Archive for August, 2007

Aug 30 2007

بدلتے رویے

شائع کیا: ماوراء زمرہ: معاشرتی مسائل

عمار نے تحفظ حقوق مرداں پر لکھا، تو مجھے بھی اس ٹاپک پر بھڑاس نکالنے کی سوجھی۔ لیکن لکھنے سے پہلے سکول کے زمانے کی ایک دوست جو پاکستان میں ہے، سے آج بات ہوئی۔تو اس نے بھی آج میرا خرچہ “مردوں“ کے ٹاپک پر ہی کروا دیا۔ اور مجھے لکھنے یا بولنے کے لیے صرف ایک اشارے کی ضرورت ہوتی ہے، میرے لیے خود سے کسی ٹاپک کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے جو کہنا ہوتا ہے وہ میں کہیں بھی کسی سے فوراً کہہ دیتی ہوں۔ اگر انسان کے اندر کوئی بات رہ جائے تو تب ہم اس کو باہر نکالنے کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔

ہمارے بڑے اکثر ہمیں اپنے زمانے کی کہانیاں سناتے ہیں۔ اور پھر ساتھ ہی آج کے زمانے اور اپنے زمانے کے حالات کو کمپیئر بھی کرتے ہیں۔ اس زمانے کے حالات سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک ہمارے رویوں میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے حالات اور واقعات کی نوعیت بدلتی جاتی ہے۔ لیکن ان بدلتے حالات کے ساتھ ہمیں اپنی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی اقدار کو نہیں بدلنا چاہیے۔

عمار نے حقوق کے تحفظ کی بات کی۔ آئے روز ہم تحفظ حقوق کے لیے سیمینار منعقد کرتے ہیں، لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں اور پھر ان سب کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ کیا سب کو اپنے حقوق مل جاتے ہیں؟ کیا تحفظ حقوق نسواں کا بل پاس ہو جانے کے بعد ہمارے ملک کی عورتوں کو ان کے حقوق مل جائیں گے؟  حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ایسا  ہے کہ ہمارے حقوق کو سلب کر لیا  گیا ہے۔ اور ہمیں آزادی سے جینا نصیب نہیں ہے۔
اب اگر عورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد نے اس کے حقوق کو سلب کر لیا ہے۔ اور اسے اس کے حقوق واپس دلوائیں جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مرد کو اللہ نے عورت پر حاکم اور بڑائی عطا کی ہے۔ لیکن یہ فضیلت علم و عمل میں اور دوسرا مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق کی پوری رعایت  ہے، اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ملتا۔ لیکن آج کی عورت تو ہر وقت شکایت کرتی ہی نظر آتی ہے۔ ہم معاشی گھٹن، تنگ نظری کی زیادتی اور عزتِ نفس کے فقدان کی وجہ سے تشدد پسند ہو گئے ہیں۔ اس نفسا نفسی کے دور میں سب کو اپنی ہی پڑی ہے۔ احساس ہم لوگوں میں ختم ہو چکا ہے۔ رشتوں کو بھلا کر مادہ پرستی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اور میرا خیال میں یہ کام انفرادی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے نا کہ تحفظ حقوق کے لیے تحریکیں چلا کے۔

میں اگر اپنے ارد گرد دیکھتی ہوں تو مجھے مرد کا کوئی خاص اچھا روپ دکھائی نہیں دیتا۔(اور یہ میں اپنے معاشرے کی بات کر رہی ہوں۔ کسی دوسرے معاشرے کے بارے میں میں کچھ کہہ نہیں سکتی) میں نے بہت کوشش کی کہ میں مثبت رہ کر سوچوں لیکن آئے دن کے واقعات سن، دیکھ کر مرد کا کوئی خاص اچھا تاثر میرے ذہن میں نہیں آتا۔ یقیناً سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بہت اچھے اچھے لوگ بھی ہیں۔ آپ(جو یہ پڑھ رہا ہے) بھی بہت اچھے ہیں۔:p

دوسری طرف عورت ۔۔۔ بے چاری عورت اپنے حقوق کے لیے لڑتی رہتی ہے۔ مجھے عورتوں پر بھی بہت غصہ آتا ہے۔ عمار نے درست کہا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میرے خیال میں عورت اپنے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتی ہے۔اور بعض اوقات اپنے لیے وہ دوسری عورت کا بھی حق مار دیتی ہے۔ جیسا کہ عمار نے ذکر کیا کہ شادی کے بعد ماں چاہتی ہے کہ بیٹا میری سنے اور دوسری طرف بیوی کہتی ہے میری سنی جائے اور تیسری فساد کی جڑ نندیں بھی ہوتی ہیں جو اپنے بھائی کو اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔(عورت نے خود ہی مرد کو بڑا بنا دیا ہے) اور مرد بیچ میں کہیں پھنس جاتا ہے۔ لیکن یہاں مرد مجبور ہوتا ہے نا کہ اس کے حقوق کو سلب کیا جاتا ہے۔  تو عمار سے میں یہی پوچھوں گی کہ مرد تو پہلے ہی آزاد اور محفوظ ہے۔ اس کے حقوق کے لیے آواز بلند کر کے کیا اسے مزید آزاد کرنے کا ارادہ ہے؟  اور اگر آپ تحفظِ حقوق مرداں کے لیے کوئی تحریک چلانے کا سوچ رہے ہیں، تو یاد رہے کہ میں اس قسم کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔:p
اور ساجد نے ٹھیک کہا کہ شادی کے بعد اس تحریک میں شامل ہونے کا سوچوں گا۔ اور میں اپنے بھائیوں کو تسلی دیتی ہوں کہ آپ لوگ فکر نہ کریں۔ عورت مرد کی طرح ظالم نہیں کہ ظلم و تشدد شروع کر دے۔ امید ہے ان کو“انجمن مظلومان شوہر“ نہیں بنانا پڑے گی۔ بس اپنے رویوں کو درست رکھیں، اگلے کو بھی انسان سمجھیں اور کسی کا حق نہ ماریں تاکہ ہمیں اپنے حقوق کے حصول  کے لیے گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔

17 تبصرے

Aug 29 2007

جیہ کا ولیمہ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

کتنے دنوں سے ہم جیہ کی شادی کا انتظار کر رہے تھے۔ اور جب یہ دن آیا تو پلک جھپکنے میں گزر بھی گیا۔ جیہ بابل کے گھر کو چھوڑ کر پیا گھر سدھار چکی تھی۔ جیہ کے جانے سے گھر میں کیسی یکدم خاموشی چھا گئی تھی۔ سارہ تو رونے بیٹھی ہوئی تھی۔ اور ماوراء اس کے پاس کھڑے اسے طعنے دے رہی تھی کہ تم تو بیسویں صدی کی لڑکی نکلی، آجکل تو دلہنیں بھی نہیں روتیں، تم کیوں رونے بیٹھی ہوئی ہے۔ سارہ کہنے لگی کہ تم بھی کتنی سخت دل لڑکی ہو، بھلا اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چھوڑ کر بھی کسی کا جانے کو دل کرتا ہو گا۔ امن بھی ماوراء کا ساتھ دے رہی تھی۔ سارہ نے وہاں سے جانے کو ہی ترجیح دی اور سونے چلی گئی۔ صبح بھی تو ہونی تھی نا۔ اور جیہ سے ملنے بھی جانا تھا۔ آج کا دن تو بہت اچھا گزر گیا تھا۔ ہم سب خوش تھے کہ پہلی شادی ایسی ہو گی جہاں خاندان والوں کا نام و نشان نہیں ہو گا۔ ذرا آزادی سے انجوائے کر سکیں گے۔ لیکن صبح صبح منتطمین اعلی نے ہمیں اچھی بھلی ڈانٹ پلا دی۔ نبیل کی گرج دار آواز سے اور زکریا کی کھا جانے والی آنکھوں سے سب ہی سہم گئے تھے۔ اور آصف کھانا کھا کر رخصتی سے پہلے ہی شادی والے گھر سے رفوچکر ہو چکے تھے۔ وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کسی کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ آصف کس طرف کو نکل گئے ہیں۔ آخری بار ان کو موبائل پر بات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

٢٥ فروری ولیمے کا دن تھا۔ ولیمے کا فنکشن شام کو لیٹ تھا، اس لیے سب کے پاس تیاری کے لیے کافی وقت تھا۔ پچھلے دو دنوں میں تو مجھے اور امن کو تیاری کے لیے بھی زیادہ وقت نہ مل سکا تھا۔ آخر ہم نے شادی کے سارے انتظامات بھی تو سنبھالے ہوئے تھے نا۔ لیکن آج ہم دونوں نے اپنی زبردست تیاری کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود ہم نے سب کی سرگرمیوں پر نظر بھی رکھنی تھی جو کہ آسان کام نہیں تھا۔

