Aug 14 2007
جب میں نے لکھنا سیکھا تھا
شروع اللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے۔
جب میں نے لکھنا سیکھا تھا
تب تیرا نام لکھا تھا (اللہ)
میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو
جن و ملائکہ نے سجدہ کیا تھا
میں وہ بادِ صمیم ہوں جس نے
بارِ امامت سر پر لیا تھا
جب میں رستے سے بھٹکا تھا تو
تو نے میرا ہاتھ کیوں نہ تھاما تھا
اے پہلی بارش بھیجنے والے
میں تو تیرے درشن کا پیاسا تھا


حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox
on 15 Aug 2007 at 11:36 am
سپرب!
بہت ٹچی ہے۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Aug 2007 at 12:32 pm
بہت عمدہ ماورا ، تم نے تو آتے ہی کشتوں کے پشتے لگانے شروع کر دیے ہیں.
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Aug 2007 at 1:56 pm
امن اور محب شکریہ۔ اصل میں میں نے بلاگ اللہ کے نام سے شروع کرنے کا سوچا تھا۔ یہ نظم مجھے پسند ہے۔ تو یہی پوسٹ کر دی۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Aug 2007 at 2:40 pm
واھ۔، وہووو ،
بھت کھو
Woww m, mawra zaberdastt , bohat nice ,
اس تبصرے کا جواب دیں
on 15 Aug 2007 at 4:33 pm
شکریہ باجو۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 16 Aug 2007 at 5:19 pm
واہ کیا بات ہے نیا بلاگ!!
اس تبصرے کا جواب دیں
on 26 Aug 2007 at 9:23 am
بہت خوب ماوراء تمہاری نظم بہت پسند آئی ہے
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Aug 2008 at 2:04 pm
[...] کا آغاز اللہ کے نام سے کیا تھا، اس لیے اس سال بھی اللہ کے نام سے ہی نئے سال کا آغاز [...]
on 13 Aug 2008 at 4:29 pm
یہ ناصر کاظمی مرحوم کی شاعری ھے ۔
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لِکھا تھا
میں وہ صبرِ صمیم ہوں جس نے
بار امانت سر پہ لیا تھا
میں وہ اسمِ عظیم ہُوں جس کو
جِنّ و مَلک نے سجدہ کیا تھا
تُونے کیوں مِرا ہاتھ نہ پکڑا
میں جب رستے سے بھٹکا تھا
جو پایا ہے وہ تیرا ہے
جو کھویا وہ بھی تیرا تھا
تُجھ بِن ساری عُمر گزاری
لوگ کہیں گے تُومیرا تھا
پہلی بارش بھیجنے والے
میں ترے درشن کا پیاسا تھا
_________________
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Aug 2008 at 4:47 pm
بہت خوب اور بہت شکریہ بھیا۔ میرے لکھے ہوئے کلام میں ایک دو اشعار غائب تھے۔ بہت شکریہ۔
اس تبصرے کا جواب دیں
on 13 Aug 2008 at 5:25 pm
اللہ آپکو خوش رکھے بہن ۔ بھائیوں کا شکریہ ادا نہیں کیا کرتے۔ :smil
اس تبصرے کا جواب دیں