Feb
09
2008
دوسرے ملک میں رہنے سے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو “زبان“ کے بارے میں میں نے لکھا تھا۔ اور بھی کئی ایسی باتیں دیکھنے میں آتی ہیں جن کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔
ہمیں اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں آنے یا رہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ یہ سوال میرے اندر اکثر اٹھتا ہے۔ اس کا جواب بھی میں خود ہی دیتی ہوں کہ کچھ لوگ اچھی تعلیم، اچھے مستقبل کے لیے دوسرے ملک میں آتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف دولت کے چکر میں آتے ہیں۔ کچھ سہولیات، اچھی اور پرسکون زندگی کے لیے آتے ہیں۔ اور کچھ بس ایسے ہی آ جاتے ہیں۔(جیسے میں)۔
دوسرے ملک آنے کے بعد پہلا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ زبان سیکھ لیتے ہیں تو یہ مسئلہ بھی مسئلہ نہیں رہتا۔ دوسرا مسئلہ کیا ہے؟ دوسرا مسئلہ تہذیب، کلچر، زبان، مذہب، روایات، رسمیں اور انجان لوگ۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو میرا اس غیر ملک میں کبھی دل نہیں لگا۔ میں نے ہمیشہ سے ہی اپنی زبان، اپنے لوگ (دوست، رشتے دار، ارد گرد کے لوگ) اپنے ملک کے کھانے، رسمیں، روایتیں اور اپنے ملک کو یاد (مِس) کیا ہے۔ صرف میں ہی نہیں۔۔۔۔بہت سے لوگ یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ دوسرے ملک میں رہتے رہتے تنگ آ جاتے ہیں تو کچھ اکتا جاتے ہیں۔
حالانکہ مجھے اپنے ملک کے لوگوں کا بڑا سخت تجربہ ہے۔ پچھلی بار جب میں گئی تو دوبارہ آنے سے توبہ کر لی تھی۔ لیکن میری یاداشت کمزور ہے تو اسی لیے آجکل پھر پاکستان کے گن گانے لگ گئی ہوں۔ بہن کا کہنا ہے کہ “محبِ وطن ہو نہ، مجھے پتہ تھا کہ یہ محبت ایک بار پھر جاگ جائے گی۔“۔ میں نے کہا کہ پاکستان شفٹ ہو جاتے ہیں لیکن میری کوئی سنتا ہی نہیں۔ گھر میں صرف ایک میں پاگل ہوں۔
تھائی لینڈ کی ایک لڑکی کہتی ہے کہ میں یہاں کچھ عرصہ رہوں گی، اس کے بعد اپنے ملک شفٹ ہو جاؤں گی۔ میں نے پوچھا کیوں؟ تمھارا تو شوہر بھی نارویجین ہے۔ وہ تو تھائی لینڈ شاید شفٹ نہ ہو۔ کہتی ہے، وہ نہ ہو لیکن میں نے اس غیر ملک میں مرنا نہیں ہے۔ اپنے ملک میں مرنا چاہتی ہوں۔ :D )تھائی لینڈ کا مشہور ہے کہ وہاں کے ماں باپ اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے ہیں۔ جیسے اگر ایک نارویجین تھائی لینڈ گیا ہو گا اور وہاں کی کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ تو لڑکی کے ماں باپ تب تک رشتہ نہیں دیتے، جب تک لڑکا ان کو کچھ رقم نہیں دیتا۔ ماں باپ غریب ہوتے ہیں تو اس طرح پیسے لے کر اپنی بیٹی دے دیتے ہیں۔ (لیکن شاید سب ایسا نہ کرتے ہوں))۔ پھر ایک پاکستانی آنٹی کو جانتی ہوں، وہ تیرہ سال سے یہاں ہیں۔ اور تیرہ سال کے بعد اب اپنے بھائی سے ملی ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بہن بھائیوں کی شادیوں پر نہیں جا سکتے۔ بہت سے ایسے ہیں جو اپنے والدین کے مرنے پر پاکستان نہیں جاتے۔ کیا رشتوں سے بڑی کوئی چیز ہو سکتی ہے؟
