Archive for February, 2008

Feb 25 2008

The Kite Runner

شائع کیا: ماوراء زمرہ: فلم


Online Videos by Veoh.com

5 تبصرے

Feb 19 2008

الیکشن 2008

شائع کیا: ماوراء زمرہ: بے نظیر, سیاست

 

ا٨ فروری پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن۔ الیکشن ٢٠٠٨ میں دہشت گردی اوردھاندلی کے واضح امکانات تھے۔ اس تذبذب اور خوف کی فضا میں الیکشن نہ صرف خیریت سے ہو گئے بلکہ بِنا کسی دھاندلی کے بھی انجام پا گئے۔ انکل مشرف کا اس پر شکریہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ ڈے ١٨ فروری کو کچھ پولنگ اسٹیشنز پر چند واقعات ہوئے۔ پی پی پی کے ستائیس افراد شہید ہوئے ہیں۔

پاکستان کی ساٹھ سالہ انتخاب کہانی
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ
چوتھا اور آخری حصہ۔

کل بلاگز اور ارد گرد شیر شیر ہو رہی تھی۔ میں کل سارا دن ٹینشن میں رہی کہ یہ تو شیر جیت جائے گا۔ جیو، ائے آر وائے اور مختلف سائٹس جہاں رزلٹس آ رہے تھے۔ سب کھول کر سامنے رکھے ہوئے تھے۔ کل رات بارہ بجے تک ن لیگ ہی جیتتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ میں نے تو رات پی پی پی کے جیتنے کے لیے نفل مانگ لیے۔ اور اللہ سے دعا کر کے سو گئی۔ صبح جاب پر جانے سے پہلے رزلٹ دیکھا تو اللہ نے میری دعا سن لی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ملکی اور صوبائی سطح پر واضح اکثریت حاصل کر لی تھی۔

بے نظیر کی شہادت کبھی رائیگاں نہیں جا سکتی تھی۔ وہ شہید ہی پی پی پی کو جتانے کے لیے ہوئی تھی۔ اوپر اللہ سے صلاح مشورہ کر رہی ہو گی۔ کہ اب پارٹی کو کیسے چلانا ہے۔:p اور یقیناً اس وقت بے نظیر کی روح بہت خوش ہو رہی ہو گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی اصل اور منجھی ہوئی سیاستدان صرف اور صرف بے نظیر تھیں۔ اور پیپلز پارٹی ہی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اس کا اندازہ نتائج سے واضح ہے۔ پیپلز پارٹی کے چاہنے والے صرف پنجاب میں نہیں۔۔بلکہ ہر صوبے میں موجود ہیں۔ “بے نظیر۔۔۔چاروں صوبوں کی زنجیر“۔
اس کے بدلے مسلم لیگ (ن) کو صرف پنجاب میں ہی اکثریت حاصل ہوئی۔ جبکہ نواز شریف ایک نہایت ہی بھولے اور سادے سے سیاست دان ہیں۔ ٹھیک سے بات بھی کرنے نہیں آتی۔ بہرحال بہت اچھا ہوا کہ نیشنل اسمبلی میں ن لیگ پیچھے ہی رہی۔
چوہدریوں کی اور شیخ رشید کی ہار کا بہت افسوس ہوا۔:D لیکن شکر ہے زیادہ اکڑ نہیں دکھائی۔ شجاعت نے کھلے دل سے نتائج کو قبول کیا ہے۔

