<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں؟</title>
	<atom:link href="http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/#utm_source=rss&amp;utm_medium=rss&amp;utm_campaign=mard-orat-ko-kion-ghorty-hein</link>
	<description>ماورائی بلاگ</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Jan 2010 08:52:32 -0700</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.4</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: خرم شہزاد خرم</title>
		<link>http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/comment-page-2/#comment-1924</link>
		<dc:creator>خرم شہزاد خرم</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2009 23:59:29 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/#comment-1924</guid>
		<description>یہاں تو مردوں کی بات ہو رہی ہے میں تو لڑکا ہوں :bly:</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یہاں تو مردوں کی بات ہو رہی ہے میں تو لڑکا ہوں <img src='http://mawra.urdutech.com/wp-includes/images/smilies/69.gif' alt=':bly:' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: طلحہ</title>
		<link>http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/comment-page-1/#comment-1923</link>
		<dc:creator>طلحہ</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2009 06:39:20 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/#comment-1923</guid>
		<description>مجھے اس پوسٹ کے عنوان پر ہی اعتراض محسوس ہورہا ہے۔ کیونکہ بنانے والے نے مرد اور عورت کو  لوہے اور مقناطیس کی طرح بنایا ہے۔اس لیے یہ الزام صرف مردوں کے لیے مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔
مذہبی نقط نظر سے اللہ کریم نے دونوں میں کشش رکھ کر دونوں ہی کو امتحان میں ڈالا ہے۔ جوبھی خواہ مرد ہویا عورت، اس امتحان یعنی اپنی خواہش سے رک کر اللہ کریم کے حکم کو پورا کرئےگا   وہ امتحان میں کامیاب ہوجائے گا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>مجھے اس پوسٹ کے عنوان پر ہی اعتراض محسوس ہورہا ہے۔ کیونکہ بنانے والے نے مرد اور عورت کو  لوہے اور مقناطیس کی طرح بنایا ہے۔اس لیے یہ الزام صرف مردوں کے لیے مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔<br />
مذہبی نقط نظر سے اللہ کریم نے دونوں میں کشش رکھ کر دونوں ہی کو امتحان میں ڈالا ہے۔ جوبھی خواہ مرد ہویا عورت، اس امتحان یعنی اپنی خواہش سے رک کر اللہ کریم کے حکم کو پورا کرئےگا   وہ امتحان میں کامیاب ہوجائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ابن سعید</title>
		<link>http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/comment-page-1/#comment-1921</link>
		<dc:creator>ابن سعید</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2009 21:49:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/#comment-1921</guid>
		<description>در اصل معاشرے میں رہتے ہوئے کم و بیش ہمارا ہر عمل ہماری ذات کے علاوہ معاشرے پر بھی کسی نہ کسی طور اثر انداز ہوتا ہے. اس لئے شخصی آزادی کا قیام ایک بہتر معاشرے کا ضامن نہیں. مثلاً اپنی پسند کے کپڑے پہننا یا سرے سے نا پہننا یقیناً دوسروں کو ذہنی کوفت یا فرحت دے سکتا ہے. اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کھانا تو کم از کم ہم اپنی مرضی کا کھا ہی سکتے ہیں لیکن بعد میں کچے پیاز کی بو آپ کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف دے سکتی ہے. یہی حال کسی کو گھورنے کا ہے بلا تفریق مرد و زن یہ عمل گر چہ کسی کے بدن میں سواراخ نہیں ڈال سکتا پر یہ احساس کہ میں گھورا جا رہا/رہی ہوں ایک ذہنی تناؤ یا تسکین کا باعث ہو سکتا ہے.

ضابطہ اخلاق اسی چڑیا کا نام ہے جو یہ تعین کرتی ہے کہ ایک معاشرے میں رہنے کے لئے کیا عمل کس انداز میں اور کس حد تک کرنا جائز ہے جو عمومی طور پر دوسروں پر غلط اثرات نہ ڈالے.

انسان قانع ہو، ذمہ دار ہو اور اپنے کاموں میں مصروف ہو ہمیشہ تخلیقی انداز میں سوچے تو ان چیزوں کی نوبت ہی نہ آئے گی. ہاں بقول یاراں وقت سے پہلے بڑھاپا ضرور آ سکتا ہے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>در اصل معاشرے میں رہتے ہوئے کم و بیش ہمارا ہر عمل ہماری ذات کے علاوہ معاشرے پر بھی کسی نہ کسی طور اثر انداز ہوتا ہے. اس لئے شخصی آزادی کا قیام ایک بہتر معاشرے کا ضامن نہیں. مثلاً اپنی پسند کے کپڑے پہننا یا سرے سے نا پہننا یقیناً دوسروں کو ذہنی کوفت یا فرحت دے سکتا ہے. اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کھانا تو کم از کم ہم اپنی مرضی کا کھا ہی سکتے ہیں لیکن بعد میں کچے پیاز کی بو آپ کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف دے سکتی ہے. یہی حال کسی کو گھورنے کا ہے بلا تفریق مرد و زن یہ عمل گر چہ کسی کے بدن میں سواراخ نہیں ڈال سکتا پر یہ احساس کہ میں گھورا جا رہا/رہی ہوں ایک ذہنی تناؤ یا تسکین کا باعث ہو سکتا ہے.</p>
<p>ضابطہ اخلاق اسی چڑیا کا نام ہے جو یہ تعین کرتی ہے کہ ایک معاشرے میں رہنے کے لئے کیا عمل کس انداز میں اور کس حد تک کرنا جائز ہے جو عمومی طور پر دوسروں پر غلط اثرات نہ ڈالے.</p>
<p>انسان قانع ہو، ذمہ دار ہو اور اپنے کاموں میں مصروف ہو ہمیشہ تخلیقی انداز میں سوچے تو ان چیزوں کی نوبت ہی نہ آئے گی. ہاں بقول یاراں وقت سے پہلے بڑھاپا ضرور آ سکتا ہے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ریحان مرزا</title>
		<link>http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/comment-page-1/#comment-1787</link>
		<dc:creator>ریحان مرزا</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 01 Apr 2009 19:49:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/#comment-1787</guid>
		<description>زیادہ نہیں جانتا اس معاشرہ کو پر اپنے آپ کو سمجھ کر اتنا کہ سکتا ہو کہ

