Archive for December, 2007

Dec 31 2007

خوش آمدید 2008

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع, ویڈیوز

یہ  اس سائٹ کا ہیڈرچرایا گیا ہے۔:D

    

 

آج نیا سال شروع ہو گیا۔ میں کچھ اور کروں یا نہ کروں نیو ائیر نائٹ مجھے ضرور منانی ہوتی ہے۔ چاہے جیسے بھی ہو۔ اور آتش بازی تو ضرور دیکھنی ہوتی ہے۔ ہم تینوں بہن بھائی شام کو ہی باہر نکل گئے اور پورے اوسلو کی خوب سیر کر کے رات ایک بجے گھر آئے۔ کل تک ویڈیوز ایڈیٹ کر کے پوسٹ کروں گی۔
پارٹیاں، آتش بازی اور خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے کا وقت ہوتا ہے کہ پچھلا سال کیسا گزرا۔۔۔اور آنے والے سال کو کیسے گزرے جائے۔ پچھلے سال ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ پرانی غلطیوں سے سیکھیں تاکہ دوبارہ سے وہی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
مجھے یاد ہے ٢٠٠٧ سال جب شروع ہوا تھا تو میں پاکستان میں تھی، اور اتنے عرصے کے بعد نئے سال کی یہ رات تھوڑی سی بور گزری تھی۔ اس کو اچھا بنانے کے لیے میں نے گھر میں جتنی موم بتیاں تھیں، چھت پر لے گئی اور انھیں جلایا تھا۔ اور تب میں نے یہاں کی نیو ائیر نائٹ کو بہت مِس کیا تھا۔
وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ سال بھی پَر لگا کر چلا گیا۔ کسی کے لیے یہ سال خوشیوں کا سال تھا تو کسی کے لیے غموں کا سال۔ ٢٠٠٧ پاکستان کی تاریخ میں بدترین سال لکھا جائے گا۔ پاکستان کے لیے یہ نہایت ہی کڑا وقت تھا۔ میری سچے دل سے دعا ہے کہ اس سال اور آنے والے تمام سال پاکستان کے لیے بہترین سال ہوں۔ آمین۔

میں اگر اپنے لیے دیکھوں تو میرے لیے بہترین سالوں میں سے ایک سال ٢٠٠٧ بھی تھا۔ اور جس جس چیز کی میں نے خواہش کی ۔۔۔اللہ نے سب دیا۔ شاید اس لیے کہ پچھلا سال شروع ہونے پر پاکستان میں باہر گھومنے پھرنے کے بجائے  اس رات کو اللہ سے ڈھیر ساری دعائیں کی تھیں۔ اور اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ اس سال بھی اللہ سے یہی دعا ہے کہ آنے والا سال نہ صرف میرے لیے بلکہ سبھی کے لیے بہترین اور خوشیوں کا سال ہو۔ آمین۔

میری طرف سے سے سب کو نیا سال بہت مبارک ہو۔

 اور امید ہے میرا تھیم بھی پسند آیا ہو گا۔:p

 

اپڈیٹ: اللہ کا لاکھ لاکھ شکر۔۔۔۔آٹھ گھنٹوں بعد ایک ویڈیو کنورٹ اور اپلوڈ ہو گئی۔ میری ویڈیو دیکھ کر کوئی یہ نہ کہے کہ بنانی نہیں آتی۔ باہر بہت شدید قسم کی سردی تھی۔ میرے ہاتھ مفلوج ہو چکے تھے۔ بہت مشکل سے بنائی ہیں۔

 

 


Video: Firverk

4 تبصرے

Dec 30 2007

بلاگ ریویو

شائع کیا: ماوراء زمرہ: اردو بلاگنگ

کچھ دن پہلے بدتمیز نے بلاگ ریویو کی طرف توجہ دلائی تھی۔ گو کہ بلاگنگ میں مجھے ابھی صرف ٤ ماہ اور سترہ دن ہوئے ہیں۔ لیکن اس عرصے میں میں نے کیا محسوس کیا، کیا سیکھا۔۔۔مزید کچھ اور بلاگرز کی تحاریر کے بارے میں ایک مختصر جائزہ لکھنے کا سوچا ہے۔

