جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ خواتین گپیں مارنے میں ماہر ہوتی ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میرا اور امن کا بھی شمار ان خواتین میں ہوتا ہے تو آپ کا خیال غلط ہے۔ ہم تو معصوم بچیاں ۔۔۔ بس ذرا ہلکی پھلکی باتیں کرنے کے لیے اپنے اپنے بلاگ پر “گپ شپ“ کا ایک الگ سے زمرہ بنا رہے ہیں۔ ہمارے آن لائن ہونے کی ٹائمنگ مختلف ہیں۔ تو بس اسی لیے ہم نے بلاگ کو ایم ایس این بنانے کا سوچ لیا ہے۔ اور بلاگ پر ویسے بھی کچھ نہیں ہے تو کم از کم کوئی گپ شپ تو ہونی ہی چاہیے نا۔ (یہ صرف میں نے اپنے بلاگ کے لیے کہا ہے۔)
امن کا ان باکس بھی کھل چکا ہے۔ اور میرا بھی آن لائن ان باکس بن گیا ہے۔ حالانکہ میں اپنا بلاگ سب سے آخر میں (سارے کام کر چکنے کے بعد) دیکھتی ہوں۔ اچھا، امن اس وقت میرا واقعی گپیں لگانے کا موڈ ہو رہا تھا۔ لیکن مجھے ابھی کچن میں کام کرنا ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ سموسے بنا کر فریز کر دوں۔ اور کل تمھارے بتائے ہوئے پکوڑے بھی بنائے تھے۔ جو کہ بہت مزے کے بنے تھے۔ اتنی زبردست ترکیب کا بہت شکریہ۔ اب یقیناً میں ہمیشہ یہی بنایا کروں گی۔:D
امن، مجھے معلوم ہے کہ آجکل تم تھوڑی فارغ ہو۔ اس لیے اس تصویر کو دیکھ کر بتاؤ کہ اس تصویر کا کیا مطلب ہے؟ یہ کمپیوٹر زیادہ استعمال کر کے ایسا ہو گیا ہے یا آجکل ڈھانچے بھی کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں؟
مَا کَانَ محمد اَبَا اَحَدٍ مِن رجالٍکم
ولا کن رسول اللہ وَ خاتم نبیین
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
ہم سب بھیجیں ان پہ ہزاروں لاکھوں درود و سلام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
خیرُ البَشَر وہ خَیرُالورا وہ، ہم سب کے رہنما وہ
اُسوہ انہی کی راہِ عمل ہے زندگی ہے چراغ
ہم سب بھیجیں اُن پہ ہزاروں، لاکھوں درود و سلام
کامل انساں محبوبِ یزداں محبوبِ ہر خاص و عام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
عفو و عطا و لطف و عنایت اُن کی ذات میں غایت
رب جس کی تعریف میں کہہ دے
انک لعلی خلق عظیم
ہم سب بھیجیں اُن پر ہزاروں لاکھوں درود و سلام
روٹھے ہوؤں کو رب سے ملانا میرے محمد کا کام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
ذکر ہے ان کا بستی بستی گونج رہی ہے محفلِ ہستی
دے کر دنیا بھر کی دولت مل جائے اگر ان کی محبت
ہم سب بھیجیں ان پہ ہزاروں لاکھوں درود و سلام
معراج کی شب عرشِ بریں پر کیسا یہ ان کا مقام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
دیکھ تری امت کی سانسیں ڈوب چکی ہیں ڈوب رہی ہیں
دھیرے دھیرے مدھم مدھم ان زخموں پہ رکھ دے مرہم
ہم سب بھیجیں ان پہ ہزاروں لاکھوں درود و سلام
امت کے غم میں شب بھر رونا میرے محمد کا کام
میٹھا میٹھا پیارا پیارا میرے محمد کا نام
سب سے عنصب سب سے اعلی میرے محمد کا کام
ڈوبتے ہوؤں کو کنارے لگانا میرے محمد کا کام
سوتے ہوؤں کو پیار سے جگانا میرے محمد کا کام
بے طلبوں میں طلب جگانا میرے محمد کا کام