صبح صبح گھر میں ایک ہل چل سی مچ گئی۔ مجھے اندازہ لگانے میں ذرا سی بھی دقت نہیں ہوئی تھی کہ باجو اٹھ گئیں تھیں اور اب سب کو اٹھانے کے چکر میں تھیں۔ ساتھ ہی فرزانہ سسٹر بھی کمرے میں داخل ہوئیں۔ جو بڑے پیار سے سب کو اٹھانے لگیں۔ میں تو دن کے گیارہ بجے بھی گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی۔ سب ہی اپنی آنکھیں مل کر اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے اچھے خواب سے باہر اس وقت آنا پڑا جب باجو نے میری ہی جوتی کھینچ کر مجھی کو ماری۔
دوسری طرف نبیل، زکریا ڈانٹ ڈانٹ اور گھور گھور کر لڑکوں کو اٹھانے میں مصروف تھے۔ نبیل نے گھر کے درمیان والے ہال میں کھڑے ہو کر زور دار آواز میں کہا کہ “آج رات ولیمے سے فارغ ہونے کے بعد ہی ہم واپس محفل میں جائیں گے۔ بہت ہلا گلا ہو گیا۔ ادھر سارے میرے کام ادھورے پڑے ہیں اور یہ کام چور مجھے بھی یہاں لے آئے ہیں۔“ مطلب مزید قیام کا کوئی چانس نہیں تھا۔ زکریا نبیل کی حمایت کرتے ہوئے بولے۔ “بالکل“۔ اصل میں آصف بھی کل رات سے غائب تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے واپس جرمنی چلے گئے ہوں۔

فرزانہ سسٹر، باجو، شگفتہ، فرحت، سارہ اور حجاب اپنی اپنی تیاری میں مصروف ہو گئیں ۔ اتنے میں میں نے اور امن نے سوچا ہم جلدی سے بیوٹی پالر سے ہو آتے ہیں۔ ہم دونوں نے فہیم کو کہہ کر زکریا کی گاڑی کی چابی ان کے کمرے سے چپکے سے اٹھوائی اور بیوٹی پالر کی طرف روانہ ہو گئے۔ دو، تین گھنٹے بعد جب ہم گھر واپس آئے تو تقریباً سب ہی تیار تھے۔ سارہ کی تو ہمیں دیکھ کر چیخ ہی نکل گئی۔ باجو سارہ کی چیخ سن کر دوڑی ہوئی آئیں، تو ہمیں دیکھ کر چونک گئیں۔ پھر ہم سے گلہ کرنے لگیں کہ کس بیوٹی پالر سے تیار ہو کر آئی ہو؟ مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔!! سب ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہی تھیں۔ فرزانہ سسٹر نے Viloet-Orchid ساڑھی پہن رکھی تھی۔ جس پر beads ، کورا، کٹ گلاس اور زردوسی دھاگے کا کام ہوا ہوا تھا۔ کالے رنگ کے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔ ہاتھوں میں سفید موتیے کے پھولوں کا گجرا تھا۔ اور ساتھ خوب صورت سی سلور پرپل جیولری پہن رکھی تھی۔ (فرزانہ سسٹر ضرور بتائیے گا کہ وہ جیولری سیٹ کہاں سے لیا تھا، میں نے بھی بالکل ویسا ہی لینا ہے۔) باجوگلابی رنگ کے چوڑی دار پاجامہ اور سلور دھاگے کے کام والی قمیض میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ نیچے پیروں میں پائل چھن چھن کر رہی تھی۔ اور سوٹ کے رنگ سے ملتا جلتا سلور رنگ کا جیولری کا سیٹ پہنا ہوا تھا۔ ماتھے پر چھوٹی سی بندیا چمک رہی تھی۔ شگفتہ، فیروزی اور ہاٹ پنک رنگ کے ٹراؤزر اور شرٹ میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ فیروزی قمیض پر پنک باریک کڑھائی لگتا تھا، شگفتہ نے خاص طور پر کروائی تھی۔ شبو نے ہلکے سبز رنگ کی بہت ہی زبردست شیفون کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی، بالوں کو نہایت ہی خوبصورتی سے بنایا تھا۔ جوڑے میں موتیے کے پھول بھی لگے ہوئے تھے۔ اور زلفوں کی کرلی لٹیں دائیں بائیں لٹک رہی تھیں۔ سارہ تو آج بالکل سندھی کڑی لگ رہی تھی، شکار پور سے خاص طور پر قمیض پر سندھی کڑھائی کروائی تھی۔ فیروزی رنگ کے کرنکل شیفون غرراہ اور قمیض کے کناروں پر سرخ رنگ کا گوٹا لگا تھا۔ فیروزی غرارے پر سرخ ڈوپٹے کے کنارے پر بھی کڑھائی ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں چوڑیاں، کلاسیکل ڈیزائن کا جیولری سیٹ۔ سارہ نے سندھی روایت اور رواج کا خاص خیال رکھا تھا۔ دوسری طرف فرحت صحیح پنجابن لگ رہی تھیں۔ سن گولڈ اینڈ ریڈ قمیض جس پر گوٹا کناری کا کام ہوا تھا ، پٹیالہ شلوار اور ڈوپٹے کے کناروں پر کڑھائی کافی روایتی اور بہت خوب صورت لگ رہا تھا۔ بالوں میں لمبا سا پراندہ بالوں کے ایک طرف پیلے رنگ کا پھول۔ کانوں میں بھاری کانٹے تھے۔ اور پیروں میں پائل اور کھسہ بھی بہت بھا رہا تھا۔ امن گہرے سبز اور نیلے رنگ کے نہایت ہی خوبصورت اور فل کام ہوا لہنگے میں تھی۔ جس پر beads کا کافی کام ہوا ہوا تھا۔اپنے لیئر کٹ کالے لمبے بالوں کو اس نے کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ امن نے بھاری لہنگے کے ساتھ ہلکا سا جیولری سیٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ مختصر کہ امن دلہن سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ مارواء نے لائٹ چاکلیٹ براؤن اینڈ گولڈن رنگ کا Mermaid لہنگا پہنا ہوا تھا۔ جس پر کورا، زردوسی، دبکا، موتی اور دھاگے کا بہت ہی خوب صورت کام ہوا تھا۔

تیاری مکمل ہونے کے بعد ہم سب ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے، زکریا اپنی گاڑی ہی ڈھونڈتے رہ گئے اور ہم ہوٹل کے دروازے پر پہنچ بھی گئے۔ وہ تو نبیل کا بھلا ہو کہ وہ زکریا کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے آئے۔ ہوٹل پہنچنے پر شاندار استقبال کرنے کے لیے لڑکے والے لائن بنا کر پہلے ہی کھڑے تھے۔ زکریا پارکنگ میں اپنی گاڑی پہلے سے کھڑی دیکھ کر ادھر ادھر گھورنے لگے۔ خیر اس وقت تو کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے۔ سیدھے آگے کی طرف چلنے لگے۔ ہم ابھی دروازے سے داخل ہو ہی رہے تھے کہ پیچھے ایک فراٹے لیتی ہوئی گاڑی یکدم آ کر رکی۔ سب اس گاڑی کی طرف دیکھنے لگے۔ گاڑی کے دروازے کھلے۔ اندر سے چار مرد مونچھیں مڑوڑتے ہوئے باہر نکلے۔ گولڈن کھسے اور کلف لگی سفید شلوار قمیض میں چاروں بالکل پنجاب کے چوہدری لگ رہے تھے۔ یہ چاروں خاموشی سے ہال میں جا کر ایک سائیڈ پر لگی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔

ہال کے سٹیج پر جیہ گولڈن رنگ کے خوب صورت سے لہنگے میں بیٹھی ڈاکٹر مشتاق سے خوش گپیوں میں مصروف تھی۔ اور دونوں ہی بہت چہک رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر تو جیہ کی بانچھیں ہی کھل گئیں۔ جبکہ جیجا جی کا رنگ ہمیں دیکھ کر پیلا پڑ گیا۔ شاید وہ ابھی تک کل والے پچاس ہزار نہیں بھولے تھے۔ جیہ سے ملنے کے بعد سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔ آج تقریباً سبھی لڑکے سوٹ میں آئے تھے۔ نبیل کالے سوٹ، سفید شرٹ اور کالی ٹائی میں ہیرو لگ رہے تھے۔ زکریا ڈارک بلیو سوٹ کے ساتھ ہلکی نیلے رنگ کی شرٹ اور گہرے نیلے رنگ کی ٹائی میں بہت ڈیشنگ لگ رہے تھے۔ شمشاد بھائی، تفسیر بھیا، پاکستانی بھائی، ڈاکٹر عباس، باسم، فرضی، وارث، فرذوق، ضبط، اعجاز اور اعجاز انکل سبھی ماشاءاللہ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ اعجاز انکل کی تو ریاض انکل سے خوب دوستی ہو گئی تھی۔ دونوں باتوں میں ایسے مگن ہوئے کہ کچھ اور انھیں یاد ہی نہیں رہا۔ راہبر اور فہیم کالے سوٹ میں آئے تھے۔ فہیم نے ہلکے جامنی رنگ کی شرٹ اور گہرے جامنی رنگ کی ٹائی پہنی ہوئی تھی۔ لیکن انھیں تیاری کا وقت بہت کم ملا تھا، جلدی میں شاید وہ جوتے پہننا ہی بھول گئے تھے، اور گھر میں پہننے والے ہی جوتیوں میں ہی آ گئے۔ وہ تو عمار کے بتانے پر ہی انھیں احساس ہوا۔ پھر اس کے بعد فہیم اپنی سیٹ سے ایک بار بھی اٹھ نہ سکے۔

