Feb
09
اشاعت: ماوراء184 بار دیکھا گیا
ہمارا حال اور مستقبل ماضی (تاریخ) سے جڑا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے نئی جینریشن تک اپنی کہانیاں، تاریخ کو بیان کرتے آئے ہیں۔ ہمارے گھر میں بھی ابو، امی بچپن سے خاندان کی تاریخ ہمیں سناتے آئے ہیں۔ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو ابو کی ان کہانیوں سے ہم بہت بور ہوا کرتے تھے ، کہ یہ کیا ابو لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہمیں تو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن امی، ابو کی کہانیاں سنانے کا یہ فائدہ ہوا کہ اب تک ہمیں (کم از کم مجھے) خاندان کی تاریخ یاد ہو چکی ہے۔
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ “خاندان ایک درخت کی طرح ہے۔ اگر آپ کو درخت کی جڑوں کا علم نہیں تو آپ کو کچھ بھی علم نہیں۔“ تب مجھے احساس ہوا کہ واقعی خاندان کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے۔ پھر کچھ عرصہ پہلے زکریا نے شجرہء نسب کا ذکر کیا۔ اس سے مجھے آئیڈیا ملا۔ اور تب سے میرے ذہن میں یہ بات تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میرے ایک کزن نے خاندان کی مختصر تاریخ لکھی تھی، لیکن اس سے سب لوگ متفق نہ ہو سکے۔ اور اب میں سوچ رہی ہوں کہ یہ ذمہ داری میں اپنے کندھوں پر لوں۔ امی سے کچھ مہینے پہلے میں نے پوچھ کر کچھ لکھا تھا۔ میرے نانا جی کی آج سے تقریباً دس، گیارہ سال پہلے ڈیتھ ہوئی تھی تو ان کی ایک نایاب ڈائری میرے ہاتھ لگ گئی۔ اس کو میں اتنے عرصے سے ڈیجیٹائز کرنے کا سوچ رہی ہوں۔ لیکن وقت نہیں مل رہا۔ اب پاکستان گئی تو انشاءاللہ سارے ڈاکومنٹس بھی لے کر آؤں گی۔ پتہ نہیں کسی نے سنبھال کر رکھے بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔
چونکہ میرے امی اور ابو سیکنڈ کزنز ہیں۔ اور دونوں خاندانوں کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں۔ اس لیے خاندان کی تاریخ کا دونوں کو علم ہے۔ اگر کہیں ابو غلط ہوں گے تو امی اس کو ٹھیک کر دیتی ہیں۔ اگر امی غلط ہوں تو ابو درست کر دیتے ہیں۔ لیکن اصل مزے کی تاریخ ہمارے ددوھیال کی ہے۔ جس کا علم سب کو ہمارے پردادا کے ابو تک ہے۔ اس سے پیچھے کسی کو علم نہیں۔ میرے پردادا اور دادا اپنے وقت میں علاقے کی مشہور سیاسی شخصیات تھیں۔ میرے پردادا، دادا (اور نانا) کا شمار اس زمانے کے چند ایک پڑھے لکھے لوگوں ہوتا تھا۔ (پڑھے لکھے سے مراد میٹرک ہے۔:D)سننے میں آتا ہے اس وقت کے انڈیا کا لارڈ پردادا سے ملنے آیا تھا۔(اس کے لیے مجھے تاریخ پڑھنا ہو گی کہ اس وقت کون سا لارڈ تھا۔ :D) اور پردادا، دادا کا نام کئی کتابوں میں بھی ہے۔ وہ کتابیں بھی ڈھونڈنا ہوں گی۔