ہمارے حلقے میں بھی ق اور ن لیگ کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ پی پی پی کے امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارتِ عظمٰی کا عہدہ کون سنبھالتا ہے۔ امین فہیم، اعتزاز ، زرداری یا کوئی اور۔۔ پی پی پی اور ن لیگ کیا ایک ساتھ چل سکیں گی؟ کیا انکل مشرف عزت سے استعفٰی دے دیں گے؟(انکل مشرف کو تو دونوں پارٹیوں کی طرف سے استعفٰی دینے کا مطالبہ آ گیا ہے۔)اگر مشرف استعفٰی نہیں دیتا تو کیا وہ ان پارٹیوں کے ساتھ چل سکے گا؟ اب یہ سب باتیں آئندہ آنے والوں دنوں میں دیکھنی ہیں۔  وفاقی حکومت نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد کی نظر بندی ختم کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے حامیوں کو میری طرف سے بہت مبارک باد۔ کم از کم ان نتائج سے میں تو بہت خوش ہوں۔ پاکستان آج ایک نیا ٹرن لینے جا رہا ہے۔ میری سچے دل سے دعا ہے کہ عوام کا یہ فیصلہ ان کے لیے بہترین ثابت ہو۔ اور ہمارے رہنماؤں کو صحیح فیصلے کی ہمت اور توفیق دے۔ آمین۔
آج بے نظیر ہوتیں تو یقیناً آج ہم ان کو مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ رہے ہوتے۔ لیکن وہ ہم میں نہ ہونے کے باوجود ہم میں موجود رہیں گی۔ اور آنے والی نسلیں ان کو یاد کرتی رہیں گی۔

17 تبصرے

Feb 15 2008

ویلنٹائن ڈے پہیلی کا حل

شائع کیا: ماوراء زمرہ: تصاویر

ویلنٹائن کوئز میں ایک آسان سا سوال تھا۔ اس کا جواب میں نے سب سے پہلے دے دیا تھا۔:D جن کو پتہ نہیں چلا۔ ان کے لیے یہ حل۔۔۔اور جنہوں نے جواب دے دیا ہے۔ ان کو مبارک ہو۔لیکن اگر ان کو اس سال ویلنٹائن نہ ملے تو میرا کوئی قصور نہیں ہے۔:D

 

3 تبصرے

Feb 14 2008

ویلینٹائن ڈے کوئز:D

شائع کیا: ماوراء زمرہ: تصاویر, مواقع

اس تصویر میں سات دل ہیں۔ لیکن وہ کہاں ہیں؟ جس نے سب سے پہلے بوجھ لیا۔ اس کا ویلینٹائن اس کو اسی سال مل جائے گا۔:P :D اور جن کا ویلینٹائن پہلے ہی ہے، وہ جواب دینے میں جلدی نہ کریں، تاکہ دوسروں کو موقع مل سکے۔ اگر کوئی نہ بوجھ سکا تو میں سب سے پہلے بوجھ لوں گی۔ :p             

                                                                                                                                                             

 

 

15 تبصرے

Feb 14 2008

جشنِ بہاراں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: گانے

 

 

 

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

کیسے کہیں کیا ہے ستم

سوچتے ہیں اب یہ ہم

کوئی کیسے کہے وہ ہیں یا نہیں ہمارے

کرتے تو ہیں ساتھ سفر

فاصلے ہیں پھر بھی مگر

جیسے ملتے نہیں کسی دریا کے دو کنارے

پاس ہیں پھر بھی پاس نہیں

ہم کو یہ غم راس نہیں

شیشے کی ایک دیوار ہے جیسے درمیاں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