اچانک ہال میں مہوش داخل ہوئیں۔ ہلکے سے میک اپ اور خوبصورت سی شلوار قمیض میں وہ بہت اچھی لگ رہی تھیں۔ اور ہاتھ میں انہوں نے ایک فائل پکڑی ہوئی تھی۔ آتے ساتھ ہی نبیل کے میز تک چلی گئیں۔ اور فائل کھول کر انھیں وکی ارود لائبریری کی صورتِ حال سے آگاہ کرنے لگیں۔ اور نبیل بھی بڑے انہماک سے اس فائل کو دیکھنے لگے۔ لیکن خدا کا شکر کچھ دیر میں ہی نبیل کو خیال آ گیا اور مہوش کو کہنے لگے، مہوش بہن آپ نے بہت محنت کی ہے۔ میں اسے انشاءاللہ کل دیکھتا ہوں۔ آپ کل یہ فائل لے آئیے گا۔ شگفتہ نے یہ سب دیکھا تو وہ بھی پرس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگیں۔ میرے پوچھنے پر کہا کہ اچھا موقع ہے میں بھی لائبریری کی وش لسٹ نبیل بھائی کو دکھا آؤں۔ اگر میری شگفتہ سے دوستی نہ ہوتی تو آج کے دن بھی شگفتہ لسٹ نبیل بھائی کو دینے پہنچ جاتیں۔ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ شگفتہ آج رہنے دیں۔ کل دے دینا۔ شکر ہے مان گئیں۔

اچھا۔۔وہ سب سے آخر میں کونے والی ٹیبل پر چار چوہدری خدا جانے کن رازداریوں میں مصروف تھے۔ لیکن میں نے اور امن نے اس کا بھی مکمل بندوبست کیا ہوا تھا۔ ہم نے ان کی ٹیبل کے نیچے ٹیپ ریکاڈر پہلے سے ہی رکھ دیا تھا۔ اور وہ ٹیپ ہم نے سننے کے بعد زکریا کے پاس جمع کروا دی ہے۔ عمار، فرذوق، فہیم، ضبط نے ولیمے پر بھی زبردست ڈانس کیا۔ اور محفل کو کوب جمایا۔

کھانے کا بھی وقت ہو چکا تھا۔ سب لوگ کھانے پر جھپٹ پڑے۔ جیسے جانے کتنے دنوں سے بھوکے ہوں۔ میں نے کھانے کے دوران اپنے کیمرے کو بند کر دینا ہی مناسب سمجھا۔ ورنہ خواہ مخواہ سب کی اصلیت کھل جاتی۔ کھانے میں بریانی، کڑھائی، قورمہ، روسٹ، پالک گوشت، پلاؤ، زردے، چٹنیاں، اور بے شمار کھانے تھے۔ سب نے جی بھر کر کھانا کھایا۔ کھانے کھا چکنے کے بعد جب میں نے ہال کا جائزہ لیا تو کھانے کا ہال کم اور گند کا ہال زیادہ لگ رہا تھا۔ کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں فرش پر ٹوٹی پڑی تھیں۔ تو مرغی کی ہڈیاں فرش پر گری ہوئیں تھیں۔ ٹشو پیپر ہر طرف بکھرے نظر آ رہے تھے۔ میں تو وہاں سے بھاگی، کہ ایسا نہ ہو باجو یہاں آ کر مجھ پر یہ سارا الزام لگا دے۔ کھانے سے پہلے تو سبھی آرام و سکون سے بیٹھے تھے۔ لیکن کھانے کے بعد سب کو ہی گھر جانے کی جلدی پڑ گئی۔ جیسے ولیمے پر صرف کھانا کھانے ہی آئے ہوں۔

آخر میں مکلاوے کی رسم کے مطابق جیہ کو سسرال سے میکے جانا تھا۔ ہم سب جیہ کے ساتھ رات کو گھر پہنچے۔ ابھی ہم جیہ سے باتیں کرنے میں ہی مصروف تھے۔ کہ نیچے والے ہال میں اعلان ہوا۔ آج رات کی ہم سب کی واپسی کی فلائٹس ہیں۔ سب جلدی سے باہر آ جائیں۔ نبیل اور زکریا دونوں ہاتھ میں بیگ پکڑے کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ مرتے نہ تو کیا کرتے۔ سب منہ بنائے لائن بنا کر اپنے اپنے بیگ گھسیٹتے ہوئے نبیل اور زکریا کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ ایرپورٹ پہنچنے سے پہلے ہی ہم سب کی آنکھ کھل گئی۔ اور ہم سب نے اپنے آپ کو اردو محفل میں ہی موجود پایا۔ جیہ کی بھی اس کے بعد کوئی خبر نہیں تھی۔ پھر اچانک ایک دن جیہ محفل پر نمودار ہوئیں۔ تب ہم سب نے سکھ کر سانس لیا کہ جیہ خیر خیریت سے ہے۔ اور آگے کی کہانی جیہ نے کچھ اس طرح سنائی کہ ڈاکٹر مشتاق کچھ ہی دنوں بعد آئرلینڈ چلے گئے۔ اور جیہ اب اپنے بابا کے گھر میں ہے۔ اگست کے شروع میں جیجا جی واپس آ رہے ہیں اور جیہ پھر سسرال چلی جائیں گی۔ اللہ ہماری جیہ کو ڈھیروں خوشیاں دیکھنا نصیب کرے۔ آمین۔

9 تبصرے

Aug 29 2007

جیہ کی مہندی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: دوست

جمعہ ٢٣ فروری ایک بہت ہی خاص دن تھا۔ صبح سے ہی ہر طرف گہما گہمی تھی۔ کہیں سے ہنسی کی آواز آ رہی تھی تو کہیں گانے بجنے کا شور تو کہیں کچھ لڑکیاں اپنی تیاری کے لیے شور مچا رہی تھیں۔ بچے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ بڑے آج کے دن کے لیے خصوصی انتظامات کا بندوبست کر رہے تھے۔ جیہ کا گھر آج مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ دور دراز سے آئے ہوئے رشتے دار، دوستوں نے کچھ دن پہلے سے ہی آ کر ڈیرہ جما لیا تھا۔ ہفتہ بھر پہلے ہی ڈھولکی رکھ لی گئی تھی۔ رات بھر گانے گا گا کر ہم سب نے ہی محلے والوں کی نیند حرام کی ہوئی تھی۔ باجو نے تو کمال کی ڈھولک بجائی، امن، حجاب، سارہ تو چھپی رستم نکلیں۔۔مایوں، مہندی کے ایسے ایسے زبردست گانے گائے کہ سب کے منہ ہی کھلے کے کھلے رہ گئے۔

آج مہندی کا دن آ گیا۔ امن اور ماوراء صبح صبح اٹھ گئیں تھیں۔ مہندی کے چھوٹے موٹے کاموں (جو کہ ہمارے لیے بہت بڑے تھے) کا ذمہ ہم نے لیا ہوا تھا۔ سٹیج سجوانا، گجروں کا بندوبست، مہندی کی پلیٹیں، موم بتیاں، مہندی وغیرہ وغیرہ۔ اور ساتھ ساتھ ہمیں کیمرہ لئے بھی پھرنا تھا۔ تاکہ مہندی سے پہلے کی بھی ساری خبریں آپ تک پہنچائی جا سکیں۔ شبو، سارہ، شگفتہ اور باجو اپنی تیاریوں کے ساتھ ساتھ جیہ کی تیاریوں میں بھی مصروف تھیں۔ باجو آج صبح سے ہی اپنی تینوں بیٹیوں کی تیاری کے لیے شور مچا رہی تھیں۔ مناہل تھی کہ قابو ہی نہیں آ رہی تھی۔ وہ باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے میں ایسی مصروف ہوئی کہ باقی سب کچھ بھول ہی گئی۔ آج حمزہ بھی خوب چہک رہا تھا۔ شکر ہے آج پھپھو اس کے ارد گرد نہیں تھیں۔ بچوں نے الگ سے شور مچایا ہوا تھا۔ مہندی کے دن بھی پکڑن پکڑائی کھیل رہے تھے۔

اوپر والی منزل کے ایک بند کمرے میں کچھ لڑکے خاموشی سے جانے کن سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ لیکن باہر گانے کی آواز ضرور آ رہی تھی۔ امن نے چپکے سے دروازہ کھولا، تو ہم دونوں کی اندر دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئی۔ کمرے میں راہبر، فہیم، ضبط، قدیر، بدتمیز، دوست، فرذوق ۔۔۔ رات ڈانس کرنے کی پریکٹس میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی اپنے کیمرے میں ان کی پریکٹس کو محفوظ کر لیا۔ ملاحظہ کریں۔

اس کے بعد ہم نے دوسرے کمرے میں جھانک کر دیکھا، تو حجاب موتیے کے پھولوں کا گجرا بنانے میں مصروف تھی اور سامنے درجنوں تو چوڑیاں رکھی ہوئی تھیں، شگفتہ حمزہ کے کپڑے استری کر رہی تھیں، اور باجو شگفتہ سے کہہ رہیں تھیں کہ شگفتہ پلیز جلدی کریں۔ میں نے تو چار، چار جوڑے استری کرنے ہیں۔ سارہ جو دوسری طرف منہ کر کے بیٹھی ہوئی جانے کیا کر رہی تھی۔ جب میں اپنا کیمرہ اس کی طرف لے کر گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ سارہ بی بی میری میک اپ کٹ سنبھالے بیٹھی ہے۔ بس پھر میری اور سارہ کی تو وہیں لڑائی شروع ہو گئی۔ جیہ جو بیٹھی اس کمرے میں ہونے والی سرگرمیاں دیکھنے میں مصروف تھی، نے آ کر ہماری لڑائی کو ختم کروایا۔ لڑائی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ سارہ نے میرا میک اپ سنبھالا ہوا تھا بلکہ سارہ کو میک کرنے کا طریقہ ہی نہیں آتا تھا۔اس نے میرا میک اپ کا سامان تو برباد کیا ہی کیا لیکن اس نے مسکارا سے اپنا پورا چہرہ بھی کالا کیا ہوا تھا۔