کل باجو کی بات پڑھ کر کہ ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں سحری اور افطاری میں ان کی مدد کرواتی ہیں۔ اور پھر عمار کا بھی پڑھا کہ وہ بھی کچن میں بہنوں کی مدد کرواتے ہیں۔ تو مجھے ذرا شرمندگی ہوئی۔ اس لیے کل رات امی کو میں نے کہا دیا کہ “امی ایک ہفتہ آپ نے کام کر لیا۔ اب بس اگلے دس دن کچن میں سنبھالوں گی۔” امی بڑی خوش اور حیران یااللہ یہ کیا ماجرا ہے۔lol – آج بس اسی کے نتیجے میں رمضان کی پہلی سحری بنانے میں امی کی مدد کی اور افطاری مکمل خود بنائی۔ اسی بہانے آج امن کی بتائی ہوئی “خشک خوبانی کی چٹنی“ بھی ٹرائی کر لی۔ بہت مزے کی بنی ہے۔ میں نے ایسے ہی چمچ سے لے کر ساری کھا دی ہے۔ تصویر پوسٹ کر رہی ہوں۔ اب امن ہی آ کر بتائے گی کہ اسکی شکل ٹھیک ہے یا نہیں۔۔؟
اور اسی کے ساتھ میں بیس، پچیس دن کی چھٹی پر جا رہی ہوں۔ اس عرصے میں آپ کو شاید ہی میری کوئی پوسٹ نظر آئے۔ اس لیےعید تک آپ یہ نعت سنیں۔
کسی نے کوئی بات کرنی ہے۔تو میرا فون میرے پاس ہے۔ ورنہ میل کر لے۔ اور اگر کسی نے کوئی خاص دعا کروانی ہے تو اپنی دعاؤں کی لسٹ بنا کر بھیج دے۔ اچھا موقعہ ہے۔اورہاں ایک اور بات۔۔۔کہ پندرہ رمضان کو سب اپنا خیال رکھیے گا کیونکہ اس دن کوئی بھی ہیبت ناک بات ہو سکتی ہے۔
نوٹ:میرے ارادے بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ اگر میں ان دنوں میں واپس آ جاؤں تو کوئی نئی بات نہیں ہو گی۔
کل رات تقریباً نو، دس بجے جب میں آن لائن آئی تو خلافِ توقع امن آن لائن تھی۔ پاکستان میں گیارہ، بارہ کا وقت تھا۔ میرے آن لائن ہوتے ہی امن نے شکوہ کیا کہ اتنی دیر بعد آن لائن آئیں، میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ امن چیٹ بہت کم کرتی ہے۔ میلز سے ہی ہمارا زیادہ رابطہ رہتا ہے۔ امن کو میں نے کہا کہ میرا فون نمبر لے لو۔ اگر بات کرنی ہو تو مجھے ایس ایم ایس کر دیا کرو تو اس وقت میں آن لائن آ جایا کروں گی۔ یاد رہے، جب کوئی بہت ضروری بات ہو تو تب ہی امن آن لائن آتی ہے۔ کچھ دن پہلے ہی اردو محفل پر ہماری “فون پر بات“ کرنے کی بات ہو رہی تھی۔ تو رات کو امن نے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور میرا انتظار کر رہی تھی۔ فون پر تو نہیں لیکن ہماری وائس چیٹ ہوئی۔ امن نے پہلی بار کسی نیٹ فرینڈ سے بات کی تو میں نے پہلی بار وائس چیٹ کی۔ بہت شروع میں ایک بار میں نے ٹرائی کی تھی لیکن مسئلہ وہی کہ آواز ٹھیک سے نہیں آتی، اس کے بعد میں نے فون پر ہی بات کرنے کو ترجیح دی۔
امن نے اتنے پیارے انداز سے اس بات چیت کو یادگار قرار دیا ہے اور اس طرح امن کے اس انداز کی وجہ سے ہماری یہ بات چیت میرے لیے بھی یادگار بن گئی۔ حالانکہ مجھے امن کی آواز ٹھیک سے سمجھ نہیں آ رہی تھی لیکن پھر بھی جتنی بات چیت ہوئی، بہت اچھا لگا۔ یقیناً اگر میں فون پر بات کروں گی تو اور بھی اچھا لگے گا۔ اب تک باجو نے علاوہ زیادہ سے بات چیت کراچی والوں سے ہوئی۔ کراچی والوں کا انداز نہایت ہی دھیما اور نہایت ہی سلجھا ہوا ہوتا ہے۔ اور ہم ٹھہرے پنجابی۔۔۔!! کراچی والوں سے بات کرنے کے لیے نہایت ہی سلجھے انداز میں بات چیت کرنا پڑتی ہے۔ اور اپنے پنجابیوں کا لہجہ سن کر تھوڑا سکون ہوتا ہے کہ اپنے انداز میں ہی بولنا ہے۔
اچھا، ہم اکثر پنجابی لوگ بولتے بھی بہت تیز ہیں۔ امن کا کہنا ہے کہ وہ بھی بہت تیز بولتی ہے، لیکن وائس چیٹ کی وجہ سے ہم بہت ہی ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہے تھے۔ باجو (بوچھی) جتنا تیز تو کوئی بول ہی نہیں سکتا۔ ان سے بات کریں تو بندہ سوچتا ہے کہ باجو اب کب رکیں تو اپنی بات کہیں۔ اور ماشاءاللہ میں خود بھی بہت تیز بولتی ہوں۔ امن جب جب بولتی تھی، کانوں میں میوزک بجنا شروع ہو جاتا تھا۔ پھر کبھی ایسا لگتا کہ امن کی آواز کسی گہرے کنوئیں سے آ رہی ہے۔ خیر، تھوڑی دیر کے بعد آدھے جملوں کی سمجھ آنا شروع ہو گئی۔ اور میں اس آدھے جملے سے اندازہ لگا رہی تھی کہ امن نے کیا کہا ہو گا۔ اور شکر ہے کہ سب باتوں کا جواب درست ہی دیا۔
