10
منافقت
اشاعت: ماوراء176 بار دیکھا گیامیں آج تک اس دنیا اور اس میں بسنے والوں لوگوں کو سمجھ نہیں سکی۔ کیوں سمجھ نہیں آتی؟ حالانکہ میں اس دنیا کو سمجھنا بھی چاہتی ہوں۔ لیکن جب جب سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں، آگے بڑھنے کے بجائے میرے قدم ہمیشہ پیچھے کی جانب اٹھ جاتے ہیں۔ اور میں اپنے آپ کو اس دنیا اور ان لوگوں سے بہت دور محسوس کرتی ہوں۔ ہم منافق کیوں ہیں؟ ہم دنیا کے سامنے کچھ اور، پیچھے کچھ اور کیوں ہوتے ہیں؟ کیا ہم ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہ سکتے؟ کیا ظاہر اور باطن کا الگ الگ ہونا ضروری ہوتا ہے؟ اگر ہاں تو ضروری کیوں ہوتا ہے؟ کیا ہم ہمیشہ سچ نہیں بول سکتے؟ ہم جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ ہم دنیا کے سامنے اپنے آپ کو بہت اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اور حقیقت میں کیا ہوتے ہیں، دنیا وہ چہرہ نہیں دیکھ سکتی۔
میری بہت بری عادت ہے۔ میں معاف کر دیتی ہوں کہ شاید اب کی بار غلطی ہوئی ہے تو اگلی بار احتیاط ہو گی یا انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا۔ لیکن لوگ غلطیوں پہ غلطیاں کیے جاتے ہیں۔ اور میں اس لیے بھی معاف کرتی جاتی ہوں کہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ اگلا بندہ کہاں تک جاتا ہے اور کتنی غلطیاں کرتا ہے۔ اور جب مجھے لگتا ہے کہ اتنا کافی ہو گیا ہے تو پھر میں ایسے ہی پیچھے ہٹ جاتی ہوں جیسے دنیا میں میرا نام و نشاں ہی باقی نہیں رہا۔ یعنی اس کے بعد میں اس بندے سے کبھی بات نہیں کرتی، نا ہی اس کے لیے میرے اندر کوئی ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ (اس لیے بہتر ہے کہ کوئی ایسی صورتِ حال پیدا ہونے ہی نہ دے)
اگر میں اپنی زندگی پر نظر دوڑاؤں تو مجھ میں اب تک بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ میں ہمیشہ سے گھل مل جانے والی، زیادہ باتیں کرنے والی، دوسروں کا خیال، دوستیاں کرنے والی تھی۔ لیکن اگر اب میں دیکھوں تو مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ کسی میں دلچسپی نہیں لیتی۔ بہت سے لوگ میرا بہت کرتے ہیں۔ اور مجھے کبھی کبھی شرمندگی ہوتی ہے کہ میں ان کا ذرا برابر بھی نہیں کر سکتی۔ (اور انہوں نے کبھی شکوہ بھی نہیں کیا)
اب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میرے ساتھ کوئی نفسیاتی، جذباتی مسئلہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مجھے خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہے، یا شاید مسائل درپیش ہیں۔ جس کی وجہ سے میں ایسی ہوں۔ کوئی جو مرضی سمجھے۔۔لیکن اللہ کا شکر ہے میرے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔ بس میں اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات دیکھتی، سنتی ہوں تو اس دنیا سے میرا خود بخود دل اچاٹ ہونے لگتا ہے۔ لیکن یہ لوگ خود نہیں سوچتے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں کیا وہ درست کر رہے ہیں؟ اور دوسروں کو ابنارملٹی میں شامل کر دیتے ہیں۔