کہنے کو جشن بہاراں ہے

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

ہم نے جو تھا نغمہ سنا

دل نے تھا اس کو چنا

یہ داستاں ہمیں وقت نے کیسی سنائی

ہم جو اگر ہیں غمگین

وہ بھی ادھر خوش تو نہیں

ملاقاتوں میں ہے جیسے گھل سی گئی تنہائی

مل کے بھی ہم ملتے نہیں

کھل کے بھی گل کھلتے نہیں

آنکھوں میں ہیں بہاریں دل میں خزاں

سارے سہمے نظارے ہیں

سوئے سوئے وقت کے دھارے ہیں

اور دل میں کوئی کھوئی سی باتیں ہیں

ہو ہو کہنے کو جشن بہاراں ہے۔

عشق یہ دیکھ کہ حیراں ہے۔

پھول سے خوشبو خفا خفا ہے گلشن میں

چھپا ہے کوئی رنج فضا کی چلمن میں

ایک تبصرہ ہوا ہے

Feb 09 2008

شجرہء نسب

شائع کیا: ماوراء زمرہ: میری باتیں

ہمارا حال اور مستقبل ماضی (تاریخ) سے جڑا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے نئی جینریشن تک اپنی کہانیاں، تاریخ کو بیان کرتے آئے ہیں۔ ہمارے گھر میں بھی ابو، امی بچپن سے خاندان کی تاریخ ہمیں سناتے آئے ہیں۔ جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو ابو کی ان کہانیوں سے ہم بہت بور ہوا کرتے تھے ، کہ یہ کیا ابو لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہمیں تو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لیکن امی، ابو کی کہانیاں سنانے کا یہ فائدہ ہوا کہ اب تک ہمیں (کم از کم مجھے) خاندان کی تاریخ یاد ہو چکی ہے۔

  میں نے کہیں پڑھا تھا کہ “خاندان ایک درخت کی طرح ہے۔ اگر آپ کو درخت کی جڑوں کا علم نہیں تو آپ کو کچھ بھی علم نہیں۔“ تب مجھے احساس ہوا کہ واقعی خاندان کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے۔ پھر کچھ عرصہ پہلے زکریا نے شجرہء نسب کا ذکر کیا۔ اس سے مجھے آئیڈیا ملا۔ اور تب سے میرے ذہن میں یہ بات تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میرے ایک کزن نے خاندان کی مختصر تاریخ لکھی تھی، لیکن اس سے سب لوگ متفق نہ ہو سکے۔ اور اب میں سوچ رہی ہوں کہ یہ ذمہ داری میں اپنے کندھوں پر لوں۔ امی سے کچھ مہینے پہلے میں نے پوچھ کر کچھ لکھا تھا۔ میرے نانا جی کی آج سے تقریباً دس، گیارہ سال پہلے ڈیتھ ہوئی تھی تو ان کی ایک نایاب ڈائری میرے ہاتھ لگ گئی۔ اس کو میں اتنے عرصے سے ڈیجیٹائز کرنے کا سوچ رہی ہوں۔ لیکن وقت نہیں مل رہا۔ اب پاکستان گئی تو انشاءاللہ سارے ڈاکومنٹس بھی لے کر آؤں گی۔ پتہ نہیں کسی نے سنبھال کر رکھے بھی ہوئے ہیں یا نہیں۔

 چونکہ میرے امی اور ابو سیکنڈ کزنز ہیں۔ اور دونوں خاندانوں کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں۔ اس لیے خاندان کی تاریخ کا دونوں کو علم ہے۔ اگر کہیں ابو غلط ہوں گے تو امی اس کو ٹھیک کر دیتی ہیں۔ اگر امی غلط ہوں تو ابو درست کر دیتے ہیں۔ لیکن اصل مزے کی تاریخ ہمارے ددوھیال کی ہے۔ جس کا علم سب کو ہمارے پردادا کے ابو تک ہے۔ اس سے پیچھے کسی کو علم نہیں۔ میرے پردادا اور دادا اپنے وقت میں علاقے کی مشہور سیاسی شخصیات تھیں۔ میرے پردادا، دادا (اور نانا) کا شمار اس زمانے کے چند ایک پڑھے لکھے لوگوں ہوتا تھا۔ (پڑھے لکھے سے مراد میٹرک ہے۔:D)سننے میں آتا ہے اس وقت کے انڈیا کا لارڈ پردادا سے ملنے آیا تھا۔(اس کے لیے مجھے تاریخ پڑھنا ہو گی کہ اس وقت کون سا لارڈ تھا۔ :D) اور پردادا، دادا کا نام کئی کتابوں میں بھی ہے۔ وہ کتابیں بھی ڈھونڈنا ہوں گی۔ 

