Dec 08 2007
مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں؟
آج کافی دنوں بعد سکون کے کچھ گھنٹے نصیب ہوئے تو میں نے بلاگز کی تانکا جھانکی شروع کی۔ اتنے دنوں سے اپنا بلاگ بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا تھا۔ بہرحال بلاگز کھنگالنے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے کچھ دنوں میں بلاگرز دو مسئلوں پر پریشان تھے یا ہیں۔ ایک مسئلہ “اردو بلاگنگ“ اور دوسرا “مرد خواتین کو کیوں گھورتے ہیں؟“ پہلے مسئلے پر تو میں صرف اتنا ہی کہوں گی جو کچھ اور لوگوں نے کہا بھی ہے کہ اردو میں بلاگنگ ابھی کچھ وقت لے گا۔ ابھی تو شروعات ہیں۔ لیکن آئندہ آنے والوں سالوں میں اردو بلاگرز کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔ انشاءاللہ۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔ ابھی یہ تعداد کم ہی سہی، لیکن بڑھ ضرور رہی ہے، اور اس کا اندازہ ہمیں آئندہ کچھ سالوں میں ہو جائے گا۔ اور باقی زیک نے اردو بلاگنگ کی تشہیر کے لیے بہت اچھی تجاویز دی ہیں۔
مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں؟
دوسرا مسئلہ کافی دلچسپ ہے۔ میں کافی دنوں سے اس کے بارے میں لکھنے کا سوچ رہی تھی لیکن وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔ سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ مرد ہی خواتین کو گھورتے ہیں اور خود مرد حضرات نے ہی اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو عورت کو اس مسئلے پر آواز بلند کرنی چاہیے۔:D راشد کامران کی پوسٹ ایک، دو دن پہلے دیکھی تو سوچا فارغ ہو کر میں بھی اس پر لکھتی ہوں، آج دیکھا تو پھرتیلے بلاگرز نے تو بہت کچھ لکھ بھی دیا ہوا تھا۔ کہ میرے لکھنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔ میں کشمکش میں کہ لکھوں یا نہ لکھوں۔۔۔لیکن اب لکھ ہی دیا۔ ان صاحب کو تو لگتا ہے مضمون نگاری کا بہت شوق ہے۔ اتنی دیر میں میں آدھے بلاگ پڑھ لیتی ہوں۔جتنی دیر ان کا ایک مضمون پڑھنے میں لگتی ہے۔ قدیر نے بھی مضامین لکھے۔ اور میرا پاکستان نے بھی۔ فرحت کا موضوع قدرے مختلف تھا۔
راشد کامران کی ایک بات سے شروع کرتی ہوں جس سے میں مکمل طور پر متفق ہوں۔ کہ نوجوان لڑکوں کی بنسبت بڑی عمر کے مرد حضرات زیادہ گھورتے ہیں۔ لیکن اگر میں بڑی عمر کے بجائے یہ کہوں کہ شادی شدہ حضرات ایسے کام کرتے ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں ہو گا۔ یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ مرد عورت کو اس معاشرے کا حصہ نہیں سمجھتے؟ گھورتے ایسے ہیں کہ آج پہلی بار کسی خاتون کو دنیا میں اترا ہوا دیکھا ہے۔ ازل سے مرد اور عورت کا ساتھ ہے، لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں۔۔عورت کو عجیب نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یقین کریں یہ مسئلہ تھرڈ کلاس ممالک اور مسلمان ممالک میں زیادہ ہے۔ جہاں عورتوں اور مرد کو کبھی اکھٹا نہیں ہونے دیا جاتا۔ عورت کا غیر مرد سے بات کرنا بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ فطری بات ہے جس بات سے انسان کو منع کیا جاتا ہے، ہم اس طرف زیادہ جاتے ہیں کہ ایسا کیا ہے جس سے منع کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ میرا پاکستان نے کہا کہ مغربی ممالک میں سرِ عام عورت کو نہیں گھورا جاتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کھلا ماحول ہے اور مرد، عورت کو بھی اپنا جیسا ایک انسان ہی سمجھتا ہے۔ آج ہی میری اور میری کولیگ کی اس گھورنے پر بات ہو رہی تھی۔ تو وہ مجھے کہنے لگی کہ “تم نے نوٹ کیا ہے کہ کبھی کوئی یورپین یا امریکن نہیں گھورتا جبکہ ایشین اور افریقین لوگ زیادہ گھورتے ہیں۔“ اب یہاں ایسا ہوتا ہے کہ ہر کوئی اپنے ملک کے لوگوں کو زیادہ گھورتا ہے۔ اگر پاکستانی ہے تو کسی پاکستانی کو دیکھ لے گا تو اس کو گھورنا فریضہء اول سمجھے گا۔ اور پاکستان میں تو نہایت ہی برا حال ہے۔ اس کی بات میں نہیں کروں گی۔ میں پچھلے سال اتنے لمبے عرصے کے بعد پاکستان گئی تو وہاں کے حالات دیکھ کر میں پہلے دو ہفتے روتی رہی۔:p
مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں۔ اس پر جو میرا پاکستان نے لکھا ہے اس سے میں مکمل طور پر متفق نہیں ہوں۔ ایک ہوتی ہے عادت۔۔۔اگر کسی چیز کی عادت پڑ جائے تو اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اب اگر ضرورت ہو یا نہ ہو اس عادت کو پورا کیے بغیر سکون نہیں آتا۔ ہمارے پاکستانیوں کو گھورنے کی عادت ہو گئی ہے۔ اور یہ حرکت زیادہ تر شادی شدہ مرد کرتے ہیں۔ اپنی بیگم ان کے ساتھ ہو گی۔۔سامنے سے اگر کوئی ایک اور جوڑا گزر جائے تو اگلا مرد دوسرے کی بیگم کو تاڑنے لگتا ہے۔ اگر آپ اپنے ارد گرد بھی غور کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ شادی شدہ ہی ایسی حرکات میں ملوث ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی حرکتیں یا تو بہت گھٹیا اور جاہل قسم کے لوگ کرتے ہیں یا بہت تعلیم یافتہ اور ماڈرن لوگ۔
