15
دیس کے رنگ نرالے
اشاعت: ماوراء92 بار دیکھا گیااکثر توقعات پوری نہ ہونے پر ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے یا شاید ہم بعض اوقات اپنی توقعات کو کسی حوالے سے کچھ زیادہ ہی بڑھا لیتے ہیں۔ اس بات کااحساس مجھے اپنی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد ہی ہو گیا تھا۔
اپنے وطن نہ گئے ہوئے مجھے پانچ سال کا عرصہ پانچ صدیوں کے برابر محسوس ہوتا رہا۔ ہر پل اپنے ملک جانے کی خواہش دل میں کہیں جاگی رہی۔ تقریباً ہر کسی سے میں ہمیشہ یہی سنتی رہی کہ “پاکستان میں کوئی زندگی نہیں ہے۔ نہ سہولیات، نہ آزادی۔ ہم تو یہیں کے عادی ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور ہمارے بچے جو ہمیشہ سے یہیں ہیں وہ تو پاکستان کے ماحول میں کبھی گزارہ ہی نہیں کر سکتے۔“ اکثر ان کی باتیں سننے کے بعد مجھے بہت غصہ آتا اور کچھ سے تو میں اچھی بھلی بحث بھی کر لیتی۔ سوچتی جانے یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے ہی ملک میں جانے سے اتنا کتراتے اور گھبراتے ہیں۔
تقریباً سبھی مجھ سے کہتے کہ تم “ابھی تو بہت باتیں کرتی ہو بس ایک بار پاکستان سے ہو آؤ، اس کے بعد ہم تمھاری رائے پوچھیں گے۔“ اس عرصے میں میرا کچھ ایسے لوگوں سے بھی پالا پڑا۔ جن کی سوچ کو میں نے چند مہینوں، دنوں میں بدلتے دیکھا۔ جو پاکستان سے آنے کے شروع دنوں میں تو پاکستان واپس جانے کی بات کرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصے میں انھیں وہ ملک، اپنے ملک سے زیادہ عزیز ہو جاتا ہے۔ میں نے تو یہاں تک سنا کہ “ناروے بہترین ملک ہے“ اب شاید وہ کسی اور ملک میں رہتے تو یہی کہتے۔لیکن بس اپنے ملک کے لیے شاید دو اچھے بول نہ بول سکتے تھے۔
خیر۔۔۔آخری دنوں میں انتظار کچھ زیادہ ہی لمبا ہوتا گیا۔ پیکنگ تو میں تقریباً ایک مہینہ پہلے ہی شروع کر چکی تھی۔ جو کہ آخری دن ہی مشکل سے مکمل ہوئی۔ پھر وہ دن آ ہی گیا جس کا مجھے بے چینی سے انتظار تھا۔ جانے سے پہلے کئی جاننے والوں نے پاکستان میں رہنے والوں کو سلام دینے کو کہا اور کئی کا تو یہ بھی دل چاہا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی پاکستان چلے جائیں۔
بے شک اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے۔ وہ مزہ، احساس کہیں اور نہیں ہوتا جو اپنے ملک میں ہے۔ اپنی زبان، اپنے لوگ حتٰی کہ سب کچھ اپنا ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اور شاید یہ بھی سچ ہے کہ غیر ملک میں رہ کر ہی میں نے اپنے ملک، زبان اور اپنے لوگوں کی قدر کرنا سیکھی۔
پاکستان جانے کی خوشی تو مجھے تھی ہی۔۔۔۔لیکن مجھے اس سے زیادہ اس بات کی خوشی ہو رہی تھی کہ میرے کچھ دوستوں کو میری خوشی کا پورا احساس تھا۔اور دورانِ سفر جہاں تک ممکن تھا انہوں نے مجھ سے پورا رابطہ رکھنے کی کوشش کی۔
دورانِ سفر اس بات کا تو میں نے بخوبی اندازہ لگایا کہ پاکستانی چاہے جہاں بھی رہ لیں اپنی عادتیں، طور طریقے ہر حال میں اپنائے ہی رکھتے ہیں۔ جہاں اگر پاکستانی اصولوں اور قانون پر عمل کرنے والے ہیں تو وہاں پاکستانیوں جتنا بے اصول اور قانون کی قدر نہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ بہرحال ان ٧ گھنٹے کے ہوائی سفر میں میرا جو حال ہوا وہ ناگفتہ بہ ہے۔ اتنا بور سفر کبھی میں نے زندگی میں نہیں کیا تھا۔
میرا خیال تھا کہ اپنی سرزمین پر قدم رکھتے ہی شاید خوشی سے میری آنکھیں چھلک جائیں گی۔ لیکن ایسا کچھ ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔ اتنے اکتا جانے والے سفر کے بعد ساری کمی ائیرپورٹ پر پوری ہو گئی تھی۔ وہاں مجھے جانے کیوں سیکیورٹی والوں کو دیکھ کر لگا کہ یہ سب اپنے گھروں سے لڑائی کر کے جاب پر آئے ہیں۔ ان کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ نہ تھی۔ منہ میں تو شاید زبان ہی نہ تھی، ہاتھوں سے اشارہ کرنے پر مجھے کچھ ایسا ہی لگا۔ جوں جوں میں آگے بڑھ رہی تھی جانے کیوں مجھے لگا کہ کئی آنکھیں میرا تعاقب کر رہی ہیں۔گھورے بغیر تو شاید پاکستانیوں کا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا۔
ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی کچھ بچے ارد گرد ہو گئے پتہ چلا کہ اللہ کے نام پر کچھ مانگ رہے ہیں۔ مجھے ان پر ترس آیا۔ امّی کے منع کرنے کے باوجود میں نے ان کو کچھ دینے کے لیے بیگ سے کچھ سکے نکالے۔ اور ان کو تھما دئیے۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک بچہ ابھی بھی پیچھے پیچھے آ رہا ہے۔مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کہ اتنے تو دیے ہیں اب اور کیا دوں۔۔۔۔۔میرے اور کچھ نہ دینے پر وہ تقریباً غصے کی حالت میں پہلے والے بھی واپس دے کر چلا گیا۔ میں عالم حیرت میں ڈوبی چند لمحوں کے لیے تو کھڑی کی کھڑی ہی رہ گئی۔ گاڑی کے پاس جانے تک کئی مانگنے والے آئے لیکن میرا خیال ہے ایک تجربہ ہی میرے لیے کافی تھا۔ نروس بریک ڈاؤن تو میرا اس وقت ہوا جب مجھے یاد آیا کہ “ہاں پاکستان میں کچھ بےہودہ لوگ آوازیں کسنے میں بھی ماہر ہوتے ہیں۔اور خاص طور پر ایسی جگہوں پر ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہے۔“ شاید زیادہ عرصہ ایسے ماحول سے دور رہنے کی وجہ سے مجھے یہ سب کچھ بہت ہی عجیب لگا تھا۔ اس وقت میرا دل یہی چاہا کہ میں ابھی اسی وقت واپس لوٹ جاؤں۔ لیکن۔۔۔بے سود۔۔۔!!
گھر تک کے سفر میں نجانے کیسے کیسے خیالات میرے ذہن میں آتے رہے۔ شاید میں پاکستان کے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچ بیٹھی تھی۔لیکن وہاں قدم رکھنے کے بعد ہی معلوم ہو گیا کہ یہ ملک ویسے کا ویسا ہی ہے۔ لیکن ۔۔۔ میں تو اس عرصے میں بہت بدل گئی تھی مگر یہاں کے لوگ تو ویسے کے ویسے ہی تھے جیسا میں انہیں چھوڑ کر گئی تھی۔ لیکن میں یہ بھی نہیں کہتی کہ اچھے لوگوں کی کمی ہے۔ خیر۔۔۔پہلے دن کا اثر مجھ پر تقریباً دو ہفتوں تک رہا۔ اور یہ دو ہفتے میں بیمار بھی پڑی رہی۔ گھر والوں سے اب طعنے سننے پڑے کہ “اور کہو کہ پاکستان ہی جانا، پاکستان ہی رہنا ہے۔۔۔۔۔اور بہت بھی کچھ۔۔۔۔“
نہ جانے کیوں مجھے اپنے ہی ملک میں تحفظ کا احساس بالکل نہ ہوا۔ اپنے ہی لوگوں کی آنکھوں سے مجھے انجانا سا خوف محسوس ہوتا رہا۔ ایک اور بات جو میں نے محسوس کی کہ وہاں لوگوں کو اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر ہوتی ہے۔اپنے حالات کے بجائے دوسروں کے حالات کو پہلے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اور باتیں کرنے اور بنانے میں تو ہمارا کوئی ثانی نہیں۔
