Archive for November, 2007

Nov 30 2007

قیمہ بھری ہری مرچیں

شائع کیا: ماوراء زمرہ: خورد و نوش

سارہ نے قیمہ بھری ہری مرچوں کی ترکیب محفل پر لکھی تھی، جو اس سے وعدے کے مطابق میں نے پچھلے سے پچھلے ہفتے بنائی تھی، اور بہت مزے کی بنی تھی۔ سارہ کی ترکیب میں نے اپنے بلاگ پر کاپی کر لی ہے۔ امید ہے کاپی رائٹ کا مسئلہ نہیں بنے گا۔lol
اور کل میں نے چکن اور ویجیٹبل میکرونی بنائی تھی۔ جو سارہ نے ہی بتائی تھی۔ ابو کو بہـــــت بہـــــت پسند آئی۔ کل دو بندوں کا کھانا تو ابو نے ہی کھا دیا۔

اجزاء:

قیمہ۔ آدھا کلو
بڑی ہری مرچیں۔ چار عدد
کوکنگ آئل۔ ڈیڑھ پاؤ
پیاز۔ تین چھٹانک
لہسن۔ بارہ جوے
پسا ہوا گرم مصالحہ۔ ایک چائے کا چمچہ
ادرک۔ ایک چھوٹی گانٹھ
ہرا دھنیا، پودینہ۔ چند پتے
نمک۔ حسب ذائقہ
مرچیں۔ حسبِ ذائقہ

ترکیب:

مرچوں کو دھو کر ان کے اوپری حصوں کو تھوڑا کاٹ لیں۔ قیمہ، مصالحہ، پیاز، لہسن، ادرک کو آئل میں بھون کر اتار کر ٹھنڈا کر لیں۔ اب اس میں باریک کٹی پیاز اور ہرا مصالحہ ملا کر آدھا قیمہ مرچوں میں بھر دیں اور ان کے منہ دھاگوں سے باندھ دیں۔ فرائی پین میں آئل ڈال کر مرچوں کو تل لیں۔ تلنے کے بعد ان کو باقی قیمہ پہ رکھ کر دم پہ چھوڑ دیں۔ پندرہ منٹ بعد اتار کر نوش فرمائیں۔


 

Qeema Bhari Hari Mirchein        Qeema Bhari Hari Mirchen   qeema-bhari-hari-mirchein.JPG