اگر آپ کو کوئی گھور رہا ہو تو فوراً پتہ چل جاتا ہے۔ اب بندہ آنکھیں بند کر کے تو چلنےسے رہا۔ اگر میری بہن کہیں میرے ساتھ جا رہی ہو اور راستے میں کوئی پاکستانی تاڑے تو فوراً دانت پیس کر کہتی ہے “کمینہ گھور رہا ہے“:p اب میں اسے کہتی ہوں تو تم اس طرف دیکھو ہی نہ۔ لیکن اس کے الٹے کام ہیں۔ اگر کوئی گھور رہا ہو تو وہ بھی مسلسل اسے گھورتی جاتی ہے۔ اور چہرے پر غصہ دیکھنے والا ہوتا ہے۔ اور وہ تب تک گھورتی رہتی ہے جب تک اگلا شرم سے آنکھیں نیچی نہیں کر لیتا۔ اور میری عادت ہے کہ میں بالکل اپنے دھیان چلتی ہوں۔ اگر کوئی گھور رہا ہے اور میری نظر اس پر پڑ بھی جائے تو احساس ہی نہیں ہونے دیتی۔ اگر آپ باہر نکلتے ہیں تو کئی نمونوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور یقین کریں کہ آج کے دور کی لڑکیاں بھی کوئی فرشتہ نہیں ہیں۔ میں نے بہت سی ایسی پاکستانی لڑکیوں کو دیکھا ہے، جو خود مردوں کو خراب کرتی ہیں۔ جہاں کسی کو دیکھا۔۔پاس گئیں۔۔دانت نکالے۔۔۔اب اگلا بندہ خود ہی فری ہو جاتا ہے۔ میں اس سب کے خلاف بھی نہیں ہوں کہ شاید یہ ایک فطری عمل بھی ہے کہ جنسِ مخالف ایک دوسرے کے طرف کھنچتے ہیں۔ لیکن اس کو عادت بنا لینا یا زیادہ بڑھ جانا۔۔۔یہ کہیں کی عقل مندی نہیں۔
میرا پاکستان نے ایک حل تو یہ نکالا کہ” سنِ بلوغت تک پہنچنے پر شادی کر دی جائے۔ لیکن یہ ناممکن ہے تو “خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہیے۔“ میرے خیال میں بہت جلدی شادی کر دینا زندگی کے کچھ اور مسائل کو بڑھا سکتے ہیں۔ اگر بچوں کی بات کی جائے تو یہ سب ماں باپ کی تربیت پر بھی منحصر ہو سکتا ہے۔ آپ کا بچہ کیا کر رہا ہے، کیا سوچ رہا ہے، کہاں جا رہا ہے۔۔۔یہ سب ماں باپ کو اس کی ایک نظر، اس کی ایک حرکت اور اس کی باتوں سے معلوم ہو جاتا ہے۔ اپنے بچوں کو ایک ایسا ماحول دیا جائے کہ بچے فضول قسم کی حرکات میں نہ پڑیں۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو مناسب وقت، توجہ اور پیار نہیں دیتے۔ ایسی صورتِ حال میں بچے باہر مختلف ایکٹیویٹیز میں اپنے آپ کو مصروف کر لیتے ہیں۔ جن کا ماں باپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا۔
اور جہاں تک بڑی عمر کے مردوں کی بات ہے تو ان کو کھلی چھٹی ہے وہ جو مرضی کرتے رہیں۔:D میں اکثر سوچتی ہوں کہ دنیا میں بچوں کے سر پر ماں باپ ہوتے ہیں، بیوی کے اوپر خاوند حکومت کرتا ہے۔ لیکن اس مرد کو کنٹرول کرنے والا کون ہے؟ اکثر پاکستانی مرد تو بیویوں کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہے، جو مرضی کرتے رہیں۔
کیا ہمارا معاشرہ اس گندی حرکت سے پاک ہو سکتا ہے؟ مجھے نہیں لگتا۔ لیکن اگر ہم انفرادی طور پر یہ سب سمجھنے کی کوشش کریں، اور ایک مہذب شہری ہونے کا ثبوت دیں تو شاید ایسی حرکتوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ ویسے جن مرد بلاگرز نے اس بارے میں لکھا ہے، امید ہے وہ تو گھورتے نہیں ہوں گے، اور اگر کبھی گھورنے کی کوشش بھی کی تو اپنے بلاگ کی پوسٹ یاد آ جائے گی۔:p
ابھی بہت کچھ اور بھی لکھنا تھا۔ لیکن میری اظہارِ آزادی کی حد یہاں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے۔:p :D



حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 08 Dec 2007 at 10:58 am
ماورہ بلکل صیح کہا اور اک دم ٹھیک سوچا ، یہ مردوں کی عادت ہے ، عادت سے مجبور ہوتے ہیں اور اپنی اس بدعادتی کو چھوڑ نہیں سکتے ۔ جیسے کہ انکی فطرت ہوا کرتی ہے ۔ :razz:
مگر نہیں دے رہی ،۔۔۔
اور میں تم سے سوفیصد اتفاق کرتی ہوں اس بات سے کہ یہ بری عادتیں شادی شدہ مردوں میں اکثریت سے پائی جاتیں ہیں، ۔ ۔۔ میرا مشاہدہ ہے ۔ اور تم تو اچھی طرح جانتی ہو کہ باجو کے مشاہدے غلط نہیں
ایسے شادی شدہ شوہر ۔۔ ۔ جو اپنی پیوی سے تنگ آجاتے ہیں وہ ایسے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں دوسرے جو پاکستان سے باہر رہتے ہوں اور ہر طرح سے سیٹل ہوں کرنے کو اور باقی کچھ نہ ہو تو ادھر ادھر ۔ ۔ ۔۔۔
خیر یہ تو مردوں کی عادت ہے ہی ۔ مگر یہ سچ ہے شادی شدہ اور ڈھلتی عمر کے مرد ان بد عادتوں کا زیادہ شکار ہوا کرتے ہیں ،۔۔۔
میرے سامنے کئی مثالیں ہیں دینے کو
:razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 Dec 2007 at 11:04 am
مطلب تمھاری عقل داڑھ واقعی عقل داڑھ ہی ہے ۔ تمھاری اس تجزیہ کو پڑھتے ۔ ۔۔ سنتے شیور ہوگیا تم کمال کا مشاہدہ رکھتی ہوں ،۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 Dec 2007 at 12:33 pm
میں نے ابھی پوسٹ اسی لیے نہیں لکھی کہ ہوسکتا ہے کل کو کسی “جینوئن” مسئلے کے لیے “گھورنا” پڑ جائے۔ :grin:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 08 Dec 2007 at 3:09 pm
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 12:33 am
آپ نے اپنا نام ماوراء رکھا ہوا ہے تو آپ اسم با مسمٰی نکلیں اور کچھ ماوراء باتیں سامنے لے آئیں ۔ مبارک ہو ۔ میں ابھی منتظر ہوں مزید خواتنں و حضرات کی رائے کا ۔ اس کے بعد انشاء اللہ میں اپنی جوانی کے زمانہ کے واقعات اور ان پر تحقیق پہلی بار منظرِعام پر لاؤں گا جو کچھ لحاظ سے عام خیالات سے فرق ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 4:31 am
بزرگوں کا قول ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک سے نہیں،
عورتوں یا لڑکیوں کو تنگ کرنے کا یہ رواج آجکل چل پڑا ہے شاید مگر اس کے پس پشت ان عورتوں اور لڑکیوں کا بھی ہاتھ ہے جن کی اپنی عزت تو ہوتی کوئی نہیں اور دوسری باعزت عورتوں کے لئے وہ عذاب بنا دیتی ہیں مثال کے طور پر کوئی لڑکی بازار میں کھڑے زیادہ تر مردوں کے ساتھ اشاروں سے باتیں کرتی جا رہی ہے تو اب وہ لوگ یہ تو نہیں دیکھیں گے کہ صرف یہ ہی ایسی ہے بلکہ ان کی نظر میں اسی طرح ہو گی جس طرح پہلے ان کے ساتھ کوئی باتیں کرتی گی ہو ۔