گھر میں آہستہ آہستہ مہمان اکھٹے ہو رہے تھے۔ مہندی کی رسم شام سات بجے تھی۔ شمشاد بھائی اور بھابی کی آمد پر گھر میں شور سا مچ گیا۔ شمشاد بھائی سفید جوڑے میں تشریف لائے۔ امن نے ان کے آتے ہی ان کو پیلا ڈوپٹہ تھما دیا۔شمشاد بھائی بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ بھابھی بھی چنری کے پیلے اور سبز کپڑوں میں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔
ابھی شمشاد بھائی کے آنے کی خوشی ہی ہو رہی تھی کہ اچانک دروازے سے چار لڑکے داخل ہوئے۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ لیکن یہ سب اکیلے کیوں تھے؟ اوپس، یہ چاروں تو اکیلے ہی مہندی میں آ گئے۔ حالانکہ بھابھیاں بھی انوائٹ تھیں۔ لگتا تھا کہ آج کی محفل میں یہ کوئی انوکھا ہی کام کرنے والے ہیں۔ خیر، سب سے سلام دعا کے بعد انھوں نے اپنی تشستیں سنبھال لیں۔ پوری مہندی کی محفل میں یہ چار لڑکے نمایاں تھے۔ سب سفید شلوار قمیض کے ساتھ پیلے ڈوپٹوں میں تھے۔ جبکہ یہ چاروں سوٹ بوٹ میں تشریف آور ہوئے تھے۔ یہ کون تھے۔۔اس کے لیے آپ کو پوری رپورٹ پڑھنا ہو گی۔

کچھ ہی دیر میں نبیل اور آصف خاموشی سے ہال میں داخل ہوئے اور چپکے سے پیچھے کہیں جا کر بیٹھ گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے زکریا میشل کی انگلی پکڑے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے۔ واہ واہ۔۔۔سفید شلوار قمیض ان پر بہت جچ رہی تھی۔ میشل نے لہنگا پہنا ہوا تھا۔میشل گو کہ کسی سے زیادہ گھلتی ملتی نہیں ہے، لیکن پھر بھی بچوں سے اس کی جلدی ہی دوستی ہو گئی۔ لیکن عنبر کہاں ہیں؟ کیا ان کو آج کے دن بھی جاب سے چھٹی نہیں مل سکی تھی؟ سب سے آخر میں تفسیر بھیا بھابی کے ساتھ آئے۔ امن اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے سرگوشی کرنے لگے کہ تمھیں تو پتہ ہی ہے یہ عورتیں تیاری میں کتنا وقت لگاتی ہیں۔۔۔۔!! بھابی ساڑھی میں آئیں تھیں۔ اور تفسیر بھیا بھی کمال لگ رہے تھے۔ اور خوب چہک رہے تھے۔ جیہ کے لیے تو ڈھیر ساری چوڑیاں اور مہندی بھی لائے تھے۔ جیہ کی طرف سے سارے مہمان آ چکے تھے۔ اب دولہے والوں کا انتظار تھا۔

اس ویڈیو میں آپ میری اور امن کے انتطامات دیکھ سکتے ہیں۔ کہ ماشاءاللہ ہم کتنی سگھڑ ہیں


دولہے والے وقت پر پہنچے۔ ہم سب نے ان کا زبردست استقبال کیا۔ پھر سب لڑکیاں گانے گاتے ہوئے جیہ کو پھولوں کی چادر تلے لے کر سٹیج تک آئیں۔ جیہ پیلے جوڑے اور گوٹا لگے چنری کے ڈوپٹے، پھولوں کے گجرے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ دولہا کے بہنیں تو جیہ کی بلائیں ہی لیتی رہ گئیں۔ شگفتہ، حجاب، سارہ، امن، باجو، فرزانہ، ماوراء، فرحت سب لڑکیوں نے لہنگے پہنے تھے۔ سب نے پھولوں کے گجرے، چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ رسم کا آغاز ہوا۔ تو خواتین نے جیہ کے ایک ہاتھ پر پان کا پتہ رکھا اور دوسرے ہاتھ پر ابٹن لگانا شروع کی۔ سب لڑکیاں سجی ہوئی مہندی کی پلیٹیں جن پر موم بتیاں بھی جلائی گئی تھیں، ہاتھ میں پکڑے ہوئے لائیں۔ سب نے باری باری جیہ کے ہاتھ میں مہندی اور مٹھائی کھلائی۔ اور سارہ تو اتنی خوش ہو رہی تھی کہ جیہ کےمنہ پر بھی ابٹن لگا رہی تھی۔ ابھی تو سارہ نے تیل بھی سامنے رکھا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے تیل کو وہاں سے ہٹایا کہ اس رسم کو رہنے دو۔ یہ رسم اسی کی مہندی پر کریں گے۔ رسم کے دوران ہی دوسری طرف آنٹیاں ڈھولکی بجانے میں مصروف تھیں۔ اور مزے مزے کے گانے اور ٹپے گا رہی تھیں۔ مسرت نذیر کو تو خاص طور پر ہم نے جیہ کی شادی پر بلایا تھا۔


امن نے بھی اپنے آواز کا جادو کئی گانے گا کر جگایا۔ سارہ نے تو خوب گانے گائے۔ حجاب، فرحت اور شگفتہ ہم سب کے ساتھ گا گا کر ہمارا ساتھ دے رہی تھیں۔ فرزانہ نے جب گانے گئے تو سب کو چپ ہی لگ گئی۔ ان کی سریلی آواز کے سامنے سب کی آوازیں دھیمی پڑ گئیں ڈھولک بجاتے ہوئے بھی باجو نے دس کلو والا مٹھائی کا ٹوکرا پاس ہی رکھا ہوا تھا۔ ایک بار ڈھول بجاتیں تو دوسری طرف مٹھائی منہ میں ڈال لیتیں۔

متھے تے چکمن وال میرے بنڑے دے
لاؤ نی لاؤ اینو شگناں دی مہندی
مہندی کرے ہتھ لال میرے بنرے دے

سوئے وتیریاں والیا میں کہنی آں
کر چھتری دی چھاں میں بینی آں
ماپایاں نے چن لیا ساتھی تینوں تیرا
جندڑی تو پیارا ہن پیار مینوں تیرا

پھر سب نے ڈانس بھی خوب کیا۔


دولہے اور دلہن کے مہمانوں کے درمیان گانوں کا مقابلہ بھی ہوا۔ گانے کا مقابلہ با آسانی ہم یعنی لڑکی والے جیت گئے۔

ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریوں
میرے سنگ سنگ گاؤ گوریوں
شرماؤ نہ لگا کے مہندی
ذرا تالیاں بجاؤ گوریوں
یہ گھڑی ہے ملن کی
اک سجن سے سجن کی
یہ گھڑی ہے ملن کی
اک سجن سے سجن کی

مہندی کی یہ رات مہندی کی یہ رات
آئی مہندی کی یہ رات لائی سپنوں کی بارات
سجنیا ساجن کے ہے ساتھ رہے ہاتھوں میں ایسے ہاتھ
گوری کرت سنگھار گوری کرت سنگھار

ہاتھوں میں مہندی بالوں میں پھول
بول دے میری گڈی تجھے گڈا قبول

یہ مہندی یہ مہندی مہندی سجناں دی
مہندی لگاؤں گی میں سجناں کے نام کی
کچھ نہ خبر مجھے اب صبح و شام کی

یہی سماں دلبر یہی سماں ہے پیار کا
موسم کہہ رہا ہے بار بار کر لے آج دل کو بے قرار
سامنے سے جو ہواؤں کے جھونکے جو لہرا کے آئے
چاہتوں بھرا ایک سندیسہ لائے۔

گانے کے مقابلے کے بعد لڑکیوں نے لڈی ڈالی۔پیچھے حمزہ بھی ڈانس کر رہا ہے۔

اور لڑکوں نے بھنگڑا ڈالا۔ آپ اس ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔ محفل کے سب لڑکے موجود ہیں۔ جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھے تھے۔ آخر میں وہ بھی جوش میں آ گئے اور خوب بھنگڑا ڈالا۔ نبیل، زکریا، آصف، شمشاد بھائی، فہیم، راہبر، پاکستانی، جاوید بھائی، ڈاکٹر عباس، اعجاز، ابوشامل، راجہ نعیم، اعجاز انکل، وارث، باسم، ثناءاللہ، ضبط۔۔۔۔ سب نے مل کر زبردست بھنگڑا ڈالا۔

ہال میں ایک دم اس وقت خاموشی چھا گئی۔ جب چار سوٹ بوٹ والے اٹھ کر سٹیج کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ اور ڈانس شروع کر دیا۔ ہال میں قیصرانی، محب، ظفری اور رضوان کا نام گونجنے لگا۔ ان کا ڈانس ملاحظہ کیجئے۔

اب رات کافی ہو چکی تھی، باجو کی تو بھوک زروں پر تھی۔ رات کے کھانے میں رسم کے مطابق حلوہ پڑی، چھولے، پراٹھے، کباب ،حلیم ، نان تھے۔ سارہ نے تو قلفی کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا۔ حالانکہ سو بار سمجھایا کہ سردیوں میں قلفی رہنے دو۔ پر نہیں مانی یہ لڑکی۔ کھانے کے بعد سب اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے۔ صبح بارات کے لیے بھی اٹھنا تھا۔ کچھ لڑکیاں تو رات کو ہی بارات کے تیاری کے لیے پریشان تھیں۔ بہرحال میرا تو کیمرہ بھی اور میں بھی بہت تھک چکے تھے۔ میرے سو جانے کے بعد جانے کیا ہوا، آگے کا حال امن نے محفل پر بیان کیا ہے۔ ۔

