Aug 16 2007

مرغی کی ایک ہی ٹانگ

شائع کیا: ماوراء at 3:07 pm زمرہ: ناروے نامہ

553 بار دیکھا گیا

ناروے میں آج تقریباً ستر ہزار مسلمان ہیں۔ اور ان میں زیادہ کی تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ ہماری پاکستانی کمیونٹی اکثر کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی رہتی ہے۔ کبھی ہماری نوجوان نسل کے آپس کے جھگڑے تو کبھی ہمارے جذباتی بھائی عزت کے نام پر بہنوں کو قتل کرتے پھرتے ہیں۔ دوسری طرف کبھی مسجد کی امامت کا مسئلہ تو کبھی ہمارے مولویوں کے نت نئے فتوے ۔۔۔۔

آجکل ہمارے ہاں یعنی ناروے اور سویڈن کی مرغیاں زیرِ بحث ہیں۔ پچھلے ہفتے ناروے کے علماء اور اسلامی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا کہ “ناروے اور سویڈن میں فروخت ہونے والی مرغیوں کے ذبح کرنے کا طریقہ کار غیر شرعی ہے اور ان مرغیوں کا کھانا حرام ہے۔“ اسلامی کونسل کے سربراہ کے اس فتویٰ پر دستخطوں کے ساتھ ایک متفقہ فیصلہ پریس کانفرنس میں بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ یہاں مرغیاں ذبح کرنے سے پہلے گیس سے بے ہوش کی جاتی ہیں۔ اور اس دوران گیس کی زیادہ مقدار کی وجہ سے کئی مرغیاں مر جاتی ہیں۔ اور اس طرح مری ہوئی اور بے ہوش مرغیاں مکس ہو جاتی ہیں۔ اور علماء کی تحقیق کے ہی مطابق دس فیصد مرغیاں مر جاتی ہیں۔ اور انھیں بھی ذبح کر لیا جاتا ہے۔ ہمارے علماء دین آجکل حکومت سے اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے دیسی سٹورز کے کچھ مالکان کا کہنا تھا کہ ہمارے علماء مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرغیاں ذبح کرتے وقت جانوروں کا ڈاکٹر یا کھانے پینے کی دیکھ بھال کرنے کا نمائندہ موجود ہوتا ہے جو دیکھتا رہتا ہے کہ بلیڈ تک پہچنے سے پہلے کوئی مرغی مر تو نہیں گئی۔ اس کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر مرغی کا خون نکلا تو اسے زندہ مانا جائے گا اور اگر خون نہ نکلے تو اسے مردہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ جبکہ کھانے پینے کی دیکھ بھال کے نمائندے نے پوچھنے پر بتایا تھا کہ “ایک فیصد یا اس سے کچھ زیادہ مرغیوں کا خون تو پوری طرح نکل تو آتا ہے لیکن ان کے متعلق یقینی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔“

سننے میں آیا ہے کہ گزشتہ سال سے ذبح ہونے والی مرغیوں کا مسئلہ چل رہا تھا۔ اور ہمارے علماء نے تو یہ مرغیاں اپنے اوپر حرام کر لی ہوئیں تھیں۔ لیکن اب انھوں نے اپنے اس فیصلے کو عوام پر بھی لاگو کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب اس ساری صورتِ حال یہ کئی سوال ذہن میں اٹھتے ہیں۔۔۔
١۔ آج سے تقریباً تیس چالیس سال پہلے پاکستانی (مسلمان) یہاں آئے۔ تو کیا ان چالیس سالوں میں اب تک مسلمان حرام گوشت کھاتے آئے ہیں؟
٢۔ دوسری بات کہ کسی دوسرے مسلمان ملک کے علماء یا مولویوں کی طرف سے ہمیں آج تک ایسی باتیں سننے میں کیوں نہیں ملتیں، یا صرف ناروے میں پاکستانی علماء ہی ہیں؟
٣۔ کیا اب سب مسلمان مرغی کھانا چھوڑ دیں گے؟
٤۔ یا اب ہمیں یہاں پاکستان کی طرح مرغیوں کو ذبح کرنے کا انتظام کرنا ہو گا؟
٥۔ پانچویں بات کہ کیا علماء دین فتویٰ لگا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں تو یہ کام مفتی کا ہوتا ہے۔