زیادہ لمبا چوڑا تو میں جانا نہیں چاہتا ہاں یہ ضرور ہے کہ بہت بری عادت ہے اور اس طرح کے گھور کر دیکھنے والے پہلے یہ ضرور اپنے گریبان میں جھانک لیا کریں کہ ان کے گھر میں ان کی ماں اور بہن ہے اور جو لڑکیاں مردوں کو غلط راہ پر گامزن کرتی ہیں انہیں بھی یہ سوچنا چاہیے کہ عورت کی بھی عزت ہے اور وہ اس طرح کرکے تمام عورتوں پر ظلم کر رہی ہیں
((میری باتیں کچھ کڑووی ہیں اور اگر کسی بری لگیں تو معذرت خواہ ہوں))
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 8:06 am
سب بھائی اور بہنیں جو وجوہات بیان کر رہے ہیں، درحقیقت یہ ساری وجوہات ملکر اس گھورنے والے مسئلے کو پیدا کرتی ہیں۔ کوئی فیصدی جائزہ لیا جائے تو خواتین کا بھی کچھ نہ کچھ کردار اس مکروہ فعل میں نکل آئیگا۔
دوسری بات گھورنے اور دیکھنے میں کوئی فرق ہے؟ میں نے تو زندگی میں کسی مرد کو گھور کر نہیں دیکھا چہ جائیکہ لڑکی یا عورت۔ کیونکہ ہمارا علاقہ ایسا ہے جہاں مردوں کو گھورنے پر بھی قتل ہو جاتے تھے۔ تاہم روشن خیالی کی برکات موصول ہوتے ہی یہ تالی اب دونوں ہاتھوں سے بجنے لگی ہے۔ میں نے اپنی صفائی یہاں دے دی کیونکہ اپنے بلاگ پر تو میں اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ نہ گھورنے کا کوئی ٹیوٹوریل تحریر کر دوں۔
ماوراء اتنا اچھا لکھنے پر میری طرف سے داد قبول کیجیے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 8:08 am
عورتوں یا لڑکیوں کو تنگ کرنے کا یہ رواج آجکل چل پڑا ہے شاید مگر اس کے پس پشت ان عورتوں اور لڑکیوں کا بھی ہاتھ ہے جن کی اپنی عزت تو ہوتی کوئی نہیں اور دوسری باعزت عورتوں کے لئے وہ عذاب بنا دیتی ہیں مثال کے طور پر کوئی لڑکی بازار میں کھڑے زیادہ تر مردوں کے ساتھ اشاروں سے باتیں کرتی جا رہی ہے تو اب وہ لوگ یہ تو نہیں دیکھیں گے کہ صرف یہ ہی ایسی ہے بلکہ ان کی نظر میں اسی طرح ہو گی جس طرح پہلے ان کے ساتھ کوئی باتیں کرتی گی ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبید صاحب یہ مردوں کی سوچ اور نظریہ ہوگا جو غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتیں ۔ اور جو بازار میں کھڑے ہوکر اشارے کرتیں ھیں انکے ذمے دار بھی یہی مرد ہوا کرتے ہیں ،۔ جو کسی بھی عورت کے حالات سے فائدہ اٹھانے کی ہی کیا کرتے ہیں ،۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 8:12 am
میں کہتی ہوں وہ مرد ہی کیا ہے ؟ جو ذرا سا اشارہ دیکھے اور لڑکھڑا جائے
کیا مرد اتنے ہی ایمان کے کچے ہوتے ہیں کہ ان کو بس اک اشارہ کی دیر ہوتی ہے ۔؟
وہ مرد ہی کیا ہے جو اپنے آپکو سنبھال نہ سکے ،۔۔ :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 8:16 am
آپ نے اپنا نام ماوراء رکھا ہوا ہے تو آپ اسم با مسمٰی نکلیں اور کچھ ماوراء باتیں سامنے لے آئیں ۔ مبارک ہو ۔ میں ابھی منتظر ہوں مزید خواتنں و حضرات کی رائے کا ۔ اس کے بعد انشاء اللہ میں اپنی جوانی کے زمانہ کے واقعات اور ان پر تحقیق پہلی بار منظرِعام پر لاؤں گا جو کچھ لحاظ سے عام خیالات سے فرق ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام ،، انکل آپ بھی شیئر کریں مجھے بڑا مزہ آتا ہے آپکی تحریر پڑھکر ،
کافی سچ ہوتا ہے آپ کی تحریر میں ، ۔۔ ۔ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔
مجھے انتظار رہے گا آپ کی تحریر کا ، ۔ ۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 09 Dec 2007 at 10:37 pm
لو ماوراء۔۔۔۔ تمہاری ہی کمی تھی۔۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Dec 2007 at 11:30 am
السلام علیکم ماوراء
‘گھورنے کی عادات اور وجوہات’ بہت اچھی طرح بیان کی ہیں آپ نے۔۔۔
میرے خیال میں کسی ایک فریق کو کُلی طور پر اس بات کا ذمہ دار نہیں قرار دیا جا سکتا۔۔۔اور کوئی ایک وجہ بھی مخصوص نہیں کی جاسکتی۔۔۔بہت سے عوامل اس رویے کے ذمہ دار ہیں۔۔اور اب تک جتنے لوگوں نے اس بارے میں لکھا ہے وہ عوامل سامنے آ رہے ہیں۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Dec 2007 at 12:20 pm
ماوراء بہت اچھا لکھا ہے تم نے
اب چاہے میری پٹائی کریں ساری خواتین اور لڑکیاں مل کے :razz: مگر میں تو یہی کہوں گی کہ اگر لڑکی نہ چاہے تو کسی مرد کی کیا ہمت کہ وہ گھور کے دیکھے :oops: باہر نکلنے سے پہلے اگر لڑکیاں اپنے حلیے پر نظر ڈال لیں تو شائد یہ نوبت نہ آئے۔۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ زمانے کے لحاظ سے فیشن نہ کریں ۔۔کریں مگر اپنی حد مت بھولیں تو کیا ہمت مردوں کی کہ وہ عورتوں کو گھوریں ۔۔میں نے خود کئی ایسی لڑکیوں کو دیکھا ہے جو آج کل کے فیشن کرکے اپنے کپڑے کبھی ادھر سے کبھی اُدھر سے کھینچ رہی ہوتی ہیں، اگر کبھی کسی مرد کی نگاہء غلط اُن پر جائے تو۔۔ تو کیا فائدہ یہ سب کرنے کا بری تو پھر بھی لڑکیاں ہی کہلاتی ہیں ۔مردوں کا کچھ نہیں بگڑتا :roll: اور اگر پھر بھی کوئی دیکھے تو :twisted: لعنت بھیج دیں ایسے مردوں پر
کاش تھپڑ بھی مارے جا سکتے ایسی حرکت پر مگر افسوس کہ ایسا ہو نہیں سکتا خاص کر پاکستان میں :???: ویسے سب مرد نہیں گھورتے کچھ ہوتے ہیں جن کے پاس اور کوئی کام نہیں ہوتا سوائے اس کام کے ۔۔
باجو آپ کی ہر بات ٹھیک ہے مگر لڑکیاں کیوں فری کرتی ہیں مردوں کو اگر اوقات میں رکھیں تو کوئی ایسی نوبت نہیں آئے گی۔۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف لڑکیوں کا قصور ہے ۔۔مردوں کا بھی قصور ہے کیونکہ تالی تو دونوں ہاتھوں سے ہی بجتی ہے۔
پیاری بہنو میری پٹائی نہیں اوکے :razz: سچ لکھا ہے کڑوا لگے تو کچھ میٹھا میٹھا کھائیں :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Dec 2007 at 1:25 pm
میںصرف انھیںگھورتا ہوںجو خود کو گھوروانا چاہتی ہیں، ہی ہی ہی!