2 تبصرے

Nov 28 2007

عقل داڑھ۔۔۔؟؟

شائع کیا: ماوراء زمرہ: میری باتیں

ایک عرصے سے میرے ساتھ عجیب سا مسئلہ چل رہا ہے۔ لیکن پہلے کچھ عرصہ تو میں سہتی رہی، لیکن اب مزید مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اس کا حل نہیں نکال سکتی تو اس کے بارے میں مزید جان تو سکتی ہوں۔ آج سے دو سال پہلے جب میں اکیس سال کی ہوئی، مجھے یاد ہے میری سالگرہ والے دن مجھے دانت میں درد ہوا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ عقل مند بھی ہونے جا رہی ہوں۔ عقل داڑھ کے بارے میں یقیناً سب نے سنا ہو گا۔ میں نے بھی سنا ہے لیکن اب میں سوچ رہی کہ اس کے بارے مزید جان بھی لوں۔ نہ جانے اس کا اور میرا کتنا ساتھ ہے۔ سنا ہے کچھ ڈھیٹ بندوں کو عقل داڑھ نکلنے پر درد نہیں ہوتا۔ اور کچھ کی صرف ایک، دو نکلتی ہیں۔اور کچھ کی نکلتی ہی نہیں ہیں، لیکن مجھے اللہ پتہ نہیں کس بات کی سزا دے رہا ہے کہ ایک نہیں، دو نہیں، تین نہیں۔۔۔پوری چار چار نکل رہی ہیں۔ اب ان کی کچھ اس طرح سے ادا ہے۔ کہ کچھ عرصے بعد ایک داڑھ تین سے چار دن کے لیے درد کے ساتھ آتی ہے، پھر کچھ عرصہ سکون رہتا ہے، شاید یاد، انتظار کرنے کے لیے وقت دے جاتی ہیں۔ پھر دوسری میں درد شروع ہوتی ہے، اسی طرح پھر تیسری اور پھر چوتھی۔ دو سال ہو گئے ہیں۔ اور مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ مزید کتنا عرصہ لگے گا۔
آج تین دن سے میں درد کی گولیاں کھا کھا کر تھک گئی ہوں۔ کچھ گھنٹوں کے لیے درد ٹھیک ہوتا ہے پھر شروع۔۔۔اور میرا جینا حرام ہوا ہوا ہے۔ نہ میں کھانا ٹھیک سے کھا سکتی ہوں، نہ کھل کر ہنس سکتی ہوں، نہ ہی ٹھیک سے بات کر سکتی ہوں، نہ ہی میں چیونگم چبا سکتی ہوں بلکہ مجھ سے منہ ہی نہیں کھولنے ہو رہا۔ ایک تو مسئلہ ہے کہ مجھے ذرا سی تکلیف ہو تو سارا گھر، باہر سر پر اٹھا لیتی ہوں۔ امی دو دن تو بڑے پیار سے گولیاں اور ہدایات دیتی رہیں ہیں، لیکن اب امی نے بھی ڈانٹ دیا ہے کہ یہ رونا کہیں اور جا کر رو۔۔۔میرے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے۔ میں چپ کر کے امی کے پاس سے اٹھ کر آ گئی۔۔سوچا بلاگ ہے نا۔۔اس پر رونا روتی ہوں۔ اور ساتھ انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں کچھ معلومات ڈھونڈتی ہوں کہ یہ ہے کیا چیز۔۔۔نارویجین میں اسے Visdom دانت کہتے ہیں تو سوچا یقیناً انگلش میں بھی یہی کہتے ہوں گے۔ Wisdom Teeth ۔ اس کو تو میں ابھی پڑھتی ہوں۔ کچھ درد کم ہو تو۔۔۔بس کوئی مجھے صرف اتنا بتا دے کہ یہ کتنے عرصے تک نکلتی رہتی ہیں؟ تاکہ میں کچھ بندوبست کروں ان کا۔ دو سال تو مجھے برداشت کرتے ہوئے ہو گئے ہیں۔ مزید ہمت نہیں۔ اور ابھی صرف انہوں نے اپنی ذرا سی جھلک ہی دکھائی ہے۔ باہر پتہ نہیں کب نکلیں گی۔ اگر کسی کو تجربہ ہے تو برائے مہربانی ذرا میری علم میں اضافہ کریں۔ اور یہ بھی کوئی بتائے کہ اس کے نکلنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اسے عقل داڑھ اس لیے کہتے ہیں کہ عقل آتی ہے یا یہ اس بات کی نشانی ہے کہ عقل آ جانی چاہیے، یا عقل کر لینی چاہیے۔؟:p

 اس کو دیکھ کر تو مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ اتنی بڑی داڑھیں نکلیں گی۔

http://www.drbunn.com/3rds.htm

13 تبصرے

Nov 25 2007

باجو کی طرف سے امن کے لیے۔۔!!

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ویڈیوز

تبصرہ کریں

Nov 24 2007

امن ایمان کی شادی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست, مواقع

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ امن ایمان جلد ہی رخصت ہونے والی ہیں۔ رخصتی کا مطلب ہے کہ اپنے ماں باپ کے گھر سے اپنے پیا گھر رخصت ہو رہی ہیں۔ ویسے اگر سوچا جائے تو عورت بے چاری کی بھی کیا زندگی ہے، کبھی ماں باپ کے گھر تو کبھی سسرال والوں کے گھر۔ کس گھر کو اپنا گھر کہنا ہے، یہ تو امن شادی کے بعد بتائے گی۔:p