مجھے امید تھی کہ پاکستان میں کچھ نہ کچھ ضرور تبدیلی آئی ہو گی۔ اردگرد کے لوگوں کے پوچھنے پر میں صرف یہی کہہ سکی کہ “یہی تو مسئلہ ہے کہ یہاں کچھ بھی نہیں بدلا۔ وہی کنزرویٹو لوگ۔۔۔!!“ہاں البتہ کئی فلیڈز میں کافی ترقی بھی ہوئی تھی۔مثلاً آسمان سے باتیں کرتے ہوئے محل ، کچھ سڑکیں اور ہاں ٹیلی کمیونیکشن نے کافی ترقی کی تھی۔ آج سے پانچ سال پہلے جب میں پاکستان گئی تھی تو چند ہی لوگوں کے پاس موبائل تھے۔ لیکن اس بار تو میں نے گدھا گاڑی اور رکشے والے کے پاس بھی موبائل دیکھا۔ایک گدھا گاڑی والے کو تو میں نے دیکھا جو سڑک سے گزرتا جائے اور موبائل کیمرے سے ٹچ ٹچ تصویریں بناتا جائے۔
کہتے ہیں کہ تعلیم انسان کی سوچ کو بدل دیتی ہے اور اس کو پختہ بناتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جو میں نے نوٹ کیا وہ یہ کہ تقریباً ہر کوئی ہی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ لیکن میں نے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی سوچ میں کوئی خاص تبدیلی نہ پائی۔ پتہ نہیں ہم لکیر کے فقیر کیوں ہوتے ہیں۔ شاید انسان پر تعلیم سے زیادہ ماحول کا زیادہ گہرا اثر ہوتا ہے۔
خیر۔۔۔ان دو مہینوں میں میں نے خوب انجوائے کیا۔ سیر، ہوٹلنگ، شاپنگ، دوست جو اتنے عرصے سے ملے نہیں تھے ان کو ڈھونڈ کر ان سے ملاقات۔۔۔۔ تقریباً سارے شوق پورے کیے۔ اور شاید اتنے عرصے کے بعد پاکستان جانے کی وجہ سے فیملی والوں نے بہت ہی پیار دیا۔ کزنز،خالہ، خالو،مامی، ماموں، چاچی،چاچو،پھپھو،پھپھا، بھابیاں اور اتنے کیوٹ کیوٹ بےبیز(جنہوں نے ہمیں دیکھا بھی نہ تھا، اور نہ ہی ہم نے ان کو دیکھا تھا) سب کے ساتھ بہت مزہ آیا۔ اور واپسی پر تو ان سب کو چھوڑ کر آنے کا دل ہی نہ چاہا۔
اپنے ملک کی فضا میں سانس لینے کا اپنا ہی سکون ہے، شام کو ڈوبتا ہوا سورج من کو بہت بھاتا ہے۔ کالی رات میں جگمگاتے، ٹمٹماتے تارے رات کو اور بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں۔
اور واپسی لاہور (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ) سے ہوئی جو اسلام آباد کے ائیرپورٹ سے بہت بہتر تھا۔ اور وہاں سے جانے میں بہت مزہ آیا۔ اور میرا خیال ہے پاکستان آتے ہوئے جتنا برا سفر تھا واپسی پر ساری کمی پوری ہو گئی۔ اور واپسی کا سفر اب تک کے سب سے اچھے ہوائی سفر میں شامل ہو گیا۔
آخر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اسے اپنی خاص رحمتوں کی چھاؤں میں رکھے۔ اس ملک کے رہنے والوں کو ہدایت کرے۔اور ہمیں مخلص رہنما دے۔ آمین۔
آئینوں اور کانچ کی دنیا وہاں دیکھی مگر
سچ تو یہ ہے شاہدہ مٹی کا گھر اچھا لگا
نوٹ ؛ یہ سفر نامہ میں نے نومبر ٢٠٠٦ سے جنوری ٢٠٠٧ اپنے دورہء پاکستان کے دوران لکھا تھا۔












:(
ماوراء کل اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد میں نے اتنی جذباتی تقریر لکھی اور جیسے ہی رائے بھیجنے کا وقت آیا۔۔لائٹ چلی گئی۔۔:( افففف کچھ مت پوچھیں کتنا غصہ آیا تھا۔۔۔خیر ماوراء میرا اور محب کا اندازہ آپ کے بارے میں بالکل ٹھیک تھا۔۔۔بہت اچھا لکھ رہی ہیں۔۔۔:)
ماوراء جہاں تک میں آپ کی پوسٹ سے آپ کے جذبات سمجھی ہوں۔۔آپ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستانیوں سے شکایتیں رہی ہیں۔۔۔لڑکی کو گھورنا اب یہاں سب کے فرائض منصبی میں شامل ہوچکا ہے۔۔لیکن ایسا صرف لاہور میں زیادہ ہے۔۔آپ کراچی، اسلام آباد میں ایسی حرکات کم دیکھیں گی۔۔وہاں کے لوگ اس سے کچھ اور آگے ہیں۔ :)۔۔۔اور ڈئیر اس بھکاری بچے کو کہیں نارویجن کرنسی تو نہیں پکڑا دی تھی:P