آج سے تین سال پہلے انٹرنیٹ پر اردو لائف پر میرا اردو سے واسطہ پڑا۔ وہاں ایک سال گزارنے کے بعد مجھے اردو ویب کا پتہ چلا۔ پھر ساتھ ہی بلاگنگ کا علم ہوا۔ اور کچھ بلاگرز کو کبھی کبھار پڑھ بھی لیتی تھی۔ لیکن اتنے شوق سے نہیں پڑھتی تھی۔ آج سے بہت عرصہ پہلے میں نے بھی بلاگ بنانے کا سوچا تھا، پھر یہ خیال پتہ نہیں کہاں گم ہو گیا۔  پچھلے کچھ عرصے میں اتنے نئے بلاگرز آئے اور محب اور امن کے بار بار اصرار کرنے پر میں نے بھی بنا لیا۔
اس ٤ ماہ کے عرصے میں میں نے بہت کچھ نیا سیکھا۔ میں ان سب کی بہت شکر گزار ہوں، جنہوں نے میری اس تمام عرصے میں رہنمائی کی۔ امید ہے کہ آئندہ بھی ان کا تعاون حاصل رہے گا۔
محب علوی اور امن کی وجہ سے میں بلاگنگ میں عملی طور پر آئی۔ اور ان دونوں سے میں نے بہت کچھ سیکھا بھی۔
بدتمیز  کا بہت شکریہ کہ انہوں نے میری بہت مدد کی۔ بلاگ کے بارے میں بہت سی باتوں کا علم نہیں تھا، جب بھی پوچھا، خوشی سے بتایا۔
عبید کا میں جتنا شکریہ ادا کروں کم ہو گا۔ اتنے مخلص انداز میں میری مدد کی کہ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ تھیم اردوانے میں مشکل ہوئی تو عبید نے مجھے سکھا کر ہی چھوڑا۔ اور جس طرح سکھایا، امید ہے ہمیشہ یاد رہے گا۔ مجھ سے خود کہتے رہے کہ اگر کوئی مشکل ہے تو بتاؤ۔ اور ان کی وجہ سے میں نے بہت سیکھا۔ بہت شکریہ عبید۔
عمار سے جب بھی میں کہوں، اسی وقت مدد کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ عقل نام کی چیز میرے پاس نہیں ہے۔ لیکن عمار نے میرے کم عقل ہونے پر بھی بڑی ہمت اور حوصلے سے کام لیا۔ جو کام پوچھا۔۔مجھے سیکھا کر ہی چھوڑا۔ بہت شکریہ عمار۔
ساجد اقبال کا بہت شکریہ کہ انہوں نے مجھے میرا پسندیدہ تھیم بڑی مشکل سے اردوا کر دیا تھا۔ اور وہ تھیم ابھی بھی سب سے اچھا لگتا  :D ساجد نے کچھ اور کاموں میں بھی مدد کی۔
قدیر کو ایک دو بار کام کرنے کو کہا تو اس نے مجھے آگے سے اپنے دو کام پکڑوا دئیے۔ اس کے بعد نہیں کچھ کہا۔ :p

 اوکے اب میں کچھ اپنے بلاگ کی طرف آتی ہوں۔ جیسا کہ دوسروں نے کیا ہے۔۔۔۔

  

ابھی تک ایسی کوئی پوسٹ میں نے نہیں لکھی جو مجھے بہت اچھی لگی ہو۔

محفل پر جیہ کے ولیمے کی ایک پوسٹ کی تھی جو بلاگ پر بھی کی۔ اس کو سب سے زیادہ میں انجوائے کیا۔ اس میں دو واقعے میں نے ایسے لکھے تھے کہ ان کو جب بھی سوچوں تو بہت ہنسی آتی ہے۔ اوردوسری کرسمس کی پوسٹ کو جب دیکھتی ہوں۔ ایک بار تو ہنسی ضرور نکل جاتی ہے۔ اس وقت میں پتہ نہیں کون سے موڈ میں تھی۔

بے نظیر ؛ تصویری جھلکیاں اور بے نظیر؛ ایک مختصر سیاسی جائزہ پوسٹ کرتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ خوشی ہوئی۔