جیسا امن نے بھی کہا ہے اور واقعی مجھے بھی امن سے بات کر کے ایسا ہی لگا جیسے ہمارا بڑا پرانا ساتھ ہے اور روز ہی ہماری بات ہوتی ہے۔ امن کے رات کا ایک بج گیا تھا۔ اس دوران ہماری کافی موضوع پر بات چیت ہو گئی۔ امن نے جیہ کی مہندی پر بھی ٹپے گا کر اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔ اور کل بھی گا کر تو نہیں لیکن بول کر اپنی آواز کا جادو جگایا۔ امن کے بات چیت کے انداز، لہجے میں بھی اتنی ہی معصومیت ہے جتنی امن کی باتیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے۔
امن کی پوسٹ اور باتوں سے مجھے اپنے لیے اسکی محبت کا اندازہ ہو رہا ہے۔ محبت کے بدلے میں شکریہ تو نہیں محبت ہی دی جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی امن کی اتنی محبت کا بہت شکریہ۔ اور امن کو لگ رہا تھا کہ میرے پاس کوئی ہے۔ تو امن، میرے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ میں اپنے کمرے میں اٹھ کر آ گئی تھی اور دروازہ بند کر دیا۔ اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ میں نے کسی سے آدھی رات کو بات بھی کی ہے یا نہیں۔ اور امن سے بات کرنے کا سب سے بڑا یہ فائدہ ہوا کہ امن کے ساتھ اس کی ماما کو بھی یقین ہوا کہ ماوراء کوئی لڑکی ہی ہے۔
میں امن کے بارے میں مزید بھی لکھنا چاہ رہی تھی لیکن سوچا امن کو ذرا اور جان لوں۔ کیونکہ ابھی میں نے امن کا باقاعدہ انٹرویو بھی لینا ہے۔ تب شاید امن کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملے۔
رمضان اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔ اور اب اس کی آمد آمد ہے۔ پاکستان ہوتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ رمضان آ رہا ہے۔ بڑے زور و شور سے رمضان کا استقبال کیا جاتا تھا۔ اب رمضان شروع ہو کر ختم بھی ہو جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ بس پتہ اسی وقت چلتا ہے جب آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی ہوتی ہیں۔ اور نہ ہی یہاں عید کی خوشی۔ عید کی خوشی کیا ہونی ہے، ہمارے مولوی ہمیں دو دو عیدیں کروا دیتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی عید منا رہا ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں تو کئی بار تین تین عیدیں بھی منائی گئی ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کس دن عید ہے۔
خیر رمضان نہایت ہی مبارک مہینہ ہے۔ اس کی ہر ساعت رحمت بھری ہے۔ اس مہینے میں نفل کا ثواب فرض کے برابر، اور فرض کا ثواب ستر گنا کر دیا جاتا ہے۔ سب سے اہم بات اس مہینے کی یہ ہے کہ اس مہینے مرنے والے مومن سے سوالاتِ قبر نہیں کیے جاتے۔ یہ جب میں نے پڑھا تھا تو میری اسی دن سے رمضان میں ہی جانے کی خواہش ہے۔ لیکن اب پتہ نہیں میرا شمار مومنوں میں ہوتا بھی ہے یا نہیں۔
