Feb 25 2008
Archive for February, 2008
Feb 19 2008
الیکشن 2008

ا٨ فروری پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن۔ الیکشن ٢٠٠٨ میں دہشت گردی اوردھاندلی کے واضح امکانات تھے۔ اس تذبذب اور خوف کی فضا میں الیکشن نہ صرف خیریت سے ہو گئے بلکہ بِنا کسی دھاندلی کے بھی انجام پا گئے۔ انکل مشرف کا اس پر شکریہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ ڈے ١٨ فروری کو کچھ پولنگ اسٹیشنز پر چند واقعات ہوئے۔ پی پی پی کے ستائیس افراد شہید ہوئے ہیں۔
پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخاب کہانی
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ
چوتھا اور آخری حصہ۔
کل بلاگز اور ارد گرد شیر شیر ہو رہی تھی۔ میں کل سارا دن ٹینشن میں رہی کہ یہ تو شیر جیت جائے گا۔ جیو، ائے آر وائے اور مختلف سائٹس جہاں رزلٹس آ رہے تھے۔ سب کھول کر سامنے رکھے ہوئے تھے۔ کل رات بارہ بجے تک ن لیگ ہی جیتتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ میں نے تو رات پی پی پی کے جیتنے کے لیے نفل مانگ لیے۔ اور اللہ سے دعا کر کے سو گئی۔ صبح جاب پر جانے سے پہلے رزلٹ دیکھا تو اللہ نے میری دعا سن لی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ملکی اور صوبائی سطح پر واضح اکثریت حاصل کر لی تھی۔
بے نظیر کی شہادت کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی تھی۔ وہ شہید ہی پی پی پی کو جتانے کے لیے ہوئی تھی۔ اوپر اللہ سے صلاح مشورہ کر رہی ہو گی۔ کہ اب پارٹی کو کیسے چلانا ہے۔:p اور یقیناً اس وقت بے نظیر کی روح بہت خوش ہو رہی ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی اصل اور منجھی ہوئی سیاستدان صرف اور صرف بے نظیر تھیں۔ اور پیپلز پارٹی ہی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس کا اندازہ نتائج سے واضح ہے۔ پیپلز پارٹی کے چاہنے والے صرف پنجاب میں نہیں۔۔بلکہ ہر صوبے میں موجود ہیں۔ “بے نظیر۔۔۔چاروں صوبوں کی زنجیر“۔
اس کے بدلے مسلم لیگ (ن) کو صرف پنجاب میں ہی اکثریت حاصل ہوئی۔ جبکہ نواز شریف ایک نہایت ہی بھولے اور سادے سے سیاست دان ہیں۔ ٹھیک سے بات بھی کرنے نہیں آتی۔ بہرحال بہت اچھا ہوا کہ نیشنل اسمبلی میں ن لیگ پیچھے ہی رہی۔
چوہدریوں کی اور شیخ رشید کی ہار کا بہت افسوس ہوا۔:D لیکن شکر ہے زیادہ اکڑ نہیں دکھائی۔ شجاعت نے کھلے دل سے نتائج کو قبول کیا ہے۔
ہمارے حلقے میں بھی ق اور ن لیگ کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ پی پی پی کے امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارتِ عظمٰی کا عہدہ کون سنبھالتا ہے۔ امین فہیم، اعتزاز ، زرداری یا کوئی اور۔۔ پی پی پی اور ن لیگ کیا ایک ساتھ چل سکیں گی؟ کیا انکل مشرف عزت سے استعفٰی دے دیں گے؟(انکل مشرف کو تو دونوں پارٹیوں کی طرف سے استعفٰی دینے کا مطالبہ آ گیا ہے۔)اگر مشرف استعفٰی نہیں دیتا تو کیا وہ ان پارٹیوں کے ساتھ چل سکے گا؟ اب یہ سب باتیں آئندہ آنے والوں دنوں میں دیکھنی ہیں۔ وفاقی حکومت نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد کی نظر بندی ختم کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے حامیوں کو میری طرف سے بہت مبارک باد۔ کم از کم ان نتائج سے میں تو بہت خوش ہوں۔ پاکستان آج ایک نیا ٹرن لینے جا رہا ہے۔ میری سچے دل سے دعا ہے کہ عوام کا یہ فیصلہ ان کے لیے بہترین ثابت ہو۔ اور ہمارے رہنماؤں کو صحیح فیصلے کی ہمت اور توفیق دے۔ آمین۔
آج بے نظیر ہوتیں تو یقیناً آج ہم ان کو مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ رہے ہوتے۔ لیکن وہ ہم میں نہ ہونے کے باوجود ہم میں موجود رہیں گی۔ اور آنے والی نسلیں ان کو یاد کرتی رہیں گی۔
Feb 15 2008
ویلنٹائن ڈے پہیلی کا حل
ویلنٹائن کوئز میں ایک آسان سا سوال تھا۔ اس کا جواب میں نے سب سے پہلے دے دیا تھا۔:D جن کو پتہ نہیں چلا۔ ان کے لیے یہ حل۔۔۔اور جنہوں نے جواب دے دیا ہے۔ ان کو مبارک ہو۔لیکن اگر ان کو اس سال ویلنٹائن نہ ملے تو میرا کوئی قصور نہیں ہے۔:D
![]()