کیوں کرتے ہیں ایسے لوگ؟ اور پھر الزام کہ میرے اندر نفرت بھری ہے۔ اب میں اس منافق دنیا اور ان لوگوں کے لیے کیسے اور کہاں سے پیار بھرے جذبات لاؤں؟
اس دنیا میں آپ کا کوئی سگا نہیں ہے۔ میں بھی صرف چند ایک رشتوں کی ڈور میں بندھی ہوں۔ میرے والدین اور میرے بہن بھائی۔۔! اس کے علاوہ مجھے کسی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں۔۔۔کہ دنیا میں کوئی کیا کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے۔ میرا ان سےصرف اتنا تعلق ہے کہ میں ان کے بیچ میں رہتی ہوں۔ اور منافق میں بھی بہت ہوں۔ جو مجھے اسی دنیا نے بنایا ہے۔
مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب کوئی اپنی بات چھپانے یا اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے مجھے برا بھلا یا الزام لگاتا ہے۔ اور سب سے بری عادت یہ ہے کہ غصہ ہو یا اداسی ہو یا خوشی۔۔۔۔اسے جب تک ظاہر نہ کر دوں یا اسے باہر نکال نہ دوں سر میں درد رہتا ہے۔ اور دماغ میں کچھڑی پکتی رہتی ہے۔ یہ باتیں کوئی اور کرنے کو نہیں ملا تو بلاگ پر لکھ دیں۔ اگر کوئی پڑھے توپلیز کچھ غلط نہ سمجھے۔ میرا دماغ پہلے ہی خراب ہوا ہوا تھا۔ اب دو، تین باتوں کی وجہ سے مزید خراب اور اداس ہو گیا ہے۔ بس سب سے ایک درخواست ہے کہ کوشش کریں کہ ہمیشہ ایک جیسے رہیں۔ بعض اوقات مجھے بہت شاک ہو جاتا ہے کہ فلاں بندہ تو ایسا دکھائی دیتا تھا، لیکن جب اس کو جانو تو وہ کچھ اور نکلتا ہے۔۔۔اور آج تک میں نے بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں، جو کچھ ہی عرصے میں اپنا اصل روپ نہ دکھا دیں۔ میں ذرا سر درد ختم کرنے کے لیے چائے پی آؤں۔ کچھ لوگ واقعی سر دردی کا باعث بن جاتے ہیں۔
…….
…….
…….
……..
……












واقعی میں تمہیں اس وقت چائے پینے اور آرام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ایسے لوگوں کی باتیں ہرگز دل پر نہیں لینی چاہئیں (چاہے دوسری طرف میں ہی ہوں۔ :razz: )
آہ یہ دنیا۔۔۔واقعی یہ ایسی ہی ہے۔ :neutral:
ویسے تو نہیں کہا جاتا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے ارو
تین ہفتوں سے بجلی مہیا کرنے والے ہمارے اعصاب کا شدید امتحان لے رہے ہیں ۔ میں نے اس سے قبل دو بار تبصرہ لکھا اور بھیجنے سے قبل بجلی چلی گئی یا جا کر چند منٹ بعد آ گئی ۔
یہ صحتمند قدم اُٹھایا آپ نے کہ دل کی بھڑاس نکال دی ۔ لیکن جذبات میں بہہ کر بھی غلط بیانی نہیں کرتے ۔ آپ نے لکھا ہے ۔میں بھی صرف چند ایک رشتوں کی ڈور میں بندھی ہوں۔ میرے والدین اور میرے بہن بھائی۔۔! اس کے علاوہ مجھے کسی میں کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ صحیح نہی ہے ۔
دنیا اتنی بھی بُری نہیں ہے کہ اسے تج دیا جائے ۔ آپ نے خود ہی تو لکھا ہے ۔ بہت سے لوگ میرا بہت [خیال] کرتے ہیں۔ اور مجھے کبھی کبھی شرمندگی ہوتی ہے کہ میں ان کا ذرا برابر بھی [خیال] نہیں کر سکتی۔ اور انہوں نے کبھی شکوہ بھی نہیں کیا۔
ویسے میں آپ کو صحتمند اور خوش و خُرم زندگی کا آزمودہ اور آسان طریقہ بتاؤں ۔ کسی سے حتٰی کہ بھائی بہن سے کسی ہمدردی یا اچھائی کی توقع نہ رکھیں ۔ توقع نام کی چیز ہی دل سے نکال دیں ۔ ایسا کرنے سے آپ کو بہت سے لوگ اچھے لگنے لگیں گے اور آپ چھوٹی چھوٹی خوشیاں چُنتے باغ و بہار ہو جائیں گی ۔
میں فلمیں دیکھنے یا گانے سننے کا شوقین کبھی نہیں رہا لیکن پچھلے 35 سال سے تو کبھی خیال بھی نہیں آیا ۔ ہاں جوریسک پارک ۔ عمر مختار ۔ رسالہ جسی چند فلمیں بچوں کا ساتھ دینے کیلئے ضرور دیکھی ہیں ۔ بچپن کے ریڈیو سے سُنے ہوئے کچھ بامقصد گانے کبھی کبھی اپنی ہارڈ ڈسک سے رَینڈم ایکسس میموری میں آ جاتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک گانے کے بول جو مجھے کبھی نہیں بھولے اور ہمیشہ مجھے غموں سے بچائے رکھا ۔
میں زندگی کا جشن مناتا چلا گیا
ہر فکر کو ہوا میں اُڑاتا چلا گیا
جو مل گیا اُسی کو مقدّر سمجھ لیا
جو کھو گیا میں اُس کو بھُلاتا چلا گیا
غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں خود کو اُس مقام پہ لاتا چلا گیا
عمار، مجھے دو، تین دن تک آرام نہیں آتا۔ اس کے بعد بھول جاتی ہوں سب ۔ تم تو اچھے بچے ہو، تم بھلا کیوں کچھ کہو گے۔
شاکر، شکر ہے، کسی اور کو بھی دنیا ایسی لگتی ہے۔ :sad:
عبید، بالکل درست کہا۔ :sad:
اجمل انکل، سب سے پہلے تو اس تبصرے کا بہت شکریہ، پتہ نہیں کیوں، اس پوسٹ پر مجھے آپ کے تبصرے کا انتظار تھا۔ اور مجھے معلوم تھا کہ آپ تبصرہ کریں گے۔
حالانکہ بجلی کی وجہ سے اپ کو مشکل بھی ہوئی، پھر بھی آپ نے کر دیا۔ اور شاید جذبات میں واقعی میں اکثر بہت کچھ لکھ جاتی ہوں، جس کا احساس بعد میں ہوتا ہے۔ لیکن میرے ساتھ بہت عجیب مسئلہ ہے کہ میں بات کو جب تک اندر رکھو، میری عجیب سی کیفیت رہتی ہے ۔ اور کل میں بہت اداس اور شاید غصے میں تھی تو ملی جلی کیفیات میں پتہ نہیں کیا کیا لکھ گئی۔ جہاں تک توقع کی بات ہے، تو آپ نے بالکل درست کہا ہے۔ لیکن کچھ رشتوں میں توقعات خود بخود پیدا ہو جاتی ہیں۔ یا بعض اوقات ہم نے جو سوچا نہیں بھی ہوتا اگر وہ ہو جائے تو تب بھی انسان کو دکھ ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی میں آپ کی بات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی، جو یہی مجھے امی بھی ہر وقت سمجھاتی رہتی ہیں۔
گانے کی شاعری واقعی بہت اچھی ہے۔ ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ جو بڑا دل رکھتے ہیں، اور زندگی کے چھوٹے تو کیا بڑے مسائل کا سامنا ہنس کر کر جاتے ہیں۔ اور ایک میں ہوں کہ چھوٹی سی بات کا رونا لے کر بیٹھ جاتی ہوں۔ لیکن بعض اوقات انسان بہت کمزور ہو جاتا ہے۔ :sad: خیر، آپ کا تبصرہ پڑھنے کے بعد ہی میرا موڈ بہتر ہو گیا تھا۔
یہ منافقت ہی ہے جس سے دنیا کا کاروبار چل رہا ہے ورنہ حساس اور سنجیدہ لوگوںپر ہو تو ہر چھوٹی چھوٹی بات لے کر بیٹھ جائیں اور سب کچھ ٹھپ :razz:
صحیح کہا ہے۔ :sad: لیکن میں حساس نہیں ہوں۔ بس حیران ہوں۔ :razz:
اپنی رائے کا اظہار کریں۔