 کل رات ابو سے ایسے ہی بات شروع ہوئی جو بہت لمبی ہو گئی۔ اور پھر میں اور ابو تقریباً ساری رات بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ ابو الیکشن کی وجہ سے آج پاکستان جا رہے تھے تو الیکشن سے ہی بات خاندان تک آئی۔ تو مجھے یہی بات یاد آ گئی کہ ابو سے شجرہ نسب کا پوچھتی ہوں۔ ابو کو بس چھیڑنے کی دیر تھی۔ ابو مجھے صبح تک خاندان کی تاریخ بتاتے رہے۔ اور رات کو ابو سے سننے کا الگ ہی مزہ آیا۔ ہم نے شروع سے یہی دیکھا ہے کہ ابو کو اپنے باپ، دادا کی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کا بہت شوق رہا ہے۔ ابو کے پاس دادا، پردادا کی تلوار، اور بندوقیں ابھی تک موجود ہیں۔ اور بندوقوں کو تو اکثر صاف کرواتے ہیں۔ ان کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ دادا اور یہاں تک پردادا کی تصاویر بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔ کاغذات کے استفسار پر ابو نے یہ کہا کہ “جب تک دادای (یعنی ابو کی امی) زندہ تھیں تو گاہے بگاہے وہ کاغذات کے بکس باہر نکالتی تھیں۔ اور دھوپ میں رکھا کرتی تھیں کہ وہ ٹھیک رہیں۔ پھر ان کی ڈیتھ کے بعد چھوٹی چچی (جو کہ دادا کے گھر میں رہتی تھیں۔) نے ان کاغذات کو گھر میں فالتو چیزیں سمجھ کر پھینک دیا۔ اور ابو کو اس میں سے ایک کاغذ ملا۔ جو ابو نے مجھے رات کو ہی نکال کر دیا۔ جو کہ ١٩١٩ء کا تھا۔ جس میں پردادا کو پہلی جنگِ عظیم کے بعد دئیے گئے ایوارڈ کا ذکر ہے۔

  اور جب پردادا کی ڈیتھ ہوئی تو دادا جی کی عمر صرف دو سال تھی۔ اور وہ ان کے اکلوتے بیٹے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پردادا سے پچھلی نسل کا علم نہیں ہو سکا۔ اگر دادا بڑے ہوتے تو شاید ان کو اس بارے میں بتایا جاتا۔ اور پھر وہ آگے اس کو بات کو بتاتے۔ لیکن میں نے ابو کو آج پاکستان جاتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ بھی ملا، ساتھ لیتے آنا۔ اور ابو میری بات سے ایسے خوش تھے، جیسے ابو بھی صدیوں سے یہی چاہتے تھے۔

  اور اب میرے دادا کے بعد ان کے بیٹوں میں سے دو بیٹے سیاست میں ان کا نام ابھی تک روشن کر رہے ہیں۔ گو کہ ہمارے دادا، پردادا جیسا نام کوئی نہیں بنا سکا۔ اور نا ہی ان کے نام کو زندہ رکھ سکا ہے۔(جس کے وہ اصل حقدار تھے) لیکن پھر بھی میرے ابو یہاں رہنے کے باوجود علاقے کی سیاست میں کافی حد تک سرگرم ہیں۔ بلکہ یہاں بھی پاکستانی کمپیونٹی میں ابو نے سیاست میں اپنا نام بہت بنایا تھا۔ابو کی زندگی کا ڈیٹا ڈھونڈنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کہ ابو کو ویسے بھی اپنا نام کہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔:p اور ابو نے اخبار کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر سنبھالے ہوئے ہیں۔(جن پر امی کو بہت غصہ آتا ہے۔) وہ کتابیں جن میں ان کا ذکر ہے، وہ بڑی سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں۔اور بھی بہت کچھ۔

 اور اب ابو کی بیٹی پتہ نہیں کیا کارنامے سرانجام دے گی۔:p لیکن میرا بہت دل ہے کہ میں اپنے دادا، پردادا کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ کرنے کا۔ کیونکہ ہمارے خاندان میں نئی نسل کا کوئی لڑکا اس قابل نہیں ہے۔ سب پڑھ لکھ کر گھروں کی حد تک رہنے والے ہیں۔ اور جو پڑھے لکھے نہیں، وہ کسی کام کے نہیں۔ قابل تو خیر میں بھی نہیں۔ :(

6 تبصرے

Feb 09 2008

غیر ملک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: فلسفہ بگھاری

 دوسرے ملک میں رہنے سے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو زبان کے بارے میں میں نے لکھا تھا۔ اور بھی کئی ایسی باتیں دیکھنے میں آتی ہیں جن کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔

 ہمیں اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک میں آنے یا رہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ یہ سوال میرے اندر اکثر اٹھتا ہے۔ اس کا جواب بھی میں خود ہی دیتی ہوں کہ کچھ لوگ اچھی تعلیم، اچھے مستقبل کے لیے دوسرے ملک میں آتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف دولت کے چکر میں آتے ہیں۔ کچھ سہولیات، اچھی اور پرسکون زندگی کے لیے آتے ہیں۔ اور کچھ بس ایسے ہی آ جاتے ہیں۔(جیسے میں)۔

  دوسرے ملک آنے کے بعد پہلا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ زبان سیکھ لیتے ہیں تو یہ مسئلہ بھی مسئلہ نہیں رہتا۔ دوسرا مسئلہ کیا ہے؟ دوسرا مسئلہ تہذیب، کلچر، زبان، مذہب، روایات، رسمیں اور انجان لوگ۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو میرا اس غیر ملک میں کبھی دل نہیں لگا۔ میں نے ہمیشہ سے ہی اپنی زبان، اپنے لوگ (دوست، رشتے دار، ارد گرد کے لوگ) اپنے ملک کے کھانے، رسمیں، روایتیں اور اپنے ملک کو یاد (مِس) کیا ہے۔ صرف میں ہی نہیں۔۔۔۔بہت سے لوگ یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ دوسرے ملک میں رہتے رہتے تنگ آ جاتے ہیں تو کچھ اکتا جاتے ہیں۔

  حالانکہ مجھے اپنے ملک کے لوگوں کا بڑا سخت تجربہ ہے۔ پچھلی بار جب میں گئی تو دوبارہ آنے سے توبہ کر لی تھی۔ لیکن میری یاداشت کمزور ہے تو اسی لیے آجکل پھر پاکستان کے گن گانے لگ گئی ہوں۔ بہن کا کہنا ہے کہ محبِ وطن ہو نہ، مجھے پتہ تھا کہ یہ محبت ایک بار پھر جاگ جائے گی۔۔ میں نے کہا کہ پاکستان شفٹ ہو جاتے ہیں لیکن میری کوئی سنتا ہی نہیں۔ گھر میں صرف ایک میں پاگل ہوں۔

  تھائی لینڈ کی ایک لڑکی کہتی ہے کہ میں یہاں کچھ عرصہ رہوں گی، اس کے بعد اپنے ملک شفٹ ہو جاؤں گی۔ میں نے پوچھا کیوں؟ تمھارا تو شوہر بھی نارویجین ہے۔ وہ تو تھائی لینڈ شاید شفٹ نہ ہو۔ کہتی ہے، وہ نہ ہو لیکن میں نے اس غیر ملک میں مرنا نہیں ہے۔ اپنے ملک میں مرنا چاہتی ہوں۔ :D )تھائی لینڈ کا مشہور ہے کہ وہاں کے ماں باپ اپنی بیٹیوں کو بیچ دیتے ہیں۔ جیسے اگر ایک نارویجین تھائی لینڈ گیا ہو گا اور وہاں کی کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ تو لڑکی کے ماں باپ تب تک رشتہ نہیں دیتے، جب تک لڑکا ان کو کچھ رقم نہیں دیتا۔ ماں باپ غریب ہوتے ہیں تو اس طرح پیسے لے کر اپنی بیٹی دے دیتے ہیں۔ (لیکن شاید سب ایسا نہ کرتے ہوں))۔ پھر ایک پاکستانی آنٹی کو جانتی ہوں، وہ تیرہ سال سے یہاں ہیں۔ اور تیرہ سال کے بعد اب اپنے بھائی سے ملی ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے بہن بھائیوں کی شادیوں پر نہیں جا سکتے۔ بہت سے ایسے ہیں جو اپنے والدین کے مرنے پر پاکستان نہیں جاتے۔ کیا رشتوں سے بڑی کوئی چیز ہو سکتی ہے؟

  ابو ہمیں اخبار سے کوئی اور خبر پڑھ کر سنائیں یا سنائیں لیکن ایک خبر ہمیشہ سناتے ہیں کہ آج اتنے پاکستانی غیر قانونی طور پر کسی دوسرے ملک جاتے ہوئے فلاں جگہ پر پکڑے گئے ہیں، مارے گئے ہیں یا  اتنی لاشیں واپس آئی ہیں۔

  دوسرے ملک میں آپ کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ اقلیت کی۔ غیر ملکی کی۔ اگر آپ کی تعلیم نہیں ہے، آپ کو زبان نہیں آتی تو آپ کو سب سے بڑا مسئلہ جاب کا ہوتا ہے۔ آپ کو جاب نہیں ملتی، بلکہ کوئی دیتا ہی نہیں ہے۔ ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جو جابز اپلائی کرتے رہتے ہیں، کرتے رہتے ہیں اور بس پھر کرتے ہی رہتے ہیں۔اپنے آپ کو منوانے اور یہاں رہنے کا فائدہ ایک ہی صورت میں ہے۔ کہ بس آپ کے پاس تعلیم ہو۔۔!! لیکن اس کے باوجود میں یہی کہوں گی کہ انسان کب تک اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہ سکتا ہے؟

14 تبصرے

Feb 06 2008

ٹی وی اشتہار

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ویڈیوز

مجھے یہ اشتہار بہت پسند ہے۔(شروع کا حصہ اچھا ہے:D) اس لیے اس کی ویڈیو بنا کر بلاگ پر سیو کر لیا ہے۔


Video: TVN's Commercial

ایک تبصرہ ہوا ہے

Feb 01 2008

موسم کا حال

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ناروے نامہ

پچھلے ایک دو دن سے مسلسل بارش اور بہت تیز ہوا چل رہی تھی۔ کچھ دیر بارش رکتی تو برف باری شروع ہو جاتی، یا بارش اور برف باری ساتھ ساتھ۔۔۔۔لیکن آج اتنی برف پڑی کہ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا اور آج تمام جہازوں کی پرواز اس وقت بند کر دی جب ایک جہاز آج شام چلتے ہوئے کسی اور ہی رخ پھسل کر ٹکرا گیا۔

آج دن اتنی تیز برف باری ہوئی کہ پورا آسمان اور زمین سفید ہو گئے تھے۔ بہت زبردست لگ رہا تھا۔ جب ڈھیر برف پڑ گئی تو بارش ہو گئی۔ اب خود سوچیں کہ کیا حال ہوا ہو گا۔ پھسلن اور ساتھ کیچڑ۔۔۔! پھر شام کو دوبارہ اتنی شدید برف باری ہوئی کہ درخت بیچارے نیچے جھک گئے۔ اور اب پھر بارش اور طوفانی ہوا چل رہی ہے۔ شکر ہے ویکینڈ ہے، ورنہ اس موسم  باہر جانے کا ذرا بھی موڈ نہیں ہوتا۔

ابو ہمیں بتاتے ہیں کہ جب وہ آج سے بہت سال پہلے یہاں آئے تھے تو بہت زیادہ برف پڑا کرتی تھی، اور سورج سردیوں میں ایک بار بھی نہیں نکلتا تھا۔ اور گرمیوں میں بھی موسم سرد ہی ہوتا تھا۔ لیکن اب تک موسم بہت بدل چکا ہے۔ چھ ، سات سال پہلے ایک بار اوسلو بہت برف پڑی تھی۔ کہ پیر اندر مکمل دھنس گئے۔ اور برف پر چلنا بہت مشکل تھا۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے برف بہت کم ہو گئی ہے۔ لیکن آج اتنے عرصے بعد اتنی برف دیکھی ہے۔ جو گھر کے اندر سے باہر دیکھنے میں اچھی لگ رہی تھی۔ لیکن باہر کوئی حال نہیں ہے۔ ابھی نارتھ ناروے میں کیا حال ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

http://www.aftenposten.no/

تصویر یہاں سے لی گئی ہے۔

 

11 تبصرے

Feb 01 2008

Protected: ہینڈ رائٹنگ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: میری باتیں

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Enter your password to view comments