لاہور ایرپورٹ کی کیا بات ہے۔۔۔شکر ہے کوئی تو ڈھنگ کا کام لاہویوں نے بھی کیا۔۔:) ویسے ابھی انٹرنیشنل معیار کے مطابق تو شاید یہ نہیں ہے لیکن پھر بھی اس کا شمار بہترین ائیرپورٹس میں ہوتا ہے۔ مجھے فرسٹ فلور کی نسبت گراؤنڈ فلور سے جہازوں کا ٹیک اوور نے بہت انسپائر کیا تھا۔ :)
امن، اگر تقریر لکھنی ہو تو آف لائن ایڈیٹر یوز کیا کرو۔ مجھے اندازہ ہے کہ کیا حالت ہوتی ہے جب اتنی محنت سے لکھا ہو اور پوسٹ نہ ہو سکے۔ اور امن، یہ میں نے آٹھ ، نو مہینے پہلے لکھا تھا اور ایم ایس این سپیس میں پوسٹ تھا۔
امن، اچھائی اور برائی تو ہر جگہ ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ مجھے اپنے ملک سے بہت پیار ہے۔ اور اسی لیے شاید اپنے ملک میں برائیوں کو دیکھ کر میرا دل بہت دکھتا ہے۔ اور کہتے ہیں نا کہ گلہ بھی اپنوں سے کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اس کو ہم ہمیشہ اچھا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور کراچی تو میں گئی نہیں تھی۔ اسلام آباد اور لاہور کا ہی معلوم ہے۔ اور شاید میں نے ان باتوں کو زیادہ اس لیے محسوس کیا تھا کہ میں کافی عرصہ تک ایسی باتوں سے دور نہیں۔ اور ایک دم سے سب کچھ چینج ہو گیا۔ تو اس لیے زیادہ محسوس ہوا۔ اور پھر دو مہینے رہنے کے بعد سب ٹھیک ہو گیا تھا۔ واپسی پر میرا آنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔ ہاں، امن میرے پاس پاکستانی کرنسی تھی ہی نہیں۔ تو میں نے اس کرواؤن ہی دیے تھے۔ جو کہ تقریباً 30، 35 روپے بنتے تھے۔ لیکن اس کو وہ بھی قبول نہیں تھے۔ :S
امن، واپسی پر ہم بہن بھائی اکیلے آئے تھے۔ امی ابو نہیں تھے۔ اس لیے بھی مزہ آیا تھا۔:p اور سب سے بڑی بات کہ یورپ امریکہ وغیرہ ائیرپورٹس پر سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے۔ ہاں، اگر مدد کی ضرورت ہو تو پوچھ لیتے ہیں۔ لیکن یہاں کام کرنے والے ارد گرد ہو رہے تھے کہ کہاں جانا ہے۔کیا کرنا ہے، اور سامان وغیرہ بک کروانے میں بہت مدد کی، یعنی سروس بھی بہت اچھی تھی۔ اور پیسے بھی اتنے ہی بٹورے۔lol
ہاں تو اس لڑکے نے وہ کرنسی آپ کو واپس اسی لیے کی ہوگی کہ وہ بے چارہ بھکاری، اس کو کیا پتا دوسرے ملکوں کی کرنسی کا… سمجھا ہوگا کہ جعلی نوٹ دے کر جان چھڑا رہی ہیں اس لیے لوٹادی….
نہیں راہبر، اسے میں نے پہلے کہاں تھا کہ میرے پاس پاکستانی کرنسی نہیں ہے۔ وہ جلدی سے عجیب سی معصوم شکل بنا کر بولا کہ کراؤن ہی دے دو۔ میں تو حیران رہ گئی کہ جب میں اس جتنی تھی تو مجھے تو کراؤن کا پتہ بھی نہیں تھا۔ اسے تو بہت معلومات ہیں۔ شاید اس کا دل تھا کہ میں اسے تیس کراؤن یعنی تین سو روپے دے دیتی۔
راولپنڈی کے منی چینجر غیر ملکی سکے قبول بھی نہیں کرتے بلکہ صرف نوٹ تبدیل کرتے ہیں اور اس کا اندازہ یقینا اس لڑکے کو ہو گا اسی لئے اس نے سکے واپس لوٹا دیئے اور ہاں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر فقیر سے اہلکار تک سب ہی پاکستانی کرنسی کی بجائے غیر ملکی کرنسی کا ہی مطالبہ کرتے ہیں کہ سب کو علم ہے کہ زیادہ تر غیر ملکی کرنسی پاکستانی روپے کی نسبت شرح تبادلہ میں بہتر رہتی ہے ۔
بالکل افضل صاحب پھر یہی بات ہو گی۔ اسی لیے اس نے سکے نہیں لیے۔ مجھے خود حیرانی ہوئی کہ بچے کے پاس کتنا علم تھا۔ کہتا ہے کہ کرونا ہی دے دو۔lol
[...] پاکستان گئی تو وہاں کے حالات دیکھ کر میں پہلے دو ہفتے روتی [...]
اپنی رائے کا اظہار کریں۔