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Dec 2007 at 3:42 pm
باجو، بالکل درست کہا۔ بالکل ایسا ہی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ عورت سے بہتر مرد کو کوئی نہیں جان سکتا۔ :razz:
اور باجو۔۔۔میرا مشاہدہ اور تجربہ دونوں ہی ہیں۔ اور ساتھ ایک اور راز کی بات بتا دوں کہ میں نے مردوں پر ایک کتاب لکھنی ہے۔ اس کے لیے میں مردوں پر تحقیق کر رہی ہوں۔ :wink:
————
شاکر، بالکل۔۔پھر ابھی آپ اپنی باتیں سنبھال کر رکھیں۔
————
ضرور اجمل انکل۔ اس سے ہم یہ بھی اندازہ لگا سکیں گے کہ آپ کے دور میں اور آج کے دور میں کیا فرق ہے۔
————
عبید، کبھی کبھار انسان پر شیطان سوار ہو جاتا ہے، اور اگر بار بار ایسا ہو تو عادت ہو جاتی ہے۔ کاش کہ ان عورتوں کو اپنی عظمت کا اندازہ ہو جائے تو یہ ایسے کام کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی بے عزتی خود کرواتی ہیں۔ باقی باجو نے بھی جواب دیا ہے۔ :grin:
————
ساجد، گھورنے اور دیکھنے میں فرق ہو سکتا ہے۔ اب دیکھیں کہ اتفاق سے کسی پر ہماری نظر پڑ گئی اور ہم نے اس کو دیکھ لیا تو اسے گھورنا نہیں کہیں گے :razz: لیکن جب ایک بار نظر ڈالنے کے بعد بھی مسلسل دیکھا جائے تو اسے گھورنا کہتے ہیں۔ اور آپ تو اب اس علاقے میں کم ہی ہوتے ہیں مطلب آزاد ہیں۔ :razz:
————
عمار، تو اور کیا۔۔اتنے مزے کی سارے باتیں کر رہے تھے میں بھلا کیوں پیچھے رہتی۔ :evil: :grin:
————
وعلیکم السلام فرحت، آپ نے درست کہا۔
————
حجاب، یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔؟ اس معاملے میں میں نے ہاتھ ہولا رکھا تھا اور تم نے ساری کسر پوری کر دی۔
نہیں، حجاب۔۔میرے خیال میں ہر کسی کو پورا حق ہے یا اسے حق دینا چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے جی سکے۔ کم از کم لباس میں تو آزادی ہونی چاہیے لیکن اس کے بعد یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ اگلے بندے کی اپنی حد کیا ہے ۔۔! اور پاکستان میں آجکل کپڑوں کا کون سا فیشن چل رہا ہے؟ کہ لوگ گھورتے ہیں۔ ٹرسٹ می۔۔لوگ نقاب والی کو بھی گھورتے ہیں۔۔
میرے ذہن میں کافی عرصے سے “حجاب“ کے موضوع پر لکھنے کا ہے۔ وقت ملتے ہی اس پر میں لکھوں گی۔
————-
فیصل، صاف کہیں نا کہ آپ بھی گھورتے ہیں۔ :razz:
پاکستان میں گھورنے کے ساتھ ساتھ ایک اور گھٹیا حرکت یہ بھی ہوتی ہے کہ جملے بھی کسے جاتے ہیں۔ جو کہ گھورنے سے زیادہ قابلِ نفرت انداز ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Dec 2007 at 8:34 pm
جو جواب باجو (بوچھی ) نے دیا ہے اس کے جواب میں میرےاب کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ حجاب کا جواب کافی ہے اس کے جواب کے لئے اور دوسرا جو بات میں نے کی تھی وہ ثابت تر کر سکتا ہوں مگر کرتا نہیں ہوں کہ خواہ مخواہ کی بحث میں الجھنا مجھے پسند نہیں ،
اس تبصرے کا جواب دیں
on 10 Dec 2007 at 11:27 pm
لباس کے معاملہ میں اگر آزادی کہ ہر ایک اپنی مرضی سے لباس پہن سکے تو پھر دیکھنے کے معاملہ میں آزادی کیوں نہیں، جس کی جو مرضی آئے دیکھا کرے۔ دیکھو، آزادی کی اگر بات کی جانے لگے تو پھر دونوں طرف سے آزادی دینی پڑے گی۔۔۔ لیکن کچھ اہمیت اخلاقی قدروں کی بھی ہوتی ہے۔ اگر ایک عورت لباس کے معاملہ میں اخلاقیات کا مظاہرہ نہیں کرتی تو کس طرح وہ توقع کرسکتی ہے کہ مرد اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو نہ گھوریں۔۔۔۔۔!