پچھلا رمضان میں نے صرف روزے رکھ کر اور مر مر کے تھوڑی بہت عبادت کر کے گزار دیا تھا۔ لیکن اس بار بھر پور انداز سے گزارنے کا ارادہ ہے۔ سوچ رہی ہوں اعتکاف بیٹھ جاؤں۔ :p رمضان میں دس دن اعتکاف کر لینا ایسا ہی ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کئے۔ لیکن پھر کمپیوٹر پر کیسے آؤں گی؟ چلو، کیا معلوم اللہ ہدایت کر ہی دے۔ رمضان میں تو ویسے بھی شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور رحمت اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔جہنم کے دروازے بند۔
رمضان کے مہینے کے بہت فضائل ہیں۔ روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔“ “ جو شخص ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے رمضان کا روزہ رکھے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“ اگر میرے ابو جیسے بندوں کو ایسی باتیں بتائی جائیں تو وہ یقیناً ہنسی میں ٹال دیتے ہیں کہ ان کا دماغ ان سب باتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن حقیقت میں ایمان کی بات ہے۔ آپ کا جتنا ایمان پختہ ہو گا اتنا ہی ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر یقین ہو گا۔
میری طرف سے سب کو رمضان مبارک اور اگر ہو سکے تو میری ہدایت کے لیے کوئی دعا بھی کر دے۔ کیا معلوم کس کی دعا قبول ہو جائے۔
امن، وعدے کے مطابق رمضان سے ایک دن پہلے ہی ایک ترکیب لکھ رہی ہوں۔ ورنہ جب میرا لکھنے کا موڈ نہیں ہوتا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے لکھنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ شکر ہے کہ ایک دن پہلے ہی موڈ بن گیا۔ شایدیہ سموسے تمھیں پہلے بھی بنانے آتے ہوں۔ لیکن میں نے نہیں ابھی تک بنائے۔ ٹرائی کر کے مجھے بتا دینا کہ کیسے بنے تھے۔:p
٭ فرائی پین میں کوکنگ آئل ایک ٹیبل سپون، دو عدد باریک پیاز کاٹ کر ڈال دیں۔ درمیانی آنچ پر فرائی کرتے ہوئے براؤن کر لیں۔
٭ اس میں قیمہ بھی ڈال دیں
٭ کنور کیوب کی یخنی بنا کر قیمہ میں ڈال کر بھونیں۔
٭ 2/1 چائے کی چمچ چینی، ایک چائے کی چمچ کارن فلور ڈال کر مسلسل ہلائیں۔
٭ نمک اور کالی مرچ حسبِ پسند ڈال کر ڈھکن دے کر بھونیں۔
٭ چولھا بند کر دیں۔ 2/1 پاؤ ہری پیاز باریک کٹی ہوئی ڈال لیں۔
٭ دو انڈے پھینٹ لیں۔ بریڈ کرامز اور سفید تل لے لیں۔
٭ سموسہ پٹی میں قیمہ ڈال دیں۔ انڈوں سے اس کا منہ بند کر لیں۔
٭ سموسے کو انڈے میں ڈپ کر کے بریڈ کرامز اور پھر تلوں میں ڈپ کر کے تل لیں۔
٭ اور کیچپ یا امن کی بتائی ہوئی چٹنی اور سلاد کے ساتھ پیش کریں۔
پاکستان میں چند ایک بار ہی ہوٹلز میں نہاری کھانے کا اتفاق ہوا۔ لیکن میں نے آج تک خود نہیں بنائی تھی۔ مجھے شروع سے ہی نت نئی ڈشز بنانے کا بہت شوق رہا ہے۔ پوری فیملی، دوستوں میں مشہور ہے کہ میں کھانا بہت اچھا اور ایسے کھانے بناتی ہوں جو شاید ہی کوئی خود گھر میں بناتا ہو۔ میں کسی کو کیک ہی بنا کر کھلا دوں تو اگلے کا منہ ہی کھلا رہ جاتا ہے کہ یہ تم نے خود ہی بنایا ہے نا۔ اور ابو کو مجھ سے ایک شکایت ہے، کہ جب میں بازار جاؤں تو میری نظر صرف مصالحوں پر ہوتی ہے۔ میں تب جواب تو نہیں دیتی۔ لیکن جب کھانا کھاتے ہیں تو اس وقت مصالحوں پر نظر رکھنے کی وجہ بتا دیتی ہوں۔ خیر۔۔زیادہ تعریفیں نہیں کرتی۔ لیکن میں کہہ سکتی ہوں کہ مجھے کسی حد تک کھانا بنانے کا شوق ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے میں نے کچن کا رخ بھی نہیں کیا تھا۔ اب کچن میں کام کرنے کا پھر سے شوق چرایا ہوا ہے۔ لیکن میں کھانا صرف اس دن بناتی ہوں جس دن مہمان آتے ہیں۔ روز روز بنانا میرے بس کا روگ نہیں۔ دعوت والے دن کچن کا سارا کام میں کرتی ہوں۔ بس میری شرط ہوتی ہے کہ کچن میں کوئی آئے نہ :shock: ۔