ابھی میں سوچ رہی ہوں کہ امن کی شادی کی خوشی میں میں کیا کروں کہ امن کی خوشی میں تھوڑا بہت اضافہ ہو جائے، لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ یہ وہی امن ہے جس نے جیہ کی شادی پر زبردست پوسٹ کی تھی۔ اور اب جب اس کی اپنی باری آئی تو محفل پر ہلا گلا کرنے سے ہی منع کر دیا۔ لیکن اچھا ہی کیا۔ :p ویسے تو میرا دل چاہ رہا ہے کہ امن کی شادی پر میں خود موجود ہوتی اور ڈھولکی بجاتی۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔امن کی شادی پر ڈھولکی بجانے کا بہت مَن کر رہا ہے۔ لیکن امن نے تو شادی پر بلایا ہی نہیں، بلکہ صاف کہہ دیا کہ مہنگائی کا دور ہے اس لیے کسی کو بلانا نہیں۔ اب بھلا میں نے اس کا کتنا خرچہ کروا دینا تھا؟ خیر ۔۔کوئی مسئلہ نہیں، اس کا بدلہ لینا مجھے بھی آتا ہے۔ جیسا امن نے میرے ساتھ کیا ہے، ویسا ہی میں بھی کروں گی۔:D
اچھا، امن میرے لیے اتنا تو کر سکتی ہو نہ کہ شادی کے جوڑے کی ایک تصویر بلاگ پر لگا دو، اور جب شادی ہو جائے گی تو پھر اپنی اور جیجا جی کی بھی تصویر لگانا بلکہ میں نے شادی کی فلم دیکھنی ہے، اس لیے مجھے تو فلم بھجوا دینا۔۔۔!!!:p

اچھا، ایک اور بات میں نے نوٹ کی ہے، جب سے امن کو چاند ملا ہے تب سے اسے دوسروں کے چاندوں کی بہت فکر ہو گئی ہے۔ اور یہاں تک کہ دوسروں کے چاند کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ لگتا ہے امن نے سوچا ہو گا کہ اگر اس کی آزادی سلب کی جا رہی ہے تو دوسروں کی میں کیوں نہ کر دوں۔۔؟ :D امن کی آزادی کے ٢٠ دن رہ گئے ہیں۔ ویسے تو اپنا گھر، ماں باپ، بہن بھائی سب کو چھوڑ کر ایک دوسرے گھر، نئے لوگوں میں جانا بڑی ہمت کی بات ہے۔ امن نے تو شادی کی رٹ لگائی ہوتی تھی کہ شادی بڑی ضروری ہے۔ چلو، شکر ہے اب شادی ہو رہی ہے۔ پاکستان میں آجکل شاید شادیوں کا سیزن چل رہا ہے، فضہ کی شادی، امن کی شادی۔۔۔اور پھر میرے دو کزنز کی بھی شادی دسمبر کے شروع میں  ہو رہی ہے، میرا آجکل پاکستان جانے کا اتنا دل کر رہا ہے۔ خاص طور پر ڈھولکی بجانے کا۔۔حالانکہ مجھے بجانے نہیں آتی۔ شگفتہ بھی آجکل ڈھولکی بجانا سیکھنے کا سوچ رہی تھیں، معلوم نہیں۔۔۔کچھ سیکھی بھی یا نہیں۔۔!
اچھا، امن اگر تم مجھے اپنی شادی پر بلاتی تو کوئی گفٹ دینے کا بھی سوچتی۔ لیکن اب تمھارا تحفہ ادھار رہا۔:D ابھی تو ایک گھنٹے سے کوئی شادی کا گانا ڈھونڈ رہی تھی کوئی اچھا سا مل ہی نہیں رہا۔ اب ایسا کرنا کہ مووی بنانے والے کو کہنا کہ شادی کی فلم میں بارات کے دن جب دولہا امن کے گھر آئے تو یہ گانا فلم میں اس وقت ہونا چاہیے۔ :p

 یہ نظم میری طرف سے تمھارے لیے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تمھاری آنے والی زندگی میں تمھیں ڈھیر ساری خوشیاں دے۔ آمین۔