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 9:08 am
راہبر آپ کو میری طرف سے کھلی اجازت ہے آپ جتنا مرضی گھوریں۔ چاہے تو بکینی پہنے لڑکیوں کو گھوریں اور چاہے نقاب والیوں کو! مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کے شہر میں نہیں رہتا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 9:10 am
ویسے میاں راہبر آپ کی اخلاقیات دوسروں پر بہت زیادہ منحصر نہیں ہے کیا؟ آپ کے اصول پر عمل کریں تو پھر دنیا میں کوئی نیکی نہیں ہو سکتی کہ ایک برائی سے آپ ہر وقت اگلی برائی کا بہانہ ڈھونڈیں گے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 10:01 am
زیک راہبر نے کہیں بھی خود گھورنے کی بات نہں کی بلکہ یہ کہا کہ اگر کسی کو آپ پہننے کی مکمل آزادی دے رہے ہیں تو دیکھنے پر قدغن کیسے لگا سکتے ہیں پہنے اور دیکھنے پر بیک وقت پابندی لگے گی یا آزادی ہوگی ایک پر آزادی اور ایک پر پابندی تعقلی اور مطقی لحاظ سے امر محال ہے۔
اور یہاں راہبر نے اپنی بات نہیں کی بلکہ معاشعرے کے رویے پر بات کی بات کو اسی تناظر میں دیکھیں اور طنز سے پریہز کریں تو بات کا مثبت پہلو نکل سکتا ہے ورنہ طنز بہت آسان اور معاملے کو خراب کرنے کے لیے تیر بہدف نسخہ ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ آپ کو پاکستان اور یہاں کے رہنے والوں پر بہت اعتراض ہیں مگر گفتگو میں متعصب ہونا مناسب نہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 11:42 am
محب: میں کیا کپڑے پہنتا ہوں وہ میرا ذاتی فعل ہے اس سے کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مگر آپ اگر مجھے گھورتے ہیں یا تنگ کرتے ہیں یا برا سلوک کرتے ہیں تو یہ ایک معاشرتی فعل ہے۔
دوسری بات یہ کہ گھورنے کی توجہیہ اگر کپڑوں کو لیا جائے تو اس طرح ہر گناہ اور ہر برائی کی توجیہہ کچھ مشکل نہیں۔ اگر آپ ہر برائی کی اس طرح توجیہہ ڈھونڈ کر پیش کر سکتے ہیں اور ایک برائی سے ہزار برائیاں نکل سکتی ہیں۔ اگر اس طرح ہی ہر مسئلے کو دیکھا جائے تو پھر کسی برائی کا کوئی حل نہیں اور ہر برائی پھیلتی ہی جائے گی۔
تیسری بات یہ کہ لڑکیوں کے لباس گھورنے کی وجہ ہے ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ کسی لڑکی یا خاتون سے پاکستان میں معلوم کر لیں۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ نقاب والیوں سے لیکر دوپٹہ اوڑھنے والیاں سے لیکر جینز پہننے والیوں تک سب کو گھورا جاتا ہے۔ اور بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں جو کچھ خواتین کے ساتھ ہوتا ہے اس کی تو بات ہی نہ کریں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 11:46 am
راہبر آپ نے آزادی کے جس تصور کا اظہار کیا ہے وہ کئی اور لوگوں سے بھی سن چکا ہوں اور اس میں کئی بنیادی خامیاں ہیں۔ ماوراء کے بلاگ پر ایک تبصرے میں ان کا احاطہ کرنا مشکل ہے اس لئے اس پر پھر کبھی لکھوں گا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 1:17 pm
ایک بار پھر شکریہ زیک آپ نے فی الحال مجھے ایک اور مضمون لکھنے سے بچا لیا۔ :grin: لیکن اس موضوع پر مجھے ابھی بہت کچھ کہنا ہے۔ وقت ملتے ہی لکھتی ہوں۔
عمار، لباس آپ کا اپنا ہے، اور اسے استعمال بھی آپ نے کرنا ہے۔ آپ کیا پہنتے ہیں اور کیا نہیں۔ اس سے کسی دوسرے کا کوئی لین دین نہیں۔ لیکن جب آپ گھورتے ہیں تو وہ آپ کسی اور کو گھور رہے ہیں۔ اور کوئی دوسرا آپ کی ملکیت نہیں ہے۔۔۔کہ جب چاہا، جہاں چاہا ۔۔گھور لیا، یا اس کے کپڑوں پر اعتراض کر لیا۔اپنے آپ کو بہتر رکھیں، دوسروں کی خامیاں نہ تلاش کریں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 1:17 pm
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 2:17 pm
زیک Says:
دسمبر 11th, 2007 at 11:42 am
محب: میں کیا کپڑے پہنتا ہوں وہ میرا ذاتی فعل ہے اس سے کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مگر آپ اگر مجھے گھورتے ہیں یا تنگ کرتے ہیں یا برا سلوک کرتے ہیں تو یہ ایک معاشرتی فعل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کدھر گئی وھ آپکی نیکر ؟ جو تصویروں میں ہن رکہ ہوتی ہے ۔ :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 2:20 pm
ہائے ماورہ
:shock: تم اردو کی بورڈ لے آئی ،۔۔ میں کب سے لکھ رہی ہوں مگر نوٹس ابھی لیا ، دیکھکر خوشگوار حیرت ، خوشی ہوئی :grin: بہت اچھا کیا تم نے ۔ مگر یہ لکھتے ہوئے ڈبے ڈبے کیوں آجاتے ہیں :oops:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 3:13 pm
ہاں باجو، مجھے بھی خوشی ہو رہی ہے۔ :grin: میری طرف تو ڈبے نہیں آ رہے۔ اور آپ کے کمنٹ میں بھی ڈبے نہیں ہیں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 10:25 pm
ویل۔۔۔۔ میں نے ایک عام بات کی تھی، اپنی نہیں جیسا کہ زکریا نے سب کچھ مجھ ہی پر رکھ دیا ہے۔ :razz: ویسے محب بھائی نے کافی حد تک میری ترجمانی کردی تھی اور خدا کا شکر ہے کہ مجھے ابھی ایسی گھورنے کی عادت نہیں پڑی۔ اگر بہت ہوا بھی تو تین چار ثانیے سے زیادہ کسی پر نظر نہیں رکھتا۔
اور زکریا! برائی ہی سے برائی پھیلتی ہے۔ یہ عورتوں کو گھورنے کا الہام نہیں ہوا تھا لوگوں کو، بلکہ میڈیا سمیت کئی دوسری وجوہات اور برائیوں کے سبب یہ برائی پھیلی ہے۔ خدا جانے برقعہ والوں کو کہاں گھورا جاتا ہے۔۔۔ کم از کم ہمارے ہاں تو نہیں کہ ان کو گھورنے کے لیے کچھ ہوتا ہی نہیں۔ یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی۔ :mrgreen:
لباس ذاتی فعل ہے؟ :shock: یقینا ہوگا، لیکن گھر کی حد تک۔ جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو جس طرح آپ معاشرے میں شامل ہوجاتے ہیں، اسی طرح آپ کا لباس بھی معاشرہ ہی کا حصہ ہوتا ہے۔ ہم ہی لوگوں سے مل کر معاشرہ بنتا ہے اور ہماری ہی افعال معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ویسے پریشانی کی اتنی بات نہیں۔۔۔ کیونکہ جس رفتار سے پاکستان روشن خیالی کی سمت ترقی کررہا ہے مجھے امید ہے کہ آئندہ چند سالوں میں گھورنے کی بات بہت پیچھے رہ جائے گی۔ :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 11 Dec 2007 at 10:40 pm
اوپر میں نے آزادی کے ساتھ اخلاقی اقدار کا ذکر کیا تھا، وہ بھی یاد رہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Dec 2007 at 5:42 am
میں نے دوبارہ آنا تو نہیں تھا اس موضوع پر مگر کچھ باتوں سے مجبور ہو کر پھر آنا پڑا ۔
ہم اک بات بالکل نہیں بھولنی چاہیے کہ جس طرح خراب و لفنگے مرد ہیں موجود ہیں اسی طرح غلط عورتیں بھی ہیں
جس طرح مرد عورتوں کو خراب کرنے میں اپنا کردا ادا کرتے ہیں اسی طرح عورتیں بھی اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں اک سائیڈ کی بات کرنا سرا سر زیادتی ہے جو چیز غلط ہے اسے غلط کہا جائے
اک شریف مرد کے سامنے اگر اک عورت ایسے لباس میں آ جاتی ہے کہ وہ نیم برہنہ ہے اور اس کا جسم اس مرد کو اپنے طرف کشش کی وجہ سے دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے اس میں زیادہ قصور اس عورت کا ہے جس نے عریاں لباس پہنا ہے اب اس پر یہ کنا کہ لباس ذاتی ہے تو پھر یہ کیون نہیں کہا جاتا نظریں بھی ذاتی ہیں وہ بھی جو کچھ مرضی دیکھیں دیکھنے پر اعتراض کس بات کا ہے پھر
یہ تو یہ ہوا نا کہ میں بے شک چوریاں کرتا رہوں غلط کام کرتا رہون اگر کوئی میری اس حرکت کو نشانہ بنائے گاغلط ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Dec 2007 at 6:43 am
بحث لمبی ہو جائے گی مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ذمہ داری اور احتیاط دونوں طرف سے کرنی پڑتی ایک فریق کو کلی طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ورنہ معاملہ ہر شخص کے ذاتی کردار پر آ جائے گا جو مشکل حالات میں بھی اچھا ہی رہتا ہے۔ ایک مصرعہ میں بات کو سمیٹتا ہوں
راہ میں بیٹھوگےتو خریدار تو ہوں گے
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Dec 2007 at 7:34 am
عبید اگر مرد عورت کے لباس کی وجہ سے گھورنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اپنی جبلت پر قابو نہیں رکھ سکتا تو اسے انسان نہیں حیوان ہی کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے عورتوں کو بھی یہ لاجک انسان نہیں بلکہ شے سمجھ رہا ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Dec 2007 at 8:00 am
:razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Dec 2007 at 12:27 pm
مااااااااااااو بڑا مزا آیا۔۔۔میں جن لوگوں کی جذباتی نہیں سمجھتی تھی۔۔اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد مجھے اپنی رائے میں نظر ثانی کرنا پڑگئی۔
سیدھی سی بات۔۔۔میرا گذشتہ ہفتوں میں ڈھیر ساری شاپنگ کے تجربے کا نچوڑ۔۔۔(نوٹ یہ تجربہ لاہور کے پوش ایریاز کی مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ کچھ پرانے بازاروں پربھی مشتمل تھا) پہلی بات تو یہ۔۔۔۔پاکستان میں رہتے ہوئے کم از کم کسی لڑکی کے اپنے ہاتھ میں ہے۔۔کہ لوگ اسے گھوریں یا نہیں۔ ( ہممم میں حلیہ، ڈریسنگ وغیرہ کی بات کررہی ہوں)
دوسری بات۔۔۔۔ جہاں لوگوں کی اکثریت پڑھی لکھی ہے۔۔ وہاں آپ چاہے جینز اور شرٹ کے ساتھ باہر نکلیں۔۔کوئی نہیں دیکھے گا ( تجربہ کرنا چاہیں تو گلبرگ مین مارکیٹ یا کیولری گراؤنڈ کا ایک وزٹ کافی ہے)
اس کے برعکس آپ اگر رنگ محل یا انار کلی جائیں تو خواہ آپ نے نقاب سے اپنا پورا چہرہ ڈھانپ رکھا ہو۔۔۔سامنے سے گزرتا شخص بھی اور دکاندار بھی آپ کے چہرے کے باقی نقوش کی تلاش میں کچھ لمحے ضرور ضائع کریں گے۔
فیصلہ اب آپ پر ہے۔۔۔۔قصور کس کا ہے۔۔۔لڑکی کے حلیے کا۔۔؟؟؟ لڑکوں کی سوچ کا۔۔؟؟ یا پھر دونوں کا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 12 Dec 2007 at 9:48 pm
تمام دوستوںکو آداب۔۔۔امید ہے سب خیریت سے ہونگے۔۔۔۔
اوپر بہت کچھ لکھا گیا ہے بہت اچھا لکھا گیا ہے سب نے کافی زبردست کمنٹس دیئے ہیں۔۔۔لیکن میںعبید بھائی کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔۔۔۔اپنے کمنٹس دینے سے گریز کرتا ہوں کیونکہ آج تک میں نے کسی لڑکی کو غور سے اور صحیح سے گھور کے دیکھا نہیں ہے اس لیئے کچھ نہیںمعلوم۔۔۔۔۔ :wink: ہاں لڑکیاں لڑکوں کو کیوں گھورتی ہیں اس کے بارے میں بتاتا چلوں کہ اس کی دو وجوہات ہیں۔۔۔۔
1 – ان کو جب غصہ آتا ہے تو وہ گھورتی ہیں۔۔۔
2- یا پھر ان کی عادت ہوتی ہے گھورنے کی۔۔۔۔۔
سب اپنا دھیان رکھیں۔۔۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Dec 2007 at 3:36 am
زیک
عبید اگر مرد عورت کے لباس کی وجہ سے گھورنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اپنی جبلت پر قابو نہیں رکھ سکتا تو اسے انسان نہیں حیوان ہی کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے عورتوں کو بھی یہ لاجک انسان نہیں بلکہ شے سمجھ رہا ہے
———————————————————————————————————
زیک آپ کے قریب لباس کس چیز کا نام ہے ذرا اس کی وضاحت کریں۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Dec 2007 at 7:51 am
امن آپ کی بات سے میں مکمل طور پر متفق ہوں اور صرف اسی بات پر کئی دفعہ اپنے کئی دوستوں سے اور دیگر افراد سے الجھا بھی ہوں مگر اک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جو بھی حضرات ایسا کرتے ہیں اگر ان کے اپنے ساتھ خواتین ہوں تو وہ یہی چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھائے مگر جب وہ اکیلے یا خواتین سے الگ ہوتے ہیں تو ایسے دیکھتے ہیں عورتوں کی طرف جیسے کہ پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔ بس اللہ تعالی ہمیں ہدایت دے آمین
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Dec 2007 at 9:03 am
زیک آپ نے خود ہی بات صاف کر دی۔
عبید اگر مرد عورت کے لباس کی وجہ سے گھورنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اپنی جبلت پر قابو نہیں رکھ سکتا تو اسے انسان نہیں حیوان ہی کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے عورتوں کو بھی یہ لاجک انسان نہیں بلکہ شے سمجھ رہا ہے۔
جبلت پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر جبلت کسی موقع پر انسان پر حاوی آ جاتی ہے اسے ہی کمزوری کا لمحہ یا گناہ کا لمحہ کہا جاتا ہے جس میں انسان سے غلطی سرزد ہو جاتی ہے ۔ غلطی سرزد ہونے سے بچنے کے انتظام کی ہی تو بات کر رہے ہیں ہم سب۔
دوسرا صرف مرد ہی نہیں عورتیں بھی مردوں کو گھورتی ہیں البتہ ان کی تعداد مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اس لیے وہ زیر بحث نہیں آتی۔ مردوں کے کم لباس عورتوں میں بھی وہی کیفیت پیدا کرتے ہیں جو عورتیں کے کم لباس مردوں میں کرتے ہیں۔ بات مرد اور عورت کی نہیں بلکہ کم لباس اور گھورنے کی ہے۔
گھورنے کی واحد وجہ کم لباس ہی نہیں ہے کچھ لوگوں کی پیدائشی عادت ہوتی ہے گھورنا ان کا نفسیاتی علاج درکار ہوتا ہے کچھ گھور کر گناہ لذت محسوس کرتے ہیں وہ بھی خارج از بحث ہیں کیونکہ وہ صریحا گناہ کو جانتے بوجھتے کر رہے ہوتے ہیں بات ان کی ہو رہی ہے جو جبلت یا کچھ دیر کے لیے اس کے شکار ہوتے ہیں مگر فطرتا برے نہیں ہوتے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 14 Dec 2007 at 6:58 pm
امن، بہت مزے کا لکھا ہے۔ کہ “امنے سے گزرتا شخص بھی اور دکاندار بھی آپ کے چہرے کے باقی نقوش کی تلاش میں کچھ لمحے ضرور ضائع کریں گا”
کچھ لمحے ضائع کرے گا۔ :grin: اس سے مجھے ایک یہ بھی خیال آیا ہے کہ جو فارغ دماغ لوگ ہوتے ہیں نا، وہی ایسے کام کرتے ہیں۔ میں لاہور گئی تھی، اور ایک واقعہ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ جب ہم اس کو سوچتے ہیں، ہنس ہنس کے ہمارا برا حال ہو جاتا ہے۔ “میری بہن نے کہا کہ اس نے رکشے کی سیر کرنی ہے، خالہ نے کہا کہ چلو، بازار رکشے پر چلتے ہیں۔ واپسی پر تقریباً پورا راستہ بائیک والے انکل مسلسل ہمارے پیچھے آتے رہے۔ انہوں نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، تھوڑی دیر اپنی صورت دکھانا کے لیے وہ اتار دیا۔ کبھی اپنے بال ٹھیک کرے تو کبھی کچھ۔ حالانکہ ساتھ خالہ بھی تھیں۔ خالہ میری فنی سی ہیں، ان کی ہنسی چھوٹ گئی، اور ساتھ ہی کہتی ہیں اس کو دیکھو نہ کتنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اتنا آہستہ رکشہ چل رہا تھا اور وہ بھی رکشے کے پیچھے پیچھے۔۔۔
باقی، تمھارے سوال کا جواب اس لمبی بحث میں مل جائے گا یا شاید مزید سوال ذہن میں آ جائیں۔ :grin:
———-
کاشفی، سوال یہ نہیں تھا کہ لڑکیاں لڑکوں کو کیوں گھورتی ہیں، بلکہ یہ تھا کہ لڑکے لڑکیوں کو کیوں گھورتے ہیں۔ :grin: ویسے پہلا پوائنٹ اچھا تھا۔ :grin:
————
عبید، لباس کے بارے میں شاید ہر ایک کی مختلف رائے ہو۔
————–
محب، مرد کیا اتنا کمزور ہے کہ اپنے آپ پر کنٹرول بھی نہیں کر سکتا؟ :grin:
اور اب اس بحث کو ختم کر دیں، میرے بلاگ پر بوجھ ہو گیا ہے۔ حالانکہ میں نے آخری دو دن والی بحث میں حصہ بھی نہیں لیا، پھر بھی کچھ لوگ مجھ پر ناراض ہو رہے ہیں۔ :oops:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 14 Dec 2007 at 9:16 pm
عبید، لباس کے بارے میں شاید ہر ایک کی مختلف رائے ہو۔
——————————————–
رائے مختلف ہونا الگ بات ہے مگر یہ بھی ان وجہوں میں سے ایک وجہ ضرور ہے
دوسرا صرف مرد ہی نہیں عورتیں بھی مردوں کو گھورتی ہیں البتہ ان کی تعداد مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے اس لیے وہ زیر بحث نہیں آتی۔ (محب علوی)
—————————————————————————————
جہاں تک میرا خیال ہے کہ وہ عورتیں یا لڑکیاں گھورنے کا کام ذیادہ کرتی ہیں جن پر بہت زیادہ شک کیا جاتا ہو اس حوالے سے اور انہیں ان کی مرضی سے ہر اک کام نہ کرنے دیا جاتا ہو اور دوسرا ایجوکیٹیڈد لڑکیاں بھی گھورنے کا کام بخوبی سر انجام دیتی ہیں مگر ان کا گھورنا مخصوص مردوں کی حد تک ہوتا ہے اور وہ کون سے ہیں جو کسی نا کسی طور پر نمایاں ہوں
اور مرد حضرات میں گھورنے کا ذیادہ کام نان ایجوکیٹیڈ مرد کرتے ہیں ،ایجوکیٹیڈ مرد بہت کم اس لعنت میں مبتلا ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Dec 2007 at 12:12 am
[...] راشد کامران صاحب نے 3 دسمبر 2007ء کو فرحت صاحبہ نے 6 دسمبر 2007ء کو عورت کی مجموعی مظلومیت پر لکھا جو کہ ایک الگ تحقیق طلب ہے ۔ قدیر احمد صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو اپنے آپ کو بدتمیز کہنے والے صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو میرا پاکستان والے صاحب نے 7 دسمبر 2007ء کو ماوراء صاحبہ نے… [...]
on 17 Dec 2007 at 5:54 am
ماورا مردوں میں یہ ایک بڑی کمزوری ہے کہ عورت کے معاملے میں وہ جذبات پر بہت کم قابو رکھ پاتے ہیں یہ ایک بڑی بنیادی سچائی ہے جس کا اعتراف مردوں کو کرنا چاہیے اور عورتوں کو اس اعتراف کو قبول کرنا چاہیے۔ عورت مرد کی کمزوری ہے بالکل اسی طرح جس طرح زیورات اور کپڑے عورتوں کی بڑی کمزوری ہیں ۔ زیادہ تر مرد اور عورتیں اس کمزوری میں مبتلا ہوتے ہیں مگر تمام نہیں۔
اس کے علاوہ بہت سی عورتیں بھی کافی کمزور واقع ہوتی ہیں ، تفصیل میں جانے سے جنگ و جدال کا خطرہ ہے اس لیے میں بھی اس بحث کو اس نکتہ پر ختم کر رہا ہوں جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے دیا تھا۔
مرد اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ نہ ڈالیں
عورتیں خود کو پوری طرح ڈھانپ کر اور شرم و حیا کے تقاضے پورے کرتے ہوئے باہر نکلیں۔
ان دو باتوں پر عمل ہو جائے تو مسئلہ جڑ سے ختم ہو جاتا ہے ورنہ گپ شپ اور بحث کے لیے تو دفتر بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ :grin:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Dec 2007 at 11:30 am
زیک Says:
دسمبر 11th, 2007 at 11:42 am
محب: میں کیا کپڑے پہنتا ہوں وہ میرا ذاتی فعل ہے اس سے کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مگر آپ اگر مجھے گھورتے ہیں یا تنگ کرتے ہیں یا برا سلوک کرتے ہیں تو یہ ایک معاشرتی فعل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لباس یقیناً ذاتی فعل ہے لیکن یہ وہ فعل ہے جو دوسروں کے لئے کیا جاتا ہے ورنہ ہم میں سے کوئی بھی وہ لباس پہن کر باہر نہیں نکلتا جو گھر میں پہنے رکھتے ہیں ، اور فیشن کے مطابق لباس پہننا بھی اسی لئے ہے کہ اگر لباس فیشن کے مطابق نہ ہوا تو دیکھنے والے کیا سوچیں گے ۔ اور جب ہم لباس دوسروں کو دکھانے کے لئے پہنتے ہیں تو یہ بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ دوسروں پر اس کا کیا اثر ہوگا ۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ جس کو مرضی گھورنا شروع کردیں کہ وہ ایک غلیظ کام ہے ۔ دوستوں نے لکھا ہے کہ لوگ نقاب والیوں کو گھورتے ہیں ، میں ایک اضافہ کروں گا کہ کچھ لوگ بچوں والیوں کو اور کچھ تو میاں بیوی دونوں کو ساتھ ہوتے ہوئے بھی گھورنے کا گھناؤنا فعل انجام دینا اپنا اولین فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں ۔ یہ دراصل ان کی تربیت کا نتیجہ ہے جو ان کو اپنے گھر یا پھر اپنے برے دوستوں سے ملتی ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 17 Dec 2007 at 12:19 pm
بے چارے کمزور مرد۔۔۔۔ :razz: یہ کمزوری ان کی آج ہی پتہ چلی ہے۔ :oops:
اوکے۔۔بچو۔۔بہت بحث ہو گئی ہے۔ میرے بلاگ پر بڑوں والی باتیں نہ کریں۔۔میں ابھی معصوم بچی ہوں، میرے دماغ پر اثر ہو جائے گا۔ :razz:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Dec 2007 at 4:45 am
کرسمس مبارک ہو اگر جن کا یہ بلاگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی عید کا تو کسی کو پتا ہی نہیں :twisted:
اس تبصرے کا جواب دیں
on 18 Dec 2007 at 7:58 am
اب یاد آیا ہے بچی بننا پہلے کہاں تھی بڑوں والی باتیں نہ کرتی نا کہ اتنی بحث ہوتی چلو اچذے بچو اب جس جس کی تلخ کلامی ہوئی سب بھول جاؤ اور اپنے کو بہتر کرکے یہ سمجھ لو اک اچھے انسان کا دنیا میں اضافہ ہو گیا ہے ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 20 Mar 2009 at 12:51 pm
اس مسلے میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ کہ اگر عورتیں اپنے آپ کو نہ دکھائیں تو وہ نہ دیکھیں ۔۔۔۔ ویسے مردوں کو خود بھی نظریں جھکانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔ نظریں جھکانے پرعلما نے مستقل رسالے اور کتابیں لکھی ہیں ۔۔۔۔ یہاں پر ایک کتاب ہے مولانا حکیم اختر کی بدنظری کے چودہ نقصانات http://www.khanqah.org/books/show/badnazri-ke-14-nuqsanat-20071019
اور خواتین کو میں یہ کتاب کابتانا چاہوں گا ۔۔ بے پردگی کی تباہ کاریاں
http://www.khanqah.org/books/show/bepardagi-ki-tabah-kariyaan
چاہے آپ کی راے کچھ بھی ہو آپ عمل کرنا چاہتے ہوں یا نہیں لیکن میرا مشورہ ہے کہ اسکو کم سے کم ایک نظر ضرور دیکھ لیں ۔۔۔
دوسری چیز اس میں یہ ہے کہ میرے خیال سے کچھ لوگ کھسکے ہوے ہوتے ہیں ان لوگوں کو عادت ہوتی ہے گھورنے کی اور ایسے لوگ پاکستان میں زیادہ پاے جاتے ہیں ۔۔۔۔ میر ی والدہ پوری طرح مکمل نقاب کرتی ہیں لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دفعہ میں اور امی نانی اماں کے گھر سے واپس آرہے تھے تو ایک موٹر سائیکل والا ہمیں گھورنا شروع ہو گیا اور مجھے اس پر غصہ آرہا تھا خیر ایسے لوگ میرے خیال سے کھسکے ہوے ہوتے ہیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 01 Apr 2009 at 12:49 pm
زیادہ نہیں جانتا اس معاشرہ کو پر اپنے آپ کو سمجھ کر اتنا کہ سکتا ہو کہ
امم
یہاں پر مرد اس لیے گھورتے ہیں کہ ان کو پتا ہے اور کچھ تو کر نہیں سکتے تو چلو گھور ہی لیں
اس تبصرے کا جواب دیں
on 16 Oct 2009 at 2:49 pm
در اصل معاشرے میں رہتے ہوئے کم و بیش ہمارا ہر عمل ہماری ذات کے علاوہ معاشرے پر بھی کسی نہ کسی طور اثر انداز ہوتا ہے. اس لئے شخصی آزادی کا قیام ایک بہتر معاشرے کا ضامن نہیں. مثلاً اپنی پسند کے کپڑے پہننا یا سرے سے نا پہننا یقیناً دوسروں کو ذہنی کوفت یا فرحت دے سکتا ہے. اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کھانا تو کم از کم ہم اپنی مرضی کا کھا ہی سکتے ہیں لیکن بعد میں کچے پیاز کی بو آپ کے آس پاس کے لوگوں کو تکلیف دے سکتی ہے. یہی حال کسی کو گھورنے کا ہے بلا تفریق مرد و زن یہ عمل گر چہ کسی کے بدن میں سواراخ نہیں ڈال سکتا پر یہ احساس کہ میں گھورا جا رہا/رہی ہوں ایک ذہنی تناؤ یا تسکین کا باعث ہو سکتا ہے.
ضابطہ اخلاق اسی چڑیا کا نام ہے جو یہ تعین کرتی ہے کہ ایک معاشرے میں رہنے کے لئے کیا عمل کس انداز میں اور کس حد تک کرنا جائز ہے جو عمومی طور پر دوسروں پر غلط اثرات نہ ڈالے.
انسان قانع ہو، ذمہ دار ہو اور اپنے کاموں میں مصروف ہو ہمیشہ تخلیقی انداز میں سوچے تو ان چیزوں کی نوبت ہی نہ آئے گی. ہاں بقول یاراں وقت سے پہلے بڑھاپا ضرور آ سکتا ہے.
اس تبصرے کا جواب دیں
on 20 Oct 2009 at 11:39 pm
مجھے اس پوسٹ کے عنوان پر ہی اعتراض محسوس ہورہا ہے۔ کیونکہ بنانے والے نے مرد اور عورت کو لوہے اور مقناطیس کی طرح بنایا ہے۔اس لیے یہ الزام صرف مردوں کے لیے مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔
مذہبی نقط نظر سے اللہ کریم نے دونوں میں کشش رکھ کر دونوں ہی کو امتحان میں ڈالا ہے۔ جوبھی خواہ مرد ہویا عورت، اس امتحان یعنی اپنی خواہش سے رک کر اللہ کریم کے حکم کو پورا کرئےگا وہ امتحان میں کامیاب ہوجائے گا۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 22 Oct 2009 at 4:59 pm
یہاں تو مردوں کی بات ہو رہی ہے میں تو لڑکا ہوں
اس تبصرے کا جواب دیں