کچھ عرصہ پہلے ہی میں حلیم اور نہاری جیسی روایتی ڈشز خود بنانے کا سوچا تھا۔ کل رات کو خواب میں میں نے نہاری کھاتے ہوئے دیکھا تو سوچا کہ آج نہاری ہی بناتی ہوں۔:p
ترکیب حاضر ہے۔
اجزاء :-
۔ گوشت (ترجیحاً گائے یا بکرا (ادلے یا بونگ کا) ورنہ مرغی >> ایک کلو
۔ پیاز درمیانہ سائز >>>>>>>>>>>>>>>ایک عدد باریک کترا ہوا
۔ میدہ >>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>> 6 – 8 کھانے کے چمچ (75 گرام)
۔ کوکنگ آئل >>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>200 گرام (ایک کپ)
۔ نہاری مصالحہ (میں تو ریڈی میڈ مصالحے استعمال کرتی ہوں، کیونکہ اسی سے بہترین اور آسانی سے بنتی ہے)
ورنہ درج ذیل مصالحہ جات کی ضرورت ہوتی ہے۔
سونف، زیرہ، سرخ مرچ پسی ہوئی، نمک، خشک دھنیا، گرم مصالحہ پسا ہوا، سونٹھ، جائفل، جاوتری۔
۔ ہرا دھنیا باریک کٹا ہوا، ادرک کے باریک تراشے، ہر مرچ کٹی ہوئی اور لیموں۔ حسبِ پسند نہاری کے تیار ہو جانے کے بعد اوپر چھڑکنے کے لیے
ترکیب :-
٭ ایک کپ سے کم آئل گرم کر کے گوشت 4 – 5 منٹ تک بھون لیں۔ دوران چمچہ چلاتے جائیں۔
٭ ریڈی میڈ مصالحے کی ایک پوری تھیلی یا بتائے ہوئے سارے مصالحے اور 4 -7 گلاس پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر ڈھکن دے کر گوشت گلنے تک پکائیں۔(مرغی کے گوشت کی صورت میں صرف دو سے تین گلاس پانی شامل کریں) (بکرے کے گوشت کی صورت میں تقریباً 3 – 4 گھنٹے اور گائے کی گوشت میں 4 – 6 گھنٹے پکائیں)
٭ آٹا ایک کپ پانی میں اچھی طرح مکس کر لیں۔ تاکہ گھٹلیاں نہ بنیں۔ تھوڑا تھوڑا کر کے شوربے میں ملائیں اور ساتھ ساتھ چمچہ چلائیں۔ تاکہ ایک جان ہو جائیں۔ اب آنچ تیز کر کے پانچ سے دس منٹ تک پکائیں۔ (زیادہ گاڑھی نہاری کے لیے مزید پکائیں۔)
٭ آدھا کپ آئل گرم کر کے کتری ہوئی پیاز سنہری کر لیں اور آئل سمیت نہاری میں شامل کر دیں۔ ہلکی آنچ پر پندرہ سے بیس منٹ ڈھکن بند کر کے پکائیں تاکہ آئل اوپر آ جائے۔
٭ ہرا دھنیا، ادرک کے تراشے، ہری مرچ اور لیموں کے ساتھ نوش فرمائیں۔
امی کو زیادہ گاڑھی پسند نہیں۔ انہوں نے زبردستی مزید پانی ڈالوا دیا تھا۔اور گھر میں ہرا دھنیا بھی نہیں تھا۔ :oops:
ہماری خوشیوں کے پاسبان ہو تم
بہادری اور جراءت کے نشان ہو تم
تمھی سے ہے سکونِ حیات ہمارا
افواجِ پاکستان کے جوان ہو تم
عسکریہ پاکستان بری، بحریہ اور فضائی افواج پر مشتمل ہے۔ نیم فوجی اداروں کو بھی شامل کر لینے کے بعد اس کی افرادی قوت کی تعداد ١٠.٠٠.٠٠٠ ہے۔ پاکستانی فوج افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے۔ ٦ستمبر کو ہم یومِ دفاع مناتے ہیں، جو کہ پاک بھارت جنگ ١٩٦٥ میں پاک فوج کی بے مثال جرات و بہادری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
پاک فوج نے پاک بھارت کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کے کئی قافلوں کو صحیح سلامت آزاد سر زمین تک پہنچنے میں مدد دی۔ اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاک فوج نے انسانیت کی اعلٰی قدروں کو چھوتے ہوئے ہندوؤں اور سکھوں کے کئی قافلوں کو باحفاظت بھارت کی سرحد تک پہنچنے میں مدد دی۔ یعنی اپنے قیام کے وقت سے ہی پاک افواج نے اپنا ایک امیج قائم کر لیا تھا۔