کل رات ابو سے ایسے ہی بات شروع ہوئی جو بہت لمبی ہو گئی۔ اور پھر میں اور ابو تقریباً ساری رات بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ابو الیکشن کی وجہ سے آج پاکستان جا رہے تھے تو الیکشن سے ہی بات خاندان تک آئی۔ تو مجھے یہی بات یاد آ گئی کہ ابو سے شجرہ نسب کا پوچھتی ہوں۔ ابو کو بس چھیڑنے کی دیر تھی۔ ابو مجھے صبح تک خاندان کی تاریخ بتاتے رہے۔ اور رات کو ابو سے سننے کا الگ ہی مزہ آیا۔ ہم نے شروع سے یہی دیکھا ہے کہ ابو کو اپنے باپ، دادا کی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کا بہت شوق رہا ہے۔ ابو کے پاس دادا، پردادا کی تلوار، اور بندوقیں ابھی تک موجود ہیں۔ اور بندوقوں کو تو اکثر صاف کرواتے ہیں۔ ان کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ دادا اور یہاں تک پردادا کی تصاویر بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ کاغذات کے استفسار پر ابو نے یہ کہا کہ “جب تک دادای (یعنی ابو کی امی) زندہ تھیں تو گاہے بگاہے وہ کاغذات کے بکس باہر نکالتی تھیں۔ اور دھوپ میں رکھا کرتی تھیں کہ وہ ٹھیک رہیں۔ پھر ان کی ڈیتھ کے بعد چھوٹی چچی (جو کہ دادا کے گھر میں رہتی تھیں۔) نے ان کاغذات کو گھر میں فالتو چیزیں سمجھ کر پھینک دیا۔
اور ابو کو اس میں سے ایک کاغذ ملا۔ جو ابو نے مجھے رات کو ہی نکال کر دیا۔ جو کہ ١٩١٩ء کا تھا۔ جس میں پردادا کو پہلی جنگِ عظیم کے بعد دئیے گئے ایوارڈ کا ذکر ہے۔
اور جب پردادا کی ڈیتھ ہوئی تو دادا جی کی عمر صرف دو سال تھی۔ اور وہ ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پردادا سے پچھلی نسل کا علم نہیں ہو سکا۔ اگر دادا بڑے ہوتے تو شاید ان کو اس بارے میں بتایا جاتا۔ اور پھر وہ آگے اس کو بات کو بتاتے۔ لیکن میں نے ابو کو آج پاکستان جاتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ بھی ملا، ساتھ لیتے آنا۔ اور ابو میری بات سے ایسے خوش تھے، جیسے ابو بھی صدیوں سے یہی چاہتے تھے۔
اور اب میرے دادا کے بعد ان کے بیٹوں میں سے دو بیٹے سیاست میں ان کا نام ابھی تک روشن کر رہے ہیں۔ گو کہ ہمارے دادا، پردادا جیسا نام کوئی نہیں بنا سکا۔ اور نا ہی ان کے نام کو زندہ رکھ سکا ہے۔(جس کے وہ اصل حقدار تھے) لیکن پھر بھی میرے ابو یہاں رہنے کے باوجود علاقے کی سیاست میں کافی حد تک سرگرم ہیں۔ بلکہ یہاں بھی پاکستانی کمپیونٹی میں ابو نے سیاست میں اپنا نام بہت بنایا تھا۔ابو کی زندگی کا ڈیٹا ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کہ ابو کو ویسے بھی اپنا نام کہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔:p اور ابو نے اخبار کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر سنبھالے ہوئے ہیں۔(جن پر امی کو بہت غصہ آتا ہے۔) وہ کتابیں جن میں ان کا ذکر ہے، وہ بڑی سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔اور بھی بہت کچھ۔
اور اب ابو کی بیٹی پتہ نہیں کیا کارنامے سرانجام دے گی۔:p لیکن میرا بہت دل ہے کہ میں اپنے دادا، پردادا کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ کرنے کا۔ کیونکہ ہمارے خاندان میں نئی نسل کا کوئی لڑکا اس قابل نہیں ہے۔ سب پڑھ لکھ کر گھروں کی حد تک رہنے والے ہیں۔ اور جو پڑھے لکھے نہیں، وہ کسی کام کے نہیں۔ قابل تو خیر میں بھی نہیں۔ :(
خود کو جاننے کا یہ ایک ذریعہ ہے!
انسان میں خود اعتمادہ و فخر جنم لیتا ہے!!