میرے دل کی یہ دُعا ہے
کہ خدا کرے
تیری زیست کا ہر ایک پل
ہر لمحہ
گلاب ہو جائے
شاداب ہو جائے
تیری روح کی تشنگی
سیراب ہو جائے
تیری ذات کا محور
کوئی ماہتاب ہو جائے
جن پر برستی ہیں
خدا کی خاص رحمتیں
اُن چند ہستیوں میں
تیرا انتخاب ہو جائے

آمین

اور امن یہ گانا مجھے بہت اچھا لگا تھا،جیہ کے لیے بھی لکھا تھا اور تمھارے لیے بھی لکھ رہی ہوں۔ لیکن سننے کے لیے نہیں مل سکا۔

بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
ایک راجہ کی تمکو رانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
بنو رانی اک دن تمکو بنے راجہ کے گھر ڈولی میں جا کے
ہم سکھیوں سے یوں انجانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا

نینوں میں ہے کاجل کی ڈورے، مہندی سے رچے ہاتھ گورے
جھومر تیرا دم دم دھمکے، جھمکا تیرا جھم جھم جھمکے
ہار گلے میں جگمگائے
آنچل تیرا ریشم ریشم ہولے ہولے مدھم مدھم
تو من ہی من مسکائے، تو من ہی من مسکائے
سکھ سپنوں میں یوں مستانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا

بنے راجہ جو پاس آئے، چاہے کہ یہ گھنگھٹا اٹھا لیں
دیکھو بنو مان نہ جانا، مکھڑا ان کو نہ دکھلانا
پہلے سب باتیں منوانا
کہنا بولو کر کے سلامی بنو کروں گا تیری غلامی
میں تو ہوں تیرا دیوانہ ہاں میں تو ہوں تیرا دیوانہ
تمھیں دیوانہ تمھیں دیوانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا۔

بنو رانی تمھیں سیانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
اک راجہ کی تمکو رانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا
بنو رانی اک دن تمکو بنے راجہ کے گھر ڈولی میں جا کے
ہم سکھیوں سے یوں انجانی
ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا ہونا ہی تھا

13 تبصرے

Nov 24 2007

Protected: کل کا دن۔۔!!

شائع کیا: ماوراء زمرہ: میری باتیں, یاداشتیں

This post is password protected. To view it please enter your password below:


Enter your password to view comments

Nov 18 2007

سویڈن

شائع کیا: ماوراء زمرہ: سیر و تفریح

دو، تین ہفتوں سے ہمارا پروگرام سویڈن جانے کا بن رہا تھا، لیکن ایک ہفتے کو تو میری وجہ سے لائبریری تقریب کی وجہ سے رہ گیا۔ دوسرے ہفتے بھائی کے پیپر کی وجہ سے رہ گیا۔ آخر کار اس ہفتے سب ایک مشترکہ فیصلے پر رضامند ہو ہی گئے۔

کافی عرصے سے ہم سیروتفریح کے لیے کہیں نہیں گئے تھے، پچھلے کچھ عرصے سے سب کی اپنی اپنی ہی مصروفیات ہیں۔ ایسا وقت بھی آیا کہ ہم بہن بھائی دو دو، تین تین دن ایک دوسری کی شکل نہ دیکھ سکے۔  امی ابو بھی پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان کافی وقت رہ کر آئے۔
تقریباً ایک سال پہلے ہم بہن بھائی ہی سویڈن کی سیر کو نکلے تھے۔ امی ابو پاکستان تھے، ہم نے اپنا پروگرام بنا لیا۔ ہم نے باقاعدہ پکنک منائی، گرمی کا موسم بھی تھا، اس لیے بہت مزہ آیا تھا۔

اس بار برفباری سے پہلے ہم نے سوچا کہ ایک چکر لگا آتے ہیں۔ ہفتے کی صبح دس بجے ہم گھر سے نکلے۔ موسم بہت اچھا تھا، خلافِ توقع سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ لیکن جونہی ہم اوسلو شہر سے باہر نکلے تو ہر طرف دھند ہی دھند۔۔۔۔سارا راستہ دھند ہی رہی۔ سویڈن جب پہنچنے والے تھے تو سورج نے ایک بار پھر اپنی شکل دکھائی۔ لیکن جب سویڈن میں داخل ہوئے تو پھر دھند ۔