11 تبصرے

Aug 25 2007

تنقید

شائع کیا: ماوراء زمرہ: فلسفہ بگھاری

 

دنیا میں نیکی اور بدی ہمیشہ سے ہی ساتھ ساتھ رہی ہے۔ اکثر ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ اللہ نے انسان کو ابتداء سے ہی ایسا ہی کیوں نہ بنا دیا کہ وہ برائی کی طرف جا ہی نہ سکتا۔یعنی فطرتاً اسے مجبور کر دیا جاتا کہ وہ نیکی اور بھلائی کے سوا کسی چیز کا اختیار نہ کر سکے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ سوال ایسا لگتا ہے کہ انسان کو ایسا کیوں نہ پیدا کر دیا گیا کہ وہ انسان ہی نہ رہتا۔۔۔تو کیا پھر وہ اینٹ و پتھر بن جاتا جو ادراک و شعور سے خالی ہوتا یا وہ ایک جانور ہوتا؟  بے شک اگر اللہ چاہتا تو انسان کی ساخت ایسی بنا سکتا تھا کہ سب ایک ہی رستے پر چلنے کے لیے مجبور ہو جاتے۔ لیکن انسان کی فطرت ایسی نہیں بنائی گئی کہ سب کے سب راہِ ہدایت پر چل پڑیں۔ اللہ نے انسان کو عقل اور شعور دیا ہے اور اسے آزادی دی کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ اب چاہے تو اس آزادی کے استعمال کے وقت راہیں مختلف  ہو جائیں، کوئی نیکی کو اختیار کر لے تو کوئی بدی کو۔

 

ہمیں بچپن سے ہی سچ بولنا سکھایا جاتا ہے۔ شاید اس بچپن کی تربیت کا ہی اتنا اثر ہوتا ہے کہ ہم بڑے ہو کر دوسروں کے بارے میں سچ بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اپنے آپ کے بارے میں جھوٹوں کے پل باندھ دیتے ہیں یا اپنے بارے میں سچ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ہم اپنے نقص، خامیاں تلاش کرنے کے بجائے لوگوں کی خامیاں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اپنی خامیاں جو حقیقت ہیں اور ہمیں دکھائی بھی دیتی ہیں، ان کا سامنا نہیں کر پاتے۔

آجکل بلکہ ہمیشہ سے ہی ہمارے معاشرے میں تنقید، نکتہ چینی کا بہت رواج رہا ہے۔ بات وہیں کی وہیں آ جاتی ہے کہ ہمارے لوگوں میں (مجھ سمیت) جہالت بہت ہے۔ کچھ تعلیم یافتہ لوگ بھی ابھی تک ایسی جہالتوں کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکے۔ ہماری ماحولیاتی عادتیں ہم پر بہت اثر انداز ہوتی ہیں۔ جن سے چھٹکارا پانا ناممکن تو نہیں لیکن اکثر  بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ عورتیں سامنے ایک دوسرے کی کھل کر تعریفیں کرتی ہیں (چاہے وہ نہ بھی کرنا چاہ رہی ہوں) لیکن پیچھے اکثر کسی نہ کسی میں نقص نکالنے میں مصروف ہوتی ہیں۔  اور مرد حضرات مجھے اس صورتِ حال کے کچھ الٹ لگتے ہیں۔ وہ کھلے دل سے سامنے ہی اکثر تنقید کر دیتے ہیں۔ ہم اپنا محاسبہ نہیں کرتے اور سامنے والے کو احتساب کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔

 

کوئی بھی اپنی خامیاں یا نقص دوسروں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ ہمیشہ انھیں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم اپنی خامیاں تو چھپانا چاہتے ہیں لیکن دوسروں کی خامیاں ظاہر کر دیتے ہیں۔ اگر کسی کی ذات میں ہم کوئی خرابی دیکھتے بھی ہیں تو سب سے پہلے تسلی کر لینی چاہیے  کہ واقعی ایسا کچھ ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے بھی تو اسے دوسروں پر ظاہر نہ کریں۔ اسے چھپا دیں۔ زندگی میں ہماری بہت سی الجھنیں اس طرح کم ہو سکتی ہیں کہ ہم جب اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر سوچیں کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا اور میرے ایسے حالات ہوتے  پھر اس کے بعد کوئی آپ پر تنقید یا طنز کر رہا ہوتا تو آپ کو کیسا لگتا۔  آپ لوگوں کی عیب چھپائیں گے، دوسروں کی عزت کریں گے تو اللہ آپ کے عیبوں کو چھپائے گا۔ ورنہ اگر اللہ ہمارے عیبوں پر سے پردہ ہٹا دے تو پھر ہم سوچ سکتے ہیں کہ کیا ہو گا۔

ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے پر تنقید کرنا، نکتہ چینی کرنا چھوڑ دیں۔ اگلے انسان کو ویسا کرنے دیں جیسا وہ چاہتا ہے۔ اور یہ آزمائی ہوئی بات ہے کہ ایسا کرنے سے اگلا انسان آپ کے سامنے سارا کھل جاتا ہے۔ آپ اسے سمجھ جاتے ہیں کہ وہ کیسا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور کسی دوسرے کے دل میں ہمارے لیے نفرت کا جذبہ بھی بیدار نہ ہو تو ہمیں تنقید اور نکتہ چینی سے احتراز کرنا ہو گا۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنے آپ کو درست سمت چلاتے ہیں یا غلط سمت ۔

 

یہ اتنا کچھ میں نے اپنے لیے لکھا ہے کہ شاید اس برائی کے نقصانات کو لکھ کر یا پڑھ کر کچھ احساس ہو جائے۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے  کہ میں بھی دوسروں پر تنقید کرنے میں ماہر ہوں۔ اور اپنے آپ پر تنقید کرنے کی فرصت نہیں۔ امید ہے کہ اگر میں نے اس پر عمل کیا تو انشاءاللہ جلد ہی اس برائی سے چھٹکارا پا لوں گی۔ اور اگر آپ میں سے کوئی اس تحریر پر تنقید کرنے کا سوچ رہا ہے تو میں نے اسے منع نہیں کیا۔ کہ کچھ باتوں میں تنقید بہت ضروری ہوتی ہے۔:p

19 تبصرے

Aug 21 2007

ناروے کی فیورڈز

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ناروے نامہ

Geirangerfjord
http://freshmess.wordpress.com/2007/07/ 

ناروے کی فیورڈز دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔  دنیا کی دو سب سے لمبی اور گہری فیورڈز بھی ناروے میں ہی ہیں۔ Unesco World Heritage کی لسٹ میں بھی مغربی ناروے کی دو فیورڈز شامل ہیں۔ ہر ایک فیورڈ کی اپنی خصوصیت اور دلکشی ہے۔ دنیا کی  دوسری سب سے لمبی فیورڈ Sognefjord بھی ناروے میں ہے۔ سب سے بلند اور خوبصورت آبشار کا منظر Geirangerfjord کا ہے۔ Hardangerfjord  تیسری سب سے بڑی فیورڈ ہے۔ یہ تمام فیورڈز آئس ایج  میں تقریباً دس، بارہ ہزار سال پہلے بنیں جو کہ اب ناروے کی سب سے مشہور فیورڈ ہیں۔

جب میں چھوٹی تھی تو ابو ایک بار ایک بہت ہی خوبصورت سینری یہاں سے پاکستان لے کر گئے تھے،اونچے اونچے پہاڑ اور اس کے درمیان میں پانی۔۔۔کچھ پرندے ، بگلے اور کشتیاں بھی موجود تھیں۔ اور وہ مجھے اتنی پسند تھی کہ میں اس میں پرندے گنتی رہتی تھی یا کشتی میں بیٹھے بندے گنتی رہتی تھی۔lol ۔اور اب اس سینری سے باہر نکل کر میں خود یہاں اسی ملک میں موجود ہوں لیکن اس کے باوجود ہمیں ایسی خوبصورت جگہوں پر جانا ابھی تک نصیب نہیں ہوا۔ ایک تو میرے ابا جان کو سیر و سیاحت کا کوئی خاص شوق نہیں اور اگر کہیں وہ جاتے بھی ہیں تو دوستوں کے ساتھ۔ ہمارا ہر گرمیوں کی چھٹیوں میں کہیں نا کہیں جانے کا ضرور پروگرام بنتا ہے اور ہر بار ہی ابو کا اپنا نیا ہی پروگرام بن جاتا ہے۔ بس پھر سارے وہیں کے وہیں بیٹھے رہ جاتے ہیں۔

باجو اور شگفتہ سے محفل پر سمندر کے کنارے پر کسی اونچی پہاڑی پر گھر بنانے کی بات ہو رہی تھی تو مجھے ناروے کی فیورڈز کا خیال آیا۔ یو ٹیوب پر دیکھ رہی تھی تو سوچا کہ بلاگ پر بھی پوسٹ کرتی ہوں۔ زکریا کو بھی ناروے کی فیورڈز دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ اور اب یہ تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر تو میرا بھی بہت دل کر رہا ہے۔ خیر امید پر دنیا قائم ہے۔ فی الحال تصویریں اور ویڈیوز دیکھ دیکھ خوش ہوتے ہیں۔