میرے کزن (بڑے بھائی( نے بنا رکھا ہے!! کبھی ہم سکھ تھے روہیل سنگھ نے اسلام قبول کیا تھا ہماری فیملی میں!! بہت برانی بات ہے
شعیب صفد’s last blog post..چوڑا برکت حسین اسامہ تے امریکہ
تم نے تو اس ویب سائٹ کو بنا کر اپنے خاندان کا نام ویسے ہی امر کر دیا ہے۔ اب مزید ٹینشن مت لو بس یہاں لکھتی رہو۔ لکھتی رہو۔
:mrgreen:
اور ہاںاگر تمہارے رشتہ دار Q لیگ کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو ایسے رشتے داروں کا زکر یہاں بلاگ پر مت کرنا۔ کافی اچھا ہوگا :razz:
میں کیا کہوں۔۔۔۔؟ مجھے شجرہ نسب میں بڑی دلچسپی رہی ہے۔۔۔ بہت زیادہ۔۔۔۔ اور میں نے اسے حاصل کرنے کی بہت کوشش بھی کی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ میرے آس پاس سب کے لیے یہ ایک بے کار اور فضول چیز ہے۔
ددھیال کا شجرہ صرف دادا تک۔۔۔ وہ بھی میں نے کئی بار جمع کیا اپنی ڈائری میں۔۔۔ تفصیل سے لکھا کہ کون کہاں ہے؟ کیا کرتا ہے۔۔۔ اس سے پہلے پردادا تک کے واقعات بھی کچھ پتا ہے لیکن اس سے پہلے کا کوئی کچھ نہیں جانتا۔ :sad:
ننھیال میں میری نانی کے بھائی نے شجرہ سنبھال کے رکھا ہوا ہے لییکن وہ سلوینیا (سابقہ یوگوسلاویہ) میں رہتے ہیں۔۔۔ ان کو بھی ایسی چیزوں کا بہت شوق ہے۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ ابھی ان کو ای۔میل کروں اور کہوں کہ جب پاکستان آئیں تو وہ شجرہ اپنے ساتھ لے کر آئیں یا اسکین کرکے بھیجیں۔۔۔!
ددھیال کے شجرہ نسب کے لیے خود مجھے ہی کام شروع کرنا پڑے گا۔۔۔ فرصت میں دادا، دادی کا انٹرویو لیتا ہوں ٹھیک سے۔۔۔ تب ہی معلومات اکھٹی ہوں گی۔
بیسٹ آف لک۔۔۔ تمہارے لیے بھی اور میرے لیے بھی :razz:
راہبر’s last blog post..Vanessa Carlton
سب سے پہلے یہ بتائیے کہ آپ کے کون سے دو چچا سیاست میں نام “روشن” کر رہے ہیں۔
) لیکن میرا خیال ہے کہ عورتیں زیادہ سنجیدگی اور لگن کے ساتھ ایسا کام کر سکتی ہیں۔ کیا آپ نے “رنگ دے بسنتی” دیکھی ہے اس میں بھی ایک لڑکی ہی اپنے دادا کی ڈائری پڑھنے کے بعد فلم بنانے کے لیے ہندوستان آتی ہے۔ پھر اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فلم دیکھیے)
خیر یہ تو مذاق تھا لیکن آپ جو کام کر رہی ہیں وہ ہر گز مذاق نہیں۔ ہمت مرداں مدد خدا (لیکن عورتیں کیا کریں
ابوشامل’s last blog post..کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ
ابو شامل نے “رنگ دے بسنتی” کا بڑے موقع پر ذکر کیا ہے۔۔۔ کیا ہی کلاسک فلم ہے واقعی۔۔۔۔!
راہبر’s last blog post..مصروف
شعیب، واقعی درست کہا۔ ہمیں ہمارے بڑے زبانی تو بتاتے ہی رہتے ہیں، اگر کاغذی طور پر بھی ہو تو بہت اچھا ہوتا ہے۔
اور دیکھیں۔۔کب تک لکھتی ہوں۔ 

—–
اعجاز، میرے خاندان والوں کو میرے بلاگ کا علم ہی نہیں اور نہ ہی کسی اور کو میرے خاندان کا علم ہے۔ تو نام کیسے روشن ہو گیا؟
اور کیو لیگ کو کون پوچھتا ہے؟؟
——-
عمار، نانی کے بھائی کو کہہ دو کہ وصیت کر دیں کہ ان کے بعد شجرہ نسب کے تمام کاغذات تمھاری ملکیت میں دے دئیے جائیں۔ :razz:
اور تم لکی ہو کہ تمھارے دادا، دادی ابھی حیات ہیں۔ میری فیملی میں کوئی بڑا نہیں ہے۔ ابو کے ماموں ہیں۔ لیکن ان سے میں اتنی فرینک نہیں کہ پوچھ سکوں۔ :sad:
شکریہ۔ اور میری طرف سے بھی تمھیں بیسٹ آف لک۔
———
ابو شامل، میرے ابو اور ان کے بڑے بھائی۔۔دونوں۔ :razz:
اور اگر ابو نے واقعی ساتھ دیا تو امید ہے کام ہو جائے گا۔
فلم ویکینڈ پر دیکھتی ہوں۔
اپنی رائے کا اظہار کریں۔