مرد عورتوں کو کیوں گھورتے ہیں؟ یہ ایک ایسی پوسٹ تھی جس کا مجھے ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اس میں میں نے ایسا کیا لکھا ہے کہ لوگوں نے اس کی اتنی تعریف کی۔ یہاں تک کہ انکل اجمل نے بھی مبارک دی۔:D اور تو اور مجھے فون کر کے مبارک اور تعریف کی گئی۔lol  اور سب سے زیادہ کمنٹس اسی پوسٹ پر ہوئے جو کہ ٤٦ تھے۔ وہ بحث شروع ہو گئی تھی۔ بس اسی لیے۔ :D

اب تک ٹوٹل ٥٦ پوسٹس کیں اور ٦٤٢ کمنٹس ہوئے۔

کس کا تبصرہ سب سے اچھا لگا؟ میرے لیے سبھی تبصرے بہت قیمتی تھے۔ اور اس تمام عرصے میں اللہ کا شکر کسی نے کوئی ایسا تبصرہ نہیں کیا، جو مجھے بہت برا لگا ہو۔

ہٹس اور ٹریفک میں مجھے کوئی خاص دلچسپی تو نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ سب بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ٢٦ اگست سے اب تک وزٹس ٣٠٠٠ ہونے والے ہیں۔ جبکہ ایوریج وزٹس ایک دن میں ٥١  رہے۔
سب سے زیادہ پاکستان ، امریکہ، انگلینڈ، فن لینڈ، کینیڈا، سوئیزرلینڈ، سعودی عرب، جاپان، جرمنی اور پھر عرب امارات سے وزٹس تھے۔

اگست میں میں نے ١٠ پوسٹس کیں، جبکہ ستمبر ، اکتوبر ، نمبر میں نو نو کیں۔ اور ماشاءاللہ دسمبر میں ١٩ کی ہیں۔ اب یہ کروں گی تو پوری بیس ہو جائیں گی۔:D

اب دوسرے بلاگرز کی تحاریر پر کچھ تبصرہ۔

انٹرنیٹ پر کچھ بھی پڑھنا مجھے کبھی بھی اچھا نہیں لگا۔ اخبار، کتابیں، مباحث اور بلاگز۔ اس لیے اب تک جو پڑھتی آئی ہوں، اتنے شوق سے نہیں پڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں کم بلاگز کو وزٹ کرتی ہوں۔ ہاں اگر کوئی دلچسپ بات چیت ہو رہی ہو یا مزے کی تحریر ہو تو ضرور پڑھتی ہوں۔
کچھ بلاگرز کی وہ تحاریر جو اچھی تھیں۔

اجمل انکل کی سبھی تحاریر بہت اچھی ہوتی ہیں۔ لیکن ان کی ایک پوسٹ “خدا کیا ہے؟“ اچھی لگی تھی۔ اور ملا اور مولوی پر کافی تفصیل سے کئی پوسٹس میں لکھ چکے ہیں۔

زیک کی پوسٹ “پاکستان میں اجنبی“ اچھی تھی۔ اور ایک جو آج ہی دیکھی۔ “ٹیگ“  اچھی لگی۔

قدیر کا “دورہ اسلام آباد“ بہت مزے کا تھا۔ بہت اچھا لکھا تھا۔

عمار کی پوسٹ “تحفظِ حقوقِ مرداں“ اچھا آئیڈیا تھا۔ مجھے ابھی تک کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمار نے میرے مقابلے میں  مردوں کی انجمن بنا لینی ہے۔:D

امن  کی اردو محفل کی سالگرہ کے جشن کی پوسٹس مزے کی تھیں۔

شگفتہ واقعی بہت اچھا لکھتی ہیں۔ ابھی ان کی یہی پوسٹ (رمضان اکاؤنٹ) ذہن میں آ رہی تھی۔