LyseFjord

SogneFjord

8 تبصرے

Aug 17 2007

میں بڑی ہو گئی

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع

اٹھارہ اگست۔۔میری زندگی کے نہایت ہی اہم دنوں میں سے ایک دن۔ اتنی بڑی کائنات میں اللہ نے مجھے انسان یعنی اشرف المخلوق بنا کر بھیجا۔ اللہ چاہتا تو شاید کچھ اور ہی بنا دیتا۔ لیکن شکر ہے اس نے مجھے انسان بنانا ہی مناسب سمجھا۔ حالانکہ میری امی سے کوئی پوچھے تو کہیں گی کہ “یہ لڑکی تو انسان کہلوانے کے قابل ہی نہیں۔“ بہن بھائیوں میں پہلا نمبر ہونے کی وجہ سے شروع سے ہی مجھے سب نے بہت پیار کیا ہے۔( شاید اسی پیار کی وجہ سے بہت خراب ہو گئی ہوں۔) اور اب تک پیار کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔ مجھے خوش فہمی ہے کہ مجھ سے پیار کرنے والے بہت ہیں۔ پہلی بار کوئی ملتا ہے تو پہلی ملاقات میں میرا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ (اب یہ نہیں معلوم کہ میرے پیچھے کیا کیا میرے بارے میں کہتے ہوں گے لیکن سامنے تو میری تعریفیں کرتے تھکتے نہیں ہیں۔lol) اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میری عادت سب سے جلدی گھل مل جانے والی ہے۔ اور کسی اجنبی سے بھی بات کرتے ہوئے میں اسے احساس نہیں ہونے دیتی کہ وہ میرے لیے اجنبی ہے۔ اگلا بندہ اتنے میں ہی خوش ہو جاتا ہے۔ مجھے اپنی اس عادت سے کئی بار نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن اس وقت قیمت پوری ہو جاتی ہے جب کوئی اتنا پیار دیتا ہے۔ دوسری طرف امی کا کہنا ہے کہ “اس لڑکی کو باہر کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے دیکھا کرو اور گھر میں اس کا رویہ دیکھو تو دو مختلف شخصیتوں کا احساس ہوتا ہے۔“ یعنی باہر اچھی اور گھر میں بری۔:p

اسی طرح نیٹ پر بھی مجھے کچھ لوگ “اچھا“ کہنے والے ہیں۔ نیٹ پر جب کوئی مجھے اچھا کہتا ہے تو مجھے حیرت کے ساتھ ساتھ شرمندگی بھی بہت ہوتی ہے۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کچھ ایسا اچھا کیا ہے کہ میں اچھی کہلوائی جاؤں۔ اور پھر اس سے بھی زیادہ شرمندگی مجھے تب ہوتی ہے جب میں اپنے چاہنے والوں کی قدر نہیں کر سکتی۔ میں اپنے آپ کو اس لحاظ سے بھی خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ نیٹ پر بھی مجھے نہایت ہی مخلص اور بہت اچھے لوگ ملے ہیں۔ ان میں سے تفسیر بھائی سرِ فہرست ہیں۔ جن کے بارے میں تقریباً سبھی جانتے ہیں۔ اور میرے لیے نہایت ہی محترم ہیں۔ ایک حساس دل کے ساتھ ساتھ بہت ہی پیار کرنے والے بھائی ہیں۔ ان کا سترہ کو آپریشن تھا تو خاص طور پر میرے لیے دانشکدہ پر سالگرہ کا تھریڈ دو دن پہلے ہی کھول لیا۔ اتنی اچھی وش کے بعد میری سالگرہ کی خوشی تو دوگنی ہو گئی ہے۔ کچھ دوستوں کی اتنی پرخلوص وشز دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ باجو نے بھی پورے بارہ بجے اتنی لمبی کال کی۔ امن کی اتنی اچھی دعائیں، تمنائیں پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ مجھے سب کا شکریہ کرنے کے لیے الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے تو سوچا ایک پوسٹ کرتی ہوں جس میں سب کا شکریہ ادا ہو جائے گا۔ جس جس نے اب تک مجھے سالگرہ وش کی اور جو کل کریں گے اور جو نہیں بھی کریں گے، سب کا بہت بہت شکریہ۔

اپنی سالگرہ پر میں بہت خوش ہوتی ہوں۔ اب پتہ نہیں بڑا ہونے کی خوشی ہوتی ہے یا عمر کا ایک سال کم ہونے کی یا پھر کیک کھانے کی۔ ٹین ایج سے جب میں باہر نکلی تو میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنے آپ کو بدل لوں گی یعنی اچھا بنا لوں گی۔ لیکن عمل بالکل نہ کر سکی۔ اور مجھے لگتا ہے تین سال گزر جانے کے بعد بھی میں ویسے کی ویسے ہی ہوں۔ لیکن سال ما سابق میرے لیے بہت اچھا رہا۔ اسی سال میں نے پہلی بار جاب کی۔(اور ماشاءاللہ خوب کمایا:p) پھر اسی سال میں پانچ سال کے بعد اپنے ملک بھی گئی یعنی میری خواہش پوری ہوئی۔ اور اسی سال میری زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی کہ میں نے زندگی کے اصل مقصد کو جان لیا۔ یعنی اسی سال مجھے اللہ نے ذرا سے ہدایت فرما دی۔ اسنے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اے اللہ کی بندی تمھارا ایک خالق بھی ہے، دنیا کے ساتھ ساتھ اس کو بھی یاد کر لیا کرو۔ (یاد تو خیر میں ہمیشہ سے ہی کرتی آئی تھی لیکن تب تب یاد کرتی جب امتحانات چل رہے ہوتے تھے یا رزلٹ آنے والا ہوتا تھا۔) خیر یہ ایک الگ کہانی ہے شاید پھر کبھی لکھوں۔ لیکن میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ اب اللہ سے میری یہی دعا ہے کہ آنے والا سال میرے لیے بہت بہتر ہو۔ آنے والے سال کو جیسا میں نے سوچا ہے اللہ ویسا ہی اسے کر دے۔ اور وہی کرے جو میرے حق میں بہتر ہے۔ اور آنے والے سال میں بھی میں اسی طرح ہنستی مسکراتی رہوں۔ اور امی کی بات مان لیا کروں۔ رات جلدی سو جایا کروں اور کمپیوٹر کو زیادہ وقت دینا بھی کم کر دوں۔ آمین۔
اٹھارہ تاریخ کی صبح کا سورج نکل آیا ہے۔ یعنی صبح کے ساڑھے پانچ بج چکے ہیں۔ اور امی ابھی مجھے آ کر ڈانٹیں گی کہ ابھی تک بیٹھی ہوئی ہو۔ اس سے پہلے کہ امی یہاں آئیں اور سال کے پہلے دن ہی ڈانٹ پڑے۔ اٹھ جانا چاہیے۔

مجھے سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔

28 تبصرے

Aug 16 2007

مرغی کی ایک ہی ٹانگ

شائع کیا: ماوراء زمرہ: ناروے نامہ

ناروے میں آج تقریباً ستر ہزار مسلمان ہیں۔ اور ان میں زیادہ کی تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ ہماری پاکستانی کمیونٹی اکثر کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی رہتی ہے۔ کبھی ہماری نوجوان نسل کے آپس کے جھگڑے تو کبھی ہمارے جذباتی بھائی عزت کے نام پر بہنوں کو قتل کرتے پھرتے ہیں۔ دوسری طرف کبھی مسجد کی امامت کا مسئلہ تو کبھی ہمارے مولویوں کے نت نئے فتوے ۔۔۔۔

آجکل ہمارے ہاں یعنی ناروے اور سویڈن کی مرغیاں زیرِ بحث ہیں۔ پچھلے ہفتے ناروے کے علماء اور اسلامی کونسل کے سربراہ نے اعلان کیا کہ “ناروے اور سویڈن میں فروخت ہونے والی مرغیوں کے ذبح کرنے کا طریقہ کار غیر شرعی ہے اور ان مرغیوں کا کھانا حرام ہے۔“ اسلامی کونسل کے سربراہ کے اس فتویٰ پر دستخطوں کے ساتھ ایک متفقہ فیصلہ پریس کانفرنس میں بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ یہاں مرغیاں ذبح کرنے سے پہلے گیس سے بے ہوش کی جاتی ہیں۔ اور اس دوران گیس کی زیادہ مقدار کی وجہ سے کئی مرغیاں مر جاتی ہیں۔ اور اس طرح مری ہوئی اور بے ہوش مرغیاں مکس ہو جاتی ہیں۔ اور علماء کی تحقیق کے ہی مطابق دس فیصد مرغیاں مر جاتی ہیں۔ اور انھیں بھی ذبح کر لیا جاتا ہے۔ ہمارے علماء دین آجکل حکومت سے اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے دیسی سٹورز کے کچھ مالکان کا کہنا تھا کہ ہمارے علماء مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرغیاں ذبح کرتے وقت جانوروں کا ڈاکٹر یا کھانے پینے کی دیکھ بھال کرنے کا نمائندہ موجود ہوتا ہے جو دیکھتا رہتا ہے کہ بلیڈ تک پہچنے سے پہلے کوئی مرغی مر تو نہیں گئی۔ اس کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر مرغی کا خون نکلا تو اسے زندہ مانا جائے گا اور اگر خون نہ نکلے تو اسے مردہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ جبکہ کھانے پینے کی دیکھ بھال کے نمائندے نے پوچھنے پر بتایا تھا کہ “ایک فیصد یا اس سے کچھ زیادہ مرغیوں کا خون تو پوری طرح نکل تو آتا ہے لیکن ان کے متعلق یقینی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔“