جولائی ١٩٤٨ میں کشمیر کے محاذ پر جنگ چھڑی۔ تب ہماری نئی فوج جوش و جذبے کے تحت افسر سے لے کر سپاہی تک بہادری سے لڑی۔ جولائی ١٩٤٨ میں کیپٹن محمد سرور پاک فوج کے پہلے جانباز تھے، جنہیں پاکستان کے اعلٰی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
اگست ١٩٥٨ میں جب بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان کے کچھ علاقوں میں اپنے مورچے قائم کر لیے تھے۔ تب پاک فوج کی کمانڈ میجر طفیل محمد کے ہاتھوں میں تھی۔ اور انھوں نے اپنی جان کا نذارانہ پیش کرتے ہوئے، نشانِ حیدر حاصل کیا۔
٦ ستمبر ١٩٦٥ جب ساری قوم نیند کی آغوش میں تھی، تب دشمن نے شب خون مار کر پاک سر زمین کو تاراج کرنے کی ناکام خواہش کا اظہار کیا۔ تب ہماری فوج نے نہایت ہی جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ جہاں اس جنگ میں کئی فوجیوں نے داغِ شجاعت دیتے ہوئے کئی اعزازت حاصل کیے۔ وہیں راجہ عزیز بھٹی کو اعلٰی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
کچھ سال سنبھلنے اور سازشوں کا جال پھیلانے کے بعد ایک بار پھر دشمن نے جارحیت کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا۔ راشد مہناس ٢٠ اگست ١٩٧١ کو جب وہ پاک ائیر فورس میں زیرِ تربیت تھے اپنی معمول کی پرواز کے لیے اپنے جہاز کو رن وے پرلیے جا رہے تھے کہ اچانک سے ایک انسٹکٹر بہانے سے جہاز کے اندر داخل ہو گیا۔ اور جہاز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ راشد مہناس کو جیسے ہی احساس ہوا کہ جہاز کا رخ بھارت کی طرف ہے۔ تو اس نے جہاز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن جب بھارت کی سرحد ٤٠ میل دور رہ گئی تو اپنی جدوجہد کو لاحاصل دیکھ کر راشد مہناس نے اپنی جان پر وطن کی آن کو ترجیح دیتے ہوئے جہاز کا رخ زمین کی طرف کر دیا۔ راشد مہناس کو نشانِ حیدر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ آپ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سب سے کم سن جانباز ہیں۔
اور اس جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ، سوار محمد حسین، میجر محمد اکرم، میجر شبیر شریف نے نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔
مئی ١٩٩٩ میں کارگل کے معرکے میں دو شہیدوں کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان نے نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔
ہمیں فخر ہے، ہماری اس فوج پر جس کا ہر سپاہی جامِ شہادت نوش کرنے کے لیے بے چین نظر آتا ہے۔ اور جس قوم کے ایسے جانباز سپاہی ہوں۔ اس ملک کی طرف کوئی دوسرا میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں البتہ، ہم خود یہ کام بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں۔اللہ ہمارے ملک اور ہماری پاک فوج کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اس کی عزت میں کوئی فرق نہ آئے۔ آمین۔
چھ ستمبر (تجدید عہد)
بہت ہی مبارک ہے آج کا دن
کہ ہم کو ملی آرزوؤں کی منزل
وہ بہنوں کے بھائی
وہ ماؤں کے بیٹے
جنہوں نے کٹائے تھے سر زمین پر
ارادے جو ناپاک تھے دشمنوں کے
بری طرح ناکام ان کو بنایا
مری قوم کے وہی جیالے سپاہی
ہوئے سرخرو حق کے میدان میں سب ہی
سلام ان جیالوں کو صبح وطن کا
ہر غنچہ و گل کا ، سر و سمن کا
حسیں چھ ستمبر کی ضوبار کرنو!