بہرحال جو بھی ہے۔ ہمارا تو فریزر گوشت سے بھرا پڑا ہوا ہے۔ ہم نے تو کل بھی مرغی ہی بنائی ہوئی تھی۔ علماء اپنے فتوے لگانے میں مصروف ہیں، تو گوشت فروخت کرنے والے فروخت کرنے میں مصروف ہیں اور گوشت کھانے والے کھانے میں مصروف ہیں۔ ہر کوئی اپنی ہی بات کر رہا ہے اور اپنے اپنے ہی نظریے پیش کر رہا ہے۔

20 تبصرے

20 تبصرے “مرغی کی ایک ہی ٹانگ”

    MyAvatars 0.2
  1. shakuftey
    on 16 Aug 2007 at 3:57 pm

    :)
    ماوراء وہ طاہرہ سید اور ان کی امی کی ایک پیروڈی ہے ناں انگوٹھیوں والی اس کی طرز پر

    ہائے میری وہ مرغیاں….
    ہائے میری یہ مرغیاں
    ابھی تو کھائیں بھی نہیں….. !!
    ابھی پکائی بھی نہیں…. !!
    یہ ناروے کی مرغیاں
    وہ ناروے کی مرغیاں
    سویڈن کی بھی مرغیاں
    ایک سے ایک لذیز تر
    ……
    …….

    مگر یہ فتویٰ اب لگا… !

    ماوراء مجھے اس کے سب بول یاد نہیں ورنہ پوری پیروڈی ہوجاتی ابھی یہاں

    :) :)

    اس تبصرے کا جواب دیں

  2. MyAvatars 0.2
  3. زکریا
    on 16 Aug 2007 at 5:48 pm

    آپ کے علماء تو بہت سست لگتے ہیں. ہمارے ہاں تو ایک مولوی صاحب نے فتوٰی دے دیا تھا کہ رمضان میں مسجد میں افطاری حلال نہیں کہ وہ گارنٹی نہیں دے سکتے کہ افطاری ڈونیٹ کرنے والے مسلمان صرف حلال کی کمائی سے افطاری لا رہے ہیں.

    اس تبصرے کا جواب دیں

  4. MyAvatars 0.2
  5. ماوراء
    on 16 Aug 2007 at 6:54 pm

    شگفتہ، lol یہ تو آپ نے بہت مزے کی پیروڈی کر دی۔ میں نے یہ سنا تو نہیں ہوا۔ اگر سنا ہوتا تو اس پیروڈی کا زیادہ مزہ آتا۔

    زکریا، آپ کے ہاں کے مولوی تو لگتا ہے اب تک ہر چیز پر فتویٰ لگا چکے ہیں، اور اب جب کچھ نہ ملا تو اس بات پر لگا دیا۔ ویسے لگتا ہے مولویوں کو اور کوئی کام نہیں۔ بس کچھ نہ کچھ ڈھونڈ رہتے ہیں کہ کس بات پر فتویٰ لگایا جائے۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  6. MyAvatars 0.2
  7. امن
    on 17 Aug 2007 at 9:53 am

    ہائے۔۔۔،مرغیاں :(
    ماوراء میرا تعلق کسی فرقے اور گروہ سے تو نہیں ہے۔۔مجھے تو بس بےچاری مرغیوں پر ترس آرہا ہے۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  8. MyAvatars 0.2
  9. محب علوی
    on 17 Aug 2007 at 12:13 pm

    ماورا تمہاری پوسٹ پڑھ کر مجھے ایک اردو کا محاورہ یاد آگیا

    دو ملاؤں میں مرغی حرام

    ویسے یہ مسئلہ کسی حد تک انگلینڈ میں بھی موجود ہے مگر وہاں اتنا بڑا نہیں. اس مسئلہ کا ایک حل تو یہی ہے کہ حلال ذبح کرنے والوں کی بات پر یقین کر لیا جائے کہ اس سے زیادہ آپ نہیں کر سکتے اور دوسری طرف ذبیح خانوں پر چیک اور بیلنس بڑھایا جائے کیونکہ