ابو ہمیں اخبار سے کوئی اور خبر پڑھ کر سنائیں یا سنائیں لیکن ایک خبر ہمیشہ سناتے ہیں کہ آج اتنے پاکستانی غیر قانونی طور پر کسی دوسرے ملک جاتے ہوئے فلاں جگہ پر پکڑے گئے ہیں، مارے گئے ہیں یا اتنی لاشیں واپس آئی ہیں۔
دوسرے ملک میں آپ کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ اقلیت کی۔ غیر ملکی کی۔ اگر آپ کی تعلیم نہیں ہے، آپ کو زبان نہیں آتی تو آپ کو سب سے بڑا مسئلہ جاب کا ہوتا ہے۔ آپ کو جاب نہیں ملتی، بلکہ کوئی دیتا ہی نہیں ہے۔ ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جو جابز اپلائی کرتے رہتے ہیں، کرتے رہتے ہیں اور بس پھر کرتے ہی رہتے ہیں۔اپنے آپ کو منوانے اور یہاں رہنے کا فائدہ ایک ہی صورت میں ہے۔ کہ بس آپ کے پاس تعلیم ہو۔۔!! لیکن اس کے باوجود میں یہی کہوں گی کہ انسان کب تک اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہ سکتا ہے؟
اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
on 09 Feb 2008 at 1:34 pm
خلیل جبران کہتا ہے کہ جہاں وہ رہتا ہے وہی اس کا ملک ہے۔
بدتمیز’s last blog post..Wyclef Jean – Sweetest Girl (Dollar Bill)
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Feb 2008 at 2:49 pm
میں بھی باہر رہتا ہوں مگر اندر سے پاکستانی ہی ہوں
میں بھی ایک دن واپس جانا چاہتا ہوں
اس لیے مجھے ایسـےلوگوں پر بڑی حیرانی ہوتی ہے جن کی ساری زندگی باہر گزر گئی ہو اور اب اپنی دوسری نسل کو بھی بار منگوا کر اس پر فخر کرتے ہیں
لیکن ایک طرح سے یہ بھی مجبور ہوتے ہیں کہ
جب باہر ائے تھے تو سوچا ہو گا کہ پاکستان مین کوئی کاروبار شروع کرکـے واپس چلے جائیں گے مگر
پاکستان والے ” اباجی لوگ ” اور ” بھائی لوگ ” کچھ اس طرح کا سیٹ اپ بنا دیتے ہیں کہ
پردیسی کو واپس پلٹنا ناممکن ہو جاتا ہے ـ
ایک قدیم مکالمہ ہے
آواز: وہ تاریک راہوں میں کیوں مارے گئے؟؟
دوسری آواز: ان کے باپوں نے ان سے جھوٹ بولا تھا ـ
باقی آپ نے جو تھائی لوگوں کے متعلق لکھا ہے
وہ بہت ہی قلیل لوگ ہیں جس طرح کہ ہمارے ہاں کنجر لوگ اور دوسرے لوگوں کی ابادی کا تناسب ہے کچھ اسی طرح کا تناسب ہے تھائی میں بھی جسم فروش اور عام لوگوں کا
صرف ویت نام کی جنگ میں امریکی فوجیوں کے ڈالر کے زور پر تھائی عورتوں پر داد شجاعت کی داستانوں نے تھائی کو زیادہ ہی بدنام کردیا ہے ـ
خاور’s last blog post..دھرتی کا غم
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Feb 2008 at 11:12 pm
لیکن اس کے باوجود میں یہی کہوں گی کہ انسان کب تک اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہ سکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان آنے کا ارادہ ہورہا ہے کیا؟
راہبر’s last blog post..Vanessa Carlton
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Feb 2008 at 12:34 am
کسی آپ بیتی میں یہ جملہ پڑھا تھا، آج بھی دماغ پر نقش ہے:
“جس وطن کو تم اپنی جوانی اور طاقت کا زمانہ نہ دے سکے، اس وطن کو تمہارے بوڑھے اور مردہ جسم کی بھی ضرورت نہیں” (محب وطن باپ اپنے تارک وطن بیٹے سے)
ویسے یہ جملہ آپ کے لیے نہیں (برا مت منائیے گا)۔
آپ کے آخری سوال کا میرے ذہن میں جواب یہ آ رہا ہے کہ اس وقت تک جب تک اس کے مفادات وہاں سے وابستہ ہیں، چاہے ذہنی (سکون) ہوں یا معاشی۔
ابوشامل’s last blog post..کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Feb 2008 at 2:49 am
کبھی ایسے تو سوچا نہ تھا۔۔۔
ہمارا شمار تو ایسے لوگوں میں ہوتا ہے کہ جن کا کام بس اندر ہی اندر سلگتے اور کڑھتے رہنا ہے
باہر آ جانے کے بعد لاکھ کوشش کرتے ہیں واپس پاکستان جانے کی لیکن کچھ کر نہی پاتے۔
دل چاہتا ہے وطن کی محبت بھی ہے لیکن پاکستان میں جا کر ہمارا جو حال ہوتا ہے اس کی وجہ سے ایک بار پھر واپس بھاگ آتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Feb 2008 at 12:40 pm
بدتمیز، دوسرے ملک میں رہنا ایسا ہی ہے، کہ آپ اپنا گھر چھوڑ کر کچھ عرصے کے لیے کسی دوسرے گھر رہتے ہیں۔ لیکن آپ کبھی اصل گھر کو بھول نہیں سکتے اور نہ ہی چھوڑ سکتے ہیں۔
دوسرا اگر آپ خلیل جبران کی بات کرتے ہیں تو اس کو واقعی ان لوگوں سے نفرت تھی جو ملکی، مذہبی عقائد یا نسلی و لسانی تعلق کو تعصب کی بنیاد ٹھہرا کر تنگ نظری کو ہوا دیتے تھے۔ اور اس کے خیال میں یہ سب باتیں انسانی معاشرے کی تباہی کا موجب بنتی ہیں۔
لیکن دوسری طرف اگر آپ دیکھیں تو وہ خود صرف 12 سال کی عمر میں لبنان سے امریکہ آیا تھا، اتنا عرصہ امریکہ میں گزارنے کے باوجود وہ لبنان کو کبھی نہیں بھول پایا تھا۔ ان کی لبنان سے محبت انکی نثر، شاعری اور مصوری سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہ ہمیشہ ایک سچے لبنانی کی حیثیت سے لبنانیوں کو اپنا پیغامِ محبت دیتے رہے۔
اس لیے جہاں آپ رہتے ہیں وہ آپ کا ملک ہو سکتا ہے، لیکن آپ کا اپنا ملک نہیں ہو سکتا۔
——————-
خاور، آپ کی بات درست ہے۔ اگر انسان کہیں رہتا ہے تو پھر وہیں پھنس جاتا ہے، جنہیں مجبوریاں بھی کہا جا سکتا ہے۔ پھر انسان لاکھ کوشش کر لے۔۔۔نہیں جا سکتا۔
تھائی لوگوں کے بارے میں بتانے کا شکریہ۔ مجھے اتنا علم نہیں۔ میں نے کسی تھائی سے پوچھ نہیں سکی، لیکن سننے میں یہی آتا ہے۔
———–
عمار، شادی کے بعد میرا پاکستان رہنے کا ارادہ ہے۔ لیکن دیکھو کیا ہوتا ہے۔(اگر ہر لحاظ سے حالات ہوئے تو۔۔)
———-
ابو شامل، بہت خوب۔ بالکل سچ کہا کسی نے۔
اور سوال کا جواب میں ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر یہاں سکون ہی نہ ملے تو۔۔؟ :grin:
———–
افضل صاحب، بس یہی بات ہے۔ پاکستان جائیں تو وہاں رہنے نہیں ہوتا۔ دور دور سے ہی ملک کی محبت جاگتی ہے۔ نزدیک جائیں تو جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ میرا شمار بھی ایسے ہی منافق لوگوں میں ہوتا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Feb 2008 at 2:06 am