محب کا “اردو کا دکھڑا“ ابھی جاری تھا کہ محب پتہ نہیں کہاں ہے آجکل۔

بدتمیز کی زیادہ تر پوسٹس میں دوسروں پر طنز یا تنقید ہی کی ہوتی ہے۔ ایسی پوسٹس کے علاوہ سبھی اچھی لگتی ہیں۔  “میری کرسمس“ پوسٹ کا پہلا پیراگراف بہت مزے کا تھا۔ بعض اوقات سچ منہ سے نکل ہی جاتا ہے۔lol
نوٹ؛ میں نے چوڑے سے مراد “عیسائی مذہب“ کا نہیں لیا بلکہ جو عام طور لفظ کہا تھا ہے۔ :D
اور ایک پوسٹ (لمحہء فکریہ) کی لوگوں نے تعریف کی تھی۔ میں بھی کر دیتی ہوں۔ :D

اور سیاست کے بلاگز مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے۔ ٹی وی ، اخبار، فورمز اور بلاگز ہر جگہ سیاست۔۔۔میرے لیے ٹی وی ، اخبار اور گھر میں امی ابو ہی کافی ہیں۔:P

8 تبصرے

Dec 30 2007

دو نظمیں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: بے نظیر, شاعری

محمود شام کی یہ ایک نظم جو کہ بے نظیر کے لیے لکھی گئی ہے۔

ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی
ایسے بیٹی کو تو میکے سے نہیں بھیجتے ہیں
ایسے تاریخ تو قومیں نہیں لکھتیں اپنی
ایسے تہذیب کا چہرہ نہیں جھلسا جاتا
اس طرح قیمتی میراث لٹاتے ہیں کہاں
یوں تدّبر کو کہاں زہر دیا جاتا ہے
ایسے جرات پہ کہاں وار کیے جاتے ہیں
ایسے اقدار پہ تلوار کہاں اُٹھتی ہے
ایسے افکار پہ نیزے نہیں پھینکے جاتے
ایسے تقدیر پہ شمشیر کہاں چلتی ہے
یوں عقیدوں سے ہلاکت نہیں بانٹی جاتی
ایسے امید کو کب قتل کیا جاتا ہے
اپنے آئندہ سے یوں خوف کہاں ہوتا ہے
چھوڑیں بچّوں کے لیئے آگ لہو کا ورثہ
ایسے ماں باپ تو دنیا میں نہیں ہوتے ہیں
ایسے بہنوں کو تو رخصت نہیں کرتے بھائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقتلِ شہر میں اک شور سنائی دے گا
سر پھرا کوئی سرِداردکھائی دے گا

ایک دن عدل کی زنجیر ہلے گی یارو
وقت کا لمحہ ہمیں ازنِ رہائی دے گا

چہرہِ زیست سے سرکے گی جو شب کی چادر
ہم کو خورشیدٍ جہاں تاب دکھائی دے گا

شور تا حشر بپا ہوگا ستم گر کے خلاف
ہم نہ ہوں گے تو کوئی اور دُہائی دے گا

ذہن میں ابھریں گے گم گشتہ محبت کے نقوش
جب وہ ہاتوں میں مرے دستِ حنائی دے گا

منصب و جاہ کی سن سے ہے تجھے بخش اُمید
وہ تیرے ہاتھ میں کشکولِ گدائی دے گا

2 تبصرے

Dec 28 2007

بے نظیر: تصویری جھلکیاں

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا۔

6 تبصرے

Dec 27 2007

بے نظیر(1953 – 2007) ایک مختصر سیاسی جائزہ

 

ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو 21 جون 1953میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔  بے نظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم  Lady Jennings Nursery School  اور Convent of Jesus and Mary  کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال Rawalpindi Presentation Convent میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے Jesus and Mary  میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969 میں انھوں نے Harvard University  کے  Radcliffe College میں داخلہ کیا۔  بے نظیر بھٹو نے Harvard University سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ اس دوران بے نظیر آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر بھی رہیں۔

بے نظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کے کے بعد جون ١٩٧٧ میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کی خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ انھوں نے اٹھارہ ماہ تک قید اور نظر بندی کی مشکلات کے ساتھ ساتھ آمرانہ اقدام کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ اپریل ١٩٧٩ میں جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازعہ کیس میں پھانسی پر چڑھا دیا۔