امم

یہاں پر مرد اس لیے گھورتے ہیں کہ ان کو پتا ہے اور کچھ تو کر نہیں سکتے تو چلو گھور ہی لیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>زیادہ نہیں جانتا اس معاشرہ کو پر اپنے آپ کو سمجھ کر اتنا کہ سکتا ہو کہ</p>
<p>امم</p>
<p>یہاں پر مرد اس لیے گھورتے ہیں کہ ان کو پتا ہے اور کچھ تو کر نہیں سکتے تو چلو گھور ہی لیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: انکل ٹام</title>
		<link>http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/comment-page-1/#comment-1781</link>
		<dc:creator>انکل ٹام</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 20 Mar 2009 19:51:11 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://mawra.urdutech.com/2007/12/08/mard-orat-ko-kion-ghorty-hein/#comment-1781</guid>
		<description>اس مسلے میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ کہ اگر عورتیں اپنے آپ کو نہ دکھائیں تو وہ نہ دیکھیں ۔۔۔۔ ویسے مردوں کو خود بھی نظریں جھکانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ نظریں جھکانے پرعلما نے مستقل رسالے اور کتابیں لکھی ہیں ۔۔۔۔ یہاں پر ایک کتاب ہے مولانا حکیم اختر کی بدنظری کے  چودہ نقصانات  http://www.khanqah.org/books/show/badnazri-ke-14-nuqsanat-20071019
اور خواتین کو میں یہ کتاب کابتانا چاہوں گا ۔۔ بے پردگی کی تباہ کاریاں 
http://www.khanqah.org/books/show/bepardagi-ki-tabah-kariyaan
چاہے آپ کی راے کچھ بھی ہو آپ عمل کرنا چاہتے ہوں یا نہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ اسکو کم سے کم ایک نظر ضرور دیکھ لیں ۔۔۔
دوسری چیز اس میں یہ ہے کہ میرے خیال سے کچھ لوگ کھسکے ہوے ہوتے ہیں ان لوگوں کو عادت ہوتی ہے گھورنے کی اور ایسے لوگ پاکستان میں زیادہ پاے جاتے ہیں ۔۔۔۔ میر ی والدہ پوری طرح مکمل نقاب کرتی ہیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ میں اور امی نانی اماں کے گھر سے واپس آرہے تھے تو ایک موٹر سائیکل والا ہمیں گھورنا شروع ہو گیا اور مجھے اس پر غصہ آرہا تھا خیر ایسے لوگ میرے خیال سے کھسکے ہوے ہوتے ہیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اس مسلے میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ کہ اگر عورتیں اپنے آپ کو نہ دکھائیں تو وہ نہ دیکھیں ۔۔۔۔ ویسے مردوں کو خود بھی نظریں جھکانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ نظریں جھکانے پرعلما نے مستقل رسالے اور کتابیں لکھی ہیں ۔۔۔۔ یہاں پر ایک کتاب ہے مولانا حکیم اختر کی بدنظری کے  چودہ نقصانات  <a href="http://www.khanqah.org/books/show/badnazri-ke-14-nuqsanat-20071019" rel="nofollow">http://www.khanqah.org/books/show/badnazri-ke-14-nuqsanat-20071019</a><br />
اور خواتین کو میں یہ کتاب کابتانا چاہوں گا ۔۔ بے پردگی کی تباہ کاریاں<br />
<a href="http://www.khanqah.org/books/show/bepardagi-ki-tabah-kariyaan" rel="nofollow">http://www.khanqah.org/books/show/bepardagi-ki-tabah-kariyaan</a><br />
چاہے آپ کی راے کچھ بھی ہو آپ عمل کرنا چاہتے ہوں یا نہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ اسکو کم سے کم ایک نظر ضرور دیکھ لیں ۔۔۔<br />
دوسری چیز اس میں یہ ہے کہ میرے خیال سے کچھ لوگ کھسکے ہوے ہوتے ہیں ان لوگوں کو عادت ہوتی ہے گھورنے کی اور ایسے لوگ پاکستان میں زیادہ پاے جاتے ہیں ۔۔۔۔ میر ی والدہ پوری طرح مکمل نقاب کرتی ہیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ میں اور امی نانی اماں کے گھر سے واپس آرہے تھے تو ایک موٹر سائیکل والا ہمیں گھورنا شروع ہو گیا اور مجھے اس پر غصہ آرہا تھا خیر ایسے لوگ میرے خیال سے کھسکے ہوے ہوتے ہیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