یہ جذبات کے رنگ لانے کا دن ہے
قدم آگے بڑھانے کا دن ہے
مجھے یہ دونوں نغمے بہت پسند ہیں۔ جتنی بار سنوں کم ہی ہوتا ہے۔
نوٹ: اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں اتنی لائق ہو گئی ہوں کہ باقاعدہ مہینوں اور سال کے ساتھ لکھا ہے ، تو آپ کی غلط فہمی ہے۔ یہ ساری انفارمیشن میں نے ڈاکومنٹری میں سنی تھی۔ اور پھر اسے لکھ دیا۔:p
محب علوی سے آج بلاگز کے حوالے سے بات ہو رہی تھی کہ میں نے ایسے ہی پوچھا کہ آپکے بارے میں ہجو نہ لکھ ڈالوں۔۔؟ مسکراہٹ کے ساتھ جواب ملا “ہاں نا“۔ اب معلوم نہیں کہ “ہاں“ کہہ رہے تھے یا “نا“۔ بہرحال خوشی سے میں نے اندازہ لگایا کہ “ہاں“ ہی کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے کہا کہ تعریف تو میں نے بالکل نہیں کرنی، اس لیے برا بالکل نہ منانا۔ جواب ملا کہ “نہ کرنا، طنز لکھو ہر کسی نے یہی لکھا ہے“۔ اس جملے کو پڑھنے کے بعد میرا ارادہ بدل گیا۔(لیکن مکمل ارادہ نہیں بدلا) محب علوی کبھی کبھی مجھے بالکل ایک معصوم بچے کی طرح لگتے ہیں۔ حالانکہ اتنے بھی معصوم نہیں ہیں۔
جنوری ٢٠٠٦ میں اردو محفل پر محب علوی کی آمد ہوئی۔ اور آتے ساتھ اپنے تعارف کا تھریڈ “آگئے ہیں ہم تو گرمی بازار دیکھنا “ کھولا۔ میرا خیال ہے تب محب نے بالکل درست کہا تھا اور آج واقعی گرمئی بازار دکھا رہے ہیں۔ حالانکہ محب کے مزاج میں گرمی کھانا بالکل بھی نہیں ہے۔ محب نہایت ہی تحمل مزاج کے مالک ہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں جذباتیت دکھا ہی جاتے ہیں۔
محب علوی کے بارے میں چند ایک لوگ لکھ چکے ہیں۔ لیکن پھر بھی محب کا دل نہیں بھرا اور ان کا دل ہوتا ہے کہ ہر کوئی ان کے قصیدے ہی پڑھتا رہے۔ نبیل بھائی نے محب علوی کے لیے ایک بہت ہی زبردست جملہ لکھا کہ “محفل پر اگر کوئی خاتون آ جائے تو محب علوی ان کے سامنے قالین ہو جاتے ہیں۔ ان کی بانچھیں کھل جاتی ہیں۔“ یہ بات حقیقت ہے لیکن جانے محب علوی کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے یا کیا معاملہ ہے کہ میرے علاوہ محب کو کبھی کسی سے جوتیاں نہیں پڑیں،(کھری کھری سنانا)۔:P محب علوی اب میرا خیال تیس سال کے بابے ہو چکے ہیں لیکن ان کی باتوں سے ایسے لگتا ہے کہ بائیس سال کا کوئی لڑکا ہو۔ محب علوی کی معصومیت کہ اپنے قصے بڑے فخریہ انداز میں خود ہی سناتے ہیں۔ قصے سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب محب علوی کو لڑکیوں سے کھری کھری کیوں نہیں سننا پڑتیں۔ اصل میں محب بچپن سے ہی ایسا مزاج رکھنے کی وجہ سے اب تک اس کام میں تجربہ کار ہو چکے ہیں۔ جانے تجربہ حاصل کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنا پڑے ہوں گے۔ اور شاید اسی وجہ سے اب تک یہ اتنے ٹھنڈے مزاج کے ہو چکے ہیں۔