کچھ عرصہ میں نے بھی دیار غیر میں گزارا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ لوگ اپنا احتساب نہیں کرتے نہ خود کو زمینی حقائق کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ہر ملک کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں اور ہر شخص جہاں بھی رہتا ہے دیر سویر وہاں کے حالات سے سمجھوتہ کر ہی لیتا ہے اور زندگی کا پہیہ چل پڑتا ہے یہ اصول بالعموم سب پر لاگو ہوتا ہے۔ دیار غیر میں وطن کی یاد کیوں ستاتی ہے اس لیے کہ وہاں وطن کی خوبیاں اور جملہ خصوصیات یاد آتی ہیں۔ وطن آ کر بے چینی اور مایوسی کیوں ہوتی ہے کیونکہ تب پردیس کی سہولیات اور آسانیاں یاد آتی ہیں۔ دوبارہ پردیس جا کر وطن کی یاد کیوں آتی ہے کیونکہ پھر وطن کی خوبیاں یاد آنے لگتی ہیں
سمجھوتہ آپ کو کرنا پڑے گا اور خود کو چند مشکلات کے لیے تیار بھی کرنا پڑے گا آہستہ آہستہ آپ پھر سے وطن میں مقیم ہو جائیں گے بالآخر یہ آپ کا ہی وطن تھا جسے آپ چھوڑ کر کسی دوسرے وطن میں وہاں کے ماحول میں وہاں کا عادی کرکے زندگی گزار سکتے ہیں تو یہاں اس سے زیادہ مشکل نہیں ہوگی بس مشکلات اور حالات کا دیانتداری سے جائزہ لیں اور ناشکری کی بجائے شکر کی عادت ڈالیں آپ پر وطن کی خوبیاں اور رحمتیں آشکار ہونے لگیں گی۔
محب علوی’s last blog post..اردو کی کہانی از مقبول انور داؤدی
اس تبصرے کا جواب دیں
on 14 Feb 2008 at 12:29 am
میرے لئے تو وطن سے دور رہنا ناممکن ہے۔ تین مہینے مجھے دبئی میں گزارنے تھے، عذاب پڑ گیا تھا، شکر ہے جان چھوٹ گئی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ لوگوں کا دل وہاں کیسے لگ جاتے ہیں۔ مجبوری امیگریشن کی ماں ہے۔ :razz: اللہ سے دعا ہے کہ دوسرے ملک میں روزی کی بھاگ دوڑ سے بچائے۔ اٰمین
فیض نے کہا تھا:
خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہوجائے
تری مسرتِ پیہم تمام ہو جائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہوجائے
غموں سے آئینہء دل گداز ہو تیرا
ہجومِ یاس سے بے تاب ہوکے رہ جائے
وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے
غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے
کوئی جبیں نہ ترےسنگِ آستاں پہ جھکے
کہ جنسِ عز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
فریبِ وعدہء فردا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے
وہ دل کہ تیرے لئے بےقرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے
اسنے پتہ نہیں کسے کہا تھا لیکن میری تو پردیس میں اپنی یہ حالت ہو گئی تھی۔ :neutral:
ساجداقبال’s last blog post..ونڈوز جینوئن ایڈوانٹیج(WGA) کی سردردی سے نجات
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Feb 2008 at 4:08 pm
محب علوی، یہ بات درست کہی آپ نے۔ کہ ناشکری کے بجائے شکر کی عادت ڈالیں۔
–
ساجد، آپ دبئی اکیلے گئے ہوں گے۔۔۔؟ اس لیے عذاب لگا ہو گا۔ اگر آپ کی فیملی آپ کے ساتھ ہو تو یہ عذاب قدرے کم ہو جاتا ہے۔