سننے میں آیا ہے کہ گزشتہ سال سے ذبح ہونے والی مرغیوں کا مسئلہ چل رہا تھا۔ اور ہمارے علماء نے تو یہ مرغیاں اپنے اوپر حرام کر لی ہوئیں تھیں۔ لیکن اب انھوں نے اپنے اس فیصلے کو عوام پر بھی لاگو کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب اس ساری صورتِ حال یہ کئی سوال ذہن میں اٹھتے ہیں۔۔۔
١۔ آج سے تقریباً تیس چالیس سال پہلے پاکستانی (مسلمان) یہاں آئے۔ تو کیا ان چالیس سالوں میں اب تک مسلمان حرام گوشت کھاتے آئے ہیں؟
٢۔ دوسری بات کہ کسی دوسرے مسلمان ملک کے علماء یا مولویوں کی طرف سے ہمیں آج تک ایسی باتیں سننے میں کیوں نہیں ملتیں، یا صرف ناروے میں پاکستانی علماء ہی ہیں؟
٣۔ کیا اب سب مسلمان مرغی کھانا چھوڑ دیں گے؟
٤۔ یا اب ہمیں یہاں پاکستان کی طرح مرغیوں کو ذبح کرنے کا انتظام کرنا ہو گا؟
٥۔ پانچویں بات کہ کیا علماء دین فتویٰ لگا سکتے ہیں؟ میرے خیال میں تو یہ کام مفتی کا ہوتا ہے۔

بہرحال جو بھی ہے۔ ہمارا تو فریزر گوشت سے بھرا پڑا ہوا ہے۔ ہم نے تو کل بھی مرغی ہی بنائی ہوئی تھی۔ علماء اپنے فتوے لگانے میں مصروف ہیں، تو گوشت فروخت کرنے والے فروخت کرنے میں مصروف ہیں اور گوشت کھانے والے کھانے میں مصروف ہیں۔ ہر کوئی اپنی ہی بات کر رہا ہے اور اپنے اپنے ہی نظریے پیش کر رہا ہے۔

20 تبصرے

Aug 15 2007

دیس کے رنگ نرالے

شائع کیا: ماوراء زمرہ: پاکستان نامہ

اکثر توقعات پوری نہ ہونے پر ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے یا شاید ہم بعض اوقات اپنی توقعات کو کسی حوالے سے کچھ زیادہ ہی بڑھا لیتے ہیں۔ اس بات کااحساس مجھے اپنی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد ہی ہو گیا تھا۔
اپنے وطن نہ گئے ہوئے مجھے پانچ سال کا عرصہ پانچ صدیوں کے برابر محسوس ہوتا رہا۔ ہر پل اپنے ملک جانے کی خواہش دل میں کہیں جاگی رہی۔ تقریباً ہر کسی سے میں ہمیشہ یہی سنتی رہی کہ “پاکستان میں کوئی زندگی نہیں ہے۔ نہ سہولیات، نہ آزادی۔ ہم تو یہیں کے عادی ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور ہمارے بچے جو ہمیشہ سے یہیں ہیں وہ تو پاکستان کے ماحول میں کبھی گزارہ ہی نہیں کر سکتے۔“ اکثر ان کی باتیں سننے کے بعد مجھے بہت غصہ آتا اور کچھ سے تو میں اچھی بھلی بحث بھی کر لیتی۔ سوچتی جانے یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے ہی ملک میں جانے سے اتنا کتراتے اور گھبراتے ہیں۔
تقریباً سبھی مجھ سے کہتے کہ تم “ابھی تو بہت باتیں کرتی ہو بس ایک بار پاکستان سے ہو آؤ، اس کے بعد ہم تمھاری رائے پوچھیں گے۔“ اس عرصے میں میرا کچھ ایسے لوگوں سے بھی پالا پڑا۔ جن کی سوچ کو میں نے چند مہینوں، دنوں میں بدلتے دیکھا۔ جو پاکستان سے آنے کے شروع دنوں میں تو پاکستان واپس جانے کی بات کرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصے میں انھیں وہ ملک، اپنے ملک سے زیادہ عزیز ہو جاتا ہے۔ میں نے تو یہاں تک سنا کہ “ناروے بہترین ملک ہے“ اب شاید وہ کسی اور ملک میں رہتے تو یہی کہتے۔لیکن بس اپنے ملک کے لیے شاید دو اچھے بول نہ بول سکتے تھے۔

خیر۔۔۔آخری دنوں میں انتظار کچھ زیادہ ہی لمبا ہوتا گیا۔ پیکنگ تو میں تقریباً ایک مہینہ پہلے ہی شروع کر چکی تھی۔ جو کہ آخری دن ہی مشکل سے مکمل ہوئی۔ پھر وہ دن آ ہی گیا جس کا مجھے بے چینی سے انتظار تھا۔ جانے سے پہلے کئی جاننے والوں نے پاکستان میں رہنے والوں کو سلام دینے کو کہا اور کئی کا تو یہ بھی دل چاہا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی پاکستان چلے جائیں۔
بے شک اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے۔ وہ مزہ، احساس کہیں اور نہیں ہوتا جو اپنے ملک میں ہے۔ اپنی زبان، اپنے لوگ حتٰی کہ سب کچھ اپنا ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ اور شاید یہ بھی سچ ہے کہ غیر ملک میں رہ کر ہی میں نے اپنے ملک، زبان اور اپنے لوگوں کی قدر کرنا سیکھی۔
پاکستان جانے کی خوشی تو مجھے تھی ہی۔۔۔۔لیکن مجھے اس سے زیادہ اس بات کی خوشی ہو رہی تھی کہ میرے کچھ دوستوں کو میری خوشی کا پورا احساس تھا۔اور دورانِ سفر جہاں تک ممکن تھا انہوں نے مجھ سے پورا رابطہ رکھنے کی کوشش کی۔
دورانِ سفر اس بات کا تو میں نے بخوبی اندازہ لگایا کہ پاکستانی چاہے جہاں بھی رہ لیں اپنی عادتیں، طور طریقے ہر حال میں اپنائے ہی رکھتے ہیں۔ جہاں اگر پاکستانی اصولوں اور قانون پر عمل کرنے والے ہیں تو وہاں پاکستانیوں جتنا بے اصول اور قانون کی قدر نہ کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ بہرحال ان ٧ گھنٹے کے ہوائی سفر میں میرا جو حال ہوا وہ ناگفتہ بہ ہے۔ اتنا بور سفر کبھی میں نے زندگی میں نہیں کیا تھا۔
میرا خیال تھا کہ اپنی سرزمین پر قدم رکھتے ہی شاید خوشی سے میری آنکھیں چھلک جائیں گی۔ لیکن ایسا کچھ ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔ اتنے اکتا جانے والے سفر کے بعد ساری کمی ائیرپورٹ پر پوری ہو گئی تھی۔ وہاں مجھے جانے کیوں سیکیورٹی والوں کو دیکھ کر لگا کہ یہ سب اپنے گھروں سے لڑائی کر کے جاب پر آئے ہیں۔ ان کے چہروں پر کوئی مسکراہٹ نہ تھی۔ منہ میں تو شاید زبان ہی نہ تھی، ہاتھوں سے اشارہ کرنے پر مجھے کچھ ایسا ہی لگا۔ جوں جوں میں آگے بڑھ رہی تھی جانے کیوں مجھے لگا کہ کئی آنکھیں میرا تعاقب کر رہی ہیں۔گھورے بغیر تو شاید پاکستانیوں کا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا۔
ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی کچھ بچے ارد گرد ہو گئے پتہ چلا کہ اللہ کے نام پر کچھ مانگ رہے ہیں۔ مجھے ان پر ترس آیا۔ امّی کے منع کرنے کے باوجود میں نے ان کو کچھ دینے کے لیے بیگ سے کچھ سکے نکالے۔ اور ان کو تھما دئیے۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک بچہ ابھی بھی پیچھے پیچھے آ رہا ہے۔مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کہ اتنے تو دیے ہیں اب اور کیا دوں۔۔۔۔۔میرے اور کچھ نہ دینے پر وہ تقریباً غصے کی حالت میں پہلے والے بھی واپس دے کر چلا گیا۔ میں عالم حیرت میں ڈوبی چند لمحوں کے لیے تو کھڑی کی کھڑی ہی رہ گئی۔ گاڑی کے پاس جانے تک کئی مانگنے والے آئے لیکن میرا خیال ہے ایک تجربہ ہی میرے لیے کافی تھا۔ نروس بریک ڈاؤن تو میرا اس وقت ہوا جب مجھے یاد آیا کہ “ہاں پاکستان میں کچھ بےہودہ لوگ آوازیں کسنے میں بھی ماہر ہوتے ہیں۔اور خاص طور پر ایسی جگہوں پر ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہے۔“ شاید زیادہ عرصہ ایسے ماحول سے دور رہنے کی وجہ سے مجھے یہ سب کچھ بہت ہی عجیب لگا تھا۔ اس وقت میرا دل یہی چاہا کہ میں ابھی اسی وقت واپس لوٹ جاؤں۔ لیکن۔۔۔بے سود۔۔۔!!