“باتیں بنانا“ میرا خیال ہے ایک بہت مشکل کام ہے۔ دوسرا بہترین کام ان کو باتیں بنانے کا آتا ہے۔ کام کم کریں گے اور باتیں زیادہ۔ ان کی باتیں سن کر بندہ “واہ واہ“ کہہ اٹھتا ہے۔ اب جو ان کو جانتا نہیں ہے وہ تو اچھا بھلا ان کی باتوں میں آ جاتا ہے۔ اسی لیے میں ساتھ ساتھ سب کو خبردار کرتی رہتی ہوں کہ محب علوی کی باتوں میں جو آ گیا وہ کام سے گیا۔ پہلے دن سے ہی میرے اور محب کے درمیان جنگ رہی ہے۔ اور ان لڑائیوں کی وجہ سے مجھے کئی بار (باجو سے) ڈانٹ بھی پڑ چکی ہے۔ لیکن جب تک محب کو کچھ سنا نہ لوں مزہ نہیں آتا۔ محب اس لحاظ سے بہت اچھے ہیں کہ محب نے شروع میں ایک دو بار کے بعد مجھے کبھی کھری کھری نہیں سنائیں۔ شاید ان کو اب تک اندازہ ہو چکا ہے کہ “مجھ سے بڑا ڈھیٹ کوئی نہیں، اس لیے بہتر ہے خاموش رہا جائے۔“ بس اسی وجہ سے میری ہمت بڑھی اور میں نے اس کام میں ترقی ہی کرتی گئی۔ کبھی کبھی مجھے بہت حیرت ہوتی ہے کہ کیا کوئی واقعی ایسا بھی ہوتا ہے جو اتنا سننے کے بعد بھی کچھ نہ کہے۔ اور پہلے کی ہی طرح ہنس کے بات کرتا رہے۔ شاید محب کی اسی عادت کی وجہ سے کبھی میری یہ عادت ختم ہو جائے، لیکن ابھی تو کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
محب علوی دو بار الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ اور دونوں ہی بار بہت بری طرح پِٹ چکے ہیں۔ اور ابھی بھی ان کا شوق ختم نہیں ہوا۔ ایک بار پھر پِٹنے کے لیے الیکشن میں کھڑا ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ محب علوی کو ہر بار ہی آسٹریلیا، امریکہ کی حسینائیں ووٹ دینے کا وعدہ کر کے دغا دے جاتی ہیں۔ اب کی بار دیکھیں کہ اپنی پچھلی غلطیوں سے کچھ سیکھتے ہیں یا نہیں۔ ویسے اب سننے میں آیا ہے کہ محب کافی بدل چکے ہیں۔ خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محب نے خواتین سے دوستیاں کم کر دی ہیں۔ کیونکہ ان کے مسینجر میں کوئی پچاس (یا اس سے زیادہ) کے لگ بھگ خواتین ایڈ ہو چکی تھیں۔ اب اگر ایک وقت میں پانچ بھی آن لائن ہو جاتیں تو ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ اور آجکل تو بیگم بھی بیلنا لے کر سر پر کھڑی ہوتی ہیں۔ باقاعدہ اجازت لے کر انٹرنیٹ یوز کرنا پڑتا ہے۔ اکثر رات کو یہ آفس میں بھی پائے جاتے ہیں۔ استفسار پر یہی کہا جاتا ہے کہ آفس میں کام بہت ہے۔ اور دوسری طرف اردو محفل پر باتیں اور چیٹنگ پر مصروف ہوتے ہیں۔
ابھی بہت کچھ ذہن میں ہے لیکن آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ شاید پھر کسی دن رونا رونا پڑ جائے۔ مختصر یہ کہ جو بھی ہو محب علوی ہمارے ایک بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔ مجھے ان سے سیکھنے کو بھی بہت کچھ ملا۔ بقول محب کے ہی کہ یہ اتنے بڑے بڑے خطبے جو میں کرتی ہوں یہ انہی کی بدولت ہے۔lol محب ایک بہت اچھے دوست بھی ہیں۔ جن پر آپ مکمل اعتماد بھی کر سکتے ہیں۔ میں خود محب سے ہر بات گرم اختلاطی سے کر جاتی ہوں۔ کیونکہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ محب کسی بات کا برا نہیں منائے گا یا مجھے کوئی ڈر نہیں ہوتا کہ میری کوئی بات کسی کو بتا دے گا۔