 ١٩٨١ میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف ١٤ اگست ١٩٨٣ سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر ١٩٨٣ میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ ١٩٨٤ میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل ١٩٨٦ میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو  ١٩٨٧ میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ ١٧ اگست ١٩٨٨ میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ ١٦ نومبر ١٩٨٨ میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر ١٩٨٨ میں ٣٥ سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست ١٩٩٠ میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔ ٢ اکتوبر ١٩٩٠ کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے  جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔  ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ ١٩٩٣ میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔  جس کے بعد اکتوبر ١٩٩٣ میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد لغاری نے ١٩٩٦ میں بدامنی اور کرپشن کے الزمات لگا کر بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔  

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصے  بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب ١٤ مئی ٢٠٠٦ میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب ٢٧ جولائی ٢٠٠٧ کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے ١٨ اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں ١٥٠ کو موت کی نیند سلا دیا گیا، جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ قیامت صغریٰ کے اس منظر کے دوران بے نظیر کو باحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔  

پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے ٣ نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔  

اس وقت ملک میں نگران حکومت بن چکی ہے اور مختلف پارٹیز انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

اور آج ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧ کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ اور اس طرح آج ایک اور لیڈر پاکستان کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔

یہ سب لکھنے کے لیے میں نے اے آر واے، وکی پیڈیا، بی بی سی اردو سے مدد لی ہے۔ کہیں غلطی نظر آئے تو نشاندہی کریں۔ اور لکھ لینے کے بعد یہ مضمون نظر آیا۔ لیکن اب میں لکھ چکی تھی۔ :(

3 تبصرے

Dec 27 2007

بے نظیر قتل ہو گئی۔۔؟

  ٢١ جون ١٩٥٣ – ٢٧ دسمبر ٢٠٠٧

تصویر یہاں سے لی گئی ہے۔  

مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا۔ میں تو خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی کہ ابو کا سعودی عرب سے فون آیا کہ انھیں کنفرم کر کے بتائیں کہ کیا واقعی بے نظیر قتل ہو گئی ہے؟ بے نظیر قتل کیسے ہو سکتی ہے؟ صبح تک کی خبریں تو میں سن کر سوئی تھی۔ لیکن اے آر وائے لگایا تو ہماری قوم گانے بجانے میں مصروف تھی، بی بی سی سنا تو مجھے ابھی بھی لگ رہا ہے کہ یہ جھوٹی خبر ہے۔ صرف ایک ہی تو ہماری لیڈر تھی، ان ظالموں نے اس کو بھی نہ چھوڑا۔ چلو، جو اس کے خلاف تھے ان کو تو سکون ملا۔ ملک کا سرمایہ، ملک کے ایک اور لیڈر کو نگل لیا ان لوگوں نے۔ کاش کہ یہ گولی انکل مشرف کی گردن میں جا کر لگتی۔ ان گجراتی چوہدریوں کو بھی آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ ٹھنڈے ہو گئے ہوں گے۔ بے نظیر  نے اپنے دشمنوں کے نام لکھ کر دئیے تو تھے، امید ہے کہ اس سے اس کے قاتلوں تک پہنچنے میں آسانی ہو گی۔  اگر نہ بھی پکڑے گئے تو مجھے یقین ہے کہ خدا ان کا اس سے بھی برا حال ہو گا۔ یہ سال پاکستان کے لیے بدترین سال تھا۔ اختتام انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہوا ہے۔ میری طرف سے اب پورے پاکستان کو بم سے اڑا دیا جائے۔  

بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے کہا ہے کہ وہ بے نظیر کی ہلاکت کی خبر پر اس وقت تک یقین نہیں کر سکتے جب تک وہ خود نہ دیکھ لیں۔ اس کے معصوم تین بچے ماں کے بغیر کیسے رہیں گے؟ میں تو یہ سوچ کر ہلکان ہو رہی ہوں۔ اور میری نظر میں اس قوم کی بیٹی کو شہادت کا رتبہ حاصل ہوا ہے۔