اور فیض نے جس کے لیے بھی کہا ہے، خوب کہا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Feb 2008 at 10:25 am
ماورا ساجد کی ابھی شادی نہیں ہوئی اس لیے اس کی ابھی کوئی فیملی نہیں ہے :wink:
محب علوی’s last blog post..توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Feb 2008 at 1:06 pm
محب، مجھے معلوم ہے۔ میرا مطلب والدین اور بہن بھائی تھا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 21 Apr 2008 at 5:13 am
میرا ایک دوست باہر گیا ہوا ہے(uk)
وہاں دکان پہ کام کرتا ہے
اسکے گھر والے سمجھتے ہیں نوٹوں کے درخت پہ چڑھ گیا ہے
روز نئ فرمائشیں
میرا دوسرا دوست صحیح کہتا ہے
آدمی باہر نہیں جاتا
اسکے گھر والے باہر جاتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 24 Apr 2008 at 11:55 am
کامران، واقعی ایسا ہی ہوتا ہے، پاکستان میں رہنے والے سمجھتے ہیں کہ دوسرے ملکوں میں درختوں سے پیسے اترتے ہیں۔ :grin:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Jul 2008 at 1:26 am
ھم پردیسیوں کی یہی مشکل ھے، کہ ھم تو خود ھی مشکلات کا شکار ھیں، مگر پھر بھی دوسروں کو یہاں بلوانے میں سب سے آگے ھیں، جو یہاں آتے ھی ھمیں ھی مورد الزام ٹھراتے ھیں کہ کس مشکل میں پھنسا دیا، جبکہ یہاں کی مشکلات کا ذکر پہلے سے ھی ان کے گوش گزار کردیتے ھیں، لیکن وہ بضد ھی رھتے ھیں کہ آپ تو نہ بلوانے کے بہانے کرتے ھیں، آخر آپ بھی تو اتنے عرصہ سے باھر ھیں،!!!!!
ھم یہاں اپنی مشکل میں ھیں، لیکن وہاں لوگوں نے ھم سے بہت سی امیدیں وابسطہ کررکھی ھوتی ھیں، کچھ ذکر یہاں کرنا چاھوں گا،!!!!!
بہن کے سسرال والوں کی طرفسے،!!!!!
ارے بہو تمھارے بھائی کیسے بھائی ھیں، اپنی بہن کا بھی خیال نہیں رکھتے، کم از کم اپنے دیور کیلئے تو اپنے بھائی سے کہو کہ اسے باھر بلوالیں، یہاں تو یہ بیکار گھر میں پلنگ ھی توڑتا رھتا ھے، اپنے بھائی سے کہو کہ وہاں سے ویزا خرید کر بھیج دیں، بعد یہ وھاں اسکی تنخواہ میں سے لیتے رھنا،!!!!!
نند کی فرمائش اپنی بھابھی سے ” اپنے بھائی سے کہو کہ میرے شوھر کو بلوالیں جو بھی خرچہ ھو گا میں آپکو بعد میں جب وہ بھیجیں گے تو دے دوں گی، !!!!!
اگر انکی فرمائشیں پوری نہ کرسکیں تو بہن کے لئے سسرال میں مشکلات کا سامنا،!!!!
اسکے علاوہ اپنی خود کی سسرال سے بھی اسی طرح کی فرمائشوں کا ایک انبار لگا ھوتا ھے، اور اسے بھی پورا کرنا ایک ذمہ داری ھے، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست اپنی بیگم سے جو ھوتا ھے، اور سالی تو آدھی گھر والی ھوتی ھی ھے اور سالے صاحب کے لئے تو ساری خدائی کو ایک طرف کرنا پڑتا ھے،!!!!!
خیال تو سب کا کرنا پڑتا ھے، مگر وہ خیال نہیں رکھ پاتا تو صرف اپنی بیگم اور بچوں کا کیونکہ دوسروں کا خیال رکھتے رکھتے وہ اپنے بیوی بچوں کو بالکل ایک طرف کردیتا ھے، اگر وہ انکو اپنے ساتھ رکھتا ھے تو بدنامی کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سننا بھی پڑتا ھے،!!!!!
فقط ایک پردیسی،!!!!!!
عبدالرحمن سید
اس تبصرے کا جواب دیں