    مسلمانوں ایک گوشت خور قوم ہے اور وہ سبزیوں پر زندہ نہیں رہ سکتی :)

    اس تبصرے کا جواب دیں

  10. MyAvatars 0.2
  11. ماوراء
    on 17 Aug 2007 at 1:55 pm

    امن، سچی سے مجھے بھی مرغیوں پر بہت ترس آ رہا ہے۔ کتنے مزے سے ہم لوگ ان کو ذبح کرنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

    محب علوی، یہاں جو حلال گوشت بیچتے ہیں وہ تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں شرطیہ حلال گوشت ہے۔ اب معلوم نہیں کہ وہ سچ کہتے ہیں یا ہمارے علماء۔ آپ تو کہہ رہے ہیں کہ ذبیح خانوں پر بیلنس بڑھایا جائے تو میں کہتی ہوں کہ ان ملکوں میں رہنا ہی نہیں چاہیے۔:p

    اس تبصرے کا جواب دیں

  12. MyAvatars 0.2
  13. راہبر
    on 17 Aug 2007 at 11:12 pm

    شکر ہے کہ آپ کا بلاگ مولوی صاحبان کی نظر سے بچا ہوا ہے ورنہ کل کو اس پر بھی کوئی فتویٰ لگ سکتا تھا… ;)

    اس تبصرے کا جواب دیں

  14. MyAvatars 0.2
  15. ماوراء
    on 18 Aug 2007 at 7:02 am

    راہبر، مولوی تو پہنچے ہوئے لوگ ہوتے ہیں ان کو الہام بھی ہو جاتا ہے۔ اگر میں اسی طرح مولویوں کے بارے میں لکھتی رہی تو ایک دن ضرور یہاں آ ٹپکیں گے۔:p

    اس تبصرے کا جواب دیں

  16. MyAvatars 0.2
  17. محب علوی
    on 18 Aug 2007 at 5:58 pm

    چلو ماورا مولوی حضرات سے زیادہ نہ الجھنا ابھی تم نے مولویوں کی مدد سے ایک اہم فریضہ بھی سر انجام دینا ہے :)

    اس تبصرے کا جواب دیں

  18. MyAvatars 0.2
  19. ماوراء
    on 18 Aug 2007 at 8:25 pm

    lol۔ یہ تو آپ نے شکر ہے یاد کروا دیا، ورنہ میرے ذہن میں یہ بات ہی نہیں آئی تھی۔ نہیں بھئی، میں تو مولوی حضرات کی بہت عزت کرتی ہوں۔:p

    اس تبصرے کا جواب دیں

  20. MyAvatars 0.2
  21. مرغ مُسلم at بدتمیز
    on 22 Aug 2007 at 1:20 am

    [...] نے ابھی چند دنوں پہلے مرغ کی مرگ پر ایک مضمون لکھا۔ زکریا بھی مسلمانوں کے معجزوں کی detail [...]