ہمارا ارادہ زیادہ سا گھومنے کا تھا، لیکن دھند کو دیکھ کر ہم Strömstad تک ہی گئے۔ سٹی خوب گھومے۔ ایک اکلوتا کیمرہ میں لے کر گی، جونہی شہر پہنچے تو اس کی بیٹری ختم ہو گئی۔ ورنہ شہر کا منظر بہت ہی پیارا تھا۔ شہر عین دریا کے کنارے پر واقع ہے۔ لیکن اس کی تصویر آپ یہ دیکھ سکتے ہیں۔

باقی ساری تصویریں میں گاڑی میں بیٹھے بیٹھے بنائیں۔ سردیاں شروع ہو چکی ہیں، اس لیے نظارے حسین نہیں تھے۔ ورنہ گرمیوں میں   جائیں تو راستے میں جو گاؤں آتے ہیں، بندہ سوچتا ہے کہ یہیں آ کر بس جائے۔lol، اور مجھے تو سارے راستے سڑکیں اور پل بنتے ہی نظر آئے۔
صبح دس بجے نکلے تھے اور شام چھ بجے گھر تھے۔ واپسی پر تو مزید دھند پڑ چکی تھی اور گھپ اندھیرا بھی۔۔اس لیے کچھ نظر ہی نہیں آیا۔ یاد رہے کہ چار بجے ہی سورج غروب ہو جاتا ہے۔

اب کچھ تصاویر۔۔

اوسلو شہر سے باہر کی ہی ہے، جب موسم بہت صاف تھا۔

دھند۔۔۔! کیا آپ کو کچھ دکھائی دے رہا ہے، مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا۔

 پھر تھوڑی دیر کے لیے سورج نے اپنی شکل دکھائی۔

ناروے اور سویڈن کی بارڈر کا پل اور سمندر

 اب سویڈن۔۔۔

 سویڈن کا ایک پل جو ابھی زیر تعمیر تھا۔

اس پل کی یہ تصویر واپسی پر بنائی، دھند کی وجہ سے مجھے پرسرار سی لگ رہی ہے۔lol

 یہ پتہ نہیں کون سا پانی تھا، سردی سے برف بنا ہوا تھا۔

واپسی پر راستے میں۔۔

پھر آخر کار ہم اپنے پیارے شہر اوسلو پہنچے، اور پھر گھر۔ گھر آ کر میں نے کینڈیز کا پیالہ بھر کر اپنے ٹیبل کر رکھ لیا۔ جو میں سویڈن سے لائی تھی۔

مزید کچھ تصویریں اگر کوئی دیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہاں دیکھیں۔

اس کے بعد میں نے سارہ کی بتائی ہوئی ترکیب قیمہ بھری ہری مرچیں بنانی تھی، وہ بنائی۔ جو اگلی پوسٹ ہو گی۔

9 تبصرے

Nov 12 2007

حجاب کے لیے تھیم

شائع کیا: ماوراء زمرہ: میری باتیں

یہ چاند والا تھیم میں نے حجاب کے لیے پسند کیا تھا، جو حجاب کو بھی پسند آیا ہے۔کیونکہ اسے بھی چاند ہی چاہیے تھا۔ اسے میں نے اکیلے اردوایا ہے۔ مجھے معلوم ہے ابھی اس میں کئی غلطیاں ہوں گی۔ اگر کسی کو کوئی غلطی نظر آ رہی ہے تو پلیز مجھے بتائیں تاکہ اسے میں ٹھیک کر کے حجاب کے بلاگ پر اپلوڈ کراؤں۔

خاص طور پر عبید ۔۔۔ انہوں نے میری ہمیشہ بہت مدد کی ہے۔ اور اب جو تھیم میں نے خود اردوایا ہے یہ بھی عبید کی ہی بدولت ممکن ہوا  ہے۔