  جو سب بے نظیر کے خلاف تھے نا۔۔اب لڈیاں ڈالیں۔ یا چاہیں تو اب کالی پٹیاں اور چوڑیاں پہن کر افسوس کا اظہار کریں اور سوگ منائیں۔ اب تو ہماری سوئی ہوئی قوم کو جاگ جانا چاہیے۔ 

9 تبصرے

Dec 26 2007

شادی۔۔۔؟

شادی ایک مذہبی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی فریضہ بھی ہے۔  اسے ہمارے معاشرے یعنی پاکستان میں کیسے لیا جاتا ہے، اس پر میرا لکھنے کا بہت دل کر رہا ہے۔ اور میرا موضوع لڑکیوں کے حوالے سے ہو گا۔ اگر کسی لڑکی کو میری کوئی بات بری لگے تو پہلے سے ہی معذرت۔:p  

پاکستان میں لڑکی ابھی  میٹرک پاس یا فیل ہی کرتی ہے تو اکثر گھر والوں کو اس کی شادی کی پڑ جاتی ہے۔ بے شک شادی اس کی دس سالوں بعد ہی ہو۔ لیکن گھر والوں سمیت باہر کے لوگوں کو بہت فکر لگ جاتی ہے۔ پھر بات بات پہ رشتے کا ذکر آ جاتا ہے۔ کہ “کچھ بنا ہے کہ نہیں؟“ اب جب لڑکی کے سامنے یہ باتیں ہوتی ہیں تو لڑکیوں کے دماغ میں بھی ایک ہی چیز بیٹھ جاتی ہے کہ بس شادی ہی کرنی ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ پاکستان میں لڑکیاں اتنا اپنی پڑھائی پر دھیان نہیں دیتیں، جتنا اپنے آپ کو دھیان دیتی ہیں۔ کسی کو اپنے رنگ گورا کرنے کی فکر ہوتی ہے تو کسی کو چھائیاں دور کرنے کی، ادھر اپنے آپ کو سلم رکھنے کے لیے دنیا جہاں کے کھانوں پر پابندی ہے۔ اب اگر لڑکیاں لڑکیاں آپس میں بات کریں گی تو بات جو بھی ہو رہی ہو، ایک موضوع رشتوں کا ضرور آتا ہے۔ کیا بنا تمھارا؟ میرا ایک رشتہ آیا ہے۔ فلاں کی منگنی ہو گئی ہے۔ فلاں کی شادی ہوئی تو ساتھ جہیز بہت لائی ہے۔ فلاں کو طلاق ہو گئی ہے۔ حالات و واقعات پر تبصرے۔۔۔۔۔ یقین کریں کہ یہ بہت ہی بور کر دینے والی باتیں ہیں۔ میں پاکستان گئی تو مجھے ایسا لگے کہ لوگوں کو رشتے جوڑنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔ خاندان والے ایسے ہوتے ہیں کہ فارغ وقت میں خود سے ہی ایک کا دوسرے سے رشتہ جوڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا رشتے ڈھونڈنے ہی لگی ہوئی ہے۔ اور بے چاری لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں ہوتی ہیں۔ میری کزن اچھی بھلی۔۔۔تعلیم یافتہ۔۔۔کہتی ہے کہ یونیورسٹی ابھی ایسے ہی جوائن کر لی ہے جب رشتہ ہو گیا تو چھوڑ دوں گی۔ کیا زندگی میں شادی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ سب کام چھوڑ کر بندہ بیٹھ جائے کہ شادی کرنی ہے یا شادی کے انتظار میں اپنے آپ کو اس عرصے میں کہیں مصروف کر لے۔ زندگی کو ایک عام انداز میں چلتا رہنا چاہیے جب شادی ہونی ہو تو پھر شادی کر لیں اور اپنے کام کو جاری رکھیں۔  

ہمارے معاشرے میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ ایک ایسی لڑکی جس کی عمر ذرا سی زیادہ ہو جائے تو لوگ طعنے اور باتیں ہی اتنی سناتے ہیں کہ انسان کی سمجھ نہیں آتا کہ کیا کرے۔ اب دنیا بندے کو اتنا پریشان کر دیتی ہے کہ جس کی شادی نہیں ہو رہی ہوتی وہ بھی مجبور ہو کر دعائیں کرنے لگتا ہے کہ ہو ہی جائے تو اچھا ہے۔ ورنہ دنیا کی کڑوی باتیں سننا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگر آپ سے کوئی ملنے آئے گا یا فون پر بات کرے گا تو آپ کو دعاؤں سے نوازا جاتا ہے کہ انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا۔ میں بڑی دعائیں کرتی ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور جب رشتے لوگ دیکھنے جاتے ہیں۔ اللہ معاف کرے، سو عیب نکالتے ہیں۔ اور لڑکی کو ایک شو پیس کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ اور یہ عمل میرے نزدیک قابلِ نفرت ہے۔ لوگ تصویریں دیتے ہیں۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ کیسے لوگ اپنی بیٹیوں کی تصویریں کسی کو دے دیتے ہیں، یا جب لڑکی کو دیکھنے آتے ہیں تو اس کو نا منظور کر کے چلے جاتے ہیں۔ اس پر شگفتہ نے پوسٹ کی ہے۔ اس کے بعد مزید کچھ کہنا باقی نہیں رہتا۔   

میری ایک دوست جو سکول کے زمانے کی تھی، اسے کہیں سے میرا فون نمبر مل گیا تو اس نے کال کی۔ میں نے پوچھا کیا کر رہی ہو آجکل؟ جواب ملا ٹیچنگ اور اب مسز بھی ہوں۔ میں نے مبارک دی۔ فون بند ہونے لگا تو آگے سے دعاؤں کے پل بندھ گئے۔ اور ساتھ ہی کہتی ہے میں تو اپنے سٹوڈنٹس کو بھی یہی کہتی ہوں کہ بچو، نماز پڑھ کر اپنے اچھے مستقبل کے لیے دعا کیا کریں۔ اور آپ کی شادیاں اچھے گھروں میں ہوں۔ ابھی مجھے ہنسی آ گئی تو کہتی ہے کہ میں تو کہتی ہوں کہ لڑکیوں کو ایک ہی دعا دینی چاہیے کہ ان کو بندے کا پتر ملے۔  

آجکل پاکستان میں ایک اور وباء بہت بری طرح پھیل چکی ہے۔ لوگ دوسرے ملکوں میں رہنے والے رشتوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ اب یورپ، امریکہ رہنے والا لڑکا کیسا بھی ہو ماں باپ اپنی پڑھی لکھی لڑکی کی شادی وہاں کر دیتے ہیں۔ کہ ہماری بچی امریکہ، یورپ چلی جائے گی اور عیش کرے گی۔ میں ایک دو ایسے لوگوں کو جانتی ہوں، جن کے بیٹوں کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور وہ بیمار رہتے ہیں۔ لیکن پاکستان والے اپنی معصوم بچی کا رشتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک ہمارے ہمسائے ہیں،  آدمی شرابی ہے، آدمی نے رشتہ ہونے سے پہلے بتا بھی دیا۔ کہ وہ سب کچھ چھوڑ سکتا ہے لیکن شراب کبھی نہیں چھوڑے گا۔ ماں باپ نے اپنی بیٹی کا رشتہ اس کے باوجود کر دیا۔ اب اس شرابی کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے۔ چار ان کے بچے ہیں۔ اور ماں بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی ہے۔  (مرد بھی باہر کا رشتے کو ڈھونڈتے ہیں، یہ الگ کہانی ہے۔ اس پر موقع ملا تو پھر کبھی ) 

میری اپنی دوست ہے۔ پہلے تو مجھ سے برداشت ہوتا رہا، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے مجھ اس پر بہت غصہ ہے۔ اسے یونان، ناروے کے رشتے سے دو بار ٹھوکر لگ چکی ہے۔ لیکن وہ لڑکی ہے کہ ابھی بھی اس کو عقل نہیں آئی اور انگلینڈ والا کوئی مل گیا ہے۔ اب مجھے غصہ اس بات پر نہیں آیا کہ انگلینڈ میں رہتا ہے، غصہ اس بات کا ہے کہ اس نے اس بندے کی ساری شرطیں مان لی ہیں۔ مثلاً لندن میں آ کر وہ مکمل حجاب کرے گی۔ گھر میں ٹی وی نہیں ہے۔ اس لیے مجھ سے ٹی وی کی ڈیمانڈ نہ کی جائے۔ اور پتہ نہیں کیا کیا۔ اب میں نے اس سے کہا کہ اتنا مذہبی بندہ ہے مشکل ہو سکتی ہے۔ پر نہیں وہ مانی۔ اب اس کے حال پر اللہ رحم کرے۔   