  22. MyAvatars 0.2
  23. اجمل
    on 22 Aug 2007 at 8:38 am

    مجھے تو مولویوں پر رشک آ رہا ہے کہ ہماری قوم کی اکثریت میں ہر وقت انہی کا چرچہ رہتا ہے ۔ کمال تو یہ ہے کہ بھائی لوگ اور بیبیاں سب کی اکثریت مولویوں کو جاہل کہتے ہیں مگر مولویوں کے بغیر ایک قدم آگے نہیں چلتے ۔ نکاح پڑھانا ہو تو مولوی ۔ بچہ پیدا ہو تو مولوی کان میں اذان دے ۔ بچے نے قرآن شریف پڑھنا ہو تو مولوی ۔ کوئی مر جائے تو مولوی نماز جنازہ پڑھائے ۔ کوئی بیمار ہو تو مولوی دَم کرے ۔ کوئی نذر نیاز کرنی ہو تو مولوی کو ختم دینے کیلئے بلاؤ۔ ویسے مجھے آج تک نہیں معلوم کہ یہ ختم دلانا کیا ہوتا ہے ۔ قرآن شریف ختم کرنا ہے مولوی کو بلاؤ ۔ اللہ جانے اور کتنے کاموں کیلئے مولوی کو بلایا جاتا ہے لیکن جن مولوی کی بات پسند نہ ہو تو مولوی جاہل اور پتہ نہیں کیا کچھ ہو جاتا ہے ۔ کبھی کسی نے سوچا کہ آج اگر ہم مسلمان ہیں تو اسی مولوی کی وجہ سے اور اگر ہم دین کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسی مولوی کی جاہلیت کی وجہ سے ۔ ویسے دنیا میں جاہل صرف مولویوں میں نہیں پائے جاتے بلکہ جدید علوم کے ماہرین میں بھی جاہل پائے جاتے ہیں ۔
    اگر ہم پڑھے لکھے اور ذہین ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم کسی کے عیب گنتے رہنے کی بجائے اس کی بے ضرر طریقے سے راہنمائی کی کوشش کریں ۔ ورنہ ہم بھی اس مولوی کی طرح جاہل ہوئے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  24. MyAvatars 0.2
  25. ماوراء
    on 22 Aug 2007 at 1:34 pm

    السلام علیکم اجمل انکل، میں نے اپنی پوسٹ ایک بار پھر سے پڑھی ہے کہ کہیں انجانے میں میں نے مولویوں کو جاہل تو نہیں کہہ دیا۔ اجمل انکل، مجھے لگتا ہے کہ ہمارے مولوی اپنا چرچہ خود کروانا چاہتے ہیں اور شاید اسی لیے ہر روز کوئی نہ کوئی نئی بات عوام تک پہنچا دیتے ہیں۔اور ایک عام بندہ مذہب کے بارے میں جتنا علم رکھتا ہے وہ سب کو ہی معلوم ہے۔حقیقت میں جاہل ہم ہیں جو مذہب کو جانے اور اس کے مطالعے کے بغیر ہی قیاس آرائیاں شروع کر دیتے ہیں۔لیکن ہمارے مولویوں کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم تک اس طریقے سے بات پہنچائیں کہ اس میں شک و شبہے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ہم لوگ لکیر کے فقیر قسم کے لوگ ہیں، ایک نئی بات کو قبول کرنے میں ہمیں بہت دقت ہوتی ہے۔
    میں نے اپنے مضمون میں یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ چالیس سال سے ان علماء کو اس بارے میں خیال کیوں نہیں آیا۔ کیا انھوں نے اب تک حلال و حرام کی تحقیق نہیں کی تھی۔ اور اب ایک سال پہلے ان کو معلوم بھی ہو گیا تھا تو عوام کو اس سے بے خبر کیوں رکھا گیا۔۔۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  26. MyAvatars 0.2
  27. ساجداقبال
    on 23 Aug 2007 at 2:19 am

    ماوراء آپکو تو ”دیر آید درست آید“ کہنا چاہیے تھا۔۔۔نہ کہ ”مولویوں“ پر تنقید۔ ویسے سب سے آسان کام آجکل یہی ہے۔ :smile:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  28. MyAvatars 0.2
  29. ماوراء
    on 23 Aug 2007 at 10:29 am