19 تبصرے

Nov 10 2007

فرائی مچھلی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: خورد و نوش

سارا ہفتہ مصروف ہونے کے بعد ہفتے کو میرا دل ہوتا ہے کہ کھانا میں بناؤں۔ کچھ دن پہلے حجاب نے “فرائی فش“ کی ترکیب بتائی تھی، جو آج میں نے ٹرائی کی۔ حجاب کا بہت شکریہ کہ اس کی وجہ سے اتنی مزے کی ڈش بنانا میں نے سیکھ لی۔ جس کی ترکیب یہ ہے۔ 

اجزاء:

                                         مچھلی ایک کلو ( فرائی کرنے کے لیے ٹکڑے بنوا لیں)

لال مرچ پسی ہوئی ایک کھانے کا چمچ یا حسبِ ذائقہ۔

 نمک حسبِ ذائقہ۔

پسا ہوا لہسن 2 کھانے کے چمچ ۔

سرکہ 3 سے 4 کھانے کے چمچ۔

اجوائن ایک چائے کا چمچ باریک پاؤڈر یا پیسٹ۔

بیسن آدھا پاؤ۔

آئل حسبِ ضرورت۔

 ترکیب:

 سب سے پہلے مچھلی کو نمک اور سرکہ لگا کر 15 سے 20 منٹ کے لیئے رکھ دیں اور پھر اچھی طرح دھو لیں۔اب لہسن ،اجوائن ، نمک اور مرچ کو اچھی طرح مچھلی کے ٹکڑوں پر لگا دیں۔اب ایک بڑی پلیٹ میں مصالحہ لگی مچھلی کے ٹکڑے اس طرح رکھیں کہ ٹکڑے آپس میں جڑے رہیں اب مچھلی کو کم از کم 2 گھنٹے کے لیئے فریج میں میرینیٹ ہونے کے لیئے رکھ دیں تا کہ مچھلی کا زائد پانی نکل جائے۔اب بیسن میں حسبِ ذائقہ نمک اور تھوڑی سی پسی ہوئی لال مرچ ملا کر آمیزہ بنا لیں ۔زیادہ گاڑھا آمیزہ نہ ہو۔آئل گرم کرکے مچھلی کے ٹکڑوں کو بیسن میں ڈبو کر درمیانی آنچ پر دونوں طرف سے گولڈن براؤن فرائی کرلیں۔ 

نوٹ؛ اگر مچھلی تازہ ہے تو سرکہ اور نمک لگا کر رکھنا ہے، اگر فریز ہوئی مچھلی ہو تو اس کو سرکہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ اور

فریز ہوئی مچھلی کچھ دیر پہلے نکال کر روم ٹمریچر میں رکھ دیں۔

  کچھ تصاویر:

مچھلی                              ۔    میرینیٹ کے بعد            ۔     بیسن میں ڈپ 

      

                                                                                                                             

تیار ہو جانے کے بعد

                                               

9 تبصرے

Nov 09 2007

شرمندگی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: سیاست, معاشرتی مسائل

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ غلطی کوئی اور کرتا ہے لیکن اس کی سزا دوسروں کو بھی ساتھ ساتھ بھگتنا پڑتی ہے۔ کچھ عرصہ میں فارغ گھر میں رہی، بڑے مزے سے یہ دن گزر گئے۔ جونہی آپ باہر نکلتے ہیں، لوگ سوال کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جس دن پاکستان میں ایمرجنسی نافذ ہوئی، اس دن میں نے اپنی بہن سے پوچھا کہ یقیناً اب لوگ باہر کئی سوال کریں گے، تو تم کیا کہو گی۔ بڑے مزے سے کہنے لگی، “کہنا کیا ہے، آرام سے کہوں گی کہ  “پاکستان میں سب ٹھیک ہے۔ آپ کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔“ اور وہ شاید کہہ بھی سکتی ہے کیونکہ اسے پاکستان سے یا پاکستان کے حالات سے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔ ویسے تو میرے پاس بھی اتنا وقت نہیں ہے کہ لمحہ بہ لمحہ حالات جاننے کے لیے اخبار یا ٹی وی دیکھتی رہوں۔ لیکن پھر بھی باخبر رہتی ہوں۔  