اب میں دسمبر میں پاکستان گئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ شادی کرنے جا رہی ہوں۔ اب میں بائیس سال کی بچی شادی کرنے بھلا جاتی کیا؟ جس کا فون آتا، اب مجھے جواب دہ ہونا پڑتا۔ پتہ نہیں لوگوں کو اتنی فکر کیوں ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے یہاں بھی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں۔ اور میں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ امن تو مجھے پتہ نہیں کون سی دعائیں دینے کا کہہ رہی تھی کہ یہ پڑھیں تو چاند جلدی مل جاتا ہے۔:p اس کو میں نے سمجھایا کہ مجھے جلدی نہیں چاہیے۔ اس لیے رہنے دو۔ کچھ اور لوگوں نے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔ تو مجھے وضاحت کرنے کی اجازت دیں کہ ابھی میں معصوم بچی ہوں اور آئندہ دو، تین سال تک میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس لیے تین سال تک مجھے کوئی تنگ نہ کرے۔ جب کچھ ہوا تو میں خود دعوت نامہ سب کو بھیج دوں گی۔ :D 

پوسٹ لمبی ہو رہی ہے اس لیے جو کچھ باتیں رہ گئی ہیں، پھر کبھی سہی۔ فی الحال میرا لڑکیوں کو صرف اتنا پیغام ہے کہ پلیز پلیز شادی کو اتنا ضروری نہ سمجھیں، اگر نہیں ہوتی تو نہ ہو۔۔۔زندگی میں بہت کچھ اور کرنے کے لیے ہے۔ شادی کے انتظار میں اپنا ڈھیر سارا قیمتی وقت ضائع نہ کریں۔

14 تبصرے

Dec 24 2007

Merry Christmas

اس سے پہلے کہ میری حرکتیں دیکھ کر کسی کو میری عمر پر شک ہو تو میں پہلے بتا دوں کہ میرا دماغ آجکل خراب ہوا ہوا ہے۔ اور فضول حرکتیں کرنے کا من کر رہا ہے، جیسا کہ آپ اس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے خود ہنسی آ رہی ہے کہ میں کیا کر رہی ہوں۔ لیکن اب دل کر رہا ہے تو میں کیا کروں؟L 

 سب نے گھر سجائے ہوئے ہیں تو میں نے سوچا میں بلاگ کو سجا لیتی ہوں۔ اس کو سجانے کے لیے میں نے بڑی محنت کی ہے۔ اب یہاں نئے سال اور کرسمس کو اتنے دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے اور میں گھر میں بور ہو رہی تھی تو یہی کام کرنا تھا نا۔ ویسے میری پوسٹ بہت اچھی لگ رہی ہے۔ :D :P

 

      

                 

        

 

اور یہ کچھ تصویریں  پچھلے دنوں لی تھیں۔  

    radhuset-055.JPG     radhuset-053.JPG   radhuset-054.JPG

11 تبصرے

Dec 23 2007

عید تھیم

شائع کیا: ماوراء زمرہ: تھیمز

جب عید گزر گئی تو مجھے عید کا تھیم مل گیا۔ L 

 لیکن کوئی مسئلہ نہیں، ایک دن اور عید منا لیتےہیں۔  امید ہے کہ اگلے سال تک مزید عید کے تھیم آ جائیں گے۔ اور روسی شہری کو تھیم بنانے اور سیکھنے کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔ اور اب شاید مجھے عیسائی سے مسلمان بنا دیں۔ J

7 تبصرے

Dec 23 2007

سلائیڈ شو (تجربہ)

شائع کیا: ماوراء زمرہ: تصاویر, ناروے نامہ

3 تبصرے

اگلی »