گھر تک کے سفر میں نجانے کیسے کیسے خیالات میرے ذہن میں آتے رہے۔ شاید میں پاکستان کے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچ بیٹھی تھی۔لیکن وہاں قدم رکھنے کے بعد ہی معلوم ہو گیا کہ یہ ملک ویسے کا ویسا ہی ہے۔ لیکن ۔۔۔ میں تو اس عرصے میں بہت بدل گئی تھی مگر یہاں کے لوگ تو ویسے کے ویسے ہی تھے جیسا میں انہیں چھوڑ کر گئی تھی۔ لیکن میں یہ بھی نہیں کہتی کہ اچھے لوگوں کی کمی ہے۔ خیر۔۔۔پہلے دن کا اثر مجھ پر تقریباً دو ہفتوں تک رہا۔ اور یہ دو ہفتے میں بیمار بھی پڑی رہی۔ گھر والوں سے اب طعنے سننے پڑے کہ “اور کہو کہ پاکستان ہی جانا، پاکستان ہی رہنا ہے۔۔۔۔۔اور بہت بھی کچھ۔۔۔۔“

نہ جانے کیوں مجھے اپنے ہی ملک میں تحفظ کا احساس بالکل نہ ہوا۔ اپنے ہی لوگوں کی آنکھوں سے مجھے انجانا سا خوف محسوس ہوتا رہا۔ ایک اور بات جو میں نے محسوس کی کہ وہاں لوگوں کو اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر ہوتی ہے۔اپنے حالات کے بجائے دوسروں کے حالات کو پہلے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اور باتیں کرنے اور بنانے میں تو ہمارا کوئی ثانی نہیں۔
مجھے امید تھی کہ پاکستان میں کچھ نہ کچھ ضرور تبدیلی آئی ہو گی۔ اردگرد کے لوگوں کے پوچھنے پر میں صرف یہی کہہ سکی کہ “یہی تو مسئلہ ہے کہ یہاں کچھ بھی نہیں بدلا۔ وہی کنزرویٹو لوگ۔۔۔!!“ہاں البتہ کئی فلیڈز میں کافی ترقی بھی ہوئی تھی۔مثلاً آسمان سے باتیں کرتے ہوئے محل ، کچھ سڑکیں اور ہاں ٹیلی کمیونیکشن نے کافی ترقی کی تھی۔ آج سے پانچ سال پہلے جب میں پاکستان گئی تھی تو چند ہی لوگوں کے پاس موبائل تھے۔ لیکن اس بار تو میں نے گدھا گاڑی اور رکشے والے کے پاس بھی موبائل دیکھا۔ایک گدھا گاڑی والے کو تو میں نے دیکھا جو سڑک سے گزرتا جائے اور موبائل کیمرے سے ٹچ ٹچ تصویریں بناتا جائے۔

کہتے ہیں کہ تعلیم انسان کی سوچ کو بدل دیتی ہے اور اس کو پختہ بناتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جو میں نے نوٹ کیا وہ یہ کہ تقریباً ہر کوئی ہی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ لیکن میں نے کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی سوچ میں کوئی خاص تبدیلی نہ پائی۔ پتہ نہیں ہم لکیر کے فقیر کیوں ہوتے ہیں۔ شاید انسان پر تعلیم سے زیادہ ماحول کا زیادہ گہرا اثر ہوتا ہے۔

خیر۔۔۔ان دو مہینوں میں میں نے خوب انجوائے کیا۔ سیر، ہوٹلنگ، شاپنگ، دوست جو اتنے عرصے سے ملے نہیں تھے ان کو ڈھونڈ کر ان سے ملاقات۔۔۔۔ تقریباً سارے شوق پورے کیے۔ اور شاید اتنے عرصے کے بعد پاکستان جانے کی وجہ سے فیملی والوں نے بہت ہی پیار دیا۔ کزنز،خالہ، خالو،مامی، ماموں، چاچی،چاچو،پھپھو،پھپھا، بھابیاں اور اتنے کیوٹ کیوٹ بےبیز(جنہوں نے ہمیں دیکھا بھی نہ تھا، اور نہ ہی ہم نے ان کو دیکھا تھا) سب کے ساتھ بہت مزہ آیا۔ اور واپسی پر تو ان سب کو چھوڑ کر آنے کا دل ہی نہ چاہا۔
اپنے ملک کی فضا میں سانس لینے کا اپنا ہی سکون ہے، شام کو ڈوبتا ہوا سورج من کو بہت بھاتا ہے۔ کالی رات میں جگمگاتے، ٹمٹماتے تارے رات کو اور بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں۔

اور واپسی لاہور (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ) سے ہوئی جو اسلام آباد کے ائیرپورٹ سے بہت بہتر تھا۔ اور وہاں سے جانے میں بہت مزہ آیا۔ اور میرا خیال ہے پاکستان آتے ہوئے جتنا برا سفر تھا واپسی پر ساری کمی پوری ہو گئی۔ اور واپسی کا سفر اب تک کے سب سے اچھے ہوائی سفر میں شامل ہو گیا۔

آخر میں اللہ سے یہی دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے اور اسے اپنی خاص رحمتوں کی چھاؤں میں رکھے۔ اس ملک کے رہنے والوں کو ہدایت کرے۔اور ہمیں مخلص رہنما دے۔ آمین۔

آئینوں اور کانچ کی دنیا وہاں دیکھی مگر
سچ تو یہ ہے شاہدہ مٹی کا گھر اچھا لگا

نوٹ ؛ یہ سفر نامہ میں نے نومبر ٢٠٠٦ سے جنوری ٢٠٠٧ اپنے دورہء پاکستان کے دوران لکھا تھا۔

7 تبصرے

Aug 14 2007

جشن آزادی مبارک

شائع کیا: ماوراء زمرہ: مواقع

اگست۔۔۔اگست ہمارے ملک کے لیے ایک نہایت ہی اہم اور خوشی کا مہینہ ہے۔ اتنی قربانیوں اور آگ و خون کے سمندر سے گزرنے کے بعد ہمیں ہمارا پیارا وطن پاکستان ملا۔ ١٤ اگست یعنی آج وطن یا دیارِ غیر میں بسنے والا ہر پاکستانی جشنِ آزادی منا رہا ہے۔ جشنِ آزادی منانے والی ہماری نوجوان نسل کی اکثریت جشن کا مطلب تو شاید بہت اچھی طرح سے جانتی ہے ۔ لیکن آزادی کے مطلب کی طرف توجہ نہیں دیتی۔ ہم لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے، نغمے، ترانے، آتش بازی اور جھنڈیاں لگا کر جشن تو منا لیتے ہیں۔ لیکن اپنے ملک کے لیے عملی کام کرنے کے لیے اتنا جذبہ نہیں رکھتے۔ پاکستان کے لفظ پر اگر غور کیا جائے تو پ ۔ پنجاب، ١۔ افغان، ک ۔ کشمیر، س ۔ سندھ، اور تان ۔ بلوچستان بنتا ہے۔ جب تک ہم میں اتحاد و یکجہتی اور عزم محکم کا جذبہ نہیں پیدا ہو گا، ہر شخص اپنے فرض کو ایمانداری سے ادا کرنے پر عمل نہیں کر لے گا، تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ “آزادی کا حصول واقعی اتنا مشکل نہیں جتنا اس کی حفاظت کرنا مشکل ہے۔“
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
ویسے اگر دیکھاجائے تو جتنی آزاد قوم ہم ہیں اتنی تو شاید کوئی بھی نہ ہو۔ دن دہاڑے چوری، ڈکیتی، قتل، رشوت، فریب، بے حیائی جیسی سب برائیاں ہم میں موجود ہیں۔ اور جہاں ہمیں آزاد ہونا چاہیے وہاں ہم قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ اپنے ہی ملک میں آزادی سے ہم گھوم پھر نہیں سکتے، ہمیں اپنے ہی لوگوں کے درمیان ہر وقت عجیب سے خوف کا احساس رہتا ہے۔ اپنی مرضی سے ہم جی نہیں سکتے۔ کہ لوگوں کو اپنے سے زیادہ دوسروں کی فکر ہوتی ہے۔ غلط رسم و رواج، فرسودہ روایات کے ہم لوگ قیدی بن کے رہ گئے ہیں۔
اس مٹی کی مہک کو سانسوں میں بسانے لے لئے ضروری ہے کہ وطن سے رشتہ اتنا گہرا ہو کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں وطن سے جدا نہ کر سکے۔ وطن نے تو ہمیں بہت کچھ دیا لیکن شاید ہم نے اس سب کی قدر نہیں کی۔اور ہمیں جو کچھ اپنے وطن کو دینا چاہیے وہ نہیں دے سکے۔ اللہ ہمارے ملک کو تاقیامت قائم دائم رکھے اور ہمیں مخلص اور ایماندار رہنما عطا کرے۔ اور ہم سب میں جذبہء عمل و ایثار پیدا ہو۔ آمین۔

میری طرف سے اہلِ وطن کو جشنِ آزادی بہت بہت مبارک ہو۔

خدا کرے کہ میری عرضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
آمین

null

12 تبصرے

Aug 14 2007

جب میں نے لکھنا سیکھا تھا

شائع کیا: ماوراء زمرہ: حمد و نعت

شروع اللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے۔

 

 جب میں نے لکھنا سیکھا تھا
تب تیرا نام لکھا تھا (اللہ)

میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو
جن و ملائکہ نے سجدہ کیا تھا

میں وہ بادِ صمیم ہوں جس نے
بارِ امامت سر پر لیا تھا

جب میں رستے سے بھٹکا تھا تو
تو نے میرا ہاتھ کیوں نہ تھاما تھا

اے پہلی بارش بھیجنے والے
میں تو تیرے درشن کا پیاسا تھا

11 تبصرے