کبھی وہ دن تھے کہ جب ہم دوسرے ملک کے لوگوں سے ان کی ملکی حالات ڈسکس کرتے تھے، اب وہی صومالیہ اور عراق جیسے ممالک کے لوگ ہمیں پاکستان کے حالات کے بارے میں آ آ کر پوچھتے اور بتاتے ہیں۔ میرا ایک کولیگ تو ہر نئے دن مجھ سے پاکستان کے حالات ڈسکس کرنے آ جاتا ہے۔ اور ہمارے آفس میں تو اس نے انکل مشرف کا مذاق بنایا ہوا ہے۔ جب اس نے اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ہوتا ہے تو طنزیہ کہتا ہے کہ آپ کو معلوم نہیں “میں مشرف ہوں۔“ اور کبھی وہ آفس میں جمہوریت لا رہا ہوتا ہے، تو کبھی کچھ۔

ایک صومالیہ کا کہتا ہے کہ صومالیہ میں بھی ایسے ہی حالات ہوئے تھے اور جنگ چھڑ گئی۔ میں نے اسے چپ کروایا کہ امید ہے کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہو گا۔ ابھی شکر ہے نارویجینز اس بارے میں اتنا ڈسکس نہیں کرتے۔ اخبارات میں بڑے مزے مزے کی تصاویر آجکل چھپ رہی ہیں، بی بی سی کی سائٹ تو کافی لوگ وزٹ کرتے ہیں، جب کوئی دوسرا آ کر پاکستان کی تصویریں دکھاتا ہے  تو بندہ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔

  یہاں کا میڈیا بھی اتنا تیز ہے کہ ہر چیز کو سر پر ہی سوار کر لیتا ہے، پاکستانی تو ویسے ہی ماشاءاللہ سال کے ٣٠٠ دن میڈیا میں اِن رہتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی کارنامہ سر انجام دئیے ہی رہتے ہیں۔ ٹی وی پر آپ کبھی بھی کوئی بھی ڈسکشن سن لیں، پاکستانیوں کا نام اس میں ضرور آ رہا ہوتا ہے۔ لیکن اب جو انکل مشرف نے کارنامہ سر انجام دیا ہے، اس کے بعد تو مزید شرمندہ ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن میں پیشن گوئی کرتی ہوں، کہ اگر کچھ عرصہ تک پاکستان کے حالات اسی طرح رہے تو پاکستان کا بہت برا حال ہونا ہے۔ مزید اس لیے نہیں کہوں گی کہ کہیں میری پیشن گوئی غلط ہی ثابت نہ ہو جائے۔ ویسے تو اللہ کرے کہ غلط ہی ثابت ہو۔ یورپی میڈیا تو صاف کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے۔ اور میرے خیال میں واقعی ہو چکی ہے۔ اتنے بدترین حالات۔۔۔۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا انکل مشرف کی وجہ سے ہوں گے۔ اللہ سے یہی دعا ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو عقل عطا فرمائے (اگر نہیں تو مجھ سے عقل ادھار لے لیں) اور ہمارے ملک کے حال پر رحم کرے۔جاوید چودھری کا کل کے ایکسپریس اخبار میں ایک کالم “خانہ جنگی سے دو انچ دور“ تھا۔جس میں اس نے بڑی سچی باتیں کی ہیں۔ 

سیاست پر مجھے لکھنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا، لیکن میرا کولیگ مجھ سے دو دن سے کہہ رہا تھا کہ ہماری ڈسکشن کے بارے میں لکھو۔ اس لیے اس کو دکھانے کے لیے کچھ لکھ دیا ہے۔ شکر ہے ابھی اسے صرف ارود کے دو جملے ہی آتے ہیں، ورنہ اس نے لکھنے  کے بعد بحث کو مزید بڑھا لینا تھا۔

5 تبصرے