Jan 26 2008
غیر ملک
غیر ملک میں رہنا جتنا آسان سمجھا جاتا ہے، حقیقت میں اتنا آسان ہوتا نہیں ہے۔ شروع سے لے کر آخر تک کچھ نہ کچھ مسائل کا سامنا رہتا ہی ہے۔ شروع میں جب آپ آتے ہیں تو سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم نئے نئے آئے تھے تو کتنی مشکل ہوتی تھی، پہلا سال زبان سیکھنے میں لگایا۔ ہم ٹیچر سے انگلش میں بات کریں تو وہ ہمیں منع کرے کہ انگلش میں بات نہیں کرنی۔ نارویجین کے جو بھی لفظ آتے ہیں، انہیں ہی بولو۔ اب ہم سوچیں کہ یااللہ۔۔ایسی زبان جس کا ہمیں لفظ بھی نہیں آتا۔اب وہ کیسے بولیں؟ اتفاق سے پہلے سال ہم کلاس میں پانچ لڑکیاں پاکستانی تھیں۔ اور ہم سارا دن اردو بولتی رہتی تھیں۔ اور اس وجہ سے ہمیں اکثر ڈانٹ بھی پڑتی، ہم پانچوں نے کئی بار سال میں وعدہ کیا کہ اب نارویجین بولیں گے۔ لیکن کچھ دیر بولتے۔۔پھر واپس اپنی زبان پر۔۔۔۔اب دوسری طرف گھر میں ابو ہمیں اردو بولنے نہیں دیتے تھے۔ کہیں کہ ۔۔۔ جتنا بولو گے اتنی جلدی زبان سیکھو گے۔ خیر ان ڈانٹوں کا اثر ہوا ۔۔۔ اور ہم نے جلدی ہی زبان سیکھ لی۔
اکثر لوگ یہاں اتنے اتنے سال سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ اور زبان نہیں سیکھتے۔ زبان کے بغیر کسی بھی ملک میں بہت مشکل ہو جاتا ہے، آپ سوشل نہیں ہو سکتے۔ کوئی کام ہو تو تب بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ معلوم نہیں۔۔لوگ کیسے زبان سیکھے بغیر گزارا کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر جو لوگ شادیاں کرنے کے بعد یہاں آتے ہیں، وہ آتے ساتھ ہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور زبان کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے۔ اکثر پاکستانی ریسٹورنٹس پر ایسے ہی انکلز پائے جاتے ہیں۔ بےچاروں کو کچھ آتا جاتا نہیں ہوتا۔ اور اکثر نارویجین بولتے بولتے بیچ میں ہی اردو بول رہے ہوتے ہیں۔ وہ سن کر بہت ہنسی آتی ہے۔ اور پاکستانی آنٹیاں بھی کمال کرتی ہیں۔ اب اگر آپ چائنیز یا تھائی لوگوں کی زبان سن لیں، تو بندے کا دل کرتا ہے کہ اپنا سر دیوار پر دے مارے۔ آجکل ایک کولیگ جو تھائی لینڈ کی ہے۔ جو جاب پریکٹس کے لیے ہے۔ زبان اس کو آتی نہیں۔۔اور باتیں بہت کرتی ہے۔ لیکن اس کی کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ اب میں اتنا دھیان نہیں کرتی کہ اس کو زبان نہیں آتی۔۔۔کہ ظاہری بات ہے کچھ وقت لگے گا سیکھنے میں۔ لیکن میرے ساتھ کام کرنے والے اس کو سن، دیکھ کر اتنا ہنستے ہیں۔ کہ دن اچھا گزر جاتا ہے۔ نہ اس کو سمجھانا آتا ہے، نہ اس کو کسی کی سمجھ آتی ہے۔ حالانکہ اس نے شادی بھی نارویجین سے ہی کی ہوئی ہے۔
یہاں ہر کوئی انگلش سمجھتا اور بولنا جانتا ہے۔ لیکن کوئی بولتا نہیں ہے۔ ہاں، اگر کسی کو سرے سے ہی نارویجین نہیں آتی تو وہ انگلش میں بات کرتا ہے۔ اور جواب بھی انگلش میں مل جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو ذرا سی بھی ٹوٹی پھوٹی نارویجین بولنے آتی ہے تو آپ سے یہی کہا جاتا ہے کہ جیسے بھی آتی ہے، بولو۔۔میں سمجھنے کی کوشش کرتا یا کرتی ہوں۔ دفاتر وغیرہ میں بھی آپ کو صرف نارویجین بولنے کا ہی کہا جاتا ہے۔ ہاں اگر ضرورت ہو تو انگریزی سے کام چلایا جا سکتا ہے۔ انگریزی کی صرف اور صرف ایک غیر ملکی زبان کی حیثیت ہے۔ پچھلے چند سالوں سے کچھ انگریزی کے الفاظ نارویجین زبان میں بولے جا رہے ہیں، اور میرا اپنا یہ خیال ہے کہ یہ بھی غیر ملکیوں کی بدولت ہیں۔ کیونکہ اکثر غیر ملکی انگریزی بولتے ہیں۔ اور پھر یہیں سے کچھ الفاظ بولے جانے لگتے ہیں۔ اگر میں پاکستان کے لحاظ سے سوچوں تو ہم لوگ تو اردو میں جانے کتنے انگریزی کے لفظ بول جاتے ہیں۔ بلکہ آج ہی حجاب سے بھی اس پر بات ہوئی تو اس کا یہ کہنا تھا کہ اکثر ایسے لوگ ہیں جو جملے میں ایک، دو لفظ اردو کے بولتے ہیں۔۔۔باقی انگریزی کے۔۔:D
دوسرے ممالک میں رہنے کے باقی مسائل پر پھر کبھی۔۔۔ابھی وقت کی کمی کے ساتھ نیند بھی بہت آئی ہوئی ہے۔:(





حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 26 Jan 2008 at 10:11 pm
ہم اسے کوڈ مکسنگ کہتے ہیں لسانیات میں۔ جب بھی ایک سے زائد زبانیں اہل زبان کے زیر استعمال ہونگی ان کا ایک دوسرے پر اثر ضرور پڑے گا۔ پاکستان انگلش اخبار کبھی پڑھے ہوں تو ان میں آپ کو اردو کے کئی الفاظ بھی نظر آئیں گے۔ جیسے کا kachi bastis کچی بستیاں کی انگریزی۔۔۔
محمد شاکر عزیز’s last blog post..مشرف کا پاکستان زندہ باد
اس تبصرے کا جواب دیں
on 26 Jan 2008 at 11:30 pm
اس تبصرے کا جواب دیں
on 27 Jan 2008 at 5:08 am
yehi cheez germany, nigeria aur saudia main bhi hoti hai, shayad kionkay hum apni soobaye zubaano main hi itna phass chukay hain, aur zubaanon ki gunjaish hi nahi…
Atif Abdul-Rahman’s last blog post..Imran Khan at the Asia Society, US.
اس تبصرے کا جواب دیں
on 27 Jan 2008 at 3:52 pm
شکریہ شاکر۔ ویسے مجھے بہت ہی کم پاکستان کے انگلش اخبار پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ویسے یہ (کچی بستیاں) تو رومن اردو میں لکھ دیا نا۔ بس اس کی جمع میں فرق ہے۔
—
اظہر الحق، خوش آمدید۔
آپ نے درست کہا ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو انگریزی کا بہت بخار چڑھا ہوتا ہے۔ اور جس کو انگریزی بولنا آتی ہو اس کو ہی بڑا پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے۔ :grin:
———–
عاطف صاحب، خوش آمدید۔
صوبائی زبانیں بولنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ بھی ہماری پہچان ہیں۔ اور صوبائی زبانیں ہی مادری زبان کہلاتی ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں صوبائی تو صوبائی اردو کو بھی لوگ پیچھے چھوڑ کر انگریزی کے پیچھے پڑ چکے ہیں۔
ویسے تو شاید ہمارے ملک کی سرکاری زبانوں میں انگریزی بھی شامل ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 30 Jan 2008 at 1:28 am
ماوراء جی،!!!
آپ کی تحریریں تو واقعی ماشاءاللٌہ بہت ھی خوبصورت ھوتی ھے،،!!!!
میں تو واقعی اردو کا دیوانہ ھوں، کاش کہ یہ ھماری سرکاری زبان بھی ھوتی، ھمارے پاس بہت اچھے ماھرانہ لوگ یعنی ھر فن مولا قسم کے لوگ موجود ھیں جو اپنی قومی زبان میں ھی بہت کچھ ھمارے ملک کیلئے خدمات انجام دے سکتے ھیں، جس طرح کئی ملکوں میں ان کی قومی زبان رائج ھے، جہاں کے اعلیٰ عہدے پر فائز یا ملک کے سربراہان جب دوسرے ملکوں کے سرکاری دورے پر جاتے ھیں یا کوئی ان کے ملک میں سرکاری یا غیر سرکاری دورے پر آتے ھیں تو وہ لوگ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کیلئے ترجمان کو بیچ میں رکھتے ھیں، تاکہ ایک دوسرے کی زبان کو سمجھ سکیں اور جواب بھی دے سکیں، اور وہ لوگ واقعی وطن پرست ھوتے ھیں اور کبھی بھی غیر ملکی زبان کا سہارا نہیں لیتے،!!!!
ھمارے ملک میں خاص طور سے ایک طبقہ ایسا ھے جو کہ انگلش بولنے میں بہت ھی فخر محسوس کرتے ھیں، چاھے انہیں گنتی کے ھی لفظ کیوں نہ آتے ھوں، ایک ھمارے ھی جاننے والے ھیں جن کے بچے ابھی چھوٹے ھی ھیں، اور انہیں صرف ایک انگلش کا لفظ Finish ھی آتا ھے، اور وہ اکثر یہ لفظ بچوں سے مخاطب کرتے ھوئے دیکھا گیا ھے،
مثلاً ،!!!! ارے بیٹا پہلے اپنا اسکول کا کام Finish کرلو پھر باھر چلے جانا،!!!!!!
بیٹا،!!! پہلے کھانا Finish کرلو پھر باھر کھیلنا وغیرہ وغیرہ،!!!!
اور اکژر تو ھر جملے میں ایک آدھ انگریزی کا لفظ بولنے کو اپنی شان سمجھتے ھیں اور کچھ تو فیشن کے طور پر بھی اسی طرح کا انگریزی کا رویہ رکھتے ھیں، اور ساتھ ھی اپنے رکھ رکھاؤ اور لباس کو بھی ولائیتی نسل کی طرح بنا کر باھر نکلتے ھیں،!!!!
اور ھمارے معاشرے میں تو لوگ کوشش یہی کرتے ھیں کہ بچوں کو انگلش اسکول میں داخل کرائیں، جس کی وجہ سے ھو گلی کوچے میں انگش اسکول کھل گئے ھیں اور جہاں کا معیار بھی بالکل اس قابل نہیں ھوتا کہ وہاں صحیح طرح سے انگریزی طرز پر تعلیم دی جاتی ھو مگر وہ لوگ معصوم عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر خوب بیوقوف بنا رھے ھیں، اور ساتھ ھی ھماری قوم بھی ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیج کر فخر محسوس کررھے ھیں !!!!
جب یہ بچے ان غیر معاری انگریزی اسکولوں سے فارغ ھوکر آتے ھیں تو وہ نہ تو انگیزی صحیح بول پاتے ھیں اور نہ ھی اپنی قومی زبان پر عبور حاصل ھوتا ھے،!!!!
اب کریں تو شکایت کس سے کریں، کون سنے گا ھماری،!!!!!
شایر کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات،!!!!!!!
عبدالرحمن سید،!!!!!
http://www.armansyed.amisun.pk/
Abdul Rehman Syed’s last blog post..:: والدین کے ارمان اور بیٹی کی رخصتی،3
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 Feb 2008 at 4:59 pm
عبدالرحمن صاحب۔ آپ کی باتوں سے متفق ہوں۔ بالکل ایسا ہی ہوتا ہے پاکستان میں۔ اور فنش والی کیا بات سنائی ہے۔ مجھے پڑھ کر بہت ہنسی آئی تھی۔ واقعی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ :grin:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Feb 2008 at 12:41 pm
[...] رہنے سے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو “زبان“ کے بارے میں میں نے لکھا تھا۔ اور بھی کئی ایسی باتیں [...]