Dec 30 2007
دو نظمیں
محمود شام کی یہ ایک نظم جو کہ بے نظیر کے لیے لکھی گئی ہے۔
ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی
ایسے بیٹی کو تو میکے سے نہیں بھیجتے ہیں
ایسے تاریخ تو قومیں نہیں لکھتیں اپنی
ایسے تہذیب کا چہرہ نہیں جھلسا جاتا
اس طرح قیمتی میراث لٹاتے ہیں کہاں
یوں تدّبر کو کہاں زہر دیا جاتا ہے
ایسے جرات پہ کہاں وار کیے جاتے ہیں
ایسے اقدار پہ تلوار کہاں اُٹھتی ہے
ایسے افکار پہ نیزے نہیں پھینکے جاتے
ایسے تقدیر پہ شمشیر کہاں چلتی ہے
یوں عقیدوں سے ہلاکت نہیں بانٹی جاتی
ایسے امید کو کب قتل کیا جاتا ہے
اپنے آئندہ سے یوں خوف کہاں ہوتا ہے
چھوڑیں بچّوں کے لیئے آگ لہو کا ورثہ
ایسے ماں باپ تو دنیا میں نہیں ہوتے ہیں
ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقتلِ شہر میں اک شور سنائی دے گا
سر پھرا کوئی سرِداردکھائی دے گا
ایک دن عدل کی زنجیر ہلے گی یارو
وقت کا لمحہ ہمیں ازنِ رہائی دے گا
چہرہِ زیست سے سرکے گی جو شب کی چادر
ہم کو خورشیدٍ جہاں تاب دکھائی دے گا
شور تا حشر بپا ہوگا ستم گر کے خلاف
ہم نہ ہوں گے تو کوئی اور دُہائی دے گا
ذہن میں ابھریں گے گم گشتہ محبت کے نقوش
جب وہ ہاتوں میں مرے دستِ حنائی دے گا
منصب و جاہ کی سن سے ہے تجھے بخش اُمید
وہ تیرے ہاتھ میں کشکولِ گدائی دے گا



حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 31 Dec 2007 at 6:38 am
بے نظیر کی کمی کون پوری کر سکتا ہے؟؟؟؟؟؟ :?:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 Jan 2008 at 11:32 am
مجھے لگتا ہے عبید، آپ بھی بے نظیر کی شہادت پر بہت افسردہ ہیں۔ میرا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ پہلے دن تو مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ اس کی کمی واقعی کوئی بھی پوری نہیں کر سکتا۔
اس تبصرے کا جواب دیں