    ساجد، تنقید۔۔۔؟؟؟ میں نے تو حقیقت بیان کی ہے نا کہ تنقید۔ اور آج نہیں ہمیشہ سے ہی تنقید کرنا آسان رہا ہے۔اور ہم پاکستانی ہوں اور تنقید نہ کریں یہ تو مشکل ہے۔ مجھے ایک بات یاد آ رہی ہے جو کہ مجھے میری دوست نے ایک بار سنائی تھی کہ ایک بار ایک پینٹر نے اپنی بنائی ہوئی تصویر کو ایک بڑی سڑک کے ایک طرف رکھ دیا اور وہاں لکھا کہ اس تصویر کی خوبیوں یا جو آپ کو اس تصویر میں اچھا لگ رہا ہے اسے پوائنٹ آؤٹ کریں۔ پینٹر ایک دن کے بعد تصویر کو دیکھنے گیا تو وہاں صرف ایک شخص نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ پھر اس نے اس تصویر میں خامیاں تلاش کرنے کے لیے لکھ دیا۔ اس سے اگلے دن پینٹر جب وہاں گیا تو اس کی تصویر پر لوگوں نے جی بھر کر تنقید کی ہوئی تھی کہ یہاں سے اچھی نہیں بنی ، ایسی بنانی چاہیے تھی وغیرہ وغیرہ ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ غلط چیز انسان کو جلد اور پہلے دکھائی دیتی ہے اور انسان میں جو فطری یا ماحولیاتی عادات بن جاتی ہیں ان سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہوتا۔
    ایک بات اور۔۔۔جیسا کہ آپ نے مجھے کہا کہ میں مولویوں پر تنقید پر کر رہی ہوں، تھوڑا سا غور فرمائیے تو آپ کو احساس ہو گا کہ آپ بھی مجھ پر یا میری تحریر پر تنقید ہی تو کر رہے ہیں۔ :smile:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  30. MyAvatars 0.2
  31. ساجداقبال
    on 23 Aug 2007 at 11:25 pm

    میں بھی پاکستان اور تو بھی پاکستان ہے :cool:

    اس تبصرے کا جواب دیں

  32. MyAvatars 0.2
  33. اجمل
    on 27 Aug 2007 at 4:16 am

    ماوراء صاحبہ ۔ السلام علیکم و رحمة اللہ ۔
    نہیں آپ نے جاہل نہیں کہا ۔ آپ نے صرف ایک واقعہ بیان کیا ہے جس میں مولوی کی غلطی ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی ۔ مسئلہ یہ ہے کہ مولوی بھی ہماری طرح کا انسان ہے ۔ اگر وہ جاہل ہے تو اسلئے کہ اس کی بہتری کیلئے ہم نے آج تک کوشش نہیں کی ۔ عصرِ حاضر کے مولوی ۔ مدرسے اور اسلامیات کی تعلیم کے سلسلہ میں میں نے دو سال قبل ایک صاحب کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حالات و واقعات کا تجزیہ کیا تھا ۔ اگر آپ وقت نکال سکیں تو میرے بلاگ پر جا کر بائیں حاشیہ میں خزانۂ تحاریر کے نیچے اگست 2005 پر کلک کیجئے ۔ صفحہ کھُلنے پر
    Previous Entries
    پر کلک کیجئے ۔ نیا صفحہ کھُل جائے تو اس میں پہلے 8 اگست اور پھر 11 اگست 2005 کی تحریر پڑھیئے ۔ پھر
    Next Entries
    پر کلک کیجئے اور 16 اگست پھر 20 اگست پھر 24 اگست پھر 28 اگست اور پھر 29 اگست کی تحریر پڑھیئے ۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  34. MyAvatars 0.2
  35. اجمل
    on 27 Aug 2007 at 5:11 am

    معذرت ۔ میں آخری قسط کا حوالہ دینا بھول گیا ۔ ساتویں اور آخری قسط یہاں پر ہے
    http://iftikharajmal.wordpress.com/2005/09/02

    اس تبصرے کا جواب دیں

  36. MyAvatars 0.2
  37. ماوراء
    on 27 Aug 2007 at 5:48 pm

    وعلیکم السلام اجمل انکل۔
    آپ کی بات سے میں متفق ہوں۔ اور میں نے ابھی آپ کی بتائی ہوئی تحاریر میں سے ایک پوسٹ پڑھی ہے۔ انشاءاللہ باقی بھی جلد ہی پڑھوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی تحریروں سے مجھے جاننے کو بہت کچھ ملے گا۔ بہت شکریہ۔

    اس تبصرے کا جواب دیں

  38. MyAvatars 0.2
  39. [...] کہنے لگے کہ حلال ہے۔ پھر پچھلے سال فتویٰ لگا دیا کہ جی مرغیاں حرام ہیں،گھر میں موجود مرغیوں کو پھینک دیں، بعد میں کہنے [...]

ٹریک بیک یو آر آئی | تبصرہ جات آر ایس ایس

اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