Aug 30 2007
بدلتے رویے
عمار نے تحفظ حقوق مرداں پر لکھا، تو مجھے بھی اس ٹاپک پر بھڑاس نکالنے کی سوجھی۔ لیکن لکھنے سے پہلے سکول کے زمانے کی ایک دوست جو پاکستان میں ہے، سے آج بات ہوئی۔تو اس نے بھی آج میرا خرچہ “مردوں“ کے ٹاپک پر ہی کروا دیا۔ اور مجھے لکھنے یا بولنے کے لیے صرف ایک اشارے کی ضرورت ہوتی ہے، میرے لیے خود سے کسی ٹاپک کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مجھے جو کہنا ہوتا ہے وہ میں کہیں بھی کسی سے فوراً کہہ دیتی ہوں۔ اگر انسان کے اندر کوئی بات رہ جائے تو تب ہم اس کو باہر نکالنے کے راستے ڈھونڈتے ہیں۔
ہمارے بڑے اکثر ہمیں اپنے زمانے کی کہانیاں سناتے ہیں۔ اور پھر ساتھ ہی آج کے زمانے اور اپنے زمانے کے حالات کو کمپیئر بھی کرتے ہیں۔ اس زمانے کے حالات سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اب تک ہمارے رویوں میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے حالات اور واقعات کی نوعیت بدلتی جاتی ہے۔ لیکن ان بدلتے حالات کے ساتھ ہمیں اپنی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی اقدار کو نہیں بدلنا چاہیے۔
عمار نے حقوق کے تحفظ کی بات کی۔ آئے روز ہم تحفظ حقوق کے لیے سیمینار منعقد کرتے ہیں، لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں اور پھر ان سب کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ کیا سب کو اپنے حقوق مل جاتے ہیں؟ کیا تحفظ حقوق نسواں کا بل پاس ہو جانے کے بعد ہمارے ملک کی عورتوں کو ان کے حقوق مل جائیں گے؟ حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ایسا ہے کہ ہمارے حقوق کو سلب کر لیا گیا ہے۔ اور ہمیں آزادی سے جینا نصیب نہیں ہے۔
اب اگر عورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد نے اس کے حقوق کو سلب کر لیا ہے۔ اور اسے اس کے حقوق واپس دلوائیں جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مرد کو اللہ نے عورت پر حاکم اور بڑائی عطا کی ہے۔ لیکن یہ فضیلت علم و عمل میں اور دوسرا مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق کی پوری رعایت ہے، اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ملتا۔ لیکن آج کی عورت تو ہر وقت شکایت کرتی ہی نظر آتی ہے۔ ہم معاشی گھٹن، تنگ نظری کی زیادتی اور عزتِ نفس کے فقدان کی وجہ سے تشدد پسند ہو گئے ہیں۔ اس نفسا نفسی کے دور میں سب کو اپنی ہی پڑی ہے۔ احساس ہم لوگوں میں ختم ہو چکا ہے۔ رشتوں کو بھلا کر مادہ پرستی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اور میرا خیال میں یہ کام انفرادی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے نا کہ تحفظ حقوق کے لیے تحریکیں چلا کے۔
میں اگر اپنے ارد گرد دیکھتی ہوں تو مجھے مرد کا کوئی خاص اچھا روپ دکھائی نہیں دیتا۔(اور یہ میں اپنے معاشرے کی بات کر رہی ہوں۔ کسی دوسرے معاشرے کے بارے میں میں کچھ کہہ نہیں سکتی) میں نے بہت کوشش کی کہ میں مثبت رہ کر سوچوں لیکن آئے دن کے واقعات سن، دیکھ کر مرد کا کوئی خاص اچھا تاثر میرے ذہن میں نہیں آتا۔ یقیناً سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بہت اچھے اچھے لوگ بھی ہیں۔ آپ(جو یہ پڑھ رہا ہے) بھی بہت اچھے ہیں۔:p
دوسری طرف عورت ۔۔۔ بے چاری عورت اپنے حقوق کے لیے لڑتی رہتی ہے۔ مجھے عورتوں پر بھی بہت غصہ آتا ہے۔ عمار نے درست کہا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ میرے خیال میں عورت اپنے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتی ہے۔اور بعض اوقات اپنے لیے وہ دوسری عورت کا بھی حق مار دیتی ہے۔ جیسا کہ عمار نے ذکر کیا کہ شادی کے بعد ماں چاہتی ہے کہ بیٹا میری سنے اور دوسری طرف بیوی کہتی ہے میری سنی جائے اور تیسری فساد کی جڑ نندیں بھی ہوتی ہیں جو اپنے بھائی کو اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔(عورت نے خود ہی مرد کو بڑا بنا دیا ہے) اور مرد بیچ میں کہیں پھنس جاتا ہے۔ لیکن یہاں مرد مجبور ہوتا ہے نا کہ اس کے حقوق کو سلب کیا جاتا ہے۔ تو عمار سے میں یہی پوچھوں گی کہ مرد تو پہلے ہی آزاد اور محفوظ ہے۔ اس کے حقوق کے لیے آواز بلند کر کے کیا اسے مزید آزاد کرنے کا ارادہ ہے؟ اور اگر آپ تحفظِ حقوق مرداں کے لیے کوئی تحریک چلانے کا سوچ رہے ہیں، تو یاد رہے کہ میں اس قسم کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔:p
اور ساجد نے ٹھیک کہا کہ شادی کے بعد اس تحریک میں شامل ہونے کا سوچوں گا۔ اور میں اپنے بھائیوں کو تسلی دیتی ہوں کہ آپ لوگ فکر نہ کریں۔ عورت مرد کی طرح ظالم نہیں کہ ظلم و تشدد شروع کر دے۔ امید ہے ان کو“انجمن مظلومان شوہر“ نہیں بنانا پڑے گی۔ بس اپنے رویوں کو درست رکھیں، اگلے کو بھی انسان سمجھیں اور کسی کا حق نہ ماریں تاکہ ہمیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے گھر سے باہر نہ نکلنا پڑے۔





حالیہ تحاریر
فیڈ
تلاش
ماہانہ محفوظات 
ShoutBox