![]()
Feb 14 2008
ویلینٹائن ڈے کوئز:D
اس تصویر میں سات دل ہیں۔ لیکن وہ کہاں ہیں؟ جس نے سب سے پہلے بوجھ لیا۔ اس کا ویلینٹائن اس کو اسی سال مل جائے گا۔:P :D اور جن کا ویلینٹائن پہلے ہی ہے، وہ جواب دینے میں جلدی نہ کریں، تاکہ دوسروں کو موقع مل سکے۔ اگر کوئی نہ بوجھ سکا تو میں سب سے پہلے بوجھ لوں گی۔ :p



![]()
Feb 14 2008
جشنِ بہاراں
کہنے کو جشن بہاراں ہے
عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے
کہنے کو جشن بہاراں ہے
عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے
پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں
چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں
سارے سہمے نظارے ہیں
سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں
اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں
ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے
عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے
پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں
چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں
کیسے کہیں کیا ہے ستم
سوچتے ہیں اب یہ ہم
کوئی کیسے کہے وہ ہیں یا نہیں ہمارے
کرتے تو ہیں ساتھ سفر
فاصلے ہیں پھر بھی مگر
جیسے ملتے نہیں کسی دریا کے دو کنارے
پاس ہیں پھر بھی پاس نہیں
ہم کو یہ غم راس نہیں
شیشے کی ایک دیوار ہے جیسے درمیاں
سارے سہمے نظارے ہیں
سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں
اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں
کہنے کو جشن بہاراں ہے
عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے
پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں
چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں
ہم نے جو تھا نغمہ سنا
دل نے تھا اس کو چنا
یہ داستاں ہمیں وقت نے کیسی سنائی
ہم جو اگر ہیں غمگین
وہ بھی ادھر خوش تو نہیں
ملاقاتوں میں ہے جیسے گھل سی گئی تنہائی
مل کے بھی ہم ملتے نہیں
کھل کے بھی گل کھلتے نہیں
آنکھوں میں ہیں بہاریں دل میں خزاں
سارے سہمے نظارے ہیں
سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں
اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں
ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے۔
عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے۔
پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں
چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں
Feb 09 2008
شجرہء نسب
ہمارا حال اور مستقبل ماضی (تاریخ) سے جڑا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے نئی جینریشن تک اپنی کہانیاں، تاریخ کو بیان کرتے آئے ہیں۔ ہمارے گھر میں بھی ابو، امی بچپن سے خاندان کی تاریخ ہمیں سناتے آئے ہیں۔ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو ابو کی ان کہانیوں سے ہم بہت بور ہوا کرتے تھے ، کہ یہ کیا ابو لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہمیں تو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن امی، ابو کی کہانیاں سنانے کا یہ فائدہ ہوا کہ اب تک ہمیں (کم از کم مجھے) خاندان کی تاریخ یاد ہو چکی ہے۔
اور ابو کو اس میں سے ایک کاغذ ملا۔ جو ابو نے مجھے رات کو ہی نکال کر دیا۔ جو کہ ١٩١٩ء کا تھا۔ جس میں پردادا کو پہلی جنگِ عظیم کے بعد دئیے گئے ایوارڈ کا ذکر ہے۔
اور اب ابو کی بیٹی پتہ نہیں کیا کارنامے سرانجام دے گی۔:p لیکن میرا بہت دل ہے کہ میں اپنے دادا، پردادا کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ کرنے کا۔ کیونکہ ہمارے خاندان میں نئی نسل کا کوئی لڑکا اس قابل نہیں ہے۔ سب پڑھ لکھ کر گھروں کی حد تک رہنے والے ہیں۔ اور جو پڑھے لکھے نہیں، وہ کسی کام کے نہیں۔ قابل تو خیر میں بھی نہیں۔ :(
Feb 09 2008
غیر ملک
Feb 06 2008
ٹی وی اشتہار
مجھے یہ اشتہار بہت پسند ہے۔(شروع کا حصہ اچھا ہے:D) اس لیے اس کی ویڈیو بنا کر بلاگ پر سیو کر لیا ہے۔
Feb 01 2008
موسم کا حال
پچھلے ایک دو دن سے مسلسل بارش اور بہت تیز ہوا چل رہی تھی۔ کچھ دیر بارش رکتی تو برف باری شروع ہو جاتی، یا بارش اور برف باری ساتھ ساتھ۔۔۔۔لیکن آج اتنی برف پڑی کہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور آج تمام جہازوں کی پرواز اس وقت بند کر دی جب ایک جہاز آج شام چلتے ہوئے کسی اور ہی رخ پھسل کر ٹکرا گیا۔
آج دن اتنی تیز برف باری ہوئی کہ پورا آسمان اور زمین سفید ہو گئے تھے۔ بہت زبردست لگ رہا تھا۔ جب ڈھیر برف پڑ گئی تو بارش ہو گئی۔ اب خود سوچیں کہ کیا حال ہوا ہو گا۔ پھسلن اور ساتھ کیچڑ۔۔۔! پھر شام کو دوبارہ اتنی شدید برف باری ہوئی کہ درخت بیچارے نیچے جھک گئے۔ اور اب پھر بارش اور طوفانی ہوا چل رہی ہے۔ شکر ہے ویکینڈ ہے، ورنہ اس موسم باہر جانے کا ذرا بھی موڈ نہیں ہوتا۔
ابو ہمیں بتاتے ہیں کہ جب وہ آج سے بہت سال پہلے یہاں آئے تھے تو بہت زیادہ برف پڑا کرتی تھی، اور سورج سردیوں میں ایک بار بھی نہیں نکلتا تھا۔ اور گرمیوں میں بھی موسم سرد ہی ہوتا تھا۔ لیکن اب تک موسم بہت بدل چکا ہے۔ چھ ، سات سال پہلے ایک بار اوسلو بہت برف پڑی تھی۔ کہ پیر اندر مکمل دھنس گئے۔ اور برف پر چلنا بہت مشکل تھا۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے برف بہت کم ہو گئی ہے۔ لیکن آج اتنے عرصے بعد اتنی برف دیکھی ہے۔ جو گھر کے اندر سے باہر دیکھنے میں اچھی لگ رہی تھی۔ لیکن باہر کوئی حال نہیں ہے۔ ابھی نارتھ ناروے میں کیا حال ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

تصویر یہاں سے لی گئی ہے۔





حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox