنا

دل نے تھا اس کو چنا

یہ داستاں ہمیں وقت نے کیسی سنائی

ہم جو اگر ہیں غمگین

وہ بھی ادھر خوش تو نہیں

ملاقاتوں میں ہے جیسے گھل سی گئی تنہائی

مل کے بھی ہم ملتے نہیں

کھل کے بھی گل کھلتے نہیں

آنکھوں میں ہیں بہاریں دل میں خزاں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے۔

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے۔

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

Popularity: 47% [?]

    MyAvatars 0.2 جودھا اکبر–ماوراء
  1. جودھا اکبر–ماوراء نے کہا: >>

    […] فلم کے گانے اچھے […]

آپ کی آمد اور تبصرے کا شکریہ۔