Dec 27 2007

بے نظیر(1953 – 2007) ایک مختصر سیاسی جائزہ

شائع کیا: ماوراء at 10:49 pm زمرہ: بے نظیر, سیاست, پاکستان نامہ

418 بار دیکھا گیا

 

ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو 21 جون 1953میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔  بے نظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم  Lady Jennings Nursery School  اور Convent of Jesus and Mary  کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال Rawalpindi Presentation Convent میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے Jesus and Mary  میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969 میں انھوں نے Harvard University  کے  Radcliffe College میں داخلہ کیا۔  بے نظیر بھٹو نے Harvard University سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ اس دوران بے نظیر آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر بھی رہیں۔

بے نظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کے کے بعد جون ١٩٧٧ میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کی خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ انھوں نے اٹھارہ ماہ تک قید اور نظر بندی کی مشکلات کے ساتھ ساتھ آمرانہ اقدام کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ اپریل ١٩٧٩ میں جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازعہ کیس میں پھانسی پر چڑھا دیا۔

 ١٩٨١ میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف ١٤ اگست ١٩٨٣ سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر ١٩٨٣ میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ ١٩٨٤ میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل ١٩٨٦ میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو  ١٩٨٧ میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ ١٧ اگست ١٩٨٨ میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ ١٦ نومبر ١٩٨٨ میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر ١٩٨٨ میں ٣٥ سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست ١٩٩٠ میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔ ٢ اکتوبر ١٩٩٠ کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے  جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔  ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ ١٩٩٣ میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔  جس کے بعد اکتوبر ١٩٩٣ میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد لغاری نے ١٩٩٦ میں بدامنی اور کرپشن کے الزمات لگا کر بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔  

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصے  بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب ١٤ مئی ٢٠٠٦ میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب ٢٧ جولائی ٢٠٠٧ کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے ١٨ اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں ١٥٠ کو موت کی نیند سلا دیا گیا، جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ قیامت صغریٰ کے اس منظر کے دوران بے نظیر کو باحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔  

پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے ٣ نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔  

اس وقت ملک میں نگران حکومت بن چکی ہے اور مختلف پارٹیز انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اور آج ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧ کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ اور اس طرح آج ایک اور لیڈر پاکستان کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔

یہ سب لکھنے کے لیے میں نے اے آر واے، وکی پیڈیا، بی بی سی اردو سے مدد لی ہے۔ کہیں غلطی نظر آئے تو نشاندہی کریں۔ اور لکھ لینے کے بعد یہ مضمون نظر آیا۔ لیکن اب میں لکھ چکی تھی۔ :(

3 تبصرے

3 تبصرے “بے نظیر(1953 – 2007) ایک مختصر سیاسی جائزہ”

    MyAvatars 0.2
  1. اجمل
    on 28 Dec 2007 at 3:42 am

    آپ نے بہت مختصر اور جامع لکھا ہے ۔ایک بات کا بہت کم لوگوں کو علم ہے ۔ ایک جوان نے بینظیر پر خودکار بندق سے گولیاں داغ دیں ۔ اس پر سکیورٹی گارڈز نے اس جوان کو قابو کرنے کی کوشش کی اور ایک دھماکے کے ساتھ اس کے پرخچے اُڑ گئے جس کے نتیجہ میں مزید 29 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہو گئے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  2. MyAvatars 0.2
  3. ماوراء
    on 28 Dec 2007 at 8:41 pm

    جی اجمل انکل۔ اس بات کا علم ہے۔ لیکن ایک نئی خبر بھی آئی ہے: وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق بے نظیر کی شہادت گولی لگنے سے نہیں بلکہ گاڑی کے چھت کا لیور سر پر لگنے سے ہوئی ہے۔ (اور اس خبر پر مجھے یقین نہیں۔)

    اس تبصرے کا جواب دیں

  4. MyAvatars 0.2
  5. @عبید@
    on 29 Dec 2007 at 1:34 am

    اللہ ہی رحم کرے ،جہاں تک میرے علم میں ہے کہ جس ظالم نے برسٹ مارا ہے عتو دو گولیاں محترمہ کو لگی ہیں اور وہ ظالم موٹر سائیکل پر تھا اور گولیاں مارنے کے بعد پھر اس نے دھماکہ کیا اور محترمہ کے ہسپتال پہنچنے کے ساتھ نواز شریف بھی وہیں جا پہنچے اور لکھنے پہ آیا تو نہ جانے کیا کیا لکھتا جاؤں گا

    اللہ تعالی تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ آمین

    اس تبصرے کا جواب دیں

ٹریک بیک یو آر آئی | تبصرہ جات آر ایس ایس

اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