Jan 20 2008
مصروفیت
آجکل میں معصوم بہت مصروف ہوں۔ اس لیے نیٹ سے واسطہ کم ہی پڑ رہا ہے۔ اور مسنیجر پر بھی آنا کم ہو رہا ہے کہ وقت کم ہوتا ہے، اگر میں باتیں کرنا شروع کرتی ہوں تو پھر بس شروع ہی ہو جاتی ہوں۔
شب نے مجھے اتنے عرصے سے ہینڈ رائٹنگ کا کہا ہوا ہے۔ اور مجھے اس کا وقت نہیں مل رہا۔ ویکینڈ کا کہا تھا، لیکن یہ دو چھٹیاں پتہ بھی نہیں چلا اور گزر گئیں۔ اس لیے شبو کو میں بتا دوں کہ ذرا صبر کرنا۔ تم بس حلیم کی تصویر لگاؤ۔۔اور میں ایک، دو دن اور مصروف ہوں۔ پھر انشاءاللہ پوسٹ کرتی ہوں۔
میرا بلاگ اتنے دن سے سنسان پڑا تھا۔ سوچا کچھ بونگیاں ہی مار آؤں۔![]()
اور ویسے میں آجکل بہت اچھی بچی بنی ہوئی ہوں۔ میرا انٹرنیٹ پر آنے کا دل ہی نہیں کر رہا۔پتہ نہیں کیوں۔:( امی نے بھی تعریف کر دی ہے کہ “تم ہو بہت اچھی۔۔۔لیکن بس جان بوجھ کر تنگ کرتی ہو۔” اب امی کے منہ سے پہلی یا دوسری بار تعریف سنی ہے۔ تو بس اس دن سے میں نے امی کی باتیں ماننا شروع کی ہوئی ہیں۔:D زیادہ دیر تک انٹرنیٹ یوز کرنے پر بھی ان کو شکایت ہے۔ تو اسی لیے کم کیا ہوا ہے۔ اور ساتھ ساتھ کچھ مصروفیات بھی چل رہی ہیں۔ آجکل میرا دماغ بھی خراب ہوا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں مجھے اداسی کا دورہ پڑا ہوا تھا تو آجکل خوشی کا۔ اور وجہ معلوم ہی نہیں۔
:D
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اچھی تبدیلی کب تک رہتی ہے۔ :D











Latest Posts
Feed On
Search
Monthly
Categories 
ShoutBox
on 20 Jan 2008 at 9:04 pm
اک بات پر قائم رہو
یا اچھی بچی یا پھر خراب دماغ والی
میرے خیال سے دماغ تو ہے ہی نہیں جب آپ کے پاس تو اچھی بچی والی رٹ ٹھیک ہے :grin:
[اس تبصرے کا جواب دیں]
on 20 Jan 2008 at 10:38 pm
چلو وجہ پتا چلے یا نہیں، کوئی بات نہیں۔ بس خوشی کی لہر قائم رہے۔ شاید یہ امی کی تعریفوں کی وجہ سے ہوگی۔ :razz:
راہبر’s last blog post..لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
[اس تبصرے کا جواب دیں]
on 20 Jan 2008 at 10:49 pm
اپنی امی کی باتیں مانیں اور زیادہ تعریفیں کرے گیں۔۔۔ :cool:
[اس تبصرے کا جواب دیں]
on 22 Jan 2008 at 9:16 am
آداب!
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آپ میں اور جناب ‘بدتمیز’ میں کچھ قدریں مشترک ہیں۔
اللہ ہی بہتر جانے ہے۔
[اس تبصرے کا جواب دیں]
on 23 Jan 2008 at 3:11 pm
عبید، دماغ پہلے ہی خراب ہے۔ اب مزید ہو گیا ہے۔ مصروف + نیٹ پر آنے کا موڈ نہیں ہو رہا۔ :???:
عمار، آمین ، اب اسی طرح خوش رہوں تو باقی سب بھی خوش رہ سکتے ہیں۔ ورنہ کسی سے برداشت نہیں ہوتی۔
کاشفی، اب امی کے علاوہ اور لوگوں کی بھی تو بات ماننی ہوتی ہے نا۔ اگر صرف امی کی ماننے لگی تو کسی کی نہیں مان سکوں گی۔
آئی لو پاکستان، آداب ، کہاں میں اور کہاں محترم جناب بدتمیز صاحب۔۔! اب آپ نے یہ بات کہہ دی ہے تو مجھے تشویش ہو رہی ہے کہ ایسا کیا مشترک ہے؟ اگر ہو سکے تو پلیز بتا دیں۔ میں اپنے آپ کو فوراً ٹھیک کر لوں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ کسی “بدتمیز” سے مجھے کوئی ملائے۔ میں تو اچھی بچی بن کر رہنا چاہتی ہوں۔
[اس تبصرے